شہزاد اکبر کا کیا قصور تھا؟ - ایکسپریس اردو

27/01/2022 8:07:00 AM

شہزاد اکبر کا کیا قصور تھا؟ -

شہزاد اکبر کا کیا قصور تھا؟ -

شہزاد اکبر نے میاں شہباز شریف فیملی پر 27 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا

شہزاد اکبر نے دسمبر2019میں لندن میں شہباز شریف فیملی کے خلاف این سی اے(نیشنل کرائم ایجنسی) میں کیس کیا‘ یہ کیس 21 ماہ چلتا رہا لیکن حکومت الزامات ثابت کر سکی اور نہ ثبوت دے سکی لہٰذا این سی اے نے ستمبر 2021میں اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا اور حکومت ٹھیک ٹھاک بدنام ہو گئی اور میاں شہباز شریف اب اگلے وزیراعظم بن کر ابھر رہے ہیں‘ اپوزیشن‘ اتحادی اور پی ٹی آئی کے اپنے 22 ارکان انھیں اعتماد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں جب کہ عمران خان انھیں ہر صورت نااہل قرار دلانا چاہتے ہیں اور شہزاد اکبر یہ بھاری پتھر نہیں اٹھا پا رہے تھے لہٰذا انھیں فارغ کر دیا گیا۔

مزید پڑھ: Express News »

'Imran Khan leader hai aur baki saray chor hain' PTI Lahore jalsay mei viral honay walay bachy...

'عمران خان لیڈر ہے اور باقی سارے چور ہیں'پی ٹی آئی لاہور جلسے میں وائرل ہونے والے بچے سامنے آگئ#imrankhanlahorejalsa #ViralBachay #pti مزید پڑھ >>

Ye shall sy he manhoos lgta hai sala تم کون ہو پوچھنے والے لفافہ صحافی۔ Chaudhary Saab mehrbani kro plz..... یوں تو عمران حکومت بلاشبہ ایک نااہل حکومت ہے مگر الفاظ اور سٹیٹس کا ہیر پھیر کر کے موصوف جاوید صاحب جو نواز شریف کی خدمت کرتے ہیں اس کا کوئی ثانی نہیں. اتنی باریک صحافتی بددیانتی فقط جناب جاوید چوہدری صاحب ہی کر سکتے ہیں. ازراہ کرم معاوضہ بڑھا دیں JavedChOfficial MaryamNSharif

اس ملک کا کچھ نہیں ہو سکتا جہاں ان پڑھ تو ان پڑھ صحافی بھی بدعنوان اور بددیانت ہیں. ویسے تو صحافت کا بین الاقوامی استعمال لوگوں کو گمراہ کرنے کیلیے ہی کیا جاتا ہے مگر ایسا کم دیکھا گیا ہے کہ صحافی اپنے ہی ملک کی جڑیں کاٹنے میں لگ جائیں جاوید جیسے بددیانت مگر لگاتار مصروف عمل ہیں. قائیدیانی مرتدزیندیق ھےاسکوبنایاکیوں نیازی خود قائیدیانی ھے

us k yeh kasor tha us ne buht assets bana liye they aur niazi sahab ko sahi hisa nhi mila tb nikal dia.. baki sab bakwas hai Jub seat per thy tu tukleef thy,ab nahi hain tu 🤣😆😅😂😄 تمھارا درد سمجھ سکتا ہوں انشاء اللہ اب ٹی ایل پی ہی ہماری منزل ہے اور ہو گی Chawal journalist شہزاداکبرکابھی وہی جرم ہےجوتمھاراہے۔تم عوام سےجھوٹ۔بولتےہواوراسنےوزیراعظم سے جھوٹ بولاوزیراعظم کےپاس جھوٹےکوگھر بھیجنےکااختیارتھاسوآج شہزاداکبرفارغ ہوگیا۔عوام کےھاتھ میں یہ اختیاربھی ناپختہ ہے اسلئےتم اورتم جیسےہم پرمسلط ہیں۔جس دن یہ اختیارپختہ ہوگیاتم بھی فارغ۔آیاسمجھ میں بےنسلے

شہزاد اکبر کا استعفیٰ اعتراف شکست ہے۔احسن اقبالشہزاد اکبر کا استعفیٰ اعتراف شکست ہے۔احسن اقبال PTIGovernment PMImranKhan ShahzadAkbar PMLN AhsanIqbal Pakistan pmln_org betterpakistan ImranKhanPTI MoIB_Official PTIofficial ShazadAkbar fawadchaudhry

تیرے پچھواڑے سے دھواں کیوں نکل رہا ہے حرامی۔ چوہدری صاحب آپ بتائیں کہ مردہ ضمیر وزیراعظم عمران خان کا کی ڈکٹیشن پر چل رہا ہے اب تو احتساب کے فوجی بریگیڈیئر لگا دیا ہے پاکستان میں انصاف نہ ملک نہ ہی قوم اے ہورہا ہے ۔شہزاد اکبر نے بھی پھر ملک کا کھلواڑ کیا ۔

شہزاد اکبر بتا دیں انہیں عمران خان نے نکالا ہے یا استعفیٰ دیا ؟ شاہد خاقان عباسیشاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ شہزاد اکبر بتا دیں انہیں عمران خان نے نکالا ہے یا استعفیٰ دیا ؟ ساڑھے 3 سال بعد پتہ چلا بچہ نالائق تھا، اسے نکال دیا، شہزاد اکبر GovtofPunjabPK GovtofPakistan SKhaqanAbbasi president_pmln pmln_org GovtofPunjabPK GovtofPakistan SKhaqanAbbasi president_pmln pmln_org GovtofPunjabPK GovtofPakistan SKhaqanAbbasi president_pmln pmln_org اتری پنتلون عباسی

شہزاد اکبر بتا دیں انہیں عمران خان نے نکالا ہے یا استعفیٰ دیا ؟ شاہد خاقان عباسینکالا ہے اپوزیشن پر امران کھان کی مرضی مطابق نہ بھونک پایا نہ کاٹ کھایا ' اس لئے نکال دیا کیوں توں پین دینی اے تم کیا اکھاڑ لو گے عمران خان کا پہاڑی چھترے

سابق ڈی جی نیب بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی مشیر داخلہ و احتساب مقررمشیر داخلہ و احتساب کا عہدہ شہزاد اکبر کےاستعفیٰ دینے پرخالی ہوا تھا Congratulations to Brigadier ,R ,,Musaddiq Abbasi. انکا پیٹ نہیں بھرتا. ظاہر ہے بریگیڈیئر صاحب بھی نواز حکومت کے خلاف پراپوگنڈہ کریں گے

شہزاد اکبر کا استعفیٰ اعتراف شکست ہے۔احسن اقبالشہزاد اکبر کا استعفیٰ اعتراف شکست ہے۔احسن اقبال PTIGovernment PMImranKhan ShahzadAkbar PMLN AhsanIqbal Pakistan pmln_org betterpakistan ImranKhanPTI MoIB_Official PTIofficial ShazadAkbar fawadchaudhry

عمران خان حکومت میں ریکارڈ کابینہ ارکان کو عہدوں سے ہٹایا گیابیرسٹر شہزاد اکبر کا وزیراعظم کے مشیر کے عہدے سے مستعفی ہونا یا انہیں عہدے سے ہٹائے جانے سے یہ تعداد تقریباً دو درجن کے قریب پہنچ گئی ہے بالکل غلط ہٹایا نہیں کسی کو بھی صرف ادھر کا ادھر تبادلہ کیا گیا

‘ وزیراعظم کو بڑی زبردست بریفنگ دی لیکن جب ریفرنس بنا تو پہلے 27 ارب روپے16 ارب روپے ہوئے‘پھر گواہوں کی فہرست میں سو لوگ آ گئے اور پھر معاملہ جب عدالت میں پہنچا تو شہزاد اکبر کے ثبوت مخالف وکیلوں کے چند سوالوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور یوں حمزہ شہباز شریف کی ضمانت بھی ہو گئی اور میاں شہباز شریف بھی گھر واپس آ گئے۔ شہزاد اکبر نے دسمبر2019میں لندن میں شہباز شریف فیملی کے خلاف این سی اے(نیشنل کرائم ایجنسی) میں کیس کیا‘ یہ کیس 21 ماہ چلتا رہا لیکن حکومت الزامات ثابت کر سکی اور نہ ثبوت دے سکی لہٰذا این سی اے نے ستمبر 2021میں اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا اور حکومت ٹھیک ٹھاک بدنام ہو گئی اور میاں شہباز شریف اب اگلے وزیراعظم بن کر ابھر رہے ہیں‘ اپوزیشن‘ اتحادی اور پی ٹی آئی کے اپنے 22 ارکان انھیں اعتماد کی یقین دہانی کرا رہے ہیں جب کہ عمران خان انھیں ہر صورت نااہل قرار دلانا چاہتے ہیں اور شہزاد اکبر یہ بھاری پتھر نہیں اٹھا پا رہے تھے لہٰذا انھیں فارغ کر دیا گیا۔ دوسرا اعتراض‘ شہزاد اکبر نے وزیراعظم کو یقین دلایا تھا ’’میں نے پاکستان کو لوٹنے والی سو بڑی مچھلیوں کا ڈیٹا بھی جمع کر لیا ہے اور ان کے خلاف تگڑے کیس بھی بن رہے ہیں‘یہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اور مضبوط کیس ہوں گے‘ یہ وزیراعظم کو یہ یقین بھی دلاتے رہے سوئس بینکوں میں پاکستانی لٹیروں کے 280 بلین ڈالرز پڑے ہیں‘ ہم اگر یہ رقم لے آئے تو ہمیں آئی ایم ایف کے سامنے گڑگڑانا پڑے گا اور نہ ہی کشکول اٹھانا پڑے گا۔ وزیراعظم خوش ہو گئے لیکن جب ثبوتوں کی باری آئی تو یہ چند شیٹس اور دو ہزار الفاظ کے سوا کچھ نہیں تھا‘فائلوں میں دعوؤں اور خواہشات کے لنگڑے گھوڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا‘ تیسرا اعتراض‘ وزیراعظم انھیں جب بھی اسپیڈ بڑھانے کا کہتے تھے یہ گھنٹی اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب اور ایف آئی اے کے گلے میں باندھ دیتے تھے‘ وزیراعظم نے ان کے مشورے پر گوہر نفیس کو ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب بھی لگا دیا‘ ایف آئی اے کو بھی ان کے سامنے جواب دہ بنا دیا اور انھیں باقی تمام سہولیات بھی دے دیں لیکن اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے خلاف بھی شکایات کا انبار لگ گیا۔ ایف آئی اے کے ثبوت عدالتوں میں اڑ گئے اور کرپشن کے نئے نئے اسکینڈل بھی سامنے آنے لگے‘ چوتھا اعتراض‘ شہزاد اکبر نے وزیراعظم کے تمام دوستوں کو ناراض کر دیا‘ جہانگیر ترین ہوں‘ زلفی بخاری ہوں‘ ندیم بابر ہوں‘ انیل مسرت ہوں یا پھر پرویز خٹک ہوں وزیراعظم کے تمام دوستوں کے ہونٹوں پر انھی کا نام تھا لہٰذا وزیراعظم جب آج اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہیں تو انھیں کوئی اپنا دکھائی نہیں دیتا‘ یہ خود کو اکیلا محسوس کرتے ہیں اور یہ شہزاد اکبر کو اس اکیلے پن کا ذمے دار سمجھتے ہیں۔ پانچواں اعتراض‘ شہزاد اکبر نے وزیراعظم سے وعدہ کیا تھا میں میاں نواز شریف کو لندن سے ہتھکڑی میں واپس لاؤں گا لیکن نواز شریف کی باعزت واپسی کا وقت آ گیا مگر شہزاد اکبر اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے اور چھٹا اور آخری اعتراض‘ وزیراعظم کا خیال ہے شہزاد اکبر مشیر میرے ہیں لیکن یہ احکامات کسی اور سے لیتے ہیں‘ انھیں دوسری طرف سے جب بھی حکم دیا جاتا ہے یہ اس کے مطابق کارروائی تیز اور آہستہ کر تے رہتے ہیں‘ بدنام میں ہو رہا ہوں لیکن ڈیل کوئی اور کر رہا ہے لہٰذا شہزاد اکبر کو گھر بھجوا دیا گیا۔ وزیراعظم کے یہ تمام اعتراضات درست ہیں کیوں کہ حکومت کو ساڑھے تین برسوں میں معیشت کے بعد سب سے زیادہ مار احتساب میں پڑی‘ حکومت کا وقت ختم ہو گیا لیکن یہ سیاسی کرپشن کا کوئی ایک بھی کیس منطقی انجام تک نہیں پہنچا سکی‘ کرپشن ختم کرنا تو دور پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے انڈیکس میں 117 سے 140 ویں نمبر پر آگیا لیکن سوال یہ ہے کیا اس کے ذمے دار صرف شہزاد اکبر ہیں اور باقی تمام وزراء مختلف ہیں؟ حماد اظہر کے پاس انرجی کا پورٹ فولیو ہے‘ کیا یہ عوام کو سستی بجلی دینے میں کام یاب ہو گئے ہیں۔ وہ نواز شریف جس پر آج الزام لگایا جا رہا ہے اس نے مہنگی بجلی کے کارخانے لگا دیے‘ ان کے دور میں بجلی کے گھریلو نرخ 11 روپے فی یونٹ تھے اور گردشی قرضہ 1148ارب روپے تھا لیکن آج بجلی کے نرخ 21 سے 24 روپے فی یونٹ اور گردشی قرضے 2419ارب روپے ہیں لہٰذا سوال یہ ہے حماد اظہر نے آج تک کیا کیا؟ کیا یہ بھی آج تک شہزاد اکبر کی طرح پریس کانفرنس میں تلواریں نہیں چلاتے رہے‘ عمران خان کے پاس چوٹی کے معیشت دان تھے۔ اسد عمر بابائے معاشیات تھے‘ حفیظ شیخ معیشت کے جادوگر تھے اور شوکت ترین اکانومی کو جڑوں سے جانتے ہیں لیکن انھوں نے آج تک کیا کیا؟ یہ ساڑھے تین برسوں سے قوم کو بتا رہے ہیں اسحاق ڈار نے ڈالر کو 105روپے پر رکھ کر برا کیا تھا اور ہم نے اسے 180تک پہنچا کر کمال کر دیا‘ چین کو پاکستان میں 55 بلین ڈالر سرمایہ کاری کرانے والے غلط تھے اور ہم تمام بین الاقوامی پراجیکٹس روک کر صحیح ہیں۔ شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ ہیں‘ ان کے دور میں کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکل گیا اور یہ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے لیے 15 ممبرز بھی اکٹھے نہیں کر سکے تھے‘ یہ ایک بیان دے کر سعودی عرب کو ناراض کر بیٹھے تھے اور پاکستان دوستوں کی محفل میں بھی تنہا ہو گیاتھا‘شاہ صاحب سے آپ تقریریں جتنی چاہیں کرا لیں‘ یہ سندھ کی طرف لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں لیکن ان سے وزارت نہیں چلتی‘ شاہد خاقان عباسی قطر سے 8ڈالر ایم ایم بی ٹی یو میں ایل این جی لے رہے تھے۔ وہ غلط اور لٹیرے تھے لیکن پی ٹی آئی حکومت 30 ڈالرایم ایم بی ٹی یو میں ایل این جی خرید کر بھی ٹھیک ہے‘ زراعت کے محکمے فخر امام اور پنجاب میں سید حسین جہانیاںگردیزی کے پاس ہیںلیکن قوم نے آج تک ان کی شکل نہیں دیکھی‘ حکومت دعویٰ کر رہی ہے ہم نے زراعت کے شعبے میں گیارہ سو ارب روپے پمپ کیے لیکن کھاد کے لیے قطاریں لگی ہیں اور کسان روز احتجاج کر رہے ہیں‘ مراد سعید شروع شروع میں تقریروں کے ذریعے موٹروے بناتے تھے‘ آج یہ بھی سڑکیں بنا بنا کر تھک گئے ہیں‘ میاں شہباز شریف پنجاب میں تھا تو یہ ڈاکو ہوتا تھالیکن آج ملک کا سب سے بڑا صوبہ سائیں عثمان بزدار چلا رہے ہیں اور انھیں اپنی ڈویژن کے لیے کمشنر نہیں مل رہا‘ یہ اب تک ڈی جی خان ڈویژن میں دس کمشنر تبدیل کر چکے ہیں۔ مری میں 23 لوگ مر جاتے ہیں اور یہ انتظامیہ کو شاباش دے رہے ہوتے ہیں‘ کے پی میں محمود خان کیا کر رہے ہیں‘ یہ جاننے کے لیے بلدیاتی الیکشن کے رزلٹ کافی ہیں اور پیچھے رہ گیا بلوچستان تو وہاں وفاقی حکومت کی بھرپور سپورٹ کے باوجود جام کمال حکومت نہیں بچا سکے لہٰذا سوال یہ ہے اگر شہزاد اکبر اپنے وعدے پورے نہیں کر سکے تو باقی وزراء نے کیا کمالات دکھا دیے ہیں؟ کیا یہ بھی وہ نہیں کر رہے جو شہزاد اکبر کرتے رہے اور کیا یہ بھی کسی اور کے احکامات پر نہیں چلتے؟ حکومت کو بہرحال ساڑھے تین سال کی مسلسل ناکامیوں کے بعد یہ تسلیم کر لینا چاہیے مسئلہ آنگن میں نہیں ہے ناچ میں ہے‘ عمران خان خیالات کی دنیا کے بلے باز ہیں‘ یہ زمینی حقائق اور مینجمنٹ سے نابلد ہیں‘ وہ لیڈر جو آج تک اپنے پرانے دوستوں‘ پارٹی کے پرانے ورکروں کو اکٹھا نہیں رکھ سکا‘ جو اپنی ذاتی معیشت نہیں چلا سکا اور جس کے پاس اپنے ٹیکس میں دو لاکھ روپے سے 98 لاکھ روپے کے جمپ کا کوئی جواب نہیں‘ وہ لیڈر جو پورے ملک کو مہنگائی‘ بے روزگاری‘ کساد بازاری اور افراتفری میں دھکیل کر بھی بڑے آرام سے کہہ دیتا ہے ’’میں کیا کر سکتا ہوں‘‘ لہٰذا مسئلہ شہزاد اکبر جیسے لوگ نہیں ہیں۔ مسئلہ عمران خان خود ہیں‘ یہ جب لیڈر تقریروں سے کام چلائیں گے تو ان کی کابینہ اور ترجمان بھی یہی کام کریں گے‘ قوم کو بھی اب یہ مان لینا چاہیے ہم جذبات کی رو میں بہہ کر انقلاب اور تبدیلی کا کیڑا مار چکے ہیں‘ ہم نے اگر اب اپنی غلطیوں کا اعتراف نہ کیا تو ہماری اگلی منزل ’’ٹی ایل پی‘‘ ہو گی اور اس کے بعد ملک میں جو ہوگا ہم سب اس سے واقف ہیں اور ہمارے ساتھ ساتھ اب ٹیلی فون والوں کو بھی یہ سمجھ لینا چاہیے، ملک میں اب مزید تجربوں کی سکت نہیں رہی‘ آپ گرتی ہوئی دیواروں کو مزید کتنے سہارے دے لیں گے۔ آپ کا ہر سہارا قوم کو مہنگا پڑ رہا ہے اور یہ ڈھلوان پر مزید نیچے کھسک رہی ہے لہٰذا آپ بھی مہربانی کریں اور اپنی غلطیوں کو ان ڈو (Undo) کر دیں کیوں کہ اب تو بس کی بھی بس ہو گئی ہے، چناں چہ آپ نے اگر نہ روکا تو حکومت قوم کو وہاں لے جائے گی جہاں سے واپسی ممکن نہیں رہے گی۔ .Google+ اگر کسی بھی مرحلہ پر حکومت کے سر سے دست شفقت اٹھ جائے تو یہ حکومت 48گھنٹوں سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتی میرا توخیال ہے شہزاداکبر اور چیئرمین نیب کا نام بھی ای سی ایل پر ڈالنا چاہئے،نجی ٹی وی کو انٹرویو احتساب کا نعرہ لگانے والوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے ، عمران خان کرپشن کنگ ہیں،ٹویٹ #/H آئٹم نمبر…14 اسلام آباد (صباح نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیردخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ حکومت کے جتنے ترجمان تھے گذشتہ ایک سال سے یہی سنا رہے تھے کہ آپ انتظار کیجیے (ن)میں سے (ش)نکلنے والی ہے لیکن پتا یہ چلا کہ (ع)میں سے(ش)نکل گئی ۔ شہزاد اکبر کا استعفیٰ اعتراف شکست ہے۔شہزاد اکبرکا جانا ایک لحاظ سے عمران نیازی کے احتساب کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہے۔شہزاد اکبر کو ایسیٹ ریکوری یونٹ کا جواب دینا چاہئے جس نے سیاستدانوں کا پیچھا کیا، اپوزیشن کا پیچھا کیا اور سپریم کورٹ کے جج کا پیچھا کیا اور سب لوگوں کو حراساں کرنے کے لئے اس کو استعمال کیا ، میرا توخیال ہے شہزاداکبر کا نام فوری طور پر ای سی ایل پر ڈالنا چاہئے۔ چیئرمین نیب کا نام بھی ای سی ایل پر ڈالنا چاہئے چونکہ مجھے خدشہ ہے کہ جس طرح شہزاد اکبر نے استعفیٰ دیا ہو سکتا ہے کچھ عرصہ بعد ہمیں چیئرمین نیب کا استعفیٰ بھی نظرآئے اور یہ لوگ ملک سے فرارہونے کی کوشش کریں، ان کو جوابدہ کرنا چاہئے۔ شہزاداکبر کے لئے ایک اہم عہدہ رہ گیا ہے کہ ان کو چیئرمین نیب لگا دیں تاکہ اس پورے احتساب کے عمل کا ڈراپ سین ہو جائے کہ یہ کس قسم کا احتساب کا عمل ہے۔ ان خیالات کااظہار احسن اقبال نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی مرحلہ پر حکومت کے سر سے دست شفقت اٹھ جائے تو یہ حکومت 48گھنٹوں سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتی۔انہوں نے کہا کہ یہ حکومت گھر جا چکی ہے، اس وقت پاکستان میں حکومت نا م کی کوئی چیزنہیں ،رائے عامہ کے اندر یہ حکومت پیک اپ ہو چکی ہے اور خود وہ لوگ جنہوں نے بہت امیدوں کے ساتھ پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا اور وہ عمران خان کی ان تقریروں کے جھانسے میں آئے تھے جو وہ ایک نیا پاکستان بنانے کے لئے کیا کرتے تھے ،وہ لوگ بھی اب تائب ہو چکے ہیں اورحقیقت دیکھ چکے ہیں۔ حکومت کے لئے اب کوئی اورذریعہ نہیں رہ گیا کہ وہ اپنے آپ کوبچا سکے کیونکہ عملی طور پر یہ ڈی فیکٹو حکومت گر چکی ہے ،اس کے جانے کا کیا طریقہ ہو تا ہے ، اس کی مثال میں ایسے دیتا ہوں کہ جب کسی مریض کو کینسر لاحق ہو جائے تو وہ ایک ٹرمینل ال نیس ہوتی ہے اس کی موت کیا پھیپھڑا فیل ہونے سے ہو گی ، دل فیل ہونے سے ہو گی، یا دماغ فیل ہونے سے ہو گی، یہ ایک ضمنی بات ہے۔موجودہ حکومت بھی اپنی نااہلی ، نا کامی اور کرپشن کے کینسر کے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے اور یہ عدم اعتماد سے جائے گی یا عوامی مارچ سے جائے گی یہ ایک غیر ضروری بات ہے وہ ایک واقعاتی عمل ہوگا لیکن تمام عملی تقاضوں کے مطابق اب حکومت ختم ہو چکی ہے۔ سردار ایاز صادق کی آصف علی زرداری سے ملاقات کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایازصادق کا ان تمام جماعتوں کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے وہ ایک سابق سپیکر ہیں، یقیناً ان کے پاس فرسٹ ہینڈ معلومات ہو ں گی، اب ا س حکومت کا جانا ٹھہرچکا ہے، صبح گئی یا شام گئی، چونکہ خود جو رائے عامہ کا دبائو ہے اس کے تحت ان کے اپنے اراکین اسمبلی جو لانگ ٹرم سیاست پر یقین رکھتے ہیں وہ سوچنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ اگلے الیکشن میں اگر وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے تو ان کی ضمانتیں ضبط ہوں گی یا تو وہ آزاد الیکشن لڑیں یا وہ مسلم لیگ (ن)یا کسی اور جماعت میں داخل ہونے کا فیصلہ کریں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ایسانہیں ہے کہ اپوزیشن کے پاس اور کوئی متبادل پروگرام نہیں، مسلم لیگ(ن) بار بار کہہ چکی ہے کہ 2013میں بھی ہمیں ایسے ہی حالات میں پاکستان ملا تھا اور ہم نے کا پاکستان کو تبدیل کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت ہمیں جس چیز کا اندازہ کرنا ہے وہ یہ ہے کہ کیا وہ ادارے جن کے بارے میں ماضی میں کہا جاتا تھا کہ وہ فون کالیں کرتے ہیں وہ غیر جا نبدار ہو چکے ہیں یا نہیں ہوئے، یہ خود ہمیں حکومت کے اراکین کی زبانی پتا لگتا ہے کہ انہیں فون کا ل کرکے بلایا جاتا ہے اور وہ خودووٹ نہیں دینا چاہتے ، تو ایسی صورت حال میں یقینا اپوزیشن کے پاس کوئی ایسا فون نہیں ہے جو اس فون کا مقابلہ کرے جو حکومت کے ایوان کے پاس آتے ہیں ہم تو عوامی تائید پر یقین رکھتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں اب اس وقت جس تیزی کے ساتھ حکومت کی غیر مقبولیت ہو رہی ہے تو وہ جو فون کمپنی ہے وہ بھی یہ سوچنے پر ضرور مجبور ہو گی کہ اس حکومت کی جو غیر مقبولیت ہے وہ فون کمپنی کے گلے میں پڑے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 5.اپنی ساڑھے 3 سال کی کارکردگی سے آگاہ کریں۔ سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کہتا ہے وزیراعظم نے شہزاد اکبر کو چارج شیٹ کر دیا، شہزاد اکبر بڑا کہا کرتے تھے ثبوتوں کے بکسے بھرے ہیں، کبھی لندن جا رہے ہیں، کبھی آ رہے ہیں، ایک فوج ہے جس کا کام صرف پریس کانفرنسز کرنا ہے، کونسی وزارت ہے جس میں سیکڑوں اربوں کا اسکینڈل نہیں ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اتوار کے روز جلوہ فروز ہوئے اور کہا میں سڑکوں پر نکل آیا تو آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، عوام تو پہلے ہی گھبرائے ہوئے تھے، اب وزیراعظم کی دھمکیوں سے اور گھبرا گئے، جوسرکس لگی ہوئی ہے، ملک مزید اسے برداشت نہیں کرسکتا، ملک کے سارے چور کابینہ کی میز پر بیٹھے ہیں، آج کرپشن کے انڈیکس میں پاکستان 140 ویں نمبر پر آگیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہے، جس میں سفارشات پیش کی جائیں گی، 23 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا۔.Published On 25 January,2022 10:18 am اسلام آباد: (دنیا نیوز) شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ شہزاد اکبر بتا دیں انہیں عمران خان نے نکالا ہے یا استعفیٰ دیا ؟ ساڑھے 3 سال بعد پتہ چلا بچہ نالائق تھا، اسے نکال دیا، شہزاد اکبر اپنی ساڑھے 3 سال کی کارکردگی سے آگاہ کریں۔ سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی کہتا ہے وزیراعظم نے شہزاد اکبر کو چارج شیٹ کر دیا، شہزاد اکبر بڑا کہا کرتے تھے ثبوتوں کے بکسے بھرے ہیں، کبھی لندن جا رہے ہیں، کبھی آ رہے ہیں، ایک فوج ہے جس کا کام صرف پریس کانفرنسز کرنا ہے، کونسی وزارت ہے جس میں سیکڑوں اربوں کا اسکینڈل نہیں ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اتوار کے روز جلوہ فروز ہوئے اور کہا میں سڑکوں پر نکل آیا تو آپ کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، عوام تو پہلے ہی گھبرائے ہوئے تھے، اب وزیراعظم کی دھمکیوں سے اور گھبرا گئے، جوسرکس لگی ہوئی ہے، ملک مزید اسے برداشت نہیں کرسکتا، ملک کے سارے چور کابینہ کی میز پر بیٹھے ہیں، آج کرپشن کے انڈیکس میں پاکستان 140 ویں نمبر پر آگیا۔ انہوں نے کہا کہ آج پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس ہے، جس میں سفارشات پیش کی جائیں گی، 23 مارچ کو لانگ مارچ ہوگا۔.