’ڈپریشن ہے تو دوا گوگل نہ کریں، سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں‘

ڈپریشن:’دوا گوگل نہ کریں، سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں‘

10/10/2019 8:12:00 AM

ڈپریشن:’دوا گوگل نہ کریں، سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں‘

پاکستان میں ذہنی صحت ایک ایسا معاملہ ہے جو حکومت سے لے کر عام شہری تک سب کی توجہ کا متقاضی ہے۔ ذہنی صحت کے عالمی دن کے موقع پر جانیے کہ اگر آپ کو ڈپریشن ہے تو کیا کریں۔

'میں تیرہ یا چودہ سال کا تھا جب مجھے احساس ہوا کہ والد کا علاج کروانا چاہیے۔ ہم نے پہلے وہی روایتی طریقہ اختیار کرنے کا سوچا کہ دم درود یا تعویز کراتے ہیں۔ مولوی صاحب کے پاس گئے تو وہ ایک اچھے انسان تھے جنھوں نے بات سننے کے بعد کہا کہ انھیں میرے پاس لانے کی بجائے کسی اچھے ماہر نفسیات کے پاس لے کر جائیں کیونکہ انہیں ذہنی مرض ہے۔'

راولپنڈی میں لڑکی کی لڑکی سے شادی کا ڈراپ سین ہوگیا - ایکسپریس اردو On The Front-part All-ep-24092-2020-08-03-On The Front: 03 A | Dunya News اس سے پہلے کہ گورنر راج کی بات کریں سندھ حکومت روش بدلے، شبلی فراز - ایکسپریس اردو

تاہم باقاعدہ تحقیق نہ ہونے کے باعث وہ جس ماہر نفسیات کے پاس گئے وہ ان کے والد کو نیند کی گولیوں سمیت دیگر اینٹی ڈپریسنٹ دیتے رہے۔ وہ تین سے چار سال تک مسلسل یہی گولیاں کھاتے رہے۔وحید امان کہتے ہیں کہ 'میرے والد ہر وقت سوتے رہتے تھے، جب دوا کا اثر ختم ہوتا اور وہ جاگتے تو ان کی حالت پہلے جیسی ہو جاتی، وہ غصہ کرتے تھے، یہاں تک مار پیٹ بھی، یہ دوا بس ان کو سلا رہی تھی مگر بیماری مزید بگڑ رہی تھی۔

’ہمیں احساس ہوا کہ یہ تو صرف نیند کی گولیاں ہیں، ہم سائیکاٹرسٹ کے پاس جاتے، وہ مختلف نام کے ساتھ اسی فارمولے کی کوئی اور گولی دے دیتے، اور الزام میرے والد ہی کی کسی روٹین پر ڈالتے۔ 'اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیںذہنی امراض کی تشخیص کے لیے آن لائن سروس موجود ہے

آخر کار وحید امان اور ان کے اہلخانہ نے ماہر نفسیات تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ راولپنڈی میں ایک کلینک گئے اور ڈاکٹر کو وہ ادویات دکھائیں جو ان کے والد کچھ سالوں سے کھا رہے تھے۔'سائیکاٹرسٹ حیران رہ گئیں۔ انھوں نے پوچھا کہ آخر کون سے ڈاکٹر نے یہ گولیاں دی ہیں۔ یہ تو وہ ادویات ہیں کہ اگر آپ کے والد کو ڈپریشن نہ بھی ہو، یہ ان کو بھی ذہنی مریض بنا دیں۔ میرے والد ذیابیطس کے مریض تھے اور ان ادویات میں بعض ایسی ادویات بھی شامل تھیں جو ایسے مریضوں کے لیے ہرگز قابلِ استعمال نہیں'۔

وحید امان کے مطابق وہ تمام ادویات بند کر دی گئیں اور نئے سرے سے ان کے والد کا علاج شروع ہوا۔ جس کے بعد وہ محض تین ماہ میں مکمل طور پر ٹھیک ہو گئے۔'مگر اب ان کا ذیابیطس اب بگڑ چکا ہے۔ افسوسناک بات ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں، جگہ جگہ جعلی ماہر نفسیات بیٹھے ہیں، اور وہ لوگوں کی جان سے کھیل رہے ہیں'۔

تصویر کے کاپی رائٹPAپاکستان میں ذہنی امراض میں اضافہ، ماہرینِ نفسیات نہایت کمپاکستان مینٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کسی نہ کسی ذہنی مرض کا شکار ہیں۔ ذہنی امراض کا شکار ہونے والوں میں زیادہ بڑی تعداد خواتین کی ہےپاکستان نوجوان آبادی والے دنیا کے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہیں لیکن غیرسرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس نوجوان آبادی کا بھی ایک تہائی سے زیادہ ڈپریشن کا مریض ہے۔

اس کی بڑی وجوہات میں گذشتہ دو دہائیوں میں ملک کی سکیورٹی صورتحال، غربت اور بیروزگاری کو قرار دیا جاتا ہے۔اس قدر بڑی تعداد میں ذہنی مریض ہونے کے باوجود عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان میں ذہنی امراض کے لیے صرف پانچ ہسپتال ہیں اور پورے ملک میں موجود ذہنی امراض کے لیے موجود سہولیات میں سے محض ایک فیصد بچوں اور نوجوانوں کے لیے ہے۔

آن لائن قربانی: ’کسی کو گوشت کم ملا، کسی کو خراب تو کسی کو ملا ہی نہیں‘ - BBC News اردو ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کا عمل جاری ہے،وزیراعظم لانگ جمپ سے مقبول ہونے والا نوجوان کون؟ جانیے -

دنیا بھر میں مانے جانے والے معیار کے مطابق ہر دس ہزار کی آبادی کے لیے ایک ماہر نفسیات ہونا چاہیے تاہم پی ایم ایچ اے کے مطابق، پاکستان میں ذہنی مریضوں کے علاج کے لیے صرف 400 ماہرینِ نفسیات ہیں اور بچوں کے ماہرین کی تعداد اس سے بھی کم ہے۔اگر آپ کو ڈپریشن ہے تو کیا کرنا چاہیے؟

صرف ایک کام کریں، سب سے پہلے ایک قابلِ بھروسہ، سند یافتہ سائیکاٹرسٹ کے پاس جائیں'، یہ مشورہ دانیکا کمال دے رہی ہیں جو قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ ذہنی امراض سے متعلق ایڈووکیسی کرتی ہیں۔دانیکا 'دی کلر بلیو' نامی ایک آن لائن پلیٹ فارم چلا رہی ہیں جو ڈپریشن سمیت دیگر ذہنی امراض کے مریضوں کو اپنے شعبے میں ماہر نفسیات کے ماہرین سے ملواتا ہے۔

دانیکا کمال کہتی ہیں کہ 'آپ کو زکام ہو جائے یا کوئی اور بیماری ہو تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ایک اچھے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں۔۔۔۔ تو پھر ذہنی بیماری کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کریں۔ 'تصویر کے کاپی رائٹGetty ImagesImage captionڈپریشن ایک ذہنی بیماری ہے جس کے باعث لوگوں کو خودکشی کرنے کے خیالات آتے ہیں (فائل فوٹو)

مزید پڑھ: BBC News اردو »

کوئی medicine کسی بھی بیماری کے لئےmentionنہیں کرنی چاھیے۔کیونکہ بہت سے لوگ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے کہیں بھی پڑھ کر دوا کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔ thiiik :) Hmm

مرید عباس کے قتل کے وقت عاطف کے ساتھ تھا: عادل زمانمرید عباس کے قتل کے وقت عاطف کے ساتھ تھا: عادل زمان تفصيلات جانئے: DailyJang Geo aag Geo had pal Geo rez

سری لنکا کے بعد انگلینڈ اورآئرلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورہ پاکستان کے امکانات روشنلاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سری لنکن ٹیم کے دورہ پاکستان کے بعد شائقین کرکٹ کےلئے ایک

وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر کے بعد نیب ٹیم کا عبدالرزاق بہرانی کے گھر پر چھاپہقومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر کے بعد ایک اور شخص عبدالرزاق بہرانی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا ہے۔

امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا نہیں کریں گےکیونکہ یہ خود کشی ہے:اعجاز شاہامید ہے کہ مولانا فضل الرحمان دھرنا نہیں کریں گےکیونکہ یہ خود کشی ہے:اعجاز شاہ Pakistan FederalInteriorMinister IjazShah MediaTalk pid_gov MoulanaOfficial PTIofficial MoIB_Official pid_gov MoulanaOfficial PTIofficial MoIB_Official Or yeah jamhoriyat key katil hain, sharam nahi atti.

پاکستان امن چاہتا ہے لیکن قوم کے وقار اور اصولوں پر سمجھوتے پر نہیں: آرمی چیفپاکستان امن چاہتا ہے لیکن قوم کے وقار اور اصولوں پر سمجھوتے پر نہیں: آرمی چیف Read News ArmyChief QamarJavedBajwa pid_gov MoIB_Official MoIB_Official OfficialDGISPR peaceforchange

سی پیک آنے والی نسلوں کے لئے نواز شریف کا تحفہ ہے، مریم اورنگزیبلاہور: (دنیا نیوز) مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ سی پیک خطے، پاکستان کے نوجوانوں اور آنے والی نسلوں کے لئے نواز شریف کا تحفہ ہے۔ واشنگٹن ہو یا چین کا دورہ، عمران خان کے حواس پر نواز شریف اور شہباز شریف سوار ہیں۔ Aour yeah daddo bhi....... نواز شریف نے اپنے باپ کے پیسے سے سی پیک دیا تو واقعی نواز شریف کا تحفہ ہے. اگر یہ جھوٹ ہے تو پھر ڈڈو چارجر 😑 Aor nawaz ko jail bjna khan ka youth ko tofha ha...aor dado be tofa he ha....