پرویز الہٰی نے پنجاب کا صوبائی بجٹ تسلیم کرنے سے انکار کردیا

28/06/2022 9:27:00 PM

پرویز الہٰی نے پنجاب کا صوبائی بجٹ تسلیم کرنے سے انکار کردیا

Parvez İllahi, Punjab Budget

پرویز الہٰی نے پنجاب کا صوبائی بجٹ تسلیم کرنے سے انکار کردیا

پرویز الہیٰ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صرف پنجاب اسمبلی سے پاس ہوا بجٹ تسلیم ہوگا۔

Share(ویب ڈیسک) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی اور پنجاب حکومت ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے صوبائی بجٹ تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بجٹ صرف پنجاب اسمبلی میں پاس ہوگا اور وہی آئینی اور قانونی ہوگا۔

دوسری جانب ان کے بیان پر لیگی رہنما ملک احمد خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز الہٰی کس آئین کی پاسداری کررہے ہیں۔ عوام سب جانتے ہیں۔ 

مزید پڑھ:
24 News HD »

Imran Khan Important Decisions | Zartaj Gul Exclusive Interview | PDM Negotiation Failed

Imran Khan Important Decisions | Zartaj Gul Exclusive Interview | PDM Negotiation Failed | Makhdoom Shahabuddin#ImranKhan #ZartajGul #MakhdoomShahabuddin #a... مزید پڑھ >>

یہ تو وزیر اعلیٰ کی کرسی کے پیچھے مر گئے

حمزہ شہباز اور پرویز الہیٰ کا وزیراعلیٰ پنجاب کی کرسی کیلئے دوبارہ مقابلہ ہوگا؟حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے ہٹانے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم دوبارہ الیکشن کا سوچ رہےہیں 🤣🤣🤣🤣 یعنی ایک بار پھر قوم کو 1122 رضاکاروں کی جعلی مرھم پٹی اور اللہ کے دربار میں اس بڈھے ٹھرکی کی بد دعاوں کا ڈرامہ دیکھنے کو ملے گا؟؟؟ 🤣🤣🤣🤣

پرویز الٰہی وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے ہمارے امیدوار ہیں: چوہدری شجاعت حسینلاہور: پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی حمایت سے متعلق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دعوؤں کی تردید کر ChShujatHussain PElahiofficial MoonisElahi6 ماں دی چت یوا ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے ایک اور بڑا قدم اٹھا لیاوزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا منصوبہ رواں سال فعال کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے پراجیکٹ کو مکمل اور فنکشنل کرنے کے کتنا بڑا قدم ہے🤔🤔🤔🤔🤔🤔🤔🤔

حماد اظہر نے پنجاب حکومت پر بڑا الزام عائد کردیاپی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ ملک ایک فاشسٹ اسٹیٹ بننے جا رہا ہے، اعلی عدلیہ فوری نوٹس لے۔ مزید تفصیلات: arynewsurdu واقعی_خان_صاحب_قوم_جاگ_چکی_ہے بھائ کیسے نوٹس لے گی، ihcکے اطہر مناللہ کا فیصلہ نہج پڑھا، اوورسیز ووٹرز کے حق کے خلاف 🤔،. یہ اعلئ عدلیہ 7 اپریل سے اس سازشی سیٹ اپ کو لانے کی زمہدار ہے، اب کیسے اسکو روکے گی، جب روکنے کا وقت تھا تو سہارا دے کر سازش کامیاب کرائ 7 اپریل کو 🤐🤔🙆‍♀️ Humari adlia khud fashust hai.

پنجاب میں ضمنی الیکشنن لیگ نے بڑا فیصلہ کر لیا17 جولائی کو پنجاب میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے لئے مسلم لیگ ن بھی سرگرم ہو گئی، جماعت کی نائب صدر مریم نواز نے مختلف حلقوں میں کنونشز کا فیصلہ کیا ہے۔ ✋ کیا 5کڑو نوکریاں جعلی وزیر اعلیٰ ابھی بھی برگیڈیر فہیم سے امید لگا کر بیٹھا ہے امپورٹڈ_حکومت_نامنظور

پنجاب میں نیا آئینی بحران شاہ محمود قریشی نے پینڈورا باکس کھول دیاملتان میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی نے کارکنوں سے خطاب کیا ہے۔

Stay tunned with 24 News HD Android App Share (ویب ڈیسک) سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی اور پنجاب حکومت ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے صوبائی بجٹ تسلیم کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ ان کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ بجٹ صرف پنجاب اسمبلی میں پاس ہوگا اور وہی آئینی اور قانونی ہوگا۔ دوسری جانب ان کے بیان پر لیگی رہنما ملک احمد خان نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز الہٰی کس آئین کی پاسداری کررہے ہیں۔ عوام سب جانتے ہیں۔  یہ بھی پڑھیں: .— فوٹو: فائل حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے سے ہٹانے کے کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم دوبارہ الیکشن کا سوچ رہےہیں۔ تحریک انصاف کے وکیل نے عدالت سے حمزہ شہباز کو ہٹاکر وزیراعلیٰ کے الیکشن کیلئے کم از کم 10 دن کا وقت دینے کی استدعا کردی جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حمزہ شہباز سے مشاورت کیلئے ایک دن کی مہلت مانگ لی اور کہا کہ الیکشن پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ پانچ مخصوص نشستوں کا نوٹیفکیشن ضمنی الیکشن کےنتائج کے بعد جاری کیا جائےگا، الیکشن کمیشن جسٹس شاہد جمیل نے ریمارکس دیے کہ اگر 16 تاریخ پر ریورس کر کے دوبارہ الیکشن ہوتا ہے تو نئے آنے والے 5 ارکان ووٹ نہیں دے سکتے۔ حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن اور حلف کےخلاف درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ کے روبرو سماعت ہوئی۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت سے درخواست کی کہ ہمیں ایک دن کا وقت دے دیں تاکہ وزیر اعلیٰ کو صورتحال بتاسکیں۔ صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ چوہدری پرویزالٰہی ہی ہمارے امیدوار ہیں، ہمارے ارکان چوہدری پرویزالہٰی کو ووٹ دیں گے، سربراہ ق لیگ اس موقع پر تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ منحرف ارکان کے 25 ووٹ شامل نہ ہوں تویہ وزیر اعلیٰ نہیں رہتے، حمزہ شہباز کو پہلے عہدے سے ہٹایا جائے اور پھر الیکشن کروائے جائیں، الیکشن کیلئے کم از کم 10 دن کاوقت دیا جائے، کچھ صورت حال اب ریورس نہیں ہو سکتی، 25 منحرف ووٹوں میں سے 5 ووٹ پر لاہور ہائیکورٹ کا حکم ہوگیا ہے، نئے الیکشن میں یہ 5 ووٹ شامل ہونے چاہئیں۔ اس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ جب الیکشن ہوا تھا تو اس وقت مخصوص 5 ارکان تو نہیں تھے، اگر پچھلی تاریخ سے دوبارہ الیکشن ہوئے تو اس میں نئے ووٹ کیسے شامل ہوں گے؟ اگرپرانی صورتحال واپس ہوتی ہے تو اس وقت وزیر اعلیٰ عثمان بزدار تھے۔ سپریم کورٹ نے منحرف ارکان کے ووٹ کو شمار نہ کرنے کا کہا ہے: جسٹس صداقت جسٹس صداقت علی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ نے منحرف ارکان کے ووٹ کو شمار نہ کرنے کا کہا ہے، انہوں نےکسی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا نہیں کہا۔ بینچ کے رکن جسٹس شاہد جمیل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا نوٹیفکیشن ٹھیک تھا یا نہیں یہ لاء ڈویژن کاکام ہے، نئے آنے والے 5 ارکان 16 اپریل کی تاریخ میں تو ووٹ نہیں دے سکتے۔ تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت اس کیس میں اتنی جلدی نہ کرے، نئےلوگ ووٹ کرسکیں گےکیونکہ الیکشن تو 16 اپریل کو نہیں ہورہا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اگر 16 تاریخ پر ریورس کرکے دوبارہ الیکشن ہوتا ہے اور ایک فریق اکثریت حاصل کرلے تو دوسرا فریق عدم اعتمادکرسکتا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار حمزہ شہباز شریف 197 ووٹ لے کر نئے قائد ایوان منتخب ہوگئے، پرویز الٰہی کو کوئی ووٹ نہیں پڑا بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم 16 تاریخ پر واپس جا نہیں سکتے، وہ منحرف 25 ارکان آج ڈی سیٹ ہوچکے ہیں، وزارت اعلیٰ کے امیدوار وہی ہوں گے لیکن ووٹرز نئے ہوں گے۔ جسٹس طارق سلیم نے استفسار کیا کہ کیا یہ تضاد نہیں ہوگا کہ ووٹرز نئے ہوں اور امیدوار پرانے ہوں؟ جس کا جواب دیتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ اس سارے دورانیے میں جو کچھ ہوا اس کا کیاکریں گے۔ عدلیہ نے کہا کہ اسے ہم لیگل کر سکتے ہیں، یہ عدالت پر چھوڑ دیں جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ اس پر آپ کو وقت دینا ہی ہو گا۔ اس موقع پر تحریک انصاف ہی کے وکیل عامر سعید نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی اسپیکر نے وزیراعلیٰ کے الیکشن والے دن پولیس کو ایوان میں داخل کرایا، لاہور ہائیکورٹ کے الیکشن کرانے کے حکم پر عمل نہیں ہوا، 2ارکان کے ووٹ پر tick لگا تھاجبکہ انہوں نے ووٹ ہی نہیں دیا۔ ڈی سیٹ ہونیوالوں میں 5 ارکان کا تعلق علیم خان گروپ، 4 کا اسد کھوکھر گروپ اور 16 ارکان کا تعلق جہانگیرترین گروپ سے ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے توہین عدالت کی درخواست دائرکی؟جواب میں عامر سیعد نے کہا کہ نہیں کی، اب وقت بھی گزر گیاہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اب تو ہم دوبارہ الیکشن پر جانے کا سوچ رہےہیں جس پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ الیکشن پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بعد ازاں درخواستوں پرسماعت کل 10صبح بجے تک ملتوی کردی گئی۔ مزید خبریں :.دی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے چوہدری پرویز الٰہی ہی ہمارے امیدوار ہیں اور (ق) لیگی ارکان انہیں ہی ووٹ دیں۔  ان کا کہنا تھا کہ غلط افواہیں پھیلا کر ہمارے ارکان پنجاب اسمبلی کو غلط فہمی میں نہ ڈالا جائے، (ق) لیگی ارکان پنجاب اسمبلی نے ہمیشہ پارٹی نظم و ضبط کی پابندی کی ہے اور انشاءاللہ اب بھی وہ چوہدری پرویز الٰہی کی حمایت کریں گے۔.Jun 27, 2022 | 13:24:PM وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز (فائل فوٹو) Stay tunned with 24 News HD Android App Share   (24 نیوز)وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز  نے پنجاب ایگریکلچر، فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی کا منصوبہ رواں سال فعال کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے  پراجیکٹ کو مکمل اور فنکشنل کرنے کے نظرثانی شدہ پلان کی منظوری دیدی۔  تفصیلات کے مطابق لاہور میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ سابق حکومت نے ساڑھے تین برس ضائع کئے جس سے پراجیکٹ کی لاگت میں 3ارب روپے کا اضافہ ہوا، سابق حکمرانوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرکے قومی وسائل سے کھلواڑ کیا۔ نااہلی کے باعث نہ صرف منصوبے کی لاگت میں اضافہ ہوا بلکہ قومی وسائل کو نقصان پہنچا۔ منصوبے کی تاخیر کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا، عوامی اہمیت کے اس منصوبے پر دن رات کام کرنا ہو گا،لیبز کے لئے ضروری مشیزی اور آلات کی خریداری کے کام میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے،ہیومن ریسورس کی بھرتی کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے۔ وزیراعلی پنجاب نے بھرتی کے لئے سٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دینے اور عمارت کے اطراف درخت اور پودے لگانے کی بھی ہدایت کی، منصوبے کو اکتوبر تک فعال کرنے کے لئے پوری کوشش کی جائے۔ ہر 15 روز بعد میں خود پراجیکٹ پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لوں گا۔ یہ بھی پڑھیں.