جاپانی فوجی جو عالمی جنگ ختم ہونے کے 28 سال بعد تک جنگل میں چھپا رہا - BBC News اردو

شوئچی یوکوئی: جاپانی فوجی جو دوسری عالمی جنگ کے 28 سال بعد تک گوام کے جنگل میں چھپا رہا

24/01/2022 11:48:00 AM

شوئچی یوکوئی: جاپانی فوجی جو دوسری عالمی جنگ کے 28 سال بعد تک گوام کے جنگل میں چھپا رہا

پچاس سال قبل آج ہی کے دن بحر الکاہل کے ایک جزیرے پر مقامی شکاریوں کو ایک جاپانی فوجی ملا تھا جو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے سے تین دہائیوں بعد بھی جنگل میں چھپا ہوا تھا۔ اسے قریب تین دہائیوں تک یہی امید تھی کہ اس کے ساتھی وہاں آکر اسے بچا لیں گے۔

مائیک لینچنبی بی سی ورلڈ سروس57 منٹ قبل،تصویر کا ذریعہOTHERیہ آج سے ٹھیک 50 قبل کا واقعہ ہے جب ایک جاپانی فوجی کو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے لگ بھگ تین دہائیوں بعد گوام کے جنگلوں سے صحیح سلامت ڈھونڈ لیا گیا۔جنگ کے خاتمے کے بعد 28 برس تک دشمن کے خوف سے جنگل میں چھپ کر زندگی گزارنے والے اس فوجی کی جاپان واپسی پر ایک ہیرو کی طرح پذیرائی کی گئی اور انھیں خوش آمدید کہا گیا، لیکن وہ اس جدید معاشرے میں کبھی بھی معمول کی زندگی بسر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ان 28 برسوں کے دوران گوام کے جنگلات میں چھپے جاپانی فوج کے لانس کارپورل شوئچی یوکوئی کو اس بات کا قوی یقین تھا کہ اُن کے ساتھی ایک دن اُن کی تلاش میں ادھر آئیں گے۔جب 24 جنوری 1972 کو بحرالکاہل کے ایک جزیرے سے مقامی شکاریوں نے ڈھونڈ نکالا تو اُس وقت 57 سالہ سابق فوجی کے ذہن میں یہی بات تھی کہ اُن کی زندگی خطرے میں ہے۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

Imran Khan Big Revelation | News Bulletin at 6 PM | PTI Islamabad Long March |Imran Khan Azadi March

Breaking News | Latest News | Pakistan Breaking News | Breaking News Today | News Headlines | Headlines News | Pakistan News | Headlines | Live News | News U... مزید پڑھ >>

اپوزیشن کا شکریہ جو عمران خان کے خطاب کو غور سے سنُتے ہیں: حسان خاورنیازی کے رات - دن Urgent News! Impending global food crisis! An astonishing solution! An introduction to the happiest place on earth! A place that is COVID-free and mask-free!' ۔jokes سب کو پسند ہوتی ہیں اسلائے سْنتے ہیں

سرفراز بھائی سے جو کچھ سیکھا ان ہی کے خلاف استعمال کروں گا، شاداب - ایکسپریس اردوقومی ٹيم ميں سب ساتھ کھيلتے ہيں لیکن پی ایس ایل ميں حريف بننے ميں مزہ آتا ہے 😂Ye sahii h.. Hahaha ustad ustad hota hai shady Bhai 😎 پاکستان میں اسی لیے کوئی کسی کو کچھ نہیں سکھاتا

عمران خان کے ’ایک کروڑ نوکریوں‘ کے وعدے کا کیا بنا؟ - BBC News اردوایک کروڑ نوکریوں سے لے کر معاشی خوشحالی کے جو دعوے تحریکِ انصاف ک رہنماؤں نے کیے تھے، آج تقریباً ساڑھے تین سال بعد ملک میں شرحِ بیروزگاری پر نظر ڈالیں تو صورتحال ان وعدوں سے یکسر مختلف نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر ٹاک شوز تک، اکثر لوگ یہی سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ حکومت میں آنے سے قبل نوکریاں دینے اور کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے جو وعدے کیے گئے ان کا کیا بنا؟ پین چود خان جی بالکل اور جو لوگ سچ سمجھے تھے انھیں یوتھیا کہتے ہیں۔ sb Juth tha Madarchod h

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد عارضہ قلب کے باعث اسپتال منتقللائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر محمد عارضہ قلب کے باعث اسپتال میں داخل ہوگئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مہاتیرمحمد کو اسپتال کے امراض قلب کے یونٹ میں داخل اللہ تعالیٰ خیر و عافیت والا معاملہ رکھے۔ آمین یارب العالمین

روس کے حق میں بیان نے جرمنی نیوی کے چیف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیابرلن ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) روس کے حق میں اور یوکرین کی مخالفت میں بیان نے  جرمنی نیوی کے چیف  کو  استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ خبررساں

شہریار مرزا کا تذکرہ جسے اندھا کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا -شہریار مرزا کا تذکرہ جسے اندھا کرنے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ARYNewsUrdu

شوئچی یوکوئی: جاپانی فوجی جو دوسری عالمی جنگ کے 28 سال بعد تک گوام کے جنگل میں چھپا رہا مائیک لینچن بی بی سی ورلڈ سروس 57 منٹ قبل ،تصویر کا ذریعہ OTHER یہ آج سے ٹھیک 50 قبل کا واقعہ ہے جب ایک جاپانی فوجی کو دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے لگ بھگ تین دہائیوں بعد گوام کے جنگلوں سے صحیح سلامت ڈھونڈ لیا گیا۔ جنگ کے خاتمے کے بعد 28 برس تک دشمن کے خوف سے جنگل میں چھپ کر زندگی گزارنے والے اس فوجی کی جاپان واپسی پر ایک ہیرو کی طرح پذیرائی کی گئی اور انھیں خوش آمدید کہا گیا، لیکن وہ اس جدید معاشرے میں کبھی بھی معمول کی زندگی بسر کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ان 28 برسوں کے دوران گوام کے جنگلات میں چھپے جاپانی فوج کے لانس کارپورل شوئچی یوکوئی کو اس بات کا قوی یقین تھا کہ اُن کے ساتھی ایک دن اُن کی تلاش میں ادھر آئیں گے۔ جب 24 جنوری 1972 کو بحرالکاہل کے ایک جزیرے سے مقامی شکاریوں نے ڈھونڈ نکالا تو اُس وقت 57 سالہ سابق فوجی کے ذہن میں یہی بات تھی کہ اُن کی زندگی خطرے میں ہے۔ یوکوئی کے بھانجے اومی ہاتاشن کہتے ہیں کہ شکاریوں کو دیکھ کر ’وہ بہت زیادہ گھبرا گئے تھے۔‘ 30 برس کے وقفے کے بعد اپنے جیسے دیگر انسانوں کی جھلک دیکھ کر وہ چونک گئے تھے کیونکہ انھوں نے کئی برسوں سے کسی انسان کو نہیں دیکھا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے شکاریوں کی رائفل پکڑنے کی کوشش کی لیکن برسوں سے غیر صحت مند غذا کھانے کے باعث وہ کمزور پڑ گئے تھے اور مقامی افراد کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ ہاتاشن کہتے ہیں کہ ’انھیں ڈر تھا کہ شکاری انھیں بطور جنگی قیدی گرفتار نہ کر لیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بطور جاپانی فوجی اور جاپان میں ان کے خاندان کے لیے شرمندگی کی بات ہوتی۔‘ جب وہ شکاری یوکوئی کو جنگل کی گھنی گھاس کے درمیان سے لے جا رہے تھے، تو یوکوئی نے اُن کی منتیں کیں کہ وہ انھیں یہیں ہلاک کر دیں مگر قیدی نہ بنائیں۔ ہاتاشن نے اپنے انکل یوکوئی کے مل جانے کے دو سال بعد جاپان میں اُن کی بازیابی کی ڈرامائی کہانی بتانے کی کوشش کی ہے۔ اس میں ان لوگوں (شکاریوں) کا آنکھوں دیکھا حال بھی موجود ہے جنھوں نے انھیں ڈھونڈ نکالا تھا۔ اُن کی کتاب ’پرائیویٹ یوکوئیز وار اینڈ لائف ان گوام 1944-1972‘ انگلش ترجمے کے ساتھ سنہ 2009 میں شائع ہوئی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’مجھے اُن پر بہت فخر ہے۔ وہ ایک شرمیلے اور خاموش انسان تھے اور ان کی شاندار شخصیت تھی۔‘ زیر زمین پناہ گاہ جولائی 1944 میں یوکوئی کا یہ تھکا دینے والا طویل سفر تب شروع ہوا جب بحر الکاہل میں جاپان کے خلاف اپنی جارحیت کے تسلسل میں امریکی افواج نے گوام پر حملہ کر دیا تھا۔ ،تصویر کا ذریعہ ،تصویر کا کیپشن یوکوئی نے مچھلیاں پکڑنے کے لیے ایک جال بھی بنا رکھا تھا اس خونریز لڑائی میں دونوں جانب ہلاکتیں ہوئیں۔ لیکن جب جاپانی کمانڈ منتشر ہو گئی تو یوکوئی اور اُن کی پلاٹون کے دوسرے فوجی اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت دشمن کے تابڑ توڑ حملوں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہاتاشن بتاتے ہیں کہ ’پہلی بات تو انھوں نے پکڑے جانے کے خوف کے مدِنظر بہت زیادہ احتیاط برتی۔ وہ جنگل میں نقل و حرکت کے دوران اپنے پیروں کے نشان تک مٹا دیتے تھے تاکہ کوئی ان کا پیچھا کرتے کرتے وہاں نہ پہنچ پائے۔‘ یہ بھی پڑھیے