سماجی کارکن ادریس خٹک چھ ماہ بعد بھی ’لاپتہ‘

سماجی کارکن ادریس خٹک چھ ماہ بعد بھی ’لاپتہ‘

23/05/2020 5:52:00 AM

سماجی کارکن ادریس خٹک چھ ماہ بعد بھی ’لاپتہ‘

حال ہی میں ادریس خٹک کی واپسی کے لیے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کچھ دیر کے لیے ایک ٹرینڈ بھی چلا لیکن اس کے بعد پھر خاموشی ہو گئی۔

پھر دوسری صبح ادریس خٹک نے اپنے ایک دوست کو فون کرکے اپنا لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈسک منگوائی۔ چونکہ ادریس خٹک گھر بند کر کے گئے تھے تو اُن کے دوست کو گھر بلایا گیا اور تھوڑی دیر بعد دو لوگ اُن کے گھر کی چابی لیے پہنچے اور دوست کے ساتھ ادریس خٹک کے فون کے ذریعے نشاندہی کرنے پر اُن کا سامان لے کر چلے گئے۔

پاکستانی برآمدکنندگان کو امریکا، یورپ اور کینیڈا سے فیس ماسک کے بڑے آرڈر موصول نواز شریف نے ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا، صدر مسلم لیگ (ن) پوری دنیا جانتی ہے نواز شریف ایٹمی دھماکوں کے سخت خلاف تھے: فیاض الحسن

دو دن گزرنے کے بعد ادریس خٹک کے ڈرائیور کو موٹروے پر اسلام آباد ٹول پلازہ کے نزدیک چھوڑ دیا گیا اور انھیں گاڑی واپس دے کر سیدھا گھر جانے کا کہا گیا۔ جس کے بعد وہ دیر رات گاؤں واپس آ گئے۔ اس کے بعد ڈرائیور شاھسوار نے انبر پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی۔

شاھسوار کی طرف سے تھانے میں درج شکایت کے مطابق ’صوابی ٹول پلازہ سے گزرنے کے فوراً بعد سادہ لباس میں ملبوس دو لوگوں نے اُن کی گاڑی کو رُکنے کا اشارہ کیا۔ گاڑی رکتے ہی چار آدمی گاڑی کے اردگرد کھڑے ہو گئے جن میں سے دو نے ادریس خٹک اور شاھسوار کی آنکھوں پر پّٹی باندھ دی اور دوسری گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹAbdul Latif AdvocateImage captionپشاور ہائی کورٹ میں ادریس خٹک کی بازیابی کے لیے دائر کی جانے والی درخواست کا عکسشاھسوار کی تھانے میں کی گئی شکایت کو درج کر لیا گیا لیکن ادریس خٹک کی بیٹی شمائشہ نے کہا کہ پولیس نے فوری طور پر ایف آئی آر درج نہیں کی۔

’ہمیں عدالت کے ذریعے میرے والد کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرانا پڑا۔‘ادریس خٹک کے وکیل لطیف آفریدی نے بتایا کہ مقدمہ تاحال تاریخوں اور موجودہ صورتحال کو بنیاد بنا کر ملتوی کیا جارہا ہے۔ادریس خٹک نے روُس سے اینتھروپالوجی میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور بطور محقق ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ اُن کی تحقیق کا ایک بڑا حصّہ سابق فاٹا، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان سے جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد رہے ہیں جبکہ وہ سماجی کارکن کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔

اُن کی بیٹی نے بتایا کہ پچھلے تین برس سے انھوں نے گمشدہ افراد پر تحقیق نہیں کی۔ ساتھ ہی اُنھوں نے سوال بھی اٹھایا کہ ’پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد کی واپسی کے لیے کہاں بات کی جا سکتی ہے؟ کیونکہ میں نے پہلے کبھی انسانی حقوق کے قومی ادارے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا نام نہیں سنا۔‘

پاکستان میں جبری طور پر گمشدہ کیے جانے والے افراد کے بارے میں اعداد و شمار یکجا نہیں کیے گئے ہیں۔ ہر ادارہ اور تنظیم اپنے طور پر اکٹھا کیے گئے اعداد و شمار بتاتا ہے جو سماجی کارکنان کے مطابق اصل اعداد و شمار سے بالکل مختلف اور قدرے کم ہیں۔ایسی صورت میں سنہ 2015 میں بننے والا قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایک ادارہ ہے جہاں لوگوں کی شنوائی بھی ہوتی تھی اور فریقین کو براہِ راست حکمرانوں، وکیلوں، سابق ججوں اور پاکستانی فوج کے کرنل یا جرنیلوں سے سوال کرنے اور اپنی بات بتانے کا موقع مل جایا کرتا تھا۔

کراچی طیارہ حادثہ، تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم 28 مئی 1998ء کو پاکستان نے خطے میں طاقت کا توازن بحال کیا:ڈی جی آئی ایس پی آر پنجاب حکومت نے ریسٹورنٹس کھولنے کیلئے سفارشات وفاق کو بھجوا دیں

تصویر کے کاپی رائٹShumaisa KhattakImage captionتقریباً چھ ماہ پہلے ادریس خٹک کو اسلام آباد سے اکوڑہ خٹک کے راستے پر صوابی انٹرچینج کے پاس چند سادہ لباس میں ملبوس افراد نے اُن کی گاڑی سے اتار لیا تھایہ کمیشن پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ملک کے آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کام کرتا ہے۔ کمیشن پاکستان کی پارلیمان کو جوابدہ ہوتا ہے جہاں اس کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ بھی جمع کرائی جاتی ہے۔

حکومت کا کام اشتہارات دے کر چیئرمین کے عہدے کے لیے مختلف تجاویز اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ جس کے بعد اشتہارات کے شائع ہونے والی ہر پوسٹ کے لیے تین نام شارٹ لسٹ کر کے وزیرِ اعظم کو تجویز کیے جاتے ہیں۔لیکن پچھلے ایک برس سے یہ ادارہ غیر فعال ہے۔ پوچھنے پر ادارے میں کام کرنے والے سابق ارکان بتاتے ہیں کہ دو بار اخبارات میں اشتہارات دینے کے باوجود کمیشن کے چئیرمین کی نشست خالی ہے۔

اس کا براہِ راست اثر اُن تمام افراد پر پڑ رہا ہے جو کمیشن کے ذریعے اپنی شکایت کہیں درج کرا سکتے تھے۔سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سابق چیئرمین افراسیاب خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں انسانی حقوق کے قومی کمیشن کا اتنے لمبے عرصے تک غیر فعال ہونا تشویشناک ہے۔‘

ادریس خٹک کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ اغوا برائے تاوان کا کیس نہیں ہے۔ ’اگر ادریس نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت میں پیش کریں۔ اس طرح غائب کردینا انسانی حقوق کی پامالی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’سویلین طور طریقے کمزور یا بند کردیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے کمیشن کے بند رہنے، پارلیمان کی خاموشی اور عدالتوں میں احتساب کا طویل عمل اُن تمام لوگوں کو شہ دیتا ہے جنھیں پتا ہے کہ اُن کا احتساب ناممکن ہے۔‘

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ادریس خٹک کے لاپتہ ہونے کو انتہائی سنجیدہ معاملہ قرار دیا ہے۔ تنظیم نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ’ادریس خٹک کو سادہ لباس میں موجود افراد نے غائب کر رکھا ہے۔ ان کے حوالے سے ان کے خاندان کو معلومات فراہم نہیں کی جارہی ہیں۔‘

’ادریس خٹک تشدد یا اس سے بھی بدترین حالات کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘ مزید پڑھ: BBC News اردو »

Allah khear kary سماجی کارکن نے کچھ زیادہ ہی کارکنی دکھائی ہو گی اسی لئے غائب ہوا ہے نہیں تو بک بک کرنے والے تو ڈھیروں پھر رہے ہیں وہ تو لاپتہ نہیں ہوتے۔ اور ہو سکتا ہے خود ہی کہیں روپوش ہو کسی اپنے ہی کارنامے کی وجہ سے۔ سماجی کارکن کیا ہوتا ہے؟ شکل سے ہی غدار لگتا ہے، آئی ایس آئی زندہ آباد Gunaah Kia eska

nadeem_nusrat He was seen in Kandahar many times سماجی کارکن یا غدار ? وہ تو بتائیں جو برطانیہ میں برطانوی ایجنسی کو ماورائے قتل کرنے اور کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی کے بعد کتنے برطانوی غائب ہوئے؟؟؟ وہاں سانپ سونگھ جائے گا تمہیں۔ تاریخ کا بہت شوق نا تم لوگوں کو ذرا یہ تو آرٹیکل لگاؤ کہ ہولوکاسٹ کیا تھی کیسے تھی برطانیہ میں رہ کے دکھاؤ ذرا آزادی لفافت

ھارڈ ڈسک اور لیپ ٹاپ ۔ سمجھ تو گئے ھونگے۔ ایسا شخص بڑی مشکل سے زندہ واپس آتا ھے۔ تاھم کسی مرحلے پر عدالت میں ضرور پیش ھو سکتا ھے۔میرا زاتی تجربہ۔ Not samaji he is gadar khattak asmashirazi Do we have Rule of Law or Rule of Disappearance without justification in our country asmashirazi سافٹ وئیر اپڈیٹ ٹائم لے رہا ہے Linux یا Apple سرور لگ رہا ہے

History of Plane Crash On Residential Area دنیا بھر میں رہاشی علاقوں پر گرنے ولاے جہازایک تاریخی نظر Badmatablishment لاپتہ نہیں بلکہ پاکستانی خفیہ اداروں نے اغواء کیا ہے Jo mulk or foj k khilaf bakwas kry vo smaji karkun bn jata hy وہ پوچھنا یہ تھا کہ انکی کیا سماجی خدمات ہیں؟ Here comes: BBC PTM/BLA. کرو مہربانی تم اہلِ زمیں پر خدا مہرباں ہو گا عرش بریں پر

مجھے بھی عجیب سے فون نمبرز سے کالیں آرہی ہیں جلد ہی گم ہو جاؤں گا یا گم کرنے والے میرے ہاتھوں سے مارے جائیں گے 😉 بدقسمتی سے پاکستان میں سماجی کارکن کم ہوتے ہیں. ایجیوز سماجی بہت زیادہ ہیں is mulk main jo b sawal krta hai wo khud ek Sawal bn jata hai لاپتہ نہیں اغواء وہ بھی پاکستانی ایجنسیز کی طرف گناہ یہ تھا کہ وہ ہمیشہ پشتونوں کے حقوق کی جنگ لڑرہا تھا اور ہیاں تو حق مانگنا پھر پشتون بھی ہونا واہ یہ تو موت کو دعوت دینا ہے WhereIsidriskhattak

اپنے سماج میں دوسروں کا کارکن بننے کا کیڑا رکھنے والے نام نہاد سماجی کارکنوں کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ کبھی کرنل (ر) حبیب کے بارے میں بھی پوسٹ کریں انکی گمشدگی کو سال سے زیادہ عرصہ ھو گیا ھے۔ یہی عدار وطن آپ جیسے لوگوں کی شہہ سے اچھلتے کودتے ھے۔ اسکو عبرتناک سزا ملنی چاھئے Eiski ghaddar ki lash milni chaheyain. BBC Urdu aisai to buht Sarai loog hain kabi unkai barai Mai be post Kar liya karain.

Add into your news نامعلوم_افراد کی ایک اور معلوم کار ستانی ہو سکتا ہے گوتم بدھ کی طرح کسی نئے طرز کے ' اينٹی سٹيٹ ' گيان کی تلاش ميں نکل گۓ ہوں۔ آخری اطلاعات مودی سرکار يا کسی ' مخصوص طرز' کی مغربی اين۔جی۔او سے مل سکتی ہيں۔ Ye samaji karkun hi kiyon kidnap hoty hain bc ye kisi aur k agendy py chalty hsin

نظام شمسی سے باہر سیارے کے گرد نئی دنیا کے تخلیق کے مناظرنئے ستارے اے بی آریگی کے گرد ذرات اور گیسوں کی دبیز ڈسک کیمرے کی آنکھ میں قید کی گئی ہے

جمال خاشقجی کے قاتلوں کے لیے 'خوشخبری'،مقتول کے اہلخانہ نے بڑااعلان کردیاریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے منسلک سعودی صحافی جمال خاشقجی کے  اہل خانہ نے اپنے والد کے قاتلوں کو معاف کردیا ۔ سماجی رابطے

کورونا وائرس 18فٹ تک جاسکتا ہے، سماجی دوری کے گزشتہ فارمولے پر سوالیہ نشانایک نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ فاصلہ یا سماجی دوری بیماری سے محفوظ رہنے کے لیے ہلکی ہوا میں بھی مناسب نہیں ہے۔

جمال خاشقجی کے بیٹوں نے والد کے قاتلوں کو معاف کر دیاریاض: (ویب ڈیسک) ترک شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے میں قتل کیے جانے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بیٹوں نے والد کے قاتلوں کو معاف کردیا۔ زبردستی معاف کروایا ہوگا،

وینزویلا کا برطانیہ کے خلاف اپنا سونا واپس لینے کے لیے مقدمہوینزویلا کی حکومت نے برطانیہ کے مرکزی بینک (بینک آف انگلینڈ) کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے تاکہ اس سے اپنا 82 کروڑ ڈالر مالیت کا سونا واپس لے سکے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے بیٹوں نے والد کے قاتلوں کو معاف کردیا - World - Dawn NewsWhat else the poor soul could have done?... finally bowed to the rich and strong