عورت مارچ کے خلاف عدالت میں درخواست

عورت مارچ کے خلاف عدالت میں درخواست سماعت کے لیے منظور

25/02/2020 8:42:00 PM

عورت مارچ کے خلاف عدالت میں درخواست سماعت کے لیے منظور

درخواست گزار کا موقف کہ اگلے ماہ ہونے والا ’عورت مارچ ریاست مخالف کارروائی ہے‘ لہذا عدالت اسے روکنے کے احکامات صادر کرے

شئر پینل منتخب کیجیےImage captionگزشتہ برس عورت مارچ کے شرکا نے عورتوں کے حقوق کے بارے میں کتبوں پر مختلف نعرے متعارف کروائےپاکستان میں لاہور ہائی کورٹ نے آئندہ ماہ ہونے والے عورت مارچ کو رکوانے کے لیے دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔ مقدمہ کی سماعت بدھ کے روز متوقع ہے۔

’غلط فہمی ہوگئی تھی‘، ملک ریاض کی بیٹیوں کے خلاف مقدمہ واپس سندھ کے وزیرغلام مرتضٰی بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے - ایکسپریس اردو ملک کے کسی حصے میں گندم اور آٹے کی قلت پیدا نہیں ہونی چاہئیے،وزیراعظم

لاہور کے شہری منیر احمد کی جانب سے دائر کردہ درخواست کے دو حصے ہیں۔عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یا پی ٹی اے کو سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے لیے حال ہی میں ترتیب دیے جانے والے قانون 'سیٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) 2020' کو باضابطہ لاگو کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ 'ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس کے ذریعے اس قانون پر موزوں اور فوری عملدرآمد ممکن بنایا جائے۔'ساتھ ہی عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکومت پنجاب کو 'پنجاب ریڈ زون ایکٹ 2018 نافذ کرنے کی ہدایت دے جس کے ذریعے عورت مارچ جیسے مظاہروں پر قابو پایا جا سکے گا۔

درخواست گزار عورت مارچ کیوں رکوانا چاہتا ہے؟درخواست گزار کے مطابق عدالت سے التجا کی گئی ہے کہ 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن یا 'عورت مارچ' کے موقع پر سینکڑوں خواتین ایک مرتبہ پھر مارچ کریں گی۔ انہوں نے ایسے بینر اٹھا رکھے ہوں گے جن پر درج پیغامات سے 'انتشار اور فحاشی' عیاں ہوتی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق 'ایسی خواہشات کا کھلم کھلا اظہار کرتے ہوئے چند عورتیں، مرد اور ہم جنس پرست افراد ایسا ماحول قائم کرنا چاہتے ہیں جو ان پر روایتی اور اخلاقی پابندی نہ لگائے اور انہیں نام نہاد رجعت پسندانہ (اسلامی) اقدار سے آزاد کرے۔'اپنے وکیل اظہر صدیق کے ذریعے دائر درخواست میں منیر احمد کا کہنا ہے کہ عورتوں کا عالمی دن منانے کا حقیقی مقصد خواتین کے نمایاں کارناموں کو سراہنا اور ان خواتین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا ہے جو دنیا میں مظالم، امتیاز، جہالت اور گھریلو تشدد کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں۔'لیکن اس دن کا مقصد یہ نہیں کہ تمام تر حدیں عبور کی جائیں یا مردوں کو تنقید اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا جائے۔'

ان قوانین کے نفاذ سے عورت مارچ کیسے رک سکتا ہے؟درخواست گزار کے مطابق سنہ 2019 کے تجربے سے دیکھا جا سکتا ہے کہ 'عورت مارچ ایک ریاست مخالف کارروائی ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کے علم میں آیا ہے کہ وہ قوتیں آئندہ ماہ کی 8 تاریخ کو ایک مرتبہ پھر 'عورت مارچ' منانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

'اس کے لیے بھاری فنڈ بھی جمع کیے جا چکے ہیں جو ان قوتوں کی طرف سے دیے گئے ہیں جن کا خفیہ ایجنڈا ملک کو غیرمستحکم کرنا ہے اور یہ کارروائی سوشل میڈیا کے ذریعے نشر کی جائے گی۔'اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے درخواست میں لکھا ہے کہ اگر سوشل میڈیا کو ریگولیٹ نہ کیا گیا تو 'ریاست مخالف دن کی تشہیر کے لیے سوشل میڈیا کو بھر پور طریقے سے استعمال کیا جائے گا۔'

سر میں گولی لگنے سے کم سن فلسطینی بچی جاں بحق - Pakistan strongly condemns extra-judicial killing of 13 Kashmiris in a single day - 92 News HD Plus ’دہائیوں بعد‘ شدید سمندری طوفان بدھ کو ممبئی کے ساحلوں سے ٹکرائے گا

ساتھ ہی اگر پنجاب ریڈ زون 2018 کا نفاذ پنجاب بھر میں کیا جاتا ہے تو اس کے ذریعے 'عورت مارچ جیسے مظاہروں کو بنیادی آئینی حقوق کے ساتھ ہی قابو کرنا آسان ہو گا۔'یاد رہے کہ حال ہی میں وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے مقصد سے پی ٹی اے کے تحت نئے مجوزہ قوانین کی منظوری دی تھی۔ حکومت کے مطابق ان قوانین کا مقصد سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔

'فحاشی اور انتشار پھیلانے کی تقریب بن کر رہ گئی ہے'درخواست گزار نے اپنی دلیل کے حق میں یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ 'ایسی بہت سی ریاست مخالف قوتیں موجود ہیں جو عورت مارچ کی فنڈنگ کرتی ہیں جس کا واحد مقصد عوام میں انتشار پھیلانا ہے۔'بادی النظر میں پشتون تحفظ موومنٹ اور ان کے حامیوں کا خفیہ ایجنڈا ہے اور وہ عورت مارچ کے بڑے حصے دار ہیں۔'

درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ 'عورت مارچ عورتوں کو برابری کے حقوق دلوانے کی جدوجہد سے ہٹ کر فحاشی اور انتشار پھیلانے کی ایک تقریب بن کر رہ گئی ہے۔''آٹھ مارچ کو بھرپور عورت مارچ ہو گا'عورت مارچ کی رضاکار آمنہ چوہدری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'وہ آٹھ مارچ کو بھرپور طریقے سے عورت مارچ کرنے کے لیے پُر عزم ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال اس امر پر بیان نہیں دے سکتیں کہ اگر حکومت نے کسی عدالتی فیصلے کے نتیجے میں انہیں مارچ سے روکا تو ان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔آمنہ چوہدری کا کہنا تھا کہ ان کے مارچ کو روکنے کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ وہ ایک پرامن مارچ ہے اور ان کا آئینی حق ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں دائر درخواست میں سوشل میڈیا پر ان کی کارروائیوں پر پابندی کے حوالے سے بات کی گئی ہے تاہم وہ اس وقت اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں کہ مارچ کے شرکا یا منتظمین میں سے کوئی عدالت میں اس درخواست کی مخالفت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے یا نہیں۔

'عورت مارچ ایک فرد کا نہیں، سب کا ہے'عورت مارچ کے شرکا اور رضاکاروں کی طرف سے حال ہی میں ایک پوسٹر بنانے کا مقابلہ منعقد کروایا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے پوسٹر لاہور کے حسین چوک میں آویزاں کر دیے گئے تھے۔تاہم اسی روز نامعلوم افراد کی جانب سے وہ پوسٹر پھاڑ دیے گئے تھے۔

2008 سے جعلی ڈومیسائل پر بھرتیوں کی جوڈیشل انکوائری اور فرانزک آڈٹ کا مطالبہ حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائلٹ نے ہدایات پر عمل نہیں کیا، سول ایوی ایشن - ایکسپریس اردو کراچی، صوبائی وزیر مرتضیٰ بلوچ کرونا وائرس سے انتقال کرگئے

آمنہ چوہدری کا کہنا تھا کہ انہوں نے 'حکام سے باقاعدہ اجازت لینے کے بعد وہ پوسٹر آویزاں کیے تھے۔ تاہم پوسٹر لگانے کے چار گھنٹے کے اندر ہی انہیں پھاڑ دیا گیا تھا۔'ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود عورت مارچ کے حوالے سے پوسٹر آن لائن موجود ہیں اور جو بھی چاہے وہاں سے لے کر پرنٹ کروا کر اپنی قریبی گلی محلے میں آویزاں کروا سکتا ہے۔

'عورت مارچ پر کسی ایک فرد کی اجارہ داری نہیں ہے، یہ تمام لوگوں کا اجتماعی دن ہے۔' مزید پڑھ: BBC News اردو »

بہت زبردست فیصلہ جن عورتوں کو زیادہ شوق ہو آزادی کا انہیں کوٹھے پر بٹھا دینا چاہے 👎 یہ بی بی سی والے اسی مارچ میں پیدا ہںوتے ہیں the laanat of Montessori education...in urdu ( maan di siri) یہ عورت مارچ نہیں بے حیائی مارچ ہے ۔ پاکستان میں اس کی ہرگز اجزت نہیں ہونی چاہئے These posters were just so baseless & vulgar.😒

Allah in desi angrezon ko hdayat de, Islam ki asal taleemat ko khol kr prhne ki tofeeq de, Islam ne aurat ko kya maqaam dia hai aur ye kahan ja rhi hain... Aurton k haqooq k liay lrne se zyada ye personal desperations ka display tha. Esi aurton ko koi nae samjha skta.🤦‍♀️ بہت اچھی بات ہے اللہ تعالیٰ کی مذہبی کتابوں میں جیسے آیا ہے تورات زبور انجیل مقدس میں کہ ہم پہلے اس وقت تک عذاب نہیں نازل کرتے جب تک حجت قائم نہ ہو جائے پہلے کرپشن کم کرنے والا وزیراعظم دیا قوم نے سارے کاروبار بند کر دیے اب مارچ کریں گے اور پھر کرونا وائرس سے مریں گے ☠️

Abay BBC walao phlay Delhi kai halat dekho phr hamari karna hamaray mulk mai sab ko azadi hy tum log hamay maat sikhao bbcurdu DelhiViolence DelhiCAAClashes amirliaqat Shame! غیر ملکی ایجنسیاں فنڈنگ کرتی ہیں ان گشتیوں کو پیسہ الگ سے مل رہا اور اپنی جسمانی نمائش بھی ہو رہی ہے رات کو کوئ لے جاے گا چودنے کیلیے

بہت زبردست فیصلہ جن عورتوں کو زیادہ شوق ہو آزادی کا انہیں کوٹھے پر بٹھا دینا چاہے StopTheSiegeOfLalMasjid عورت کو حق نہیں ہے آزادی مارچ میں شرکت کا.....کیونکہ ان کی نظر میں عورت انسان نہیں ہوتی، وہ ان جیسے ٹھیکیداروں/مزھبی دکانداروں کی غلام جو ہے بہت اچھا قدم ۔۔ لال مسجد قضیہ پر بھی مثبت آواز اٹھائیں Kya ye muslam Hain koi batae ga?

شرپسندوں نے 'عورت مارچ' کے پوسٹرز پھاڑ دیے - Entertainment - Dawn News

لاہور ہائی کورٹ: عورت مارچ رکوانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور - Pakistan - Dawn News

حج درخواستوں کی وصولی 25فروری سے بغیر کسی تعطیل کے 6 مارچ تک جاری رہےگیحج درخواستوں کی وصولی 25فروری سے بغیر کسی تعطیل کے 6 مارچ تک جاری رہیگی مزید پڑھیئے: AajNews AajUpdates لبیک الھم لبیک لبیک لا شریک لک لبیک

شہری دفاع کا عالمی دن یکم مارچ کو منایاجائے گاشہری دفاع کا عالمی دن یکم مارچ کو منایاجائے گا CivilDefenseDay Worldwide Celebrated 1stMarach pid_gov MoIB_Official

نوازشریف مارچ میں واپس آجائیں گے،رانا ثنااللہ کااظہارامیدلاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر قانون

حج درخواستیں 25 فروری سے 6 مارچ تک وصول کی جائیں گی، ترجمان وزارت مذہبی امور - ایکسپریس اردودرخواست فارم ہفتہ اور اتوار کو بھی وصول کیے جائیں گے، ترجمان وزارت مذہبی اللہ ھم سب کو حج کی سعادت نصیب فرما۔ آمین۔۔ غریب اور متوسط طبقے کے لوگ درخواست دینے کے اہل نہی !یارسول اللہ یاسیدی صلی الی اللہ تعلی علیہ وسلم مددپاکستان کے غلامونکی !