\u062e\u0627\u0646 \u0635\u0627\u062d\u0628\u060c \u063a\u0644\u0637 \u0641\u06c1\u0645\u06cc \u062f\u0648\u0631 \u06a9\u06cc\u062c\u06cc\u06d2 \u06a9\u06cc\u0648\u0646\u06a9\u06c1 \u062e\u0644\u0627 \u062a\u0648 \u0633\u0628 \u06a9\u0627 \u067e\u0648\u0631\u0627 \u06c1\u0648\u062c\u0627\u062a\u0627 \u06c1\u06d2!

24/06/2022 10:03:00 PM

'آپ پاپولر ہیں مگر خدائی صرف خدا کے لیے ہے۔ ناگزیر لوگوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اور بھول بھلیوں میں گم ہونا آسان اور راستہ نکالنا مشکل کام ہے۔ اپنے 4 سال کا حساب تو آپ کو دینا ہوگا, بصورت دیگر تاریخ کے اوراق انتظار کریں گے' مکمل تحریر :

'آپ پاپولر ہیں مگر خدائی صرف خدا کے لیے ہے۔ ناگزیر لوگوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اور بھول بھلیوں میں گم ہونا آسان اور راستہ نکالنا مشکل کام ہے۔ اپنے 4 سال کا حساب تو آپ کو دینا ہوگا, بصورت دیگر تاریخ کے اوراق انتظار کریں گے' مکمل تحریر :

\u062e\u0627\u0646 \u0635\u0627\u062d\u0628\u060c \u063a\u0635\u06d2 \u06a9\u0648 \u0642\u0627\u0628\u0648 \u06a9\u0631\u06cc\u06ba \u0627\u0648\u0631 \u0635\u0644\u062d \u062c\u0648 \u0628\u0646\u06cc\u06ba\u06d4 \u067e\u0627\u0631\u0644\u06cc\u0645\u0627\u0646\u06cc \u062c\u0645\u06c1\u0648\u0631\u06cc\u062a \u06a9\u06d2 \u0622\u062f\u0627\u0628 \u06a9\u0627 \u0644\u062d\u0627\u0638 \u0631\u06a9\u06be\u06cc\u06ba\u060c \u0627\u067e\u0646\u06cc \u0630\u0627\u062a \u0627\u0648\u0631 \u06a9\u0631\u06a9\u0679 \u06af\u0631\u0627\u0648\u0654\u0646\u0688 \u0633\u06d2 \u0628\u0627\u06c1\u0631 \u0622\u0626\u06cc\u06ba\u06d4

0 پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ شخصیات ہی ایم رہی ہیں۔ نظریہ اور سیاسی پروگرام شخصیات کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا ہے۔ خود قائدِاعظم کی شخصیت حالات، واقعات اور زمینی حقائق پر بہت بھاری بھر کم رہی۔ اگر ہم نظریے پر یقین رکھتے تو محترمہ فاطمہ جناح نہ غدار کے لقب سے نوازی جاتیں اور نہ بنیادی جمہوریتوں کے خالق فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے ہاتھوں جھرلو کے نتیجے میں انتخاب ہارتیں۔ ایوب خان کے مقابل شیخ مجیب ایک جبر مسلسل کا شکار رہنے والے معاشرے کی علامت بن گئے اور ذوالفقار علی بھٹو سیاسی نعروں کے ذریعے خوف کی علامت بنتے رہے۔ کیا شیخ مجیب اور بھٹو کے درمیان شخصی رسہ کشی اور حصولِ اقتدار کی جنگ کے علاوہ بھی کچھ تھا تو ابھی تک ہر دو طرف کے عوام اس انتظار میں ہیں۔ بے نظیر بھٹو ضیاالحق کے خلاف نفرت اور جبر کی چکی میں پسی ہوئی ایک نمائندہ شخصیت تھیں مگر نواز شریف کو تصادم کے لیے تیار کیا جارہا تھا۔ وہ لڑائی جو خود نہیں لڑنا چاہتے تھے مگر انہوں نے حالات کو سازگار بنا کر سیاست کے شفاف حوض کو گندا کردیا۔ ہر دو نے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اور تمام داؤ پیچ خواہ اندرونِ ملک ہوں یا غیر ملکی دوستوں کے ہاتھوں میں سجے ہوں خوب کھیلے۔ خاطر خواہ مثبت نتائج دونوں حاصل نہ کرسکے اور تھک ہار کر از خود اور دوستوں کے اصرار پر دوبارہ معاملات طے کیے۔ مزید پڑھیے: کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے؟ ایسے میں جب میدان میں گرما گرمی نہ ہو تو ڈھول پیٹ کر تماشائیوں کو اکٹھا کرنا کبڈی کے کھیل کا خاصہ ہوا کرتا ہے، مگر اب ڈھول کے متبادل موجود ہیں۔ ٹی وی اور سوشل میڈیا اسی کا کردار ادا کرتے ہیں اور ڈھولچی کو علم ہی نہیں ہوتا کہ میدان کس کے لیے سج رہا ہے۔ نواز شریف اور بےنظیر بھٹو نے بھی ماجٰ کے اختلافات کے باوجود معمالات طے کیے 2002ء میں پہلی ڈرم بیٹ سنی گئی۔ تقاضہ تھا کہ مجھے وزیرِ اعظم بنا دیا جائے۔ کئی بار ملاقاتیں کیں اور چند نشستوں پر معاملہ طے کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا مگر پھر بھی بقول چوہدری شجاعت حسین کے سحر بزم کے ذریعے ایک ہی شہری نشست مل سکی۔ یہی حال عمران خان کے ساتھ طاہر القادری کا تھا۔ دونوں نے قومی اسمبلی کے ایوان سے کچھ نہ سیکھنے کا ارادہ کر رکھا تھا جو انہوں نے پورا کیا۔ حالات ایک جیسے تو کبھی نہیں رہتے دن سے رات اور رات سے دن نکلتا ہے۔ وقت کا دھارا چلتا رہا۔ زمانہ معاہدے کے مطابق تبدیل ہوگیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 2013ء میں تیسری، چوتھی پوزیشن پر بھی پوری طرح نہ آسکی۔ جہانگیر ترین کے بقول جائزہ لیا گیا تو آنکھیں کُھل گئیں مگر اب تصادم کی تربیت تو عمران خان کی ہورہی تھی گویا لاہور کے کھلاڑی لاہور میں ہی براجمان ہوکر لڑائی کے لیے ڈھول کی تھاپ پر تیاری کررہے تھے۔ مرحوم قاضی حسین احمد نے پاکستان اسلامک فرنٹ بنا کر جو کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی وہ تو حاصل نہ ہوا مگر ان تمام افراد میں کسک باقی تھی۔ یہاں نظریہ اور وقت بھی تھا، ضرورت بھی تھی گویا ڈھول کی تھاپ اور میدان کی گرمی نے دھول اڑانے میں اپنا کردار ادا کیا اور یہ سب سیاسی، غیر سیاسی، تربیت یافتہ، غیر تربیت یافتہ، بااثر، بار موج، مالدار سبھی اس بات کو جان کر صف آرا ہونا شروع ہوئے کہ عمران خان ہی اب ایک آخری امید باقی ہے۔ مزید پڑھیے: وہ عوامل جو عمران خان حکومت کے خاتمے کی وجہ بنے؟ شرمیلا عمران خان حالات کے ہاتھوں اپنی خواہشوں اور دلچسپی رکھنے والوں کے لیے آخری سہارا، چراغ سحری، بجھتے دیے کی آخری لو کا کام کرگیا۔ ایک وقت آیا کہ شرمیلا عمران خان ہی ہر کسی کے لیے امید کی کرن بن گیا— تصویر: اے ایف پی سیاسی محبت یا نفرت ایک دن میں پیدا نہیں ہوتی۔ نئے زمانے کے دھولچیوں نے شام صبح گیت گانے شروع کیے اور صورتحال یہ پیدا کردی تھی کہ ہر طرف ایک ہی تصویر باقی نظر آتی تھی۔ امیدوار، روایتی سیاستدان، سرمایہ دار تو متحرک ہوئے ہی تھے مگر عدلیہ کا سیاسی کردار بھی نمایاں ہونا شروع ہوا۔ رف پیج آؤٹ پیپر میں تبدیل کردیا گیا۔ ہر نقش و نگار نہایت حسین اور خوشگوار رنگوں سے مزین تھا۔ وسائل کی کوئی کمی نہ تھی، بولی یکطرفہ بولی جارہی تھی اور کوئی وجہ نہ تھی کہ بولی کامیاب نہ ہوتی مگر خدا کا کرنا کچھ اور تھا پھر مذاکرات ہوئے۔ ہر تین طرف ہوئے کہیں ڈوری ٹوٹی تو دوسری طرف بندھ گئی۔ موت اور ریشم کی ڈوری کی گرہ بہت مضبوط نہ رہ سکی۔ حالات سنبھل نہ رہے تھے، معیشت کی خرابی روز بروز بڑھ رہی تھی، قرضوں پر سود دینا محال ہوگیا تھا۔ بے روز گاری میں ہوشربا اضافہ ہورہا تھا۔ مہنگائی کا جن پہلے روز سے ہی بے قابو تھا جبکہ سفارتکاری ناکام ہورہی تھی۔ دوستوں نے منہ پھیرنا شروع کر دیے تھے، ملک دیوالیہ ہونے جار رہا تھا، معاشی خودمختاری کا سودا شروع ہوچکا تھا، دفاعی منصوبے بھی پورے ہوتے نظر نہیں آتے تھے اور پھر تھا کیا بدتمیزی، گالی، جیل، انتقام، نفرت، بے توقیری، بے عزتی، شدید بدانتظامی، بدحالی سیاسی اثر و رسوخ، غرض ایسا کیا تھا جو طوائف الملوکی کی طرف نہیں لے جارہا تھا۔ پھر مذاکرات کا بھی کوئی راستہ کھلا نہ رہنے دیا گیا تھا۔ مزید پڑھیے: موجودہ سیاسی تصادم میں اصل نقصان کس کا ہے؟ ریاست اپنی زندگی کا سفر ہچکولے کھاتے پورا نہیں کرسکتی۔ سیلاب اور طوفان میں بھی راستہ نکالنا ضروری ہوتا ہے۔ پھر عدم اعتماد کا راستہ ہی باقی بچا تھا۔ اب اپنی پارلیمانی شکست کے بجائے روس کے تیل کا بین بج رہا ہے۔ پارلیمانی طریقہ یہ ہے کہ اگر آپ اپنے ازلی دشمن سے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں، اس کی تعریف کررہے ہیں تو ایوان میں عوامی نمائندوں سے بات کرنا ہی ہوگی۔ ہر، ہر قدم پر، ہر، ہر کام کے لیے بشمول ملک کی سلامتی، خوشحالی، استحکام اور جمہوریت کے لیے۔ اگر ایسا ممکن نہیں اور استعفیٰ دیا ہے تو سبھی اسمبلیوں اور سینیٹ سے بھی دیں۔ تنخواہیں، مراعات، سہولیات کیوں لے رہے ہیں؟ پھر پنجاب اور سندھ میں الیکشن بھی لڑرہے ہیں، تو کیا الگ اسمبلی بنائیں گے؟ ریاست اپنی زندگی کا سفر ہچکولے کھاتے پورا نہیں کرسکتی ذرا سوچیں! آپ کے بارے میں تاریخ کیا کہے گی؟ خلا تو پورا ہوجائے گا لیکن کیا آپ کی جماعت بھی آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی؟ امیدوار انتخاب جیتنے کے لیے الیکشن لڑتا ہے ہارنے کے لیے نہیں۔ خان صاحب، اپنے غصے کو قابو کریں اور صلح جو کا کردار ادا کریں۔ پارلیمانی جمہوریت کے آداب کا لحاظ رکھیں، اپنی ذات اور کرکٹ گراؤنڈ سے باہر آئیں۔ کبڈی میدان کے اندر کھیلی جاتی ہے باہر ڈھول بجتا ہے اور کبھی بھی ڈھول اور ڈھولچی تبدیل ہوسکتا ہے۔ آپ پاپولر ہیں مگر خدائی صرف خدا کے لیے ہے۔ ناگزیر لوگوں سے تاریخ بھری پڑی ہے اور بھول بھلیوں میں گم ہونا آسان اور راستہ نکالنا مشکل کام ہے۔ اپنے 4 سال کا حساب تو آپ کو دینا ہوگا اور اب احتساب کے لیے اسمبلی میں واپس آکر کردار ادا کریں بصورت دیگر تاریخ کے اوراق انتظار کریں گے۔.0 عطاللہ تارڑ نے ضمنی انتخابات میں حمایت پر بلاول بھٹو، آصف زرداری کا شکریہ ادا کیا—فوٹو:ڈان نیوز حکمران اتحادی جماعتوں، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے پنجاب میں 17 جولائی کو ہونے والے ضمنی انتخابات مل کر لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور اسی سلسلے میں پیپلزپارٹی کے نامزد امیدواروں کو تمام 20 خالی نشستوں کے لیے اپنے نام واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس فیصلے کا اعلان گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) کے پنجاب کابینہ کے اراکین عطا اللہ تارڑ، ملک محمد احمد خان اور پی پی پی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر سید حسن مرتضیٰ نے پی پی پی سیکرٹریٹ میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر سید حسن مرتضی کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی نے وسیع تر قومی مفاد میں ضمنی انتخابات میں اپنے امیدوار دستبردار کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ان کی پارٹی آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے خلاف الیکشن میں حصہ لے گی۔ یہ بھی پڑھیں: آصف زرادی، حمزہ شہباز کی ملاقات، پنجاب میں ضمنی انتخابات کی حکمتِ عملی پر تبادلہ خیال پیپلزپارٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کی حمایت کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ گزشتہ روز ایک پی پی پی رہنما نے بیان دیا تھا جس میں انہوں نے اپنی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کو اپنے وزرا کو قلمدان سونپنے اور مختلف حیلوں، بہانوں سے پی پی پی کے صوبائی کابینہ کے اراکین کو وزارتوں کے قلمدان سپرد کرنے میں تاخیر پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پیپلزپارٹی کے رہنما کو یقین دلایا گیا کہ صوبائی بجٹ کی منظوری کے فوری بعد ان کی پارٹی کے وزرا کی وزارتوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ پریس کانفرنس کے دوران عطاللہ تارڑ نے پنجاب کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کی حمایت کرنے پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد آصف علی زرداری کا شکریہ ادا کیا۔ عطاللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے میں آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے اپنا کردار ادا نہ کیا ہوتا تو مسلم لیگ (ن) پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتی تھی۔ مزید پڑھیں: حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتمادکیلئے اپوزیشن کی اہم مشاورت، قیادت کی ملاقات طے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کو نہ صرف الیکشن میں ساتھ لے کر چلیں گے بلکہ گورننس کے معاملات میں بھی ان کے ساتھ چلنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے طور پر اعلان کیا کہ صوبے کے ضمنی انتخابات کے 20 حلقوں میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 144 کے تحت اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی اور پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سیاسی وابستگی سے بالا تر ہو کر کارروائی کی جائے گی جبکہ انتخابات میں حصہ لینے والے ہر امیدوار کے لیے 2 مسلح گارڈز یا ضرورت کے مطابق سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر قانون اور پارلیمانی امور ملک احمد خان نے دعویٰ کیا کہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو تمام 20 حلقوں میں شکست ہوگی۔ صحافی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ملک اور صوبے کی معاشی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں لیکن موجودہ حکومت نے ریاست اور معیشت کو بچانے کو ترجیح دی۔ یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری اگلی حکومت بنانے کیلئے پُرامید انہوں نے سابقہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے اپنے اقتدار کے آخری 8ماہ کے دوران عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹیکس عائد نہیں کیے اور سبسڈی کا اعلان کیا جس سے معیشت تباہ ہوئی۔ ملک محمد احمد خان نے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں رکاوٹیں ڈالنے اور اس کے بعد پنجاب اسملبی میں صوبائی بجٹ پیش کرنے کی اجازت نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کی قیادت کے اقدامات کوانتشار پھیلانے کی کوشش قرار دیا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات سابق وزیراعظم عمران خان کی سیاست پر عدم اعتماد کا اظہار ثابت ہوں گے۔.پولیو کے خاتمے کے لئے موثر کردار ادا کریں۔ فوٹو — فائل ملک میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے۔ ترجمان وزارت صحت کے مطابق 8 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، بچے کا تعلق شمالی وزیرستان، میرعلی یونین کونسل نمبر 7 سے ہے۔ رواں برس تمام کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ میرعلی سے رپورٹ ہونے والے کیسز کی مجموعی تعداد 8 ہوگئی ہے۔ وفاقی وزیرصحت عبدالقادر پٹیل کا کہنا ہے کہ وائرس سے بچاؤکے لئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کیے جارہے ہیں، پولیو کے خاتمے کے لئے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام والدین بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطروں کو یقینی بنائیں اور سول سوسائٹی، میڈیا و علماء کرام پولیو کے خاتمے کے لئے موثر کردار ادا کریں۔.Comments خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایف پی پشاور: خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے، رواں ماہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی مشکل میں پڑسکتی ہے۔ اے جی آفس کے ذارئع نے انکشاف کیا ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کی ادئیگیاں دینے کیلئے پیسے نہیں، اس لئے رواں ماہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ ادائیگیاں دینا مؤخر ہوسکتی ہے۔ ذرائع اے جی آفس کے مطابق پینشن کی ادائیگی بھی مؤخر ہوسکتی ہے کیونکہ صوبائی اور وفاقی حکومت میں جاری چپقلش کے باعث اسٹیٹ بینک نے رقم کی ادائیگیاں بند کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے جی آفس صوبائی پیمنٹس تجاوز کی حد تک پہنچ گئیں اور بقاجات کی مد میں بھی صوبائی حکومت کی ادائیگیاں روک دی گئیں ہیں۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا مؤقف ہے کہ وفاق کی طرف سے ہمیں مالی مسئلے درپیش ہیں اور وفاق کی طرف سے نیٹ ہائیڈل پرافٹ میں مشکلات درپیش ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ کےمطابق ضم اضلاع کیلئے بھی فنڈز روکنے کی وجہ سے صوبے کو مشکلات درپیش ہیں کیونکہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے ادائیگیاں روک دی گئیں ہیں ۔.

مزید پڑھ:
DawnNews »
Loading news...
Failed to load news.

پہلے 30 سالوں کا حساب دے دیں پھر چار سالوں کا بھی کر لین۔ کسی پٹواری نے یہ پوسٹ لگائی ہے 30 saal ka hisab tera bap dy ga dawn geo ghuddar channel بیوقوفوں پہلے اپنے شریفوں اور زرداریوں سے 30 سالوں کا حساب تو لے لو پھر 4 سال کا حساب تم کو پوچھنا نھیں پڑے گا دجالی فتنہ کا پیروکار،،،لعنت بے شمار لعنت تیری صحافت پر تم تو لگتے ہی ہیرا منڈی کے ہو بیغیرت انسان

Writer undermines the history.

\u067e\u06cc\u067e\u0644\u0632 \u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u0627\u0648\u0631 \u0645\u0633\u0644\u0645 \u0644\u06cc\u06af (\u0646) \u06a9\u0627 \u067e\u0646\u062c\u0627\u0628 \u06a9\u06d2 \u0636\u0645\u0646\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u0645\u0644 \u06a9\u0631 \u0644\u0691\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0639\u0644\u0627\u0646\u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u0646\u06d2 \u0642\u0648\u0645\u06cc \u0645\u0641\u0627\u062f \u0645\u06cc\u06ba \u0636\u0645\u0646\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u0645\u06cc\u06ba \u0645\u0633\u0644\u0645 \u0644\u06cc\u06af (\u0646) \u06a9\u06d2 \u062d\u0642 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0645\u06cc\u062f\u0648\u0627\u0631 \u062f\u0633\u062a\u0628\u0631\u062f\u0627\u0631 \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0641\u06cc\u0635\u0644\u06c1 \u06a9\u06cc\u0627\u060c \u0631\u06c1\u0646\u0645\u0627 \u067e\u06cc\u067e\u0644\u0632\u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u062d\u0633\u0646 \u0645\u0631\u062a\u0636\u06cc\u0670 یہ دونوں پہلے بھی ایک ہی تھیں۔ بس منافقت اور ڈرامے بازی ہوا کرتی تھی۔ عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے۔ ووٹ کو عزت دو مر گئے لگتا سارے پٹواری جیالے MaryamNSharif اکھٹے الیکشن لڑے بغیر چارہ نہیں اگر مطلوبہ نشستیں نا ملی تو حکومت ہاتھ سے نکل سکتی ہے

\u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u067e\u0648\u0644\u06cc\u0648 \u06a9\u0627 \u0627\u06cc\u06a9 \u0627\u0648\u0631 \u06a9\u06cc\u0633 \u0645\u0646\u0638\u0631 \u0639\u0627\u0645 \u067e\u0631 \u0622\u06af\u06cc\u0627\u0639\u0628\u062f\u0627\u0644\u0642\u0627\u062f\u0631 \u067e\u0679\u06cc\u0644 \u06a9\u0627 \u06a9\u06c1\u0646\u0627 \u06c1\u06d2 \u06a9\u06c1 \u0648\u0627\u0626\u0631\u0633 \u0633\u06d2 \u0628\u0686\u0627\u0624\u06a9\u06d2 \u0644\u0626\u06d2 \u06c1\u0646\u06af\u0627\u0645\u06cc \u0628\u0646\u06cc\u0627\u062f\u0648\u06ba \u067e\u0631\u0627\u0642\u062f\u0627\u0645\u0627\u062a \u06a9\u06cc\u06d2 \u062c\u0627\u0631\u06c1\u06d2 \u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u067e\u0648\u0644\u06cc\u0648 \u06a9\u06d2 \u062e\u0627\u062a\u0645\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0644\u0626\u06d2 \u062a\u0639\u0627\u0648\u0646 \u06a9\u06cc \u0636\u0631\u0648\u0631\u062a \u06c1\u06d2

\u062e\u06cc\u0628\u0631\u067e\u062e\u062a\u0648\u0646\u062e\u0648\u0627: \u0631\u0648\u0627\u06ba \u0645\u0627\u06c1 \u0633\u0631\u06a9\u0627\u0631\u06cc \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1 \u06a9\u06cc \u0627\u062f\u0627\u0626\u06cc\u06af\u06cc \u0645\u0634\u06a9\u0644 \u0645\u06cc\u06ba \u067e\u0691\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0645\u06a9\u0627\u0646\u0633\u0631\u06a9\u0627\u0631\u06cc \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1\u0648\u06ba \u0627\u0648\u0631 \u067e\u06cc\u0646\u0634\u0646 \u06a9\u06cc \u0627\u062f\u0626\u06cc\u06af\u06cc\u0627\u06ba \u062f\u06cc\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u067e\u06cc\u0633\u06d2 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u0627\u0633 \u0644\u0626\u06d2 \u0631\u0648\u0627\u06ba \u0645\u0627\u06c1 \u0633\u0631\u06a9\u0627\u0631\u06cc \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u0648 \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1 \u0627\u062f\u0627\u0626\u06cc\u06af\u06cc\u0627\u06ba \u062f\u06cc\u0646\u0627 \u0645\u0624\u062e\u0631 \u06c1\u0648\u0633\u06a9\u062a\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u0630\u0627\u0631\u0626\u0639 \u0627\u06d2 \u062c\u06cc \u0622\u0641\u0633 \u06a9\u0627 \u0627\u0646\u06a9\u0634\u0627\u0641

’\u0648\u0627\u0648\u0627\u06a9\u0627\u0631\u0632‘ \u06a9\u0627 \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u0633\u0631\u0648\u0633 \u0628\u0646\u062f \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0639\u0644\u0627\u0646\u0622\u067e \u06a9\u0648 \u06cc\u06c1 \u0628\u062a\u0627\u062a\u06d2 \u06c1\u0648\u0626\u06d2 \u0627\u0641\u0633\u0648\u0633 \u06c1\u0648 \u0631\u06c1\u0627 \u06c1\u06d2 \u06a9\u06c1 \u06c1\u0645 \u0646\u06d2 \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u067e\u0646\u06cc \u0633\u0631\u0648\u0633 \u0645\u0633\u062a\u0642\u0644 \u0637\u0648\u0631 \u067e\u0631 \u0628\u0646\u062f \u06a9\u0631 \u062f\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u06a9\u0645\u067e\u0646\u06cc واواکارز کی یہ بندش حالیہ ہفتوں میں عملے کی برطرفی اور سروس کی معطلی سمیت کئی نمایاں ای کامرس پلیئرز کی جانب سے مکمل بندش کے اعلان کے بعد عمل میں آئی ہے۔ Neutrals ko Mubarak hoo unka mission kamyab ho raha hy OfficialDGISPR OfficialDGISPR Mubarak ho neutrals

\u0646\u0632\u0644\u06c1 \u0632\u06a9\u0627\u0645 \u0627\u0648\u0631 \u0641\u0644\u0648 \u0633\u06d2 \u0646\u062c\u0627\u062a \u062f\u0644\u0627\u0646\u06d2 \u0645\u06cc\u06ba \u0645\u062f\u062f\u06af\u0627\u0631 \u06af\u06be\u0631\u06cc\u0644\u0648 \u0679\u0648\u0679\u06a9\u06d2\u0627\u0686\u06be\u06cc \u0628\u0627\u062a \u06cc\u06c1 \u06c1\u06d2 \u06a9\u06c1 \u0646\u0632\u0644\u06c1 \u0627\u0648\u0631 \u0641\u0644\u0648 \u0648\u063a\u06cc\u0631\u06c1 \u06a9\u06cc \u0639\u0644\u0627\u0645\u0627\u062a \u0633\u06d2 \u0631\u06cc\u0644\u06cc\u0641 \u06a9\u06d2 \u0644\u06cc\u06d2 \u0645\u062a\u0639\u062f\u062f \u06af\u06be\u0631\u06cc\u0644\u0648 \u0679\u0648\u0679\u06a9\u06d2 \u0645\u0648\u062c\u0648\u062f \u06c1\u06cc\u06ba\u06d4 حیرت ہے کہ آج آپ نے اپنے مالکوں کی کرونا ویکسین نہیں بیچی.

\u0644\u0627\u06c1\u0648\u0631: \u067e\u0648\u0644\u06cc\u0633 \u0627\u06c1\u0644\u06a9\u0627\u0631\u0645\u0648\u0679\u0631\u0633\u0627\u0626\u06cc\u06a9\u0644 \u0686\u06be\u06cc\u0646\u0646\u06d2\u0627\u0648\u0631\u0686\u0648\u0631\u06cc \u0645\u064a\u06ba \u0645\u0644\u0648\u062b \u0646\u06a9\u0644\u06d2\u067e\u0627\u0646\u0686\u0648\u06ba \u0627\u06c1\u0644\u06a9\u0627\u0631\u06af\u0631\u0641\u062a\u0627\u0631\u060c\u062f\u0631\u062c\u0646\u0648\u06ba \u0645\u0648\u0679\u0631\u0633\u0627\u0626\u06cc\u06a9\u0644\u06cc\u06ba \u0628\u0631\u0622\u0645\u062f\u06a9\u0631\u0644\u06cc \u06af\u0626\u064a\u06ba \u060c\u067e\u0648\u0644\u06cc\u0633