’آپ گریجویٹس کو پکوڑے تلنے کو کیوں کہہ رہے ہیں؟‘ - BBC News اردو

28/01/2022 4:29:00 PM

بہار میں بے روزگار نوجوانوں کا احتجاج: ’آپ گریجویٹس کو پکوڑے تلنے کو کیوں کہہ رہے ہیں؟‘

بہار میں بے روزگار نوجوانوں کا احتجاج: ’آپ گریجویٹس کو پکوڑے تلنے کو کیوں کہہ رہے ہیں؟‘

نوجوان کے غصے اور پرتشدد مظاہروں نے انڈیا میں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے بحران کی جانب توجہ دلائی ہے۔ بہت سے افراد کا خیال ہے کہ بہار اور ہمسایہ ریاست اتر پردیش میں اس ہفتے ملازمتوں کے امتحانات کے دوران ہونے والے فسادات حکام کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Imagesایک تھنک ٹینک، سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMIE) کے مطابق، دسمبر میں انڈیا میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 8 فیصد تک بڑھ گئی۔ یہ شرح 2020 میں اور 2021 کے بیشتر حصے میں 7 فیصد سے زیادہ تھی۔ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ موجودہ شرح کم از کم پچھلی تین دہائیوں میں بے روزگاری کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔

کام کرنے والی آبادی میں نوکری کے متلاشی افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے: 15-24 سال کی عمر کے صرف 27 فیصد لوگ یا تو کام کر رہے ہیں یا نوکری کی تلاش میں ہیں۔ کوئی شخص جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہوگا، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ وہ بے روزگار رہیں گے اور کم تنخواہ والی اور معمولی ملازمتیں لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ انڈیا کی افرادی قوت میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین کی شرح، دنیا میں سب سے کم ہے۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

روزگار کے مواقع تو مودی جی نے بیچ دیا تو نوجوان کیا کریں پکوڑے ہی تلیں گے !

پنجاب کے دو اضلاع کے سکولوں کے شیڈول میں توسیعنجاب کے دو ضلاع کے 'اسکولوں' کے یڈول میں وسیع

اومی کرون کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے راولپنڈی ٹریفک پولیس بھی میدان میں آگئیراولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) اومی کرون کے پھیلاؤ کے سدباب کیلئے راولپنڈی پولیس بھی میدان میں آگئی ، ٹریفک وارڈنز  کی جانب سےشہریوں میں فیس ماسک

دعا منگی کیس، پولیس کو مرکزی ملزم کے فرار میں استعمال ہوئی گاڑی کی تلاشکراچی میں گزشتہ روز دعا منگی اغواء برائے تاوان کیس کے مرکزی ملزم کے فرار میں استعمال ہونے والی گاڑی کی پولیس نے تلاش شروع کر دی ہے۔

آسٹریلیا کے قدیمی باشندوں کے حقوق کی جنگ کیلئے قائم 'سفارتخانے' کو 50 برس مکملیہ احتجاج مقامی آبادی کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے دنیا کا طویل ترین پلیٹ فارم ہے

گارڈ نے جان خطرے میں ڈال کر ندی میں پھنسے کتے کو بچا لیا۔۔۔ویڈیو وائرلسکیورٹی گارڈ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ندی میں بہہ جانیوالے پھنسے ہوئے کتے کو بچا لیا۔جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہی ہے

بورس جانسن نے برطانیہ کیلئےکام کرنیوالے افغانوں کے بجائے جانوروں کے انخلا کو ترجیح دیجانوروں کے لیےکام کرنے والی فلاحی تنظیم کے عملے اور 173کتوں اور بلیوں کے افغانستان سے انخلا کے لیے بورس جانسن نے خود احکامات خود جاری کیے

ان دونوں ریاستوں میں بے روزگار افراد کی تعداد، انڈیا میں کل تعداد کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ ،تصویر کا ذریعہ Getty Images ایک تھنک ٹینک، سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMIE) کے مطابق، دسمبر میں انڈیا میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 8 فیصد تک بڑھ گئی۔ یہ شرح 2020 میں اور 2021 کے بیشتر حصے میں 7 فیصد سے زیادہ تھی۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ موجودہ شرح کم از کم پچھلی تین دہائیوں میں بے روزگاری کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔ کام کرنے والی آبادی میں نوکری کے متلاشی افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے: 15-24 سال کی عمر کے صرف 27 فیصد لوگ یا تو کام کر رہے ہیں یا نوکری کی تلاش میں ہیں۔ کوئی شخص جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہوگا، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ وہ بے روزگار رہیں گے اور کم تنخواہ والی اور معمولی ملازمتیں لینے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ انڈیا کی افرادی قوت میں 15 سال اور اس سے زیادہ عمر کی خواتین کی شرح، دنیا میں سب سے کم ہے۔ 18 سے 29 سال کی عمر کے نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں۔ لیبر اکانومسٹ رادھیکا کپور کے مطابق چونکہ زیادہ تر نوجوان سکولوں اور کالجوں میں جاتے ہیں، لہذا پڑھے لکھے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے اور کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے۔‘ انڈیا میں نوجوانوں کے لیے کافی تعداد میں ملازمتیں اور بہتر نوکریاں پیدا نہیں ہو رہیں۔ لیبر سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ایک چوتھائی نوجوان گھر بیٹھے ’بغیر معاوضہ خاندانی کام‘ کر رہے ہیں، یا فیملی کو مدد فراہم کرتے ہیں اور ساتھ امتحانات کی تیاری کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق صرف ایک تہائی کے پاس باقاعدہ ملازمتیں تھیں، لیکن ان میں سے 75 فیصد کے پاس کوئی کنٹریکٹ یا تحریری معاہدہ نہیں تھا اور 60 فیصد سوشل سکیورٹی کے اہل نہیں تھے۔ ڈاکٹر کپور کا کہنا ہے کہ سرکاری ملازمتوں کے لیے ہنگامہ آرائی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ انڈیا کے نوجوان معمولی اور غیر مستحکم نوکریوں کی بجائے ان مستحکم، محفوظ ملازمتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’غیر یقینی ہے جس میں کیریئر بنانے کا کوئی راستہ نہیں۔ ایک پڑھا لکھا نوجوان یہ سب نہیں چاہتا۔ گِگ اکانومی کو گلیمرائزنگ کرنا یا اس کی تشہیر بے روزگاری کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔‘ ،تصویر کا ذریعہ VISHNU NARAYAN ،تصویر کا کیپشن بہار میں پٹنہ کی سڑکیں پرائیویٹ کوچنگ سکولوں کے اشتہارات سے بھری پڑی ہیں جو سرکاری ملازمتوں کے امتحان پاس کروانے کا وعدہ کرتے ہیں بہار جیسے شہروں میں زراعت میں آنے والے بحران نے بھی بے روزگاری کو بڑھایا ہے۔ قابلِ کاشت زمینیں کم ہوتی جا رہی ہیں جس کے ساتھ کاشتکاری غیر منافع بخش ہوتی جا رہی ہے۔ اپنے بچوں کو پرائیویٹ کوچنگ کے لیے شہروں میں بھیجنے کے لیے کاشتکاروں کے خاندان زمینیں بیچ رہے ہیں اور قرض لے رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی پہلی نسل پڑھ لکھ رہی ہے، اور اس بے روزگاری والی معیشت میں وہ وائٹ کالر نوکریوں کے خواہشمند ہیں۔ سرکاری سکول اور کالج ان طلبا میں اعتماد کی کمی کو پورا نہیں کر پاتے۔ بہار میں پٹنہ کی سڑکیں پرائیویٹ کوچنگ سکولوں کے اشتہارات سے بھری پڑی ہیں جو سرکاری ملازمتوں کے امتحان پاس کروانے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اب اساتذہ اپنے طالب علموں کو بتا رہے ہیں کہ حکومت کے پاس کوئی نوکریاں نہیں ہیں۔ ہنگاموں کو بھڑکانے کے الزام میں کوچنگ سکولوں کے چھ اساتذہ کا نام پولیس رپورٹ میں درج کیا گیا ہے۔ بنا کسی لیڈر اور قیادت کے اس ہفتے ہونے والے ہنگامے یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ انڈیا کی سیاسی جماعتیں کس طرح ملازمتوں کے بحران سے نمٹنے میں ناکام ہو رہی ہیں۔ بہار کے مشتعل طلبا کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے احتجاج پر کسی نے توجہ نہیں دی جس کے بعد وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے۔ انڈیا کے شہروں میں ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ملازمتوں کی کمی گھریلو تشدد کا باعث بن رہی ہے۔ یہاں یہ بھی بھولنا نہیں چاہیے کہ سنہ 1975 میں جو ہنگامے ایمرجنسی کا باعث بنے تھے اور وزیر اعظم اندرا گاندھی نے شہری آزادیوں کو معطل کر کے ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈال دیا تھا، ان کا سبب بے روزگاری اور مہنگائی تھی۔ ایمرجنسی کے شروع کے دنوں میں کیے گئے ایک سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 18-24 کی عمر کے تقریباً 24 فیصد نوجوان بے روزگار تھے۔ اور اس کے بعد اب سب سے بڑا احتجاج بہار میں ہوا ہے۔ متعلقہ عنوانات .Published On 28 January,2022 05:37 pm لاہور: (ویب ڈیسک) کر دی گئی، 50 فیصد حاضری 15فروری تک جاری رکھنے کا اعلان کر دیا گیا۔ صوبائی وزیر مراد راس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ سکولوں میں پہلے 31جنوری تک 50فیصد حاضری کا نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا، لاہور اور راولپنڈی میں بچے 50فیصد تک ہی حاضر ہوں گے، ساتویں سے 12ویں تک کی کلاسز پرانے شیڈول کو برقرار رکھیں گی۔ ANNOUNCEMENT Only in Lahore & Rawalpindi.تقسیم کئے گئے ۔ سی ٹی او راولپنڈی وسیم ریاض کی جانب سے کہا گیا کہ شہری احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس موذی وباء سے محفوظ رکھ سکتے ہیں، ٹریفک پولیس کے افسران اور جوانوں نے کورونا وائرس کی ابتداء سے اب تک فرنٹ لائن سولجر کا کردار ادا کیا ، کئی اہلکار اور افسران شہریوں کو محفوظ رکھنے کی جدو جہد میں خود بھی موذی وائرس کا شکار ہوئے ۔ خیبرپختونخوا میں تیل نکالنے والی غیر ملکی کپنی کے آفس پر دہشت گردوں کا حملہ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، سپروائزر اغوا سی ٹی او راولپنڈی نے مزید کہا کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے افسران و جوانوں کو سرکاری طور پر علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں ، ٹریفک وارڈنز کی صحت اور ویلفیئر کے حوالے سے ہر ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، تمام افسران و جوانوں کی سرکاری طور پر ویکسینیشن بھی کروائی جا چکی ہے۔ ٹریفک پولیس راولپنڈی کی جانب سے کہا گیا کہ ایجوکیشن ونگ کے ذریعے عوام الناس میں اومی کراؤن وائرس اور روڈ سیفٹی سے متعلق آگاہی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے، شہر میں ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو تحفظ بھی یقینی بنایا جا رہا ہے، شہریوں سے گزارش ہے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں ۔.ملزم زوہیب قریشی کو کورٹ پولیس کے اہلکار نیلے رنگ کی گاڑی میں لے کر آئے تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق کورٹ پولیس کے اہلکار انہیں گاڑی کے حوالے سے مطمئن نہیں کر سکے، اہلکار گاڑی کو کبھی آن لائن اور کبھی پرائیویٹ ٹیکسی کہہ رہے ہیں۔ کراچی میں ہائی پروفائل دعا منگی اغواء کیس کے مرکزی ملزم زوہیب قریشی کے شاپنگ مال سے فرار کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ ملزم کو پولیس اہلکار قیدیوں کی وین میں نہیں بلکہ پرائیویٹ گاڑی میں لائے تھے۔ تفتیشی حکام نے یہ بھی بتایا ہے کہ ملزم کے فرار میں استعمال ہونے والی گاڑی کو تلاش کرنے کے لیے طارق روڈ پر لگے مختلف کیمروں کی فوٹیجز کی مدد لی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم زوہیب قریشی کے فرار ہونے کا مقدمہ فیروز آباد میں درج کیا گیا ہے، مقدمے میں 2 پولیس اہلکاروں اور ملزم زوہیب کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں گرفتار ملزم کے پولیس کی مدد سے فرار ہونے کی دفعات شامل کی گئی ہیں، گرفتار کیے گئے دونوں اہلکاروں کا تعلق کورٹ پولیس سے ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملوث دونوں اہلکار محمد نوید اور حبیب ظفر کو گرفتار کر کے ان کے ابتدائی بیان ریکارڈ کیے گئے ۔ پولیس اہلکاروں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملزم زوہیب کو گزشتہ روز جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا،اسے کورٹ سے نجی گاڑی میں طارق روڈ لایا گیا، ملزم نے کہا کہ اسے کچھ خریداری کرنی ہے جس پر اسے شاپنگ مال لے گئے، ملزم نے شاپنگ مال میں ہمیں جھانسا دیا اور فرار ہو گیا۔ کراچی کراچی پولیس ہائی پروفائل کیس کے ملزم کی.