\u062e\u06cc\u0628\u0631\u067e\u062e\u062a\u0648\u0646\u062e\u0648\u0627: \u0631\u0648\u0627\u06ba \u0645\u0627\u06c1 \u0633\u0631\u06a9\u0627\u0631\u06cc \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1 \u06a9\u06cc \u0627\u062f\u0627\u0626\u06cc\u06af\u06cc \u0645\u0634\u06a9\u0644 \u0645\u06cc\u06ba \u067e\u0691\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0645\u06a9\u0627\u0646

24/06/2022 8:44:00 AM

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے مزید تفصیلات:

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے مزید تفصیلات:

\u0633\u0631\u06a9\u0627\u0631\u06cc \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1\u0648\u06ba \u0627\u0648\u0631 \u067e\u06cc\u0646\u0634\u0646 \u06a9\u06cc \u0627\u062f\u0626\u06cc\u06af\u06cc\u0627\u06ba \u062f\u06cc\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u067e\u06cc\u0633\u06d2 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u0627\u0633 \u0644\u0626\u06d2 \u0631\u0648\u0627\u06ba \u0645\u0627\u06c1 \u0633\u0631\u06a9\u0627\u0631\u06cc \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u0648 \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1 \u0627\u062f\u0627\u0626\u06cc\u06af\u06cc\u0627\u06ba \u062f\u06cc\u0646\u0627 \u0645\u0624\u062e\u0631 \u06c1\u0648\u0633\u06a9\u062a\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u0630\u0627\u0631\u0626\u0639 \u0627\u06d2 \u062c\u06cc \u0622\u0641\u0633 \u06a9\u0627 \u0627\u0646\u06a9\u0634\u0627\u0641

خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایف پیپشاور: خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے، رواں ماہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی مشکل میں پڑسکتی ہے۔اے جی آفس کے ذارئع نے انکشاف کیا ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کی ادئیگیاں دینے کیلئے پیسے نہیں، اس لئے رواں ماہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ ادائیگیاں دینا مؤخر ہوسکتی ہے۔

ذرائع اے جی آفس کے مطابق پینشن کی ادائیگی بھی مؤخر ہوسکتی ہے کیونکہ صوبائی اور وفاقی حکومت میں جاری چپقلش کے باعث اسٹیٹ بینک نے رقم کی ادائیگیاں بند کردی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اے جی آفس صوبائی پیمنٹس تجاوز کی حد تک پہنچ گئیں اور بقاجات کی مد میں بھی صوبائی حکومت کی ادائیگیاں روک دی گئیں ہیں۔

مزید پڑھ:
Aaj News »

- YouTube

Auf YouTube findest du die angesagtesten Videos und Tracks. Außerdem kannst du eigene Inhalte hochladen und mit Freunden oder gleich der ganzen Welt teilen. مزید پڑھ >>

\u0627\u0633\u0631\u0627\u0626\u06cc\u0644 \u06a9\u06cc \u0644\u0628\u0646\u0627\u0646 \u06a9\u0648 \u062c\u0646\u06af \u06a9\u06cc \u062f\u06be\u0645\u06a9\u06ccAbbtakk News

\u067e\u0627\u0648\u0631 \u0633\u06cc\u06a9\u0679\u0631 \u06a9\u06d2 \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u0645\u0641\u062a \u0628\u062c\u0644\u06cc \u06a9\u06cc \u0633\u06c1\u0648\u0644\u062a \u062e\u062a\u0645 \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u06c1\u062f\u0627\u06cc\u062a\u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u0648 \u0645\u0641\u062a \u0628\u062c\u0644\u06cc \u06a9\u06cc \u062c\u06af\u06c1 \u0627\u0633 \u06a9\u06d2 \u0628\u0631\u0627\u0628\u0631 \u0631\u0642\u0645 \u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0645\u0627\u06c1\u0627\u0646\u06c1 \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba \u062f\u06cc \u062c\u0627\u0633\u06a9\u062a\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u0686\u06cc\u0626\u0631\u0645\u06cc\u0646 \u067e\u06cc \u0627\u06d2 \u0633\u06cc ایسے بیوقوف بندہ ہے واپس لے گا تو کرپشن میں اضافہ ہو جائے گا یہ لوٹے معاشرے کو کرپٹ کرنے کے متعلق سوچتے رہتے ہیں۔

\u067e\u0627\u0648\u0631 \u0633\u06cc\u06a9\u0679\u0631 \u06a9\u06d2 \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u0645\u0641\u062a \u0628\u062c\u0644\u06cc \u06a9\u06cc \u0633\u06c1\u0648\u0644\u062a \u062e\u062a\u0645 \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u06c1\u062f\u0627\u06cc\u062a\u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u06cc\u0646 \u06a9\u0648 \u0645\u0641\u062a \u0628\u062c\u0644\u06cc \u06a9\u06cc \u062c\u06af\u06c1 \u0627\u0633 \u06a9\u06d2 \u0628\u0631\u0627\u0628\u0631 \u0631\u0642\u0645 \u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0645\u0627\u06c1\u0627\u0646\u06c1 \u062a\u0646\u062e\u0648\u0627\u06c1\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba \u062f\u06cc \u062c\u0627\u0633\u06a9\u062a\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u0686\u06cc\u0626\u0631\u0645\u06cc\u0646 \u067e\u06cc \u0627\u06d2 \u0633\u06cc

\u0627\u06cc\u0646 \u0627\u06d2 240 \u06a9\u06d2 \u0636\u0645\u0646\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628 \u0645\u06cc\u06ba \u0645\u0628\u06cc\u0646\u06c1 \u062f\u06be\u0627\u0646\u062f\u0644\u06cc \u06a9\u06cc \u062a\u062d\u0642\u06cc\u0642\u0627\u062a \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u062a\u0634\u06a9\u06cc\u0644\u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u0631\u06cc\u0679\u0631\u0646\u0646\u06af \u0627\u0641\u0633\u0631\u060c \u067e\u0631\u06cc\u0632\u0627\u0626\u06cc\u0688\u0646\u06af \u0627\u0641\u0633\u0631 \u0627\u0648\u0631 \u0688\u06cc \u0627\u06cc\u0645 \u0627\u0648 \u06a9\u06d2 \u06a9\u0631\u062f\u0627\u0631 \u06a9\u06cc \u0627\u0646\u06a9\u0648\u0627\u0626\u0631\u06cc \u06a9\u0631\u06d2 \u0627\u0648\u0631 10 \u062f\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u0631\u067e\u0648\u0631\u0679 \u067e\u06cc\u0634 \u06a9\u0631\u06d2\u060c \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u06a9\u0645\u06cc\u0634\u0646

’\u0627\u0645\u0631\u06cc\u06a9\u0627 \u0632\u0644\u0632\u0644\u06c1 \u0632\u062f\u06af\u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0645\u062f\u062f \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u0637\u0627\u0644\u0628\u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u062f\u0631\u062e\u0648\u0627\u0633\u062a \u06a9\u0627 \u0645\u0646\u062a\u0638\u0631 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba‘\u0627\u0646\u0633\u0627\u0646\u06cc \u06c1\u0645\u062f\u0631\u062f\u06cc \u06a9\u06d2 \u0627\u0645\u0631\u06cc\u06a9\u06cc \u0634\u0631\u0627\u06a9\u062a \u062f\u0627\u0631 \u067e\u06c1\u0644\u06d2 \u06c1\u06cc \u0631\u062f\u0650 \u0639\u0645\u0644 \u062f\u06d2 \u0631\u06c1\u06d2 \u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u06c1\u0645 \u062f\u06cc\u06af\u0631 \u0627\u0653\u067e\u0634\u0646\u0632 \u06a9\u0627 \u062c\u0627\u0626\u0632\u06c1 \u0644\u06d2 \u0631\u06c1\u06d2 \u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u0648\u0632\u06cc\u0631 \u062e\u0627\u0631\u062c\u06c1 \u0627\u0646\u0679\u0648\u0646\u06cc \u0628\u0644\u0646\u06a9\u0646 justiceforjazlan

\u0633\u06cc\u0646\u06cc\u0679 \u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u06a9\u06cc \u067e\u06cc \u0679\u06cc \u0622\u0626\u06cc \u06a9\u06d2 \u0645\u0627\u0631\u0686 \u06a9\u06d2 \u062f\u0648\u0631\u0627\u0646 \u06af\u0631\u0641\u062a\u0627\u0631 \u0627\u0641\u0631\u0627\u062f \u06a9\u06cc \u0641\u0648\u0631\u06cc \u0631\u06c1\u0627\u0626\u06cc \u06a9\u06cc \u06c1\u062f\u0627\u06cc\u062a\u0688\u06cc \u0686\u0648\u06a9 \u0627\u0648\u0631 \u0646\u0627\u062f\u0631\u0627 \u0686\u0648\u06a9 \u06a9\u06cc \u0628\u0646\u062f\u0634 \u067e\u0631 \u0642\u0627\u0626\u0645\u06c1 \u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u06a9\u0627 \u0627\u0638\u06c1\u0627\u0631 \u062a\u0634\u0648\u06cc\u0634 Abhi tak rehai nahi di awam ko shabash hai bhaee police ko noon league ne bhi khilaya or awam se bhi lout rakhay unhe lock up mein rakh Kay begairat police

Comments خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔ اے ایف پی پشاور: خیبرپختونخوا حکومت مالی بحران کا شکار ہے، رواں ماہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی مشکل میں پڑسکتی ہے۔ اے جی آفس کے ذارئع نے انکشاف کیا ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن کی ادئیگیاں دینے کیلئے پیسے نہیں، اس لئے رواں ماہ سرکاری ملازمین کو تنخواہ ادائیگیاں دینا مؤخر ہوسکتی ہے۔ ذرائع اے جی آفس کے مطابق پینشن کی ادائیگی بھی مؤخر ہوسکتی ہے کیونکہ صوبائی اور وفاقی حکومت میں جاری چپقلش کے باعث اسٹیٹ بینک نے رقم کی ادائیگیاں بند کردی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اے جی آفس صوبائی پیمنٹس تجاوز کی حد تک پہنچ گئیں اور بقاجات کی مد میں بھی صوبائی حکومت کی ادائیگیاں روک دی گئیں ہیں۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا مؤقف ہے کہ وفاق کی طرف سے ہمیں مالی مسئلے درپیش ہیں اور وفاق کی طرف سے نیٹ ہائیڈل پرافٹ میں مشکلات درپیش ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ کےمطابق ضم اضلاع کیلئے بھی فنڈز روکنے کی وجہ سے صوبے کو مشکلات درپیش ہیں کیونکہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے ادائیگیاں روک دی گئیں ہیں ۔ .اسرائیل کی لبنان کو جنگ کی دھمکی June 23, 2022 June 23, 2022 0 تل ابیب: اسرائیل نے لبنان کو دھمکی دی ہے کہ اگر ہمارے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا تو لبنان پر حملہ کر دیں گے۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی عوام کو خطرہ ہوا تو ہم لبنان کے خلاف جنگ کے لیے تیار ہیں اور دنیا ایک بار پھر ہمارے فوجیوں کو بیروت، صیدا اور صور کی سڑکوں پر مارچ کرتا دیکھے گی۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے لبنان کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے لوگوں کو کسی بھی فوجی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا تو ہم لبنان کا نئے سرے سے محاصرہ کر کے حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے لبنان کو 6 جون 1982 کی جنگ یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہماری افواج بیروت تک پہنچ گئی تھیں اور اُس جنگ میں اسرائیل نے 88 دنوں تک بری اور بحری محاصرہ جاری رکھا تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ اگر ہمیں آج لبنان میں فوجی کارروائی کے لیے مجبور کیا گیا تو وہ پہلے سے زیادہ سخت جنگ ہو گی۔ جس میں حزب اللہ اور لبنان کو بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ اسرائیل اور لبنان کی سمندری حدود کا فیصلہ لبنان کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ previous post عمران خان نے ملک کو دیوالیہ کے قریب چھوڑا، 120 ارب روپے کا خسارہ تھا next post.0 پی اے سی اجلاس میں سربراہی پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے کی—تصویر: آئی این پی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ ملازمین کو مفت بجلی کے یونٹس دینے کی سہولت ختم کردی جائے۔ ڈان اخبار کی کے مطابق پی اے سی جو قومی خزانے پر نظر رکھنے میں پارلیمان کی مدد کرتی ہے، نے تجویز دی کہ ملازمین کو بجلی کے مفت یونٹس کی جگہ رقم فراہم کردی جائے۔ کمیٹی نے وزارت مواصلات اور پاور ڈویژن کی سال 20-2019 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا۔ یہ بھی پڑھیں: توانائی کا بحران اور اس کا حل اجلاس میں سربراہی پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے کی جنہوں نے پاور ڈویژن کے سیکریٹری کو بجلی کے مفت یونٹ کی فراہمی ختم کرنے کی ہدایت کی تاہم سیکریٹری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سہولت اچانک واپس لینے سےملازمین میں اضطراب پیدا ہوگا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن رمیش کمار نے سیکریٹری کو کہا کہ سہولت واپس لینے پر یونین یا کسی بھی حلقے کا دباؤ نہ لیں۔ کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ ملازمین کو مفت بجلی کی جگہ اس کے برابر رقم ان کی ماہانہ تنخواہوں میں دی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں کم آمدنی والے ملازمین کو اپنے تمام یوٹیلیٹی بلز خود بھرنے پڑتے ہیں اس لیے پاور سیکٹر کے ملازمین کو بھی اس سے استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ مزید پڑھیں: کمیٹی کو موجودہ توانائی بحران پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاور ڈویژن نے انکشاف کیا کہ سسٹم کو ہر سال 10 کھرب روپے کا نقصان ہوتا تھا جو آئندہ سال 20 کھرب تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کی بڑی وجہ نان ریکوری ہے۔ ڈویژن کی جانب سے پی اے سی میں جمع کرائی گئی ایک ریکوری رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 19-2018 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے 93 ارب 16 کروڑ روپے کے واجبات تھے لیکن کمپنیاں 4 لاکھ 11 ہزار 177 نادہندگان سے رقم وصول کر پائیں نہ ان کے کنیکشنز کاٹے گئے۔ لوڈشیڈنگ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری نے کہا کہ جن علاقوں میں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے وہاں بجلیکی بندش زیادہ ہے۔ اجلاس کے دوران پی اے سی چیئرمین نے کے الیکٹرک عہدیداروں کی سرزنش کی اور سی ای او کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا۔ یہ بھی پڑھیں: توانائی بحران کے باعث حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کے الیکٹرک کے سربراہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں نہیں آئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔ کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی کے سی ای او کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک دوسرے اجلاس میں شرکت کرنی تھی اس لیے وہ اجلاس میں نہیں شریک ہوئے۔ مواصلات ڈویژن کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیتے ہوئے پی اے سی چیئرمین نے جی ٹی روڈ کی دیکھ بھال اور مرمتی کام کے معیار پر ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے موٹرویز پر ہیوی ٹریفک کی خلاف ورزی اور بسوں، ٹرکوں کے آزادی کے ساتھ اسپیڈ لین استعمال کرنے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹر وے پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔.0 پی اے سی اجلاس میں سربراہی پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے کی—تصویر: آئی این پی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ ملازمین کو مفت بجلی کے یونٹس دینے کی سہولت ختم کردی جائے۔ ڈان اخبار کی کے مطابق پی اے سی جو قومی خزانے پر نظر رکھنے میں پارلیمان کی مدد کرتی ہے، نے تجویز دی کہ ملازمین کو بجلی کے مفت یونٹس کی جگہ رقم فراہم کردی جائے۔ کمیٹی نے وزارت مواصلات اور پاور ڈویژن کی سال 20-2019 کی آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیا۔ یہ بھی پڑھیں: توانائی کا بحران اور اس کا حل اجلاس میں سربراہی پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان نے کی جنہوں نے پاور ڈویژن کے سیکریٹری کو بجلی کے مفت یونٹ کی فراہمی ختم کرنے کی ہدایت کی تاہم سیکریٹری نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ سہولت اچانک واپس لینے سےملازمین میں اضطراب پیدا ہوگا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے رکن رمیش کمار نے سیکریٹری کو کہا کہ سہولت واپس لینے پر یونین یا کسی بھی حلقے کا دباؤ نہ لیں۔ کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ ملازمین کو مفت بجلی کی جگہ اس کے برابر رقم ان کی ماہانہ تنخواہوں میں دی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اور نجی شعبے میں کم آمدنی والے ملازمین کو اپنے تمام یوٹیلیٹی بلز خود بھرنے پڑتے ہیں اس لیے پاور سیکٹر کے ملازمین کو بھی اس سے استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ مزید پڑھیں: کمیٹی کو موجودہ توانائی بحران پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری پاور ڈویژن نے انکشاف کیا کہ سسٹم کو ہر سال 10 کھرب روپے کا نقصان ہوتا تھا جو آئندہ سال 20 کھرب تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کی بڑی وجہ نان ریکوری ہے۔ ڈویژن کی جانب سے پی اے سی میں جمع کرائی گئی ایک ریکوری رپورٹ میں کہا گیا کہ سال 19-2018 میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے 93 ارب 16 کروڑ روپے کے واجبات تھے لیکن کمپنیاں 4 لاکھ 11 ہزار 177 نادہندگان سے رقم وصول کر پائیں نہ ان کے کنیکشنز کاٹے گئے۔ لوڈشیڈنگ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سیکریٹری نے کہا کہ جن علاقوں میں زیادہ بجلی چوری ہوتی ہے وہاں بجلیکی بندش زیادہ ہے۔ اجلاس کے دوران پی اے سی چیئرمین نے کے الیکٹرک عہدیداروں کی سرزنش کی اور سی ای او کی اجلاس میں عدم موجودگی پر ناراضی کا اظہار کیا۔ یہ بھی پڑھیں: توانائی بحران کے باعث حکومت کا نئے ایل این جی ٹرمینل کی طرف جھکاؤ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کے الیکٹرک کے سربراہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں نہیں آئے تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔ کے الیکٹرک کے چیف فنانشل آفیسر نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی کے سی ای او کو وزیراعظم ہاؤس میں ایک دوسرے اجلاس میں شرکت کرنی تھی اس لیے وہ اجلاس میں نہیں شریک ہوئے۔ مواصلات ڈویژن کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیتے ہوئے پی اے سی چیئرمین نے جی ٹی روڈ کی دیکھ بھال اور مرمتی کام کے معیار پر ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے موٹرویز پر ہیوی ٹریفک کی خلاف ورزی اور بسوں، ٹرکوں کے آزادی کے ساتھ اسپیڈ لین استعمال کرنے پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹر وے پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔.