\u0633\u0646\u062f\u06be \u06c1\u0627\u0626\u06cc\u06a9\u0648\u0631\u0679: \u0628\u0644\u062f\u06cc\u0627\u062a\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u06a9\u06d2 \u0627\u0644\u062a\u0648\u0627 \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u062f\u0627\u0626\u0631 \u062f\u0631\u062e\u0648\u0627\u0633\u062a\u0648\u06ba \u067e\u0631 \u0633\u0645\u0627\u0639\u062a

23/06/2022 8:57:00 PM

الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گیے جواب میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق تمام اسٹیشنری تیار ہے، بیلٹ پیپر چھپ چکے ہیں، پہلے مرحلے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گیے ہیں۔ #dawnnews #localgov

Localgov

الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گیے جواب میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق تمام اسٹیشنری تیار ہے، بیلٹ پیپر چھپ چکے ہیں، پہلے مرحلے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گیے ہیں۔ dawnnews localgov

\u0633\u0646\u062f\u06be \u062d\u06a9\u0648\u0645\u062a \u0633\u06d2 \u0645\u0634\u0627\u0648\u0631\u062a \u06a9\u06d2 \u0628\u0639\u062f \u0628\u0644\u062f\u06cc\u0627\u062a\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u06a9\u0627 \u0634\u06cc\u0688\u0648\u0644 \u062c\u0627\u0631\u06cc \u06a9\u06cc\u0627 \u06af\u06cc\u0627 \u06c1\u06d2\u060c \u0627\u0633 \u0644\u06cc\u06d2 \u06cc\u06c1 \u062f\u0631\u062e\u0648\u0627\u0633\u062a \u0646\u0627\u0642\u0627\u0628\u0644 \u0633\u0645\u0627\u0639\u062a \u06c1\u06d2\u060c \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u06a9\u0645\u06cc\u0634\u0646

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور دیگر سیاسی جماعتوں کی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کی جہاں الیکشن کمیشن نے جواب جمع کرادیا۔سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری

فروغ نسیم نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کے حلقہ بندیوں کے قانون کو بھی دیکھ لیا جائے کیونکہ حلقہ بندیوں کی کمیٹی نے بھی اختیارات سے تجاوز کیا ہے، جس پر عدالت سے استفثار کیا کہ یہ فیصلہ آپ لوگوں نے تاخیر سے کیوں کیا اور اتنی تاخیر سے سیلکٹ کمیٹی کے کمنٹس کیوں آئے۔

مزید پڑھ:
DawnNews »

Do Tok Baat With Kiran Naz | SAMAA TV | 3rd December 2022

#samaatv #kirannaz #imrankhan #pmln ➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-date on the ... مزید پڑھ >>

\u0627\u0633\u0644\u0627\u0645 \u0622\u0628\u0627\u062f\u060c \u067e\u0646\u062c\u0627\u0628 \u0627\u0648\u0631 \u062e\u06cc\u0628\u0631\u067e\u062e\u062a\u0648\u0646\u062e\u0648\u0627 \u06a9\u06d2 \u0645\u062e\u062a\u0644\u0641 \u0634\u06c1\u0631\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba \u0632\u0644\u0632\u0644\u06d2 \u06a9\u06d2 \u062c\u06be\u0679\u06a9\u06d2\u0631\u0627\u062a \u06af\u0626\u06d2 \u0645\u0644\u06a9 \u06a9\u06d2 \u0645\u062e\u062a\u0644\u0641 \u0634\u06c1\u0631\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba6.1 \u0634\u062f\u062a \u06a9\u0627 \u0632\u0644\u0632\u0644\u06c1 \u0622\u06cc\u0627\u060c \u0632\u0644\u0632\u0644\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0628\u0627\u0639\u062b \u0634\u06c1\u0631\u06cc\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba \u062e\u0648\u0641 \u0648\u06c1\u0631\u0627\u0633 \u067e\u06be\u06cc\u0644 \u06af\u06cc\u0627 \u0627\u0648\u0631 \u0644\u0648\u06af \u06a9\u0644\u0645\u06c1 \u0637\u06cc\u0628\u06c1 \u06a9\u0627 \u0648\u0631\u062f \u06a9\u0631\u062a\u06d2 \u06c1\u0648\u0626\u06d2 \u06af\u06be\u0631\u0648\u06ba \u0633\u06d2 \u0628\u0627\u06c1\u0631 \u0646\u06a9\u0644 \u0622\u0626\u06d2 \u062a\u0627\u06c1\u0645 \u0632\u0644\u0632\u0644\u06d2 \u0633\u06d2 \u06a9\u0648\u0626\u06cc \u062c\u0627\u0646\u06cc \u06cc\u0627 \u0645\u0627\u0644\u06cc \u0646\u0642\u0635\u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0627\u0637\u0644\u0627\u0639 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba \u0645\u0644\u06cc\u06d4

\u0633\u0646\u062f\u06be \u0645\u06cc\u06ba 2\u0645\u0627\u06c1 \u06a9\u06d2 \u0644\u0626\u06d2 \u0627\u0633\u0644\u062d\u06d2 \u06a9\u06cc \u0646\u0645\u0627\u0626\u0634 \u067e\u0631 \u067e\u0627\u0628\u0646\u062f\u06cc \u0639\u0627\u0626\u062f\u062e\u0644\u0627\u0641 \u0648\u0631\u0632\u06cc \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u0648\u0627\u0644\u0648\u06ba \u06a9\u06cc\u062e\u0644\u0627\u0641 \u0642\u0627\u0646\u0648\u0646\u06cc \u06a9\u0627\u0631\u0631\u0648\u0627\u0626\u06cc \u06c1\u0648\u06af\u06cc پاکستان کے اصلی دشمن باجوے، ندیم انجم اور اس گروہ کے باقی لعنتیوں کو پھانسی دی جائے اور لاش ڈی چوک پر لٹکائی جائے۔ بصورت دیگر ان کی موت کے بعد ان کی لاش ڈی چوک لائی جائے اور تین دن تک لٹکائی جائے۔ باجوہ تباہ دے۔ Awami Suo Moto Verdict 2022

\u0628\u0644\u0648\u0686\u0633\u062a\u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0634\u06a9\u0627\u06cc\u062a \u067e\u0631 \u0633\u0646\u062f\u06be \u067e\u0627\u0646\u06cc \u06a9\u06d2 \u0628\u06c1\u0627\u0624 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0636\u0627\u0641\u06d2 \u067e\u0631 \u0631\u0636\u0627\u0645\u0646\u062f\u0645\u0646\u06af\u0644\u0627 \u0627\u0648\u0631 \u062a\u0631\u0628\u06cc\u0644\u0627 \u0645\u06cc\u06ba \u067e\u0627\u0646\u06cc \u06a9\u0627 \u0630\u062e\u06cc\u0631\u06c1 \u06a9\u0645 \u06c1\u0648\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u0648\u062c\u06c1 \u0633\u06d2 \u0645\u0644\u06a9 \u0622\u0626\u0646\u062f\u06c1 \u0631\u0628\u06cc\u0639 \u06a9\u06d2 \u0633\u06cc\u0632\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u062e\u0634\u06a9 \u0633\u0627\u0644\u06cc \u062c\u06cc\u0633\u06cc \u0635\u0648\u0631\u062a\u062d\u0627\u0644 \u0633\u06d2 \u062f\u0648\u0686\u0627\u0631 \u06c1\u0648 \u0633\u06a9\u062a\u0627 \u06c1\u06d2\u06d4

\u0627\u0633\u0644\u0627\u0645 \u0622\u0628\u0627\u062f \u0645\u06cc\u06ba \u0628\u0644\u062f\u06cc\u0627\u062a\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u0645\u0644\u062a\u0648\u06cc\u060c \u0646\u0626\u06cc \u062d\u0644\u0642\u06c1 \u0628\u0646\u062f\u06cc\u0648\u06ba \u06a9\u0627 \u062d\u06a9\u0645\u0627\u0633\u0644\u0627\u0645 \u0622\u0628\u0627\u062f \u06c1\u0627\u0626\u06cc \u06a9\u0648\u0631\u0679 \u0646\u06d2 \u0645\u0633\u0644\u0645 \u0644\u06cc\u06af (\u0646) \u067e\u06cc\u067e\u0644\u0632 \u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u06a9\u06cc \u062f\u0631\u062e\u0648\u0627\u0633\u062a\u0648\u06ba \u067e\u0631 \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u06a9\u0645\u06cc\u0634\u0646 \u06a9\u0648 65 \u0631\u0648\u0632 \u0645\u06cc\u06ba \u0646\u0626\u06cc \u062d\u0644\u0642\u06c1 \u0628\u0646\u062f\u06cc\u0627\u06ba \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u062d\u06a9\u0645 \u062f\u06cc\u0627 \u06c1\u06d2\u06d4

\u0627\u0633\u0644\u0627\u0645 \u0622\u0628\u0627\u062f \u0645\u06cc\u06ba \u0628\u0644\u062f\u06cc\u0627\u062a\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u0645\u0644\u062a\u0648\u06cc \u06a9\u0631\u062f\u06cc\u0626\u06d2 \u06af\u0626\u06d2: \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u06a9\u0645\u06cc\u0634\u0646 \u06a9\u0627 \u0639\u062f\u0627\u0644\u062a \u0645\u06cc\u06ba \u0628\u06cc\u0627\u0646\u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u06a9\u0645\u06cc\u0634\u0646 65 \u0631\u0648\u0632\u0645\u06cc\u06ba \u0646\u0626\u06cc \u062d\u0644\u0642\u06c1 \u0628\u0646\u062f\u06cc\u0627\u06ba \u06a9\u0631\u06a9\u06d2 \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u0634\u06cc\u0688\u0648\u0644 \u06a9\u0627 \u0627\u0639\u0644\u0627\u0646 \u06a9\u0631\u06d2\u060c \u0627\u0633\u0644\u0627\u0645 \u0622\u0628\u0627\u062f \u06c1\u0627\u0626\u06cc\u06a9\u0648\u0631\u0679

\u0627\u0633\u0644\u0627\u0645 \u0627\u0653\u0628\u0627\u062f \u0645\u06cc\u06ba \u0628\u0644\u062f\u06cc\u0627\u062a\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u0627\u06cc\u06a9 \u0628\u0627\u0631 \u067e\u06be\u0631 \u0645\u0648\u062e\u0631Abbtakk News

0 عدالت نے بلدیاتی انتخابات کو روکنے کے حوالے سے درخواست پر سماعت 24 جون تک ملتوی کردی—فائل فوٹو: اے ایف پی سندھ میں بلدیاتی انتخابات روکنے کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں دائر سیاسی جماعتوں کی درخواستوں پر الیکشن کمیشمن آف پاکستان (ای سی پی) نے جواب جمع کرواتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت سے مشاورت کے بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس جنید غفار نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور دیگر سیاسی جماعتوں کی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کی جہاں الیکشن کمیشن نے جواب جمع کرادیا۔ دوران سماعت ایم کیو ایم پاکستان کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ہمیں جواب کی نقل فراہم کردی جائے، ابھی جواب دیں گے۔ مزید پڑھیں: سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری انہوں نے دلائل دیے کہ سلیکٹ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی تمام جماعتیں شامل ہیں اور انتخابات کے حوالے سے حکومت سندھ نے اعتراف کیا ہے کہ قانون میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے حکم دیا تھا کہ آرٹیکل 140 اے کے مطابق لوکل گورنمنٹ ہونی چاہیے، جس پر جسٹس جنید غفار نے استفسار کیا کہ سلیکٹ کمیٹی کا قانون سازی سے الیکشن کے انعقاد سے کیا تعلق ہے۔ فروغ نسیم نے دلائل دیے کہ الیکشن کمیشن کے حلقہ بندیوں کے قانون کو بھی دیکھ لیا جائے کیونکہ حلقہ بندیوں کی کمیٹی نے بھی اختیارات سے تجاوز کیا ہے، جس پر عدالت سے استفثار کیا کہ یہ فیصلہ آپ لوگوں نے تاخیر سے کیوں کیا اور اتنی تاخیر سے سیلکٹ کمیٹی کے کمنٹس کیوں آئے۔ ایم کیو ایم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حلقہ بندیوں میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گیے، مومن آباد میں 40/50 ہزار میں یونین کونسل بنائی گئی ہے اور ہمارے علاقوں میں 82 ہزار ووٹوں سے زائد پر مشتمل یونین کونسل بنائی گئی ہے، جس سے مختلف طبقات کی نمائندگی متاثر ہوتی ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ 2014 میں بھی جسٹس محمد علی مظہر نے دو یوم پہلے الیکشن روکے تھے، جس پر جسٹس جنید غفار نے کہا کہ اب تو حکومت آپ کی حمایت کر رہی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: پشاور ہائیکورٹ کا ہزارہ ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات عیدالفطر تک مؤخر کرنے کا حکم ایم کیو ایم کے وکیل نے جواب دیا کہ حکومت ہماری بات مان رہی ہے لیکن اس سے کام کرنے کا موقع دیا جائے اور قومی اسمبلی کے حلقے 240 کے الیکشن میں بھی یہی ہوا کہ لوگوں کو پتہ ہی نہیں تھا کہ ووٹ ڈالنے کہاں جائیں، اسی وجہ سے این-اے 240 کا ٹرن آؤٹ کم رہا ہے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ ابھی تک صرف ووٹرز کی غیر حتمی لسٹ آرہی ہے، اسی طرح ووٹرز اور امیدوار کہاں کا فارم بھریں جب ووٹ کنفرم ہی نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے وکیل نے کہا کہ ہم نے درخواست میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے، جس پر جسٹس جنید غفار نے کہا کہ ہم ابھی کسی کی فریق بننے کی درخواست نہیں لیں گے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جمع کروائے گیے جواب میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے متعلق تمام اسٹیشنری تیار ہے، بیلٹ پیپر چھپ چکے ہیں، پہلے مرحلے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گیے ہیں۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے سامان کی ترسیل بھی شروع ہوچکی ہے اور بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے کاغذات نامزدگی جمع ہو رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ درخواست گزار سمیت تمام سیاسی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں اور تمام حلقہ بندیوں کی کمیٹیوں کے سربراہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر تھے اور تمام حلقہ بندیاں قانون کے مطابق کی ہیں۔ جواب میں کہا گیا ہے کہ حلقہ بندیوں کے لیے اتھارٹی بنائی ہے جس نے تمام شکایت سن کر فیصلہ کیا ہے۔ ای سی پی نے بتایا کہ یہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آئینی ذمہ داری ہے کہ 120 دن میں بلدیاتی انتخابات کرائیں کیونکہ سندھ میں بلدیاتی اداروں کی مدت اگست 2020 میں مدت ختم ہوچکی ہے اور اس سلسلے میں سندھ حکومت کے ساتھ الیکشن کمیشن کے مرکزی آفس میں ہم نے مارچ میں اجلاس بلایا تھا۔ جواب میں کہا گیا کہ سندھ حکومت سے مشاورت کے بعد بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا گیا، اس لیے یہ درخواست ناقابل سماعت ہے اور عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست مسترد کی جائے۔ مزید پڑھیں: پنجاب: متعلقہ قانون کی عدم موجودگی میں بلدیاتی انتخاب کا انعقاد بظاہر ناممکن عدالت نے سماعت کے بعد مزید سماعت 24 جون (کل) تک ملتوی کردی۔ دوسری جانب ایم کیو ایم کے وکیل بریسٹر فروغ نسیم نے کمرہ عدالت سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ہمیں آج پھر دلائل کا موقع دیا اور کیس کی مزید سماعت کل 24 جون تک ملتوی کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مؤقف یہی ہے کہ جس میں تمام سیاسی جماعتیں بشمول ایم کیو ایم، پی پی پی، پی ٹی آئی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ تبدیل نہیں ہوگا تو شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے لہٰذا الیکشن کمیشن کو انتخابات ملتوی کردینے چاہئیں مگر الیکشن کمیشن اس کی مخالف کر رہا ہے۔ فروغ نسیم نے مزید کہا کہ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ الیکشن کمیشن کیوں مخالفت کر رہا ہے، اگر اسٹیک ہولڈرز خاص طور پر پیپلزپارٹی خود کہہ رہی ہے کہ اصلاحات کے بغیر شفاف الیکشن نہیں ہوسکتے تو اس لیے جب تک شفاف الیکشن نا ہوں انتخابات ملتوی کیے جائیں۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پہلے ہی سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے انتخابی شیڈول جاری کردیا تھا۔ پہلے مرحلے میں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص ڈویژن کے کُل 14 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ہوگا، جس میں 26 جون کو صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک انتخابات ہوں گے اور 30 جون کو نتائج سامنے آئیں گے۔ دوسری طرف سندھ کے 14 اضلاع میں امیدواروں نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مہم مزید تیز کردی ہے۔ .Comments زلزلے کے جھٹکے 30 سے 40 سیکنڈز تک محسوس کیے گئے۔ اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے جس کی شدت 6.Jun 21, 2022 محکمہ داخلہ سندھ نے دو ماہ کیلئے صوبے بھر ميں اسلحے کی نمائش پر پابندی لگا دی۔ محکمہ داخلہ سندھ نے صوبے میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی عائد کرتے ہوئے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق صوبے میں اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی، پابندی کی خلاف ورزی کرنے پر دفعہ144کے تحت کارروائی ہوگی۔ محکمہ داخلہ سندھ کے مطابق پابندی عیدالضحیٰ، بلدیاتی اور ضمنی الیکشن کے پیش نظر لگائی گی ہے۔.0 ملک آئندہ ربیع کے سیزن میں خشک سالی جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے— فائل فوٹو: اے پی پی اسلام آباد: رواں ہفتے ہونے والی موسلا دھار بارش کے باوجود جاری خریف سیزن کے دوران پانی کی شدید قلت کے باعث ملک کے دو بڑے آبی ذخائر منگلا اور تربیلا میں اب تک کا سب سے کم پانی کا ذخیرہ ہونے کی وجہ سے ملک آئندہ ربیع کے سیزن میں خشک سالی جیسی صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک کے پانی کے منتظم انڈس ریور سسٹم اتھارٹی(ارسا) کو فوڈ سیکیورٹی کے وسیع تر مضمرات کے ساتھ اگلے سیزن تک پانی کے بحران کے پھیلنے کا خدشہ ہے، تو ایسے میں منگل کو وفاقی اور صوبائی وزراء کے اجلاس میں بلوچستان کو سندھ سے چار سے پانچ دن مزید پانی کے بہاؤ کی یقین دہانی کرائی گئی۔ مزید پڑھیں: پانی کے معاملے پر بلوچستان کے تحفظات، ٹیم کا سکھر بیراج کا دورہ تاہم انہوں نے اس وقت تک زیادہ مددگار ثابت ہونے کے حوالے سے اپنی نااہلی کا اظہار کیا جب گڈو اور سکھر بیراجوں پر دریا کا بہاؤ آج 72ہزار اور 59ہزار کیوسک کے مقابلے میں 2لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ کیوبک فٹ فی سیکنڈ (کیوسک) ہو گا۔ ذرائع نے بتایا کہ تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں بہاؤ یکم جون سے 20 جون کے درمیان اور پچھلے سالوں کے مقابلے میں بہتر تھا لیکن ارسا کے پاس 100 سال سے زائد عرصے کے اعداد و شمار کے مطابق جہلم، چناب اور کابل میں بہاؤ تاریخی طور پر کم رہتا ہے۔ اسی طرح 21 جون کو تربیلا اور منگلا میں ذخیرہ بھی ماضی کے مقابلے میں سب سے کم تھا۔ مجموعی طور پر اس سیزن میں آبپاشی کی قلت 58 فیصد رہی، یہ حالیہ چند دنوں میں تقریباً 28 فیصد تک گر گئی لیکن یہ اس سطح تک نہیں گئی جو ارسا کو کمی نہ ہونے پر صوبوں کے لیے عام آبپاشی کے لیے پانی مختص کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بارشوں نے کھیتوں پر مثبت اثر ڈالا لیکن ندی کے بہاؤ یا ڈیموں کے کیچمنٹ والے علاقوں پر یہ مثبت اثر نہیں پڑا، حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے میدانی علاقوں اور بلوچستان اور بلوچستان کے کوہ سلیمان جیسے علاقوں، کراچی اور لاہور میں ہونے والی زیادہ تر بارشیں کینال کمانڈ ایریاز میں آبپاشی کے لیے مددگار نہیں ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: سسٹم میں بہاؤ کم ہونے کی وجہ سے سندھ کے تمام بیراجوں میں پانی کی قلت مزید بڑھ گئی تاہم، بدقسمتی سے بارشوں کے ساتھ ساتھ منگلا اور تربیلا دونوں ڈیموں کے کیچمنٹ میں بھی حیرت انگیز برف باری ہوئی ہے اور درجہ حرارت میں کمی نے برف پگھلنے کے عمل پر منفی اثر ڈالا ہے۔ سینئر عہدیدار نے کہا کہ سال کے اس وقت (وسط جون) چترال، اسکردو اور بابوسر پاس کے بلند مقام پر واقع علاقوں میں ہونے والی اس برف باری کی مثال نہیں ملتی، اسکردو میں درجہ حرارت 12سے17 ڈگری سینٹی گریڈ پر منڈلا رہا ہے جبکہ برف پگھلنے میں مدد کے لیے 26 ڈگری سے زیادہ کا درجہ حرارت ضروری ہوتا ہے۔ یہ ملک کو ربیع میں خشک سالی جیسی صورت حال کی طرف لے جا رہا ہے اور اگر 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر اسکردو جیسی بلندی پر درجہ حرارت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو پانی کی مجموعی قلت یہاں تک کہ موجودہ خریف سیزن کے دوران تقریباً 50 فیصد ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مون سون کے دوران خریف میں ڈیم نہیں بھرے تو ربیع میں زیادہ قلت کی وجہ سے ایک غیر یقینی صورتحال درپیش ہو گی، ارسا کا تجزیہ ربیع میں خشک سالی کی طرف جھکاؤ ظاہر کرتا ہے۔ دریں اثنا، آبی وسائل کے وزیر سید خورشید احمد شاہ اور وزیر اقتصادی امور ایاز صادق نے سندھ اور بلوچستان کے نمائندوں سے ملاقات کی تاکہ سندھ ​​کے خلاف بلوچستان کی مختص پانی کا حصہ کم جاری کرنے کی شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔ مزید پڑھیں: آبپاشی کیلئے پانی کی قلت 45 فیصد تک پہنچ گئی، اِرسا نے صوبوں کو خبردار کردیا وزارت آبی وسائل کے جوائنٹ سیکریٹری نے 18 جون کو سکھر بیراج کے سائٹ وزٹ کے نتائج کے بارے میں اجلاس کو آگاہ کیا اور بتایا کہ سندھ نے تین سے چار دنوں میں پیٹ فیڈر کینال کے بہاؤ کو تقریباً 3700 کیوسک بڑھانے کی کوشش کا وعدہ کیا ہے لیکن دیگر نہروں میں اضافے سے معذوری کا اظہار کیا۔ تاہم سندھ نے گڈو اور سکھر میں پانی کی سطح بالترتیب 2لاکھ اور ڈیڑھ لاکھ سے تجاوز نہ کرنے پر اُچ اور مانوتھی نہروں میں پانی کی فراہمی اور کیرتھر کینال میں 650 کیوسک سے زیادہ پانی نہ چھوڑنے سے معذوری کا اظہار کیا۔ محکمہ آبپاشی کی طرف سے بتائی گئی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ سندھ سے بلوچستان کو پانی کی کم فراہمی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مختصر، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کیے جائیں گے۔.