اردو شاعری کو عربی ادبیات سے ہم آمیز کرنے والے عبدالعزیز خالد کا تذکرہ -

اپنی دفتری ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انکم ٹیکس کمشنر کے عہدے تک ترقّی پائی

28/01/2022 5:30:00 PM

اردو شاعری کو عربی ادبیات سے ہم آمیز کرنے والے عبدالعزیز خالد کا تذکرہ ARYNewsUrdu

اپنی دفتری ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے انکم ٹیکس کمشنر کے عہدے تک ترقّی پائی

آج اردو کے ممتاز شاعر، ماہر مترجم عبدالعزیز خالد کی برسی ہے۔ وہ سنہ 2010 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ انھوں نے اردو شاعری کو عربی ادبیات سے ہم آمیز کیا اور اس صنفِ سخن میں مشرقی روح اور طرزِ بیاں کو نہایت خوب صورتی سے سموتے ہوئے تازگی اور جاودانی عطا کی۔

14 جنوری 1927ء کو عبدالعزیز خالد تحصیل نکو در ضلع جالندھر کے ایک گھرانے میں آنکھ کھولی۔ وہ اسلامیہ کالج لاہور سے فارغ التّحصیل تھے۔ اس دور میں انھوں نے کالج کے مجلّے کی ادارت بھی کی تھی۔ بعد میں مقابلے کا امتحان دیا اور سرکاری ملازمت کے ساتھ ادبی مشاغل جاری رکھے۔ اس سفر میں‌ ان کی متعدد تصانیف منظرِ عام پر آئیں۔

مزید پڑھ: ARY News Urdu »

Imran Khan Angry on Imported Govt | PM Shehbaz Sharif Govt About to End? | Breaking News

Imran Khan Angry on Imported Govt | PM Shehbaz Sharif Govt About to End? | Breaking News#imrankhan #pmshehbazsharif #breakingnews Imran Khan | imran khan liv... مزید پڑھ >>

’آپ گریجویٹس کو پکوڑے تلنے کو کیوں کہہ رہے ہیں؟‘ - BBC News اردونوجوان کے غصے اور پرتشدد مظاہروں نے انڈیا میں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے بحران کی جانب توجہ دلائی ہے۔ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ بہار اور ہمسایہ ریاست اتر پردیش میں اس ہفتے ملازمتوں کے امتحانات کے دوران ہونے والے فسادات حکام کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ روزگار کے مواقع تو مودی جی نے بیچ دیا تو نوجوان کیا کریں پکوڑے ہی تلیں گے !

ٹک ٹاک ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران بھائی سے گولی چلنے سے بہن جاں بحق - ایکسپریس اردوٹک ٹاک ویڈیو کے دوران بھائی سے گولی چلنے سے بہن جاں بحق مزید پڑھیں: ExpressNews

شہزاد اکبر کا کیا قصور تھا؟ - ایکسپریس اردوشہزاد اکبر نے میاں شہباز شریف فیملی پر 27 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا چوہدری صاحب آپ بتائیں کہ مردہ ضمیر وزیراعظم عمران خان کا کی ڈکٹیشن پر چل رہا ہے اب تو احتساب کے فوجی بریگیڈیئر لگا دیا ہے پاکستان میں انصاف نہ ملک نہ ہی قوم اے ہورہا ہے ۔شہزاد اکبر نے بھی پھر ملک کا کھلواڑ کیا ۔ تیرے پچھواڑے سے دھواں کیوں نکل رہا ہے حرامی۔ شہزاداکبرکابھی وہی جرم ہےجوتمھاراہے۔تم عوام سےجھوٹ۔بولتےہواوراسنےوزیراعظم سے جھوٹ بولاوزیراعظم کےپاس جھوٹےکوگھر بھیجنےکااختیارتھاسوآج شہزاداکبرفارغ ہوگیا۔عوام کےھاتھ میں یہ اختیاربھی ناپختہ ہے اسلئےتم اورتم جیسےہم پرمسلط ہیں۔جس دن یہ اختیارپختہ ہوگیاتم بھی فارغ۔آیاسمجھ میں بےنسلے

کرپشن کا بیانیہ - ایکسپریس اردوموجودہ حکومت اکثر و بیشتر دعویٰ کرتی رہی ہے کہ وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے

بھارتی کرکٹرکا ٹویٹراکاؤنٹ ہیک؛ بٹ کوائن کے عوض فروخت کیلیے پیش - ایکسپریس اردوابتدائی 2 گھنٹے کے دوران بھارتی کرکٹر کے آفیشل اکاؤنٹ سے 9 ٹویٹس کیے گئے Punjab Police Ka Be Howa Tha

جہیز کی لعنت - ایکسپریس اردودورِ حاضر میں جہیز مسلم معاشرے کے لیے وہ ناسور بن چکا ہے جس کی گرفت سے خلاصی ممکن نظر نہیں آتی

، لیکن ساتھ ہی علم و ادب سے بھی جڑے رہے اور تخلیقی سفر میں‌ نمایاں مقام حاصل کیا۔ آج اردو کے ممتاز شاعر، ماہر مترجم عبدالعزیز خالد کی برسی ہے۔ وہ سنہ 2010 میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے۔ انھوں نے اردو شاعری کو عربی ادبیات سے ہم آمیز کیا اور اس صنفِ سخن میں مشرقی روح اور طرزِ بیاں کو نہایت خوب صورتی سے سموتے ہوئے تازگی اور جاودانی عطا کی۔ 14 جنوری 1927ء کو عبدالعزیز خالد تحصیل نکو در ضلع جالندھر کے ایک گھرانے میں آنکھ کھولی۔ وہ اسلامیہ کالج لاہور سے فارغ التّحصیل تھے۔ اس دور میں انھوں نے کالج کے مجلّے کی ادارت بھی کی تھی۔ بعد میں مقابلے کا امتحان دیا اور سرکاری ملازمت کے ساتھ ادبی مشاغل جاری رکھے۔ اس سفر میں‌ ان کی متعدد تصانیف منظرِ عام پر آئیں۔ عبد العزیز خالد کا شمار ان اہلِ قلم حضرات میں‌ ہوتا ہے، جو متعدد زبانیں جانتے تھے۔ ان میں اردو، عربی، فارسی، سنسکرت اور انگریزی شامل ہیں۔ اپنی اسی قابلیت کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے کئی غیر ملکی شعرا کے کلام کا اردو میں ترجمہ کیا۔ عبدالعزیز خالد کی تصانیف میں ماتم یک شہرِ آرزو، زرِ داغِ دل، خروشِ خم، فارقلیط، غبارِ شبنم، سرابِ ساحل، کلکِ موج، برگِ خزاں، دکانِ شیشہ گر، کفِ دریا، غزلُ الغزلات کے علاوہ سیفو، ٹیگور اور ہوچی منہ کی نظموں کے تراجم شامل ہیں۔ ادبی میدان میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انھیں صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔ ان کی ایک غزل ملاحظہ کیجیے۔ پھولی ہے شفق گو کہ ابھی شام نہیں ہے ہے دل میں وہ غم جس کا کوئی نام نہیں ہے کس کو نہیں کوتاہیٔ قسمت کی شکایت کس کو گلۂ گردشِ ایّام نہیں ہے افلاک کے سائے تلے ایسا بھی ہے کوئی جو صید زبوں مایۂ آلام نہیں ہے لفظوں کے در و بست پہ ہر چند ہو قادر شاعر نہیں جو صاحبِ الہام نہیں ہے ہر بات ہے خالدؔ میں پسندیدہ و مطبوع اک پیرویٔ رسم و رہِ عام نہیں ہے