\u0627\u0645\u0631\u06cc\u06a9\u06cc \u062e\u0627\u062a\u0648\u0646 \u0631\u06a9\u0646 \u06a9\u0627\u0646\u06af\u0631\u06cc\u0633 \u06a9\u06cc \u0628\u06be\u0627\u0631\u062a \u06a9\u0648 '\u062e\u0627\u0635 \u062a\u0634\u0648\u06cc\u0634 \u0646\u0627\u06a9 \u0645\u0644\u06a9' \u0642\u0631\u0627\u0631 \u062f\u06cc\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u0642\u0631\u0627\u0631\u062f\u0627\u062f

23/06/2022 9:04:00 PM

امریکی کانگریس کی ویب سائٹ کے مطابق مذکورہ قرارداد قانون ساز راشدہ طالب اور جووان ورگس کی حمایت سے جمع کروائی گئی ہے۔

امریکی کانگریس کی ویب سائٹ کے مطابق مذکورہ قرارداد قانون ساز راشدہ طالب اور جووان ورگس کی حمایت سے جمع کروائی گئی ہے۔

\u0628\u06be\u0627\u0631\u062a \u0645\u06cc\u06ba \u06a9\u0648\u0631\u0648\u0646\u0627 \u06a9\u06d2 \u0627\u0636\u0627\u0641\u06d2 \u06a9\u06d2 \u062f\u0648\u0631\u0627\u0646 \u0627\u06cc\u06a9 \u062a\u06c1\u0627\u0626\u06cc \u0645\u0633\u0644\u0645\u0627\u0646\u0648\u06ba \u06a9\u06d2 \u0633\u0627\u062a\u06be \u06c1\u0633\u067e\u062a\u0627\u0644\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0645\u062a\u06cc\u0627\u0632\u06cc \u0633\u0644\u0648\u06a9 \u06a9\u06cc\u0627 \u06af\u06cc\u0627\u060c \u0627\u0644\u06c1\u0627\u0646 \u0639\u0645\u0631

یو ایس سی آئی آر ایف کی 2022 کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا کہ 2021 میں بھارتی حکومت نے اپنی پالیسیوں کو فروغ دیا، جس میں ہندو قوم پرست ایجنڈے کو تقویت دینا بھی شامل ہے اور اس طرح کی پالیسیوں سے بھارت میں رہنے والے مسلمان، عیسائی، سکھ، دلت اور دیگر مذہبی اقلیتیں شدید متاثر ہوئیں۔

بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مذہبی اقلیتی رہنماؤں پر جبر اور بھارت میں مذہبی رواداری کے لیے آوازیں اٹھانے والے رہنماؤں کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں جیسوئٹ انسانی حقوق کے محافظ فادر اسٹین سوامی اور مسلم انسانی حقوق کے سربراہ خرم پرویز شامل ہیں۔

مزید پڑھ:
DawnNews »

Pukaar with Zohaib Saleem Butt | SAMAA TV | 2nd October 2022

#Pukaar #ruda #RaviUrbanDevelopment #samaatv ➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-dat... مزید پڑھ >>

Shame shame and shame on u. U urine drinkers 🖕 Highly supported Dawn with India?

\u0627\u06cc\u0646 \u0627\u06d2 240 \u06a9\u06d2 \u0636\u0645\u0646\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628 \u0645\u06cc\u06ba \u0645\u0628\u06cc\u0646\u06c1 \u062f\u06be\u0627\u0646\u062f\u0644\u06cc \u06a9\u06cc \u062a\u062d\u0642\u06cc\u0642\u0627\u062a \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u062a\u0634\u06a9\u06cc\u0644\u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u0631\u06cc\u0679\u0631\u0646\u0646\u06af \u0627\u0641\u0633\u0631\u060c \u067e\u0631\u06cc\u0632\u0627\u0626\u06cc\u0688\u0646\u06af \u0627\u0641\u0633\u0631 \u0627\u0648\u0631 \u0688\u06cc \u0627\u06cc\u0645 \u0627\u0648 \u06a9\u06d2 \u06a9\u0631\u062f\u0627\u0631 \u06a9\u06cc \u0627\u0646\u06a9\u0648\u0627\u0626\u0631\u06cc \u06a9\u0631\u06d2 \u0627\u0648\u0631 10 \u062f\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u0631\u067e\u0648\u0631\u0679 \u067e\u06cc\u0634 \u06a9\u0631\u06d2\u060c \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u06a9\u0645\u06cc\u0634\u0646

\u0645\u0644\u06a9 \u0628\u06be\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u06a9\u0648\u0631\u0648\u0646\u0627 \u0648\u0627\u0626\u0631\u0633 \u06a9\u06d2 268 \u06a9\u06cc\u0633\u0632 \u0631\u067e\u0648\u0631\u0679\u060c \u0645\u062b\u0628\u062a \u06a9\u06cc\u0633\u0632 \u06a9\u06cc \u0634\u0631\u062d 2.14 \u0641\u06cc\u0635\u062f \u062a\u062c\u0627\u0648\u0632\u06a9\u0648\u0631\u0648\u0646\u0627 \u0648\u0627\u0626\u0631\u0633 \u06a9\u06d2 \u067e\u06be\u06cc\u0644\u0627\u0624 \u06a9\u0648 \u0631\u0648\u06a9\u0646\u06d2 \u0627\u0648\u0631 \u0627\u0633 \u0633\u06d2 \u062d\u0641\u0627\u0638\u062a \u06a9\u06d2 \u0644\u06cc\u06d2 \u062a\u0645\u0627\u0645 \u0635\u0648\u0628\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba \u062a\u0631\u062c\u06cc\u062d\u06cc \u0628\u0646\u06cc\u0627\u062f\u0648\u06ba \u067e\u0631 \u0628\u0648\u0633\u0679\u0631 \u0634\u0627\u0679\u0633 \u0644\u06af\u0627\u0626\u06d2 \u062c\u0627\u0626\u06cc\u06ba\u060c \u0648\u0632\u06cc\u0631 \u0635\u062d\u062a

\u0645\u0644\u06a9 \u0645\u06cc\u06ba \u0633\u0648\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u0642\u062f\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u0628\u0691\u06cc \u06a9\u0645\u06cc10 \u06af\u0631\u0627\u0645 \u0633\u0648\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u0642\u06cc\u0645\u062a 1586 \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06a9\u0645\u06cc \u0633\u06d2 \u0627\u06cc\u06a9 \u0644\u0627\u06a9\u06be 24 \u06c1\u0632\u0627\u0631 571 \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06c1\u0648\u06af\u0626\u06cc \u06c1\u06d2

\u0627\u0633\u0631\u0627\u0626\u06cc\u0644 \u06a9\u06cc \u0644\u0628\u0646\u0627\u0646 \u06a9\u0648 \u062c\u0646\u06af \u06a9\u06cc \u062f\u06be\u0645\u06a9\u06ccAbbtakk News

\u0627\u0653\u0626\u06cc \u0627\u06cc\u0645 \u0627\u06cc\u0641 \u0645\u0639\u0627\u06c1\u062f\u06d2 \u0645\u06cc\u06ba \u067e\u06cc\u0634\u0631\u0641\u062a \u06a9\u06d2 \u0628\u0627\u0648\u062c\u0648\u062f \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06a9\u06cc \u0642\u062f\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u062e\u0627\u0637\u0631 \u062e\u0648\u0627\u06c1 \u0627\u0636\u0627\u0641\u06c1 \u0646\u06c1 \u06c1\u0648\u0633\u06a9\u0627\u06a9\u0627\u0631\u0648\u0628\u0627\u0631 \u06a9\u06d2 \u0627\u0653\u063a\u0627\u0632 \u067e\u0631 \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06a9\u06cc \u0642\u062f\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u0688\u0627\u0644\u0631 \u06a9\u06d2 \u0645\u0642\u0627\u0628\u0644\u06d2 \u0645\u06cc\u06ba 1.80\u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0636\u0627\u0641\u06c1 \u062f\u06cc\u06a9\u06be\u0627 \u06af\u06cc\u0627 \u062c\u0648 \u06a9\u0686\u06be \u062f\u06cc\u0631 \u0628\u0639\u062f \u06c1\u06cc 211 \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u067e\u0631 \u0679\u0631\u06cc\u0688 \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u0644\u06af\u0627\u06d4

'\u0648\u0631\u0644\u0688 \u0628\u06cc\u0646\u06a9 \u0646\u06d2 \u06af\u06cc\u0633 \u0645\u0646\u0635\u0648\u0628\u0648\u06ba \u06a9\u06cc \u062d\u0645\u0627\u06cc\u062a \u0633\u06d2 \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u062a\u0648\u0627\u0646\u0627\u0626\u06cc \u06a9\u06d2 \u0634\u0639\u0628\u06d2 \u06a9\u0648 \u062a\u0628\u0627\u06c1 \u06a9\u06cc\u0627'\u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0641\u0648\u0633\u0644 \u06af\u06cc\u0633 \u06a9\u06cc \u062c\u0627\u0646\u0628 \u0645\u0646\u062a\u0642\u0644\u06cc \u0627\u06cc\u0633\u06cc \u0645\u06c1\u0646\u06af\u06cc \u06c1\u06d2 \u062c\u0633 \u0646\u06d2 \u062f\u0631\u0622\u0645\u062f \u0634\u062f\u06c1 \u0645\u06c1\u0646\u06af\u06cc \u0627\u06cc\u0644 \u0627\u06cc\u0646 \u062c\u06cc \u067e\u0631 \u0645\u0644\u06a9 \u06a9\u06d2 \u0627\u0646\u062d\u0635\u0627\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u06c1\u0645 \u06a9\u0631\u062f\u0627\u0631 \u0627\u062f\u0627 \u06a9\u06cc\u0627\u060c \u0645\u0627\u06c1\u0631\u06cc\u0646

کے نتائج کی بنیاد پر قرارداد میں بھارت کو خاص تشویش کا حامل ملک قرار دینے کی دلیل پیش کی گئی ہے۔ قرارداد کا متن امریکی کانگریس کی ویب سائٹ پر دستیاب قرارداد کے متن میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی رپورٹ نے مسلسل 3 برسوں تک بھارت کو ایک خاص تشویش والے ملک کے طور پر نامزد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ یو ایس سی آئی آر ایف کی 2022 کی سالانہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے قرارداد میں کہا گیا کہ 2021 میں بھارتی حکومت نے اپنی پالیسیوں کو فروغ دیا، جس میں ہندو قوم پرست ایجنڈے کو تقویت دینا بھی شامل ہے اور اس طرح کی پالیسیوں سے بھارت میں رہنے والے مسلمان، عیسائی، سکھ، دلت اور دیگر مذہبی اقلیتیں شدید متاثر ہوئیں۔ قرارداد کے مطابق، یو ایس سی آئی آر ایف رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے ملک کی مذہبی اقلیتوں کے خلاف موجودہ اور نئے قوانین اور ساختی تبدیلیوں کے استعمال کے ذریعے قومی اور ریاستی سطح پر ہندو ریاست کے اپنے نظریاتی وژن کو منظم کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔ قرارداد میں رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور انسداد بغاوت کے قانون جیسے قوانین کے استعمال کا مقصد حکومت کے خلاف آواز اٹھانے والے کسی بھی شخص کو خاموش کرنے کے لیے خوف کا ماحول پیدا کرنے کا ایک ہتھکنڈا ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا کہ بھارتی حکومت کی طرف سے مذہبی اقلیتی رہنماؤں پر جبر اور بھارت میں مذہبی رواداری کے لیے آوازیں اٹھانے والے رہنماؤں کے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جن میں جیسوئٹ انسانی حقوق کے محافظ فادر اسٹین سوامی اور مسلم انسانی حقوق کے سربراہ خرم پرویز شامل ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: بھارتی مسلمانوں پر حملے، پاکستان نے عالمی برادری کو خبردار کر دیا قرار داد میں کہا گیا کہ رپورٹ میں بھارتی حکومت کی ’بین المذاہب جوڑوں اور ہندو مذہب سے عیسائیت یا اسلام قبول کرنے والوں کو مجرمانہ طور پر ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کی بھی متعدد مثالیں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بھارتی شہریت کے ترمیمی قانون اور بھارتی مسلمانوں کے لیے نیشنل رجسٹری آف سٹیزنز کے شدید خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے جس میں لاکھوں افراد کو ملک سے نکالنے یا غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھنے کے خدشات بھی شامل ہیں۔ قرارداد کے متن کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے محلوں، کاروباروں، گھروں اور عبادت گاہوں پر متعدد حملے کیے گئے اور ان میں سے کئی واقعات پرتشدد، بلا اشتعال اور کئی سرکاری اہلکاروں کی طرف سے حوصلہ افزائی کرنے یا اکسانے سے رونما ہوئے تھے۔ یو ایس سی آر آئی ایف کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہےکہ2021 میں ستمبر 2020 میں نافذ کسان قوانین کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ بھارت میں بڑے پیمانے پر رونما ہونے والے مظاہروں کے باوجود اب بھی مظاہرین خاص طور پر سکھ مظاہرین کو دہشت گرد اور مذہبی طور پر متحرک علیحدگی پسندوں کے طور پر بدنام کرنے کی کوششیں کی گئیں جن میں خاص طور پر حکومتی عہدیداروں کی طرف سے بھی ایسی کوششیں کی گئیں۔ مزید پڑھیں: بی جے پی رہنماؤں کے پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق گستاخانہ ریمارکس، مزید کئی مسلم ممالک کا غصے کا اظہار قرارداد میں کہا گیا کہ رپورٹ میں 2021 کے آکسفیم انڈیا کے مطالعے کا مزید حوالہ دیا گیا ہے جس میں پتا چلا ہے کہ بھارت میں کورونا کے اضافے کے دوران ایک تہائی مسلمانوں کے ساتھ ہسپتالوں میں امتیازی سلوک کیا گیا۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ جون 2022 تک یو ایس سی آئی آر ایف نے اپنی مذہبی آزادی یا عقائد سے متعلق متاثرین کی فہرست میں 45 بھارتی شہریوں کی فہرست دی تھی جن میں سے تمام کو ان کی حراست میں لیا گیا تھا اور ضمیر کے ان 45 قیدیوں میں سے 35 تاحال زیر حراست ہیں۔ قرارداد میں محکمہ خارجہ کی 2021 کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جو 2 جون 2022 کو شائع ہوئی تھی۔ الہان عمر نے قرارداد میں کہا ہے کہ بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق رپورٹ نے 2021 کے دوران بھارت میں مذہبی اقلیتوں، خاص طور پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کا منظرنامہ بھی پیش کیا ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک پریس کانفرنس کے دوران رپورٹ کا آغاز کرتے ہوئے اینٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ بھارت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور عقائد کے وسیع ہم آہنگی کا گھر ہے لیکن اب ہم اس بھارت میں لوگوں اور ان کی عبادت گاہوں پر بڑھتے ہوئے حملے دیکھ رہے ہیں۔ مزید پڑھیں: توہین آمیز بیان کے خلاف بھارتی مسلمانوں کا احتجاج جاری قرارداد میں حوالہ دیا گیا ہے کہ اسی پریس کانفرنس میں بین الاقوامی مذہبی آزادی کے سیفر رشاد حسین نے کہا تھا کہ بھارت میں متعدد مذہبی اقلیتوں بشمول عیسائیوں، سکھوں، دلت ہندؤوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر ہمیں تشویش ہے۔ ان تمام باتوں کا حوالہ دیتے ہوئے قراردادکے آخر میں کہا گیا کہ ایوان نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ایوان نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ بدتر سلوک کے بارے میں بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اینٹونی بلنکن سے مطالبہ کیا کہ وہ 1998 کے بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت بھارت کو ’خاص تشویش کا حامل ملک‘ کے طور پر نامزد کریں تاہم، قرارداد خارجہ امور کی کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ .0 الیکشن کمیشن نے مقدمہ کے اندراج کے لیے اسپیشل سیکریٹری کو شکایت درج کرنے کا حکم دے دیا— فوٹو: ریڈیو پاکستان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی کے این اے 240 میں ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے این اے 240 کراچی ضمنی انتخاب میں پولنگ اسٹیشن نمبر 87 پر بیلٹ پیپرز چوری ہونے اور پی ایس پی کی جانب سے مختلف پولنگ اسٹیشنز پر توڑ پھوڑ اور تشدد کے کیسز کی سماعت کی۔ پولنگ اسٹیشن نمبر 87 لانڈھی زمان آباد کے پریزائیڈنگ افسر حبیب خان اور ایس ایس پی فیصل بصیر میمن الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ میں بتایا کہ پریزائیڈنگ افسر پر الزام ہے کہ انہوں نے بیلٹ پیپرز چوری کیے، پریزائیڈنگ افسر کو پہلے گرفتار کر کے بعد میں رہا کر دیا گیا۔ مزید پڑھیں: این اے 240 ضمنی انتخاب: مصطفیٰ کمال، سعد رضوی پر قتل اور دہشت گردی کے مقدمات درج ایس ایس پی فیصل بصیر نے کہا کہ ہمیں الیکشن کی صبح اطلاع ملی کہ پریزائڈنگ افسر ایک سیاسی جماعت کے پولنگ ایجنٹ کے ساتھ مل کر بیلٹ پیپر چوری کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے، ایک سیاسی کارکن چوری کی کوشش کر رہا تھا لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ الیکشن کمیشن نے مقدمہ کے اندراج کے لیے اسپیشل سیکریٹری کو شکایت درج کرنے کا حکم دے دیا۔ پریزائڈنگ افسر پولنگ اسٹیشن نمبر 87 حبیب خان نے تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے کہا کہ مجھ پر بیلٹ پیپر چوری کرنے کا الزام غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 بجے ایک شخص آیا اور پوچھا کہ کوئی ٹھپے کا آسرا ہے، میں نے کہا ٹھپے نہیں لگیں گے تو وہ مسکرا کر چلا گیا، کچھ دیر بعد سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد پولنگ اسٹیشن پہنچ گئی، مجھ پر تشدد کیا گیا، میں مشکل سے جان بچا کر وہاں سے نکلا۔ یہ بھی پڑھیں: این اے 240 ضمنی انتخاب: سعد رضوی کی سربراہی میں ہم پر حملہ ہوا، مصطفیٰ کمال کا دعویٰ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن ان افراد کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتے گا، ایس ایس پی صاحب فوٹیج سے لوگوں کی شناخت کریں۔ الیکشن کمیشن نے سیکرٹری عمر حمید خان کو خصوصی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی ریٹرننگ افسر، پریزائیڈنگ افسر اور ڈی ایم او کے کردار کی انکوائری کرے اور 10 دن میں رپورٹ پیش کرے۔ این اے 240 میں بد امنی کیس کی سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے سربراہ اور کارکنان پر توڑ پھوڑ، تشدد کے سنگین الزامات ہیں اور فوٹیج بھی موجود ہے۔ پی ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال کے وکیل حفیظ الدین نے کمیشن کو بتایا کہ مصطفیٰ کمال سیاست میں آج سے نہیں ہیں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے وکیل کو روک دیا اور کہا کہ کوئی سیاسی بیان نہیں دینا ہے کیس پر بات کرنی ہے، ہمارے لیے قومی لیڈرز قابل احترام ہیں لیکن قانون توڑنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔ مزید پڑھیں: کراچی: این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے دوران پرتشدد واقعات، ایک شخص جاں بحق، 8 زخمی اس موقع پر وکیل حفیظ الدین نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کسی پولنگ اسٹیشن پر نہیں گئے، مصطفیٰ کمال کی ایک بھی ویڈیو منظر عام پر نہیں آئی، ہمیں پولیس پر اعتبار نہیں ہے کسی اور ادارے سے تحقیقات کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایم کیو ایم کا اسٹائل ہے، ہم کسی واقعہ میں ملوث نہیں ہیں، مختلف جگہوں پر ایم کیو ایم اور ٹی ایل پی کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا۔ مصطفیٰ کمال کے وکیل نے کہا کہ ڈسکہ سے زیادہ دھاندلی این اے 240 میں ہوئی جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اگر ثبوت دے دیں تو کارروائی بھی ڈسکہ سے زیادہ ہو گی۔ اسپیشل سیکریٹری نے بریفنگ میں بتایا کہ ضمنی انتخاب میں بدامنی پر تین ایف آئی آرز درج کی گئیں، پولنگ اسٹیشن نمبر 36 کے پریزائیڈنگ افسر کے مطابق مصطفیٰ کمال کارکنان سمیت خواتین پولنگ بوتھ میں داخل ہوئے۔ مزید پڑھیں: کراچی: این اے 240 ضمنی انتخاب، ایم کیو ایم پاکستان کے محمد ابوبکر سب سے آگے پریزائیڈنگ افسر کے مطابق مصطفیٰ کمال اور کارکنان نے پولنگ عملے کو زدوکوب کیا، بعد ازاں پی ایس پی کارکنوں نے پولنگ اسٹیشن کے باہر لوگوں پر تشدد کیا اور ہوائی فائرنگ کی، پولنگ اسٹیشن نمبر 51 کے پریزائیڈنگ افسر نے پی ایس پی پر تشدد کا الزام لگایا۔ پریزائڈنگ افسر نے بتایا کہ 300 سے 400 کارکنان نے دھاوا بولا، الیکشن کمیشن ان کے خلاف ضابطہ اخلاق اور الیکشن ایکٹ کے تحت کارروائی کر سکتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ اگر پارٹی کا سربراہ خود جتھا لے کر آئے تو اس کی سزا کیا ہو سکتی ہے، جس پر ایس ایس پی فیصل بصیر نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کا سربراہ 400 سے 500 کارکنوں کے ہمراہ مختلف پولنگ اسٹیشنز پر حملہ آور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ بیلیٹ بکس توڑے گئے، عملہ پر تشدد کیا گیا، بعد ازاں سیاسی جماعت کا سربراہ لانڈھی میں اپنے دفتر چلا گیا جہاں دوسرے سیاسی گروپ سے اس کا جھگڑا ہوا۔ مزید پڑھیں: کراچی ضمنی انتخاب: الیکشن کمیشن نے حمتی نتیجے کا اجرا روک دیا وکیل مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے بارہ سے تیرہ افراد زخمی ہوئے، ایک کارکن جاں بحق ہوا، اس کی بھی بات کریں جو ہمارے دفتر پر حملہ ہوا۔ ہمارے کسی کارکن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ فی الحال یہ کیس ہمارے سامنے نہیں ہے لیکن ہم رپورٹ طلب کرلیتے ہیں، الیکشن کمیشن نے پولیس سے مصطفیٰ کمال پر حملے کی رپورٹ بھی طلب کر تے ہوئے الیکشن کمیشن نے بد امنی کیس میں بھی انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی،کیس کی سماعت 10 روز کے لیے ملتوی کردی گئی۔ خیال رہے 16 جون کو کراچی کے حلقہ این اے 240 میں ضمنی انتخابات کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے تھے جس میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ مزید پڑھیں: کراچی: این اے-249 ضمنی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے قادر خان مندوخیل کامیاب بعدازاں 17 جون کو پولیس نے پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین مصطفیٰ کمال، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی اور سیکڑوں کارکنوں کے خلاف لانڈھی اور کورنگی میں ضمنی انتخاب کے دوران دہشت گردی، قتل اور پُرتشدد جھڑپوں پر 4 مقدمات درج کیے تھے۔ سرکاری حکام کے مطابق ان واقعات میں ایک راہگیر ہلاک اور دیگر افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نجی گارڈز سمیت 250 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ مزید بتایا گیا کہ ٹی ایل پی اور پی ایس پی سربراہان کے خلاف ایف آئی آرز میں دفعات 147، 148، 149، 302، 452، 427، 337 اے (ا)، 324 اور 7 اے ٹی اے شامل کی گئی ہیں۔ پولیس کے ترجمان نے جاری بیان میں بتایا تھا کہ فائرنگ اور پُرتشدد واقعات پر چار مقدمات درج کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن کے پریزائڈنگ افسران (پی او) کی شکایت پر دو مقدمات درج کیے ہیں جبکہ لانڈھی اور کورنگی پولیس کی جانب سے سرکاری مدعیت میں دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔.0 وفاقی وزیر نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا— فائل فوٹو: اے پی ڈھائی ماہ بعد کورونا وائرس کے ایک بار پھر سر اٹھانے پر حکومت کی جانب سے ٹیسنگ کا عمل تیز کردیا گیا، ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 268 کیسز رپورٹ ہوئے۔ قومی ادارہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12 ہزار 513 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 2.عالمی صرافہ میں سونے کی قدر 1842 ہے۔ فوٹو — فائل پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی ہوئی ہے۔ سندھ صرافہ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کے بھاؤ میں یکدم 1850 روپے کی کمی کے بعد فی تولہ سونا 1 لاکھ 45 ہزار تین سو روپے کا ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ 10 گرام سونے کی قیمت 1586 روپے کمی سے ایک لاکھ 24 ہزار 571 روپے ہوگئی ہے۔ عالمی صرافہ میں سونے کی قدر دس فیصد اضافے کے بعد 1842 ڈالرز فی اونس ہوگئی ہے۔.