India

India

’اتنا کچھ کھونے کے بعد اس شہریت کا کیا کریں؟'

’میرے شوہر نے ہماری تمام زمین اس کیس کو لڑتے ہوئے بیچ دی۔ اس نے مجھے میری شہریت لوٹانے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتا تھا۔‘ #India

11.9.2019

’میرے شوہر نے ہماری تمام زمین اس کیس کو لڑتے ہوئے بیچ دی۔ اس نے مجھے میری شہریت لوٹانے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتا تھا۔‘ India

انڈیا کی ریاست آسام میں 19 لاکھ سے زائد افراد کی انڈین شہریت مشکوک ہو گئی ہے تاہم ان میں سے بیشتر خاندان ٹرائیبونل میں اپیل کرنے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے ہیں۔

آسام میں ملک بدری کے خوف اور صدمے سے خودکشیاں شہیدا بی بی کے پاس اپنے آنجہانی بیٹے نذرالاسلام کی کوئی تصویر موجود نہیں۔ نذر جو صرف 45 دن کے تھے، آسام میں سنہ 2011 میں قائم کردہ حراستی کیمپ میں ہلاک ہونے والے 25 افراد کی اس فہرست میں شامل تھے جو ریاستی حکومت نے جاری کی تھی۔ ریاستی اسمبلی میں یہ فہرست جاری کرتے وقت چندر موہن پٹواری نے ہلاکتوں کی وجہ ’بیماری‘ بتائی تھی۔ تاہم شہیدا بی بی کہتی ہیں کہ ان کا بچہ حراستی کیمپ کے سخت ماحول کو برداشت نہیں کر پایا۔ حراست میں ہلاک ہونے والا کم عمر ترین بچہ شہیدا کے قصبے دھوبری کے پاس عظیم دریا برہمپترا بہتا ہے۔ ہم نے ان کے گھر کے صحن میں ان سے بات کی جہاں وہ مچھلیاں پکڑنے کے بعد انھیں رسیوں پر لٹکا کر سکھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ عام طور پر ان رسیوں پر کپڑے سکھائے جاتے ہیں۔ وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو آسام میں مشکوک شہریت کے باعث پہلے بھی متاثر ہو چکی ہیں۔ مئی سنہ 2011 میں جس رات انھیں کوکراجھاڑ حراستی سینٹر لے جایا گیا تو شہیدا کے جڑواں بچوں نذر اور نوبیزر صرف 14 دن کے تھے۔ اس وقت کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بتایا: ’نذر کی حالت اس وقت ہی ابتر ہونے لگی تھی جب ہم نے کوکراجھاڑ کی جانب سفر شروع کیا۔ جب ان کی حالت بہت خراب ہونے لگی تو جیل کے حکام نے مجھے گوہاٹی میں ایک ڈاکٹر کے پاس بھیجا۔‘ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption 'میرا بیٹا مر گیا، میری زمین بک گئی، میرا خاوند بھی مر گیا۔ اتنا سب کچھ کھونے کے بعد میں اس شہریت کا کیا کروں گی؟' شہیدا کے مطابق وہ ڈاکٹر چاہتا تھا کہ نذر کو معائنے کے غرض سے ہسپتال میں رکھا جائے لیکن کیونکہ انھیں اس کے ساتھ رکنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے دونوں کو جیل واپس جانا پڑا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’کچھ ہفتوں میں ہی اس کا انتقال ہو گیا۔ مجھے سخت صدمہ ہوا اور میں اس کی ہلاکت کے تین دن تک بے ہوش رہی۔‘ بچے کی ہلاکت کے بعد اس کی لاش شہیدا کے بھائی کے حوالے کر دی گئی جنھوں نے بعد میں انھیں دفن کیا۔ نذر کے بھائی نوبیزر نے اپنی زندگی کا پہلا برس اپنی ماں کے ساتھ جیل میں گزارا۔ وہ جیل کی سختیاں برداشت کر گئے اور اب وہ سات برس کے ہیں۔ سنہ 2012 میں گوہاٹی ہائی کورٹ نے شہیدا کو انڈین شہری قرار دے کر رہا کر دیا تھا۔ محبت کرنے والا شوہر اپنے آنجہانی شوہر کے بارے میں سوچتے ہوئے شہیدا کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ اپنے شوہر کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے بہت دھیمی آواز میں کہا ’میرے شوہر نے ہماری تمام زمین اس کیس کو لڑتے ہوئے بیچ دی۔ اس نے مجھے میری شہریت لوٹانے کے لیے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتا تھا۔‘ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر نے قرضے بھی لیے اور وہ شہیدا سے جیل میں باقاعدگی سے ملنے بھی آتے تھے۔ انھوں نے بتایا: ’چونکہ مجھے جیل کا کھانا پسند نہیں تھا تو وہ 42 ہفتے جن میں میں جیل میں تھی، وہ ہر ہفتے میرے لیے پھل اور گھر کا بنا ہوا کھانا لایا کرتے تھے۔‘ شہیدا کے مطابق ان کے شوہر اپنے گھر کی مالی حالات کی وجہ سے بہت پریشان رہتے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’ہمارے قرضے اتنے زیادہ تھے کہ ہم کبھی بھی انھیں واپس نہ کر پاتے۔ ’وہ مسلسل ہماری فروخت کردہ زمین اور مالی صورتحال کے بارے میں فکرمند رہتے تھے۔ اور پھر ایک دن وہ بھی چلے گئے۔' شہیدا کا نام این آر سی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ فہرست میں بھی شامل ہے۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا شہریت حاصل کرنے کے لیے خصوصی ٹریبونل کو درخواست دیں گی، تو وہ خاموش ہو جاتی ہیں۔ پھر ایک سپاٹ چہرے سے وہ کہتی ہیں کہ 'میرا بیٹا مر گیا، میری زمین بک گئی، میرا خاوند بھی مر گیا۔ اتنا سب کچھ کھونے کے بعد میں اس شہریت کا کیا کروں گی؟' Image caption انارا کہتی ہیں کہ 'جب میری بچی پوچھتی ہے کہ میرے ابو کہاں ہیں تو میرا رونے کا دل چاہتا ہے۔‘ بابا کب واپس آئیں گے؟ انارا خاتون کی چھ سالہ بیٹی شاہین اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ انارا کے شوہر قدم علی ’مشکوک ووٹر‘ کیس کے سلسلے میں گوالپورا کے حراستی سینٹر میں پچھلے تین برس سے رہ رہے ہیں جس کے باعث انارا اب تک اپنی بیٹی کے آپریشن کے لیے دس ہزار روپے اکھٹے نہیں کر سکیں۔ اپنی بچی کو وہیل چیئر پر بیٹھاتے ہوئے وہ بتاتی ہیں ’میرے شوہر کو جیل میں اب تک تین برس گزر چکے ہیں۔ اس کیس پر بہت پیسے اور محنت صرف ہو رہی ہے۔ ان کی حراست میں لیے جانے کے بعد سے گھر کی تمام ذمہ داری میرے سر ہے۔‘ Image caption 'مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پالوں، شوہر کی شہریت کے کیس میں وکیل کی فیس دوں یا بیٹی کا آپریشن کراؤں؟' انارا خاتون بہت افسردہ چہرے کے ساتھ کہتی ہیں کہ ’کیا میں مزدوری کے ذریعے کمائے گئے پیسوں سے اپنے بچوں کا پیٹ پالوں، اپنے شوہر کی شہریت کے کیس میں وکیل کی فیس ادار کروں یا اپنی بیٹی کا آپریشن کراؤں؟‘ انارا کے تمام خاندان کو حال ہی میں جاری کردہ این آر سی کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’جب میری بچی پوچھتی ہے کہ میرے ابو کہاں ہیں تو میرا رونے کا دل چاہتا ہے۔ اگر کل کو پولیس ہمیں حراستی سینٹر میں بھیجتی ہے، تو وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ کسی شخص کو دو مرتبہ نہیں مار سکتے۔‘ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption عصمت کہتے ہیں ’میں سکول نہیں جا سکتا کیونکہ مجھے کام پر جانا ہوتا ہے اور اگر میں مزدوری نہ کروں تو میری ماں کو بھوکے سونا پڑے گا‘ زہین طالب علم مزدوری پر مجبور 17 سالہ محمد عصمت ایک انتہائی ہونہار طالب علم تھے۔ لیکن دو سال قبل جب ان کے والد کو حراستی سینٹر میں ڈالا گیا تو ان کی زندگی یکسر تبدیل ہو گئی۔ عصمت آسام کے ضلع دارنگ کے تھیرابری گاؤں کے رہائشی ہیں۔ ہماری گفتگو کے دوران وہ اپنے سکول کے دنوں کی خوشگوار یادیں تازہ کرنے لگے۔ وہ بتانے لگے کہ 'مجھے سکول جانے سے، وہاں پڑھنے سے اور پھر اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے اور گھومنے پھرنے سے محبت تھی۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ ان کے دوست آج بھی کھیلتے ہیں اور سکول جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں سکول نہیں جا سکتا کیونکہ مجھے کام پر جانا ہوتا ہے اور اگر میں مزدوری نہ کروں تو میری ماں کو بھوکے سونا پڑے گا۔‘ ان کے والد کے حراست میں لیے جانے کے بعد سے عصمت کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے اور وہ گھر کے واحد کمانے والے بن گئے ہیں۔ اس کردار کو کم عمری میں نبھانا خاصہ مشکل ہے۔ عصمت بتاتے ہیں ’میں روزانہ صرف 200 روپے کماتا ہوں۔ اب اتنی کم رقم کے ساتھ میں اپنے گھر والوں کی ضروریات اور اپنے والد کا کیس کو ایک ساتھ کیسے دیکھ سکتا ہوں۔‘ ’ہم ابھی تک انھیں قانونی مدد فراہم نہیں کر سکے کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔ میں اپنے والد سے تین ماہ قبل ملنے گیا تھا اور وہاں جاتے وقت میرے ہاتھ خالی تھے، میں ان کے لیے کھانا اور پھل نہیں خرید سکا۔‘ اپنے والد سے ملنے جانے کے لیے عصمت کو تیزپور جانا پڑتا ہے جہاں جاتے ہوئے انھیں کم از کم ہزار روپے لگ جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’کیس لڑنا تو دور کی بات ان سے ہر ماہ ملاقات کرنا میرے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔‘ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images Image caption یہ آسام کے ایسے بچوں کی کہانی ہے جو اپنے والدین کی شہریت کی لمبی قانونی جنگ میں پھنس کر رہ گئے ہیں قانونی جنگ میں پسنے والے بچے قانون میں ان بچوں کے مستقبل کے حوالے سے کوئی وضاحت موجود نہیں ہے جن کے والدین شہریت کے سلسلے میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ گوہاٹی کے سینیئر وکیل مصطفیٰ علی کہتے ہیں کہ قانون میں ایسی کوئی خصوصی سہولت موجود نہیں جس سے ان کم عمر بچوں کی دیکھ بھال کی جا سکے جو حراستی کیمپوں میں اپنے والد یا والدہ کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’فی الحال ایسی کوئی قانونی دفعات یا انتظامی ہدایات نہیں ہیں جس سے ایسے بچوں کی مدد کی جا سکے جو والدین کے زیرِ حراست ہونے کی وجہ سے اکیلے ہیں یا کم عمری کی وجہ سے والدین کے ساتھ حراستی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ قانون اس بارے میں خاموش ہے۔‘ یہ آسام کے ایسے بچوں کی کہانی ہے جو اپنے والدین کی شہریت کی لمبی قانونی جنگ میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ وہ یا تو اپنے والدین کے ساتھ حراستی کیمپوں میں رہ رہے ہیں یا والدین کے بغیر جینے پر مجبور ہیں۔ ان بچوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ متعلقہ عنوانات مزید پڑھ: BBC News اردو

کشمیریوں کی حمایت میں پیرس میں تاریخ کی سب سے بڑی ریلی - ایکسپریس اردوریلی کے شرکا نے یورپی یونین سے کشمیر میں ظلم و بربریت اور قتل عام کے خلاف آواز اٹھانے کا مطالبہ کیا

سینٹ کام کمانڈر کی قیادت میں امریکی وفد کی آرمی چیف سے ملاقاتسینٹ کام کمانڈر کی قیادت میں امریکی وفد کی آرمی چیف سے ملاقات DGISPR ArmyChief QamarJavedBajwa CommanderGeneralKennethMcKenzie Meet Kashmir Afghanistan OfficialDGISPR pid_gov MoIB_Official peaceforchange

کشمیر میں مظالم کی نئی لہر سے یوم عاشور کی اہمیت مزید بڑھ گئی: بلاول بھٹوبلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ امام حسینؓ کی پیروی کر کے ناانصافی اور ظلم کے خلاف کامیابی سے ہمکنار ہوں گے، آج کے دن ہم کربلا کے شہدا کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔

پولیس کی جانب سے عاشورہ جلوس کی ڈرون کیمروں سے مانیٹرنگپولیس کی جانب سے عاشورہ جلوس کی ڈرون کیمروں سے مانیٹرنگ ويڈيو لنک: DailyJang

لاہور سے کوئٹہ آنے والی اکبر بگٹی ایکسپریس 20گھنٹے کی تاخیر سے کوئٹہ پہنچ گئیلاہور سے کوئٹہ آنے والی اکبر بگٹی ایکسپریس 20گھنٹے کی تاخیر سے کوئٹہ پہنچ گئی Lahore Quetta AkbarBugtiExpress Delay Train TrainDelay Rawalpindi Railway ShkhRasheed PakrailPK pid_gov MoIB_Official PTIofficial ImranKhanPTI Pakistan

امریکی سینیٹرز کے وفد کی جدہ میں سعودی ولی عہد سے ملاقاتامریکی سینیٹرز کے وفد کی جدہ میں سعودی ولی عہد سے ملاقات USSenators Delegation MohammadBinSalmanBinAbdulazizAlSaud Meet



سونیا حسین ابھی اس قابل نہیں کہ میرے اسکرپٹ پر اداکاری کرسکیں، خلیل الرحمان قمر - ایکسپریس اردو

مہاتیر محمد کا وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان

دلی میں ہنگامے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک

ٹرمپ نے مودی کے سامنے پاکستان کی بات کیوں کی

اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز کو شکست دیدی - ایکسپریس اردو

بالاکوٹ فضائی حملہ: وہ سوال جن کے جواب نہیں مل سکے

’دن بدل گئے، سال بدل گیا، نہ بدلا تو قلندرز کا نصیب‘

تبصرہ لکھیں

Thank you for your comment.
Please try again later.

تازہ ترین خبریں

خبریں

11 ستمبر 2019, بدھ خبریں

پچھلا خبر

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کا 71واں یوم وفات - ایکسپریس اردو

اگلا خبر

جمال خاشقجی قتل: آڈیو ریکارڈنگ کی نئی تفصیلات جاری
ونگ کمانڈر ابھینندن کے جہاز کے ملبے کی تصویری جھلکیاں سونے کی قیمت ایک بار پھر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر - ایکسپریس اردو لاہور قلندرز اس بار نئی تاریخ رقم کرے گی، عثمان شنواری - ایکسپریس اردو ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کو برطانیہ میں نوکریاں دینے کا معاہدہ طے پاگیا - ایکسپریس اردو عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے والی طالبہ اقصیٰ - ایکسپریس اردو مرتے وقت انسان کیا محسوس کرتا ہے؟ پی ایس ایل کے افق پر ابھرتا ہوا برائن لارا برطانوی وزیر داخلہ پر ایم آئی فائیو کےعدم اعتماد کی تردید جرمنی میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کی واردات، متعدد زخمی وائن سٹائن کو جنسی جرائم میں 25 برس قید کی سزا بارات میں ڈالرز اور نوٹوں کی بارش، ویڈیو وائرل کورونا وائرس: تفتان میں پاک ایران سرحد پر امیگریشن گیٹ دوسرے روز بھی بند
سونیا حسین ابھی اس قابل نہیں کہ میرے اسکرپٹ پر اداکاری کرسکیں، خلیل الرحمان قمر - ایکسپریس اردو مہاتیر محمد کا وزارت عظمیٰ سے مستعفی ہونے کا اعلان دلی میں ہنگامے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک ٹرمپ نے مودی کے سامنے پاکستان کی بات کیوں کی اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد لاہور قلندرز کو شکست دیدی - ایکسپریس اردو بالاکوٹ فضائی حملہ: وہ سوال جن کے جواب نہیں مل سکے ’دن بدل گئے، سال بدل گیا، نہ بدلا تو قلندرز کا نصیب‘ ’افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی‘ کراچی کنگز کا ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا کشمیر پر ثالثی کی پیشکش آرٹیکل 370 کے خاتمے کی وجہ بنی؟ پی ایس ایل پاکستان میں لیکن سٹیڈیم خالی کیوں بنگلہ دیش اور انڈیا میں زیادہ خوش حال کون؟