\u067e\u0627\u06a9 \u062a\u0631\u06a9\u06cc\u06c1 \u0645\u0639\u0627\u06c1\u062f\u06c1 \u0645\u0633\u062a\u0642\u0628\u0644 \u06a9\u06d2 \u062a\u062c\u0627\u0631\u062a\u06cc \u062a\u0639\u0644\u0642\u0627\u062a \u06a9\u06cc \u0633\u0645\u062a \u0645\u062a\u0639\u06cc\u0646 \u06a9\u0631\u06d2 \u06af\u0627\u060c \u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0638\u0645

12/08/2022 4:18:00 PM

آئندہ 3 سالوں میں باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جائیں گے تفصیلات جانیئے:

آئندہ 3 سالوں میں باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جائیں گے تفصیلات جانیئے:

\u0622\u062c \u06c1\u0645 \u0646\u06d2 \u062a\u0631\u06a9\u06cc\u06c1 \u06a9\u06d2 \u0633\u0627\u062a\u06be \u0627\u06cc\u06a9 \u0627\u06c1\u0645 \u0645\u0639\u0627\u06c1\u062f\u06d2 \u067e\u0631 \u062f\u0633\u062a\u062e\u0637 \u06a9\u06cc\u06d2 \u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u06cc\u06c1 \u0645\u0639\u0627\u06c1\u062f\u06c1 \u06c1\u0645\u0627\u0631\u06d2 \u0645\u0633\u062a\u0642\u0628\u0644 \u06a9\u06d2 \u062a\u062c\u0627\u0631\u062a\u06cc \u062a\u0639\u0644\u0642\u0627\u062a \u06a9\u06cc \u0633\u0645\u062a \u0645\u062a\u0639\u06cc\u0646 \u06a9\u0631\u06d2 \u06af\u0627\u060c \u0634\u06c1\u0628\u0627\u0632 \u0634\u0631\u06cc\u0641

آئندہ 3 سالوں میں باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ فوٹو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فائل معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاک ترکیہ معاہدہ مستقبل کے تجارتی تعلقات کی سمت متعین کرے گا۔ اسلام آباد میں ترک وزیر تجارت کے اعزاز میں ظہرانے سے خطاب کرتےہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج ہم نے ترکیہ کے ساتھ ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں، یہ معاہدہ ہمارے مستقبل کے تجارتی تعلقات کی سمت متعین کرے گا، معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تجارتی معاہدہ ہمارے بھائی چارے کی مضبوطی کا عکاس ہے، جس سے دونوں ملک بھرپور فائدہ اٹھائیں گے، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد اور احترام پر مبنی ہیں، آئندہ 3 سالوں میں باہمی تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جائیں گے۔ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مئی میں ترکیہ کا دورہ کیا، وہاں میرا پرتباک استقبال کیا گیا، میرے دورے ترکیہ کے دوران ترک قیادت سے انتہائی سود مند بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ ہائیڈل پاور پروجیکٹس کی تعمیر میں وسیع تجربہ رکھتا ہے، ہم ترک کمپنیوں کو پاکستان میں ہاہیڈل پاور میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سولر توانائی موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان میں سولر توانائی کو بروئے کار لانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، سولر توانائی کو بروئے کار لانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا بھی آغاز کیا جائے گا۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ سولر پروجیکٹس کی کامیابی کے لیے بہترین ٹیم لائی گئی ہے، سولر توانائی کو بروئے کار لاکر ایندھن پر خرچ ہونے ہونے والا قیمتی زرمبادلہ بچایا جاسکتا ہے۔.0 حکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ اس موسم میں پورے ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی— فائل فوٹو:اے ایف پی محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ مون سون کا موسم ابھی تھما نہیں ہے اور اگست میں ملک بھر میں شدید بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان، سندھ، خیبرپختونخوا، جنوبی پنجاب، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں میں موسلادھار بارش کی پیش گوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سےجاری انتباہ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسلا دھار بارش سے کراچی، ٹھٹھہ، بدین، حیدرآباد، دادو، جامشورو، سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص میں 11 سے 13 اگست تک سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ قلعہ سیف اللہ، لورالائی، بارکھان، کوہلو، موسیٰ خیل، شیرانی، سبی، بولان، قلات، خضدار، لسبیلہ، آواران، تربت، پنجگور، پسنی، جیوانی، کوہاٹ، صوابی، نوشہرہ، مردان، پشاور، کرک، بنوں، ٹانک اور وزیرستان میں بھی سیلاب کا امکان ہے۔ یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ بھر میں طوفانی بارش، اربن فلڈنگ کی وارننگ جاری پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے تاہم بھکر، لیہ، ساہیوال، بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، ملتان اور رحیم یار خان میں بارش کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ بارش سے کشمیر، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ موسمیات نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں خبردار کیا کہ اس موسم میں پورے ملک میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی۔ پارلیمنٹ لاجز میں سینیٹر سیمی ایزدی کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی کو چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے سیلاب اور اربن فلڈنگ کے خطرے پر بھی بریفنگ دی۔ مزید پڑھیں: سندھ اور بلوچستان میں آج سے بارش کا امکان، کراچی میں سیلابی صورتحال کی وارننگ وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے کہا کہ یہ صورتحال معمول بن جائے گی اور ملک کا مجموعی انفراسٹرکچر ایسی آفات کے لیے تیار نہیں ہے جس سے شدید انسانی بحران جنم لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ موسمیات کی واضح وارننگ کے باوجود صوبائی حکومتوں کے پاس ریلیف اور ریسکیو کی صلاحیت کا فقدان ہے۔ تاہم وزارت موسمیاتی تبدیلی کے سیکریٹری آصف حیدر شاہ نے یہ دعویٰ کیا کہ محکمہ موسمیات جدید آلات کی کمی کی وجہ سے بعض علاقوں میں موسم کی حتمی انداز میں پیش گوئی نہیں کر سکتا۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر اس بات سے اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان اور قانون سازی کی ضرورت ہے۔ یہ بھی پڑھیں: کراچی: موسم گرما کی پہلی بارش، دیوار گرنے سے دو بچے جاں بحق چیئرمین این ڈی ایم اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اتھارٹی نے 11 ہزار 639 امدادی سرگرمیاں شروع کی ہیں جبکہ سیلاب سے متاثرہ 23 ہزار 61 افراد کے لیے 78 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جون سے اب تک بارشوں سے متعلقہ حادثات میں 575 اموات ہوئیں جن میں سے 176 بلوچستان میں، 127 سندھ اور 119 پنجاب میں ہوئیں جبکہ 939 افراد زخمی ہوئے۔ گلگت بلتستان میں برفانی جھیل کا سیلاب دریں اثنا گلگت بلتستان کے ضلع نگر میں برفانی جھیل کا سیلاب ہوپر نالے میں تباہی کا سبب بن گیا جس سے بہت سے لوگ بے گھر ہوگئے۔ مزید پڑھیں: عیدالاضحٰی پر موسلا دھار بارشوں نے 27 جانیں لے لیں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور کئی ایکڑ فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی درخت اور ایک پل پانی میں بہہ گیا۔ شمن کے علاقے کے رہائشی عابد حسین نے بتایا کہ ہوپر نالے میں سیلاب نے کئی گھروں کو نقصان پہنچایا ہے جس سے کم از کم 12 خاندان بے گھر ہو گئے۔ بلوچستان میں مزید بارشیں گزشتہ روز شمالی، وسطی اور جنوبی بلوچستان کے علاقوں میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا۔ حکام نے بتایا کہ چمن، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، پشین، زیارت، ہرنائی، لورالائی، بارکھان، ژوب، سبی، نصیر آباد، نوشکی، ٹوبہ اچکزئی، مستونگ، قلات، خضدار، سوراب، بولان، سنجاوی، مختار اور لسبیلہ میں دن بھر وقفے وقفے سے بارش جاری رہی۔ کوئٹہ میں بھی سہ پہر 2 گھنٹے تک تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش ہوئی جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوگئی، ان علاقوں میں سڑکیں زیر آب آ گئیں جبکہ بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کل گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی پیشگوئی ریسکیو حکام اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کی ٹیموں نے فوری طور پر ان علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ کچھ کچے مکانات کو نقصان پہنچا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے محکمہ موسمیات کی جانب سے طوفانی بارشوں کے ایک اور اسپیل کی پیش گوئی کے بعد سیلاب کی وارننگ جاری کر دی۔ ضلعی انتظامیہ کو لوگوں کو نالے اور ندیوں کے قریبی علاقوں سے دور منتقل کرنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔.یہاں پڑھیے۔ فضائی عملے اور زمینی عملے میں ایک غیر اعلانیہ سرد جنگ ہمیشہ سے چلتی آئی ہے۔ ہمارے یہاں کہ علاوہ بھی دوسرے ممالک کا فضائی اور زمینی عملہ آپس میں پولا پولا نبرد آزما رہتا ہے۔ ایسا صرف چند لوگوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو اپنے فرائض مکمل طور پر ادا نہیں کرتے اور ڈنڈیاں مارنے کے نہ صرف شوقین ہوتے ہیں بلکہ اس کار خیر میں ید طولی بھی رکھتے ہیں۔ یورپ اور امریکا میں تو لوگ اپنے حقوق کے بارے میں جانتے ہیں لیکن ہماری طرف اور گلف ممالک میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں انگلیوں کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے جبکہ دل تو کرتا ہے کہ اگلے بندے کو ہی ٹیڑھا کردیا جائے۔ ایک مرتبہ کسی گلف پرواز پر زمینی عملے کا ایک آدمی وہیل چیئر پر ایک صاحب کو لے کر آیا۔ جہاز میں سب سے پہلے وہیل چیئر پر آنے والے مسافروں کو لایا جاتا ہے اور اس کے بعد باقی مسافر آتے ہیں۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ بورڈنگ جلد از جلد ہوسکے اور پرواز وقت پر روانہ ہو۔ اگر جسمانی عارضے میں مبتلا افراد بھی سب کے ساتھ سوار ہونے کے لیے جہاز میں آئیں گے تو مشکل ہوگی اور مسافروں کو نشستوں تک پہنچنے میں دیر لگے گی۔ دوسرا یہ کہ سب سے پہلے آخری نشستوں کے حامل مسافروں کو جہاز میں سوار ہونے کے لیے کہا جاتا ہے اور اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں بھی۔ لیکن کچھ حاملہ مسافر (نشستوں کے) ایسے ہوتے ہیں جو کسی اعلان کی پرواہ کیے بغیر جہاز میں سوار ہونے کو لپکتے ہیں اور وہ اپنے اس قبل از وقت اخراج سے (ہوائی اڈے کے لاؤنج سے) جہاز کی بورڈنگ میں بہت سی پیچیدگیاں پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ ظاہر ہے قبل از وقت جو کام ہوگا اس میں پیچیدگیاں تو ہوں گی۔ خیر بات ہو رہی تھی اس آدمی کی جو وہیل چیئر پر ان صاحب کو لے کر آیا اور ان کے ساتھ جو بیگ تھا وہ قریب ہی ایک نشست پر رکھ گیا کہ آکر اٹھا لے گا۔ واپس آیا تو میں نے بیگ کی طرف اشارہ کیا تو معذرت کرکے ایک اور (وہیل چیئر) مسافر کو لینے چلا گیا۔ ایسا 2، 3 مرتبہ ہوا تو میں اس کی یہ ’چست کاریاں‘ خوب سمجھ گیا۔ میرے اندازے کے مطابق اس کا تعلق جنوبی ہند کے کسی علاقے سے تھا کیونکہ جہاز کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی وہ اندھیرے میں ایسے غائب ہوجاتا تھا جیسے کبھی تھا ہی نہیں۔ اب مسافر آنے والے تھے اور بیگ وہیں پڑا تھا۔ خیر میں نے بیگ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا تو میری کمر کے آخری مہرے سے آواز آئی کہ ’اگر اس بیگ کا وزن مروجہ قوانین کے تحت نہ ہوا تو کمپنی ذمہ دار نہ ہوگی‘۔ میں فوراً رک گیا۔ ساتھ ہی میں نے ہاتھ کے اشارے سے تمام مسافروں کو بھی جہاز کے اندر آنے سے روک دیا جس سے مجھے یہ ادراک ہوا کہ ٹریفک کانسٹیبل کے ہاتھ میں کتنی طاقت ہوتی ہے۔ خیر وہ میرا رقیب رو ’سیاہ‘ آخری وہیل چیئر والے مسافر کو بٹھا کر واپس آ رہا تھا۔ میرے پاس آیا تو میں نے اسے روکا اور بیگ کی طرف اشارہ کرکے مسکراتے ہوئے کہا ’بہت حلالی ہو بیٹا‘۔ چونکہ میں نے یہ الفاظ دانت پیستے ہوئے ادا کیے تھے لہٰذا وہ یہ سمجھا کہ میں بیگ مسافر تک پہنچانے کی بات کر رہا ہوں۔ چنانچہ اس نے نفی میں اپنا سر ہلا کر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے یس سر کہا اور بیگ اٹھا کر لے گیا۔ اس کے بعد میں نے بورڈنگ کا سگنل کھولا اور مسافروں نے جہاز میں آنا شروع کردیا۔ تربیت کے دوران یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہر وقت مسکرانا ہے کیونکہ انگریزی میں کسی نے کہا بھی ہے کہ ایک مسکراہٹ بہت دُور تلک جاتی ہے۔ ویسے میرا ذاتی خیال ہے کہ جس نے یہ کہا ہے اس کی ازدواجی زندگی ایک مسکراہٹ کی وجہ سے ہی خراب ہوئی ہوگی جو اتنی دُور چلی گئی کہ طلاق وغیرہ پر منتج ہوگئی ہوگی۔ یہ طے ہوگیا کہ جہاز میں کوئی مسافر آپ کو دیکھے تو آپ مسکرا کر اس کی طرف متوجہ ہوں۔ یہ عادت اتنی پختہ ہوگئی کہ جہاز کی راہداری میں چلتے ہوئے بھی اگر مسافروں کی طرف دیکھنا ہے تو چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔ غیر ارادی طور پر یہ عادت روزمرہ زندگی میں بھی در آئی۔ اس سے نقصان یہ ہوا کہ لوگ مجھے ’سائیں‘ سمجھنے لگے کیونکہ جب بازار، کسی دکان یا راہ چلتے آپ کسی کو دیکھ کر مسکرانے لگیں تو وہ یہی سمجھے گا۔ فائدہ بھی ہوا لیکن اس کا ذکر یہاں ضروری نہیں کیونکہ یہ تحریر گھر والے بھی پڑھیں گے۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ ہمارے یہاں لوگ نہیں ہنستے۔ دکھ سکھ تو زندگی کے ساتھ ہوتے ہیں لیکن لوگوں میں عمومی طور پر تاثرات کی انتہائی کمی ہے۔ میں تو کہوں گا کہ آئیوڈین ملے تاثرات کا کوئی سفوف ہو تو لوگوں کو پلایا جائے۔ ہنسنا مسکرانا تو دُور کی بات ہے، تکلیف کا تاثر بھی تب چہرے پر آتا ہے کہ جب تک دائیں ہاتھ کی پشت سے کسی کو اس کے کان کے نیچے ایک تحفہ نہ پیش کیا جائے۔ ہمارے لوگوں میں (Lack of Expression) اتنا ہے کہ باقاعدہ ڈرپیں لگوانے کی ضرورت ہے۔ عملے کا چہرہ بھی اگر تاثرات سے عاری اور سپاٹ ہو تو پھر کام نہیں چلے گا۔ اگر کسی نے سیب کا جوس مانگ لیا ہے اور وہ جہاز پر نہیں ہے تو ایک دم سپاٹ چہرے سے انکار کرنا تو بُرا لگتا ہے نا۔ لہٰذا مسکرا کر معذرت کرنا بہتر رہتا ہے۔ عملے کی مسکراہٹ سے سیب کا جوس تو نہیں نکلتا لیکن تھوڑا خلوص ضرور نکل آتا ہے اور آج کل کے زمانے میں بس یہی بچت ہے۔ متبادل بھی اسی وقت آفر کردیا جاتا ہے کہ اگر جوس ہی پینا ہے تو سیب کی بجائے آم کا پی لیں۔ حیرت انگیز طور پر ایک مسافر حضرت ایسے ملے جو ٹھنڈے جوس کے متبادل کے طور پر گرم چائے کے طلبگار ہوئے۔ مجھے اس ’موڈ سوئینگ‘ کی وجہ تو معلوم نہ ہوسکی تاہم چائے بنانے کا بندوست کرنا شروع کیا۔ چائے بنانے سے پہلے چینی کا تو پوچھا جاتا ہی ہے۔ بنانے لگا تو چینی کا پوچھنے کے لیے ان صاحب سے مخاطب ہوا میں: سر شوگر وہ: نہیں نہیں مجھے شوگر نہیں ہے میں: سر میرا مطلب شوگر کتنی آپ کی وہ: یار شوگر ہے ہی نہیں تو چیک بھی نہیں کی آخر ان کو کہا کہ سر چائے میں کتنی شوگر، تو پھر کہنے لگے کہ ایک چمچ۔ ویسے عملہ جو چائے یا کافی اپنے لیے بناتا ہے وہ ایویں مشہور ہے مسافروں میں۔ آج اس راز سے پردہ اٹھا دوں کہ دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں میں کام کرنے والے فضائی میزبان کوئی ایسی گیدڑ، شیر، سانپ یا لگڑ بگڑ سینگی اس چائے میں نہیں ڈالتے جو وہ اپنے لیے بناتے ہیں۔ لیکن نہیں، مسافر اکثر کہتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ عملے والی خاص چائے اگر مل جائے تو۔۔۔ اور اس کے بعد خوشامدی مسکراہٹ۔ میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ کپ یا وہ گلاس جس میں چائے بنتی ہے وہ چھوٹا ہوتا ہے اور پتی اور سوکھا دودھ جس تناسب سے ڈالا جاتا ہے وہ چائے کو گاڑھا کر دیتا ہے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہے پھر بھی آپ نے عملے کی خاص چائے کی ہی فرمائش کرنی ہے اگلے سفر میں۔.4 ابوظہبی منتقل ہونے کے بعد شروع کے چند ماہ بہت مشکل تھے۔ یہ معاشرہ، یہ لوگ اور یہ نظام سمجھ ہی نہیں آتا تھا، خصوصاً صحت کا نظام تو بہت ہی مختلف تھا۔ یہاں اسپتال نہایت ہی عمدہ اور شاندار تھے، ایسے کہ ہمارے ہاں کے فائیو اسٹار ہوٹل بھی نہیں ہوتے۔ مگر وہاں اور پاکستان میں ایک بنیادی فرق تھا اور وہ یہ کہ امارات میں اگر اسپتال پرائیوٹ ہے تو اس کی سہولیات محدود بھی ہوں گی اور اس کی صورتحال خستہ حال بھی، مگر اس کے برعکس سرکاری اسپتال نہ صرف شاندار اور چم چم کرتے ہیں بلکہ وہاں سہولیات بھی اعلیٰ اور عمدہ ہوتی ہیں۔ جب انسان نیا نیا کہیں جاتا ہے تو عموماً وہ ویسا ہی نظام اور ویسی ہی چیزوں کو اپنے آس پاس ڈھونڈتا ہے جن کا وہ عادی ہوتا ہے، وہ اس سے بے نیاز ہوتا ہے کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا چنانچہ ہم بھی ایک تو نئے تھے، دوسرا شروع میں فیملی انشورنس نہیں تھی تو خوب جان مار کر کوئی چھوٹا سا ڈھابے جیسا اسپتال ڈھونڈتے، جہاں ڈاکٹر اور نرس ہم سے پاکستانی اوکھے اور لٹھ مار انداز میں بات کرکے ہمیں اپنائیت کا احساس بھی دلاتے اور 50، 60 درہم لے کر ایک نسخہ بھی پکڑا دیتے۔ مگر جب انشورنس آگئی تو بھی وہ ایک زحمت لگتی۔ کسی بڑے اسپتال میں جاکر بیٹھو، پھر ایک نرس کے ساتھ جاؤ جو پہلے آپ کا ٹمپریچر اور بی پی چیک کرے، وزن نوٹ کرے، آپ اور آپ کے سارے خاندان کی بیماریوں، دوائیوں اور الرجیوں کی ہسٹری لے، سب کو کمپیوٹر میں رجسٹر کرے اور بلآخر ایک فائل بناکر تیار کر لے اور آپ پھر جاکر ڈاکٹر کی باری کے انتظار میں بیٹھ جائیں۔ ڈاکٹر کے پاس لے جانا بھی اسی نرس کی ذمہ داری تھی۔ ڈاکٹر آپ کو چیک کرتا، پوری توجہ سے آپ کے مسائل سنتا، پوری ذمہ داری اور شائستگی سے آپ کے سوالات کے جواب دیتا اور آپ سے تفصیلات جاننے کے بعد ان کو کمپیوٹر میں درج بھی کرتا جاتا اور کم و بیش 20، 25 منٹ بعد آپ کو کیمیائی ناموں سے بھرا پرنٹ شدہ نسخہ پکڑا دیتا جسے ہر کسی کے لیے پڑھنا ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستان میں تو ہر ایک فرد آگمنٹن، فلیجل اور اریتھرامائسن کے نام یاد رکھتے ہیں مگر یہاں نسخے پر صرف کیمیائی نام لکھے ملتے ہیں جن میں سے دوائیوں کے نام اخذ کرنا فارماسسٹ کی نوکری تھی۔ ابوظہبی کے ایک سرکاری اسپتال کا ہال وے— تصویر: لکھاری ہم 2 منٹ میں ڈاکٹر کے کمرے سے نکالے جانے والی پاکستانی مخلوق تھے لہٰذا ہم سے کہاں برداشت ہوتے ایسے تاخیری حربے۔ ہمیں تو عادت تھی دھکے لگا کر آگے گھسنے کی، عملے پر چیخ چلا کر جلدی اندر جانے کی کہ ہم سے زیادہ تو آج تک کسی نے انتظار نہیں کیا نہ ہم سے زیادہ کبھی کوئی بیمار ہی ہوا اور ڈاکٹر 2 منٹ میں ہمیں دوائیوں کے نام بتا دیتا جسے جاکر ہم فٹا فٹ فارمیسی سے خرید لیتے۔ مگر امارات میں فارمیسی میں صرف وہی فرد نوکری کرسکتا ہے جس نے کم از کم بی فارمیسی کر رکھا ہو اور یہ اسی کی ڈیوٹی ہوتی کہ وہ ہمیں نسخہ کسی بھی دستیاب نام اور کمپنی کا ڈھونڈ کر دے اور ہمیں باقاعدہ اس کی ڈوز سمجھائے۔ یہ نہیں کہ ڈاکٹر کو اپروچ کرلیا گیا ہے تو وہ اب سب کو آگمنٹن ہی لکھے جا رہا ہے۔ ڈاکٹر کسی کمپنی کے نام کی دوا تجویز نہیں کرسکتا تھا اس کا کام صرف اس دوا کا کیمیائی نام لکھنا تھا۔ نرس، ڈاکٹر، کمپیوٹر اور فارماسسٹ یہ چاروں مل کر عرب امارات میں وہ کام کرتے ہیں جو پاکستان میں ایک اکیلا اور تگڑا ڈاکٹر کرتا ہے اور محض 5 سے 10 منٹ میں کرتا ہے۔ ابوظہبی کے سرکاری اسپتال کی انتظار گاہ— تصویر: لکھاری اسپتال کے ایک کمرے کا منظر—تصویر: لکھاری کچھ وقت گزرا تو آہستہ آہستہ سرکاری اسپتالوں کے ساتھ فلرٹ کرنا شروع کیا۔ چونکہ انشورنس کی سہولت میسر آچکی تھی تو اس سے فائدہ حاصل کرنے کی ہمت کی اور سچ پوچھیے تو آنکھوں پر لگی پٹی کھلنے لگی۔ یقیناً پہلی مرتبہ فائل بننے میں کچھ وقت لگا، لیکن جب وہ بن گئی تو دوسرے تیسرے وزٹ پر ڈاکٹر کے سامنے ہماری ساری ہسٹری کھل جاتی۔ پچھلی بار کب بیمار ہوئے اور کیا کھایا تھا؟ اس بار کیا ہوا، کچھ بتانا نہ پڑتا، سب کچھ کمپیوٹر میں درج ہوتا۔ صاف ستھرے چم چم کرتے اعلٰی معیار کے وی وی آئی پی اسپتال، عملہ جی سر، یس میم کرتا، جھک جھک خدمت کرتا، بیٹھنے کے لیے خوبصورت نفیس صوفے، بچوں کے کلینکس میں خوبصورت کھلونوں اور تصاویر سے بھرے ویٹنگ رومز تاکہ بچے بور نہ ہوں، عزت اور توجہ دیتا ڈاکٹر اور مفت کا علاج (سچ تو یہ ہے کہ غریب پاکستانی کو اتنی عزت کی عادت ہی نہیں ہوتی چنانچہ کوئی ذٓرا سا بڑھ کر حال پوچھتا تو وہ گھبرا جاتے ہیں)۔ فیس کی مد میں صرف برائے نام کچھ فیصد ادا کرنا اور سیکڑوں کی دوا لے کر اور علاج کروا کر گھر لوٹ آنا۔ کسی سرجری یا مجبوری میں اسپتال داخل ہونا پڑتا تو ایسی دیکھ بھال میسر آتی جس کا تصور بھی پاکستان میں نہیں، پھر اسپتال کے کھانے بھی ایسے کہ انسان فائیو اسٹار ہوٹل کو بھول جائے۔ زندگی میں اتنی سہولیات اور آسانیاں بھی کبھی ہوسکتی ہیں یہ ہم پاکستانیوں کو کہاں معلوم تھا۔ مریض قابلِ توجہ اور اہمیت کا حامل ہوتا ہے یہ بھی ہم نے امارات میں ہی جانا۔ ڈاکٹر، نرس اور اسپتال کا کام مریض کی صحت، عزت اور زندگی کا خیال رکھنا ہے اسے مجروح کرنا نہیں یہ بھی ہم نے ان بدوؤں کے دیس میں جانا۔ سستی سے سستی دوا بھی 20، 30 درہم سے شروع ہوتی اور 100، 200 اور 300 درہم تک جاتی۔ مگر ہمیں کیا پروا تھی ہمیں تو اپنی خوراک کے حساب سے پوری 300، 400 درہم کی دوا 40، 50 درہم میں مل جاتی۔ وہ بھی پوری نسخے کے مطابق نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ ابوظہبی کے سرکاری اسپتال میں چلڈرن وارڈ میں موجود انتظار گاہ— تصویر: لکھاری چلڈرن وارڈ کی انتظار گاہ— تصویر: لکھاری ہم پاکستانیوں کو عادت ہے کہ چند ایک اینٹی بائیوٹک کا نام یاد کرلیتے ہیں اور پھر کچھ بھی ہوجائے تو نزدیکی فارمیسی سے وہ لے کر کھا لیتے ہیں۔ باقی سائیڈ افیکٹ اور اینٹی بائیوٹک کا پروٹوکول جانے ہماری بلا۔ مگر یہاں پر پورا ابوظہبی اور پورا دبئی ڈھونڈ لو، مجال ہے جو کوئی فارمیسی والا چپکے سے 2 کیا ایک ہی گولی اینٹی بائیوٹک کی دے دے۔ بغیر نسخے کے اینٹی بائیوٹک بیچنا جرم ہے جس کی جرأت سوائے چند ایک ایشیائی لوگوں کے کوئی نہیں کرتا۔ ہم نے بھی بلآخر ڈھونڈ ہی لیا شارجہ میں ایک انڈین جو چپکے سے آگمنٹن کی ایک ڈبی ہمیں پکڑا دیتا۔ کیا کریں ہماری بُری عادتیں جتنی سیدھا کر لو کہیں نہ کہیں رہ ہی جاتی ہیں۔ قوانین چاہے ہمارے ہی بھلے کے ہوں ہم اپنی مرضی سے ان کو توڑتے رہنا چاہتے ہیں۔ عوام کی صحت اور تحفظ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے اور یہ سارا نظام اسی ذمہ داری کو بھرپور طریقے سے پورا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ڈاکٹر بھی اتنی جلدی اینٹی بائیوٹک نہیں لکھ سکتے۔ 2، 3 چکر لگوا کر جب یقین ہوگا کہ اب اینٹی بائیوٹک کے بغیر گزارا نہیں تب ہی لکھتے ہیں ورنہ غیر ضروری اینٹی بائیوٹک دینے پر ڈاکٹر کا لائسنس منسوخ ہوسکتا ہے۔ دراصل ہمیں تو عادت ہوچکی تھی کہ ڈاکٹر نے ایک لائٹ منہ میں ماری، دو ہاتھ کمر پر اور فٹ سے کاغذ پر گندی سی تحریر میں اینٹی بائیوٹک لکھ کر پکڑا دی تو اب یہاں فوراً اینٹی بائیوٹک نہ ملتی تو ہم بھی جھنجھلا جاتے۔ جلدی سے ختم کیوں نہیں ہوتی بیماری؟ آخر ڈاکٹر اینٹی بائیوٹک کیوں نہیں دیتا؟ ابوظہبی کے سرکاری اسپتال کا چلڈرن وارڈ— تصویر: لکھاری ایک بار بیٹے کا ٹانسلز کا آپریشن تھا۔ وی وی آئی پی کمرے میں 2، 3 دن کا قیام اور آپریشن جس کی اصل قیمت ہزاروں درہموں میں تھی لیکن انشورنس کے ساتھ سیکڑوں میں ہوگیا۔ اس دوران ہونے والا ایک واقعہ بھی یاد آگیا کہ میرے بیٹے کو ڈرپ لگانے والے عملے کو رگ نہیں مل رہی تھی اور انہوں نے بچے کے بازو پر 4، 5 بار سرنج لگا کر اسے رُلا رُلا کر بُرا حال کردیا۔ ہم نے بس اتنا کیا کہ گوگل میپ پر جاکر کمنٹ میں سب لکھ دیا۔ بس پھر کیا تھا، وہاں تو انکوائری کی لائینیں لگ گئیں کہ یہ ہوا کیسے؟ آپریشن پر جانے سے پہلے بچے کو اتنا کیوں رُلایا گیا، عملے کو ڈرپ کیوں نہیں لگانی آئی، اتنے سوراخ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ جانے کس کس کی نوکری گئی اور معذرتیں الگ ہوئیں۔ اب ہم پاکستان میں ہیں اور دارالحکومت کے بڑے اور مہنگے ہسپتال جاتے ہیں مگر نہ وہ صفائیاں، چم چم کرتے فرش اور دیواریں نظر آتی ہیں نہ وہ عزت دیتا عملہ۔ اور تو اور قابل سے قابل باہر کا پڑھا لکھا ڈاکٹر بھی دوسرے ہی سوال پر چڑھ دوڑتا ہے کہ یہ کوئی سوال ہے کرنے والا، یا یہ کہ میرا وقت ضائع ہوگیا۔ ایمرجنسی میں ایک بار بیٹے کو لیے بھاگے گئے تو لیڈی ڈاکٹر 5 کلو میک اپ اور کھلے استری شدہ بال لیے ایمرجنسی میں بیٹھی ویڈیو کال پر مصروف تھی۔ کال بند ہوتے ہوتے 3، 4 منٹ اور ضائع کیے اور اس کے بعد بھونڈے انداز میں ہماری طرف متوجہ ہوئیں کہ کیا مسئلہ ہے۔ ان کو کوئی بتائے کہ بی بی آپ ہمارے لیے یہاں بیٹھی ہیں ہم کوئی آپ کے بیڈروم میں تھوڑا گھس آئے ہیں۔ ایمرجنسی میں یقینی طور پر ایمرجنسی جیسی کوئی صورتحال نہیں ہوتی۔ میڈیکل افسر کمرے سے نکلنا شان میں گستاخی جبکہ چھوٹا عملہ چھوٹے سے ایمرجنسی وارڈ میں باآواز بلند خوش گپیاں کرنا اور دھیرے دھیرے کام کرنا اپنا حق اور فرض سمجھتا ہے۔ پیسے بھی سارے ہماری ہی جیب سے جاتے ہیں اور شور کرکے عملے کو مجبور بھی خود ہی کرنا پڑتا ہے کہ خدا کے لیے کچھ کردو۔ کئی بار بچوں کو ایمرجنسی میں لے جانا پڑا۔ کبھی 2، 3 گھنٹے کے قیام میں میڈیکل افسر کی شکل تک نہیں دیکھی۔ ڈاکٹر صرف افسر بننا چاہتے تھے بن گئے اب دکھی انسانیت کے دکھوں سے اکثریت کا کوئی لینا دینا نہیں۔ بس چلتے پھرتے افسر ہونا چاہیے انسان کو۔ ہمیں یہ بھی یاد آیا کہ ابوظہبی قیام کے اتنے سالوں میں ہم نے ڈاکٹر کو اتنا سجا سنورا بھی نہیں دیکھا اور ایمرجنسی میں پارٹی میک اپ اور ملبوسات کے ساتھ آنا کونسا پروفیشنلزم ہے؟ یہ بھی پاکستان میں ہی ہوتا ہے کہ پارٹی ویئر اور آفس ویئر ایک سے ہیں۔ ایمرجنسی وارڈ میں اگر ڈاکٹر کو اپنے حُسن کی فکر ہے تو ایمرجنسی میں اس کا کوئی کام نہیں۔ کیا ہمارے میڈیکل کالجز میں کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں پڑھایا جاتا؟ امارات میں صرف وہی فرد فارمیسی میں نوکری کرسکتا ہے جس نے کم از کم بی فارمیسی کر رکھا ہو— تصویر: اے ایف پی کیا 20، 30 روپے میں کوئی کولڈ ڈرنک آجاتی ہے پاکستان میں؟ نہیں! مگر پاکستان میں بچوں کے بخار کی دوا آجاتی ہے۔ پھر اس دوا کا علاج بھی 20، 30 روپے کا ہی ہے یعنی کہ نادیدہ۔ عوام کو مفت علاج کا اندازہ تک نہیں۔ جبکہ ناجانے لوگوں کو انشورنس سے کیوں ڈرا دیا گیا ہے۔ اب چونکہ مہنگی دوا خرید نہیں سکتے تو اس لیے کوئی پوچھتا بھی نہیں کہ 20 روپے میں کونسا سالٹ اور منرل آتا ہے جو دوا آجاتی ہے۔ ہمارے سارے نئے اور پرانے حکمران چھینک بھی آنے پر ایسے ہی تو باہر نہیں بھاگتے کہ وہاں ان کو عزت دار انسانوں کی طرح اصلی اور بہترین علاج ملتا ہے۔ اصلی اور اکثیر دوا پوری عزت سے ملتی ہے۔ پاکستان میں تو علاج کے لیے اسپتال جانے کا مطلب ہے کہ پیسے دیکر تذلیل کا بندوبست کیا جائے۔ ڈاکٹر مسیحا کم، صنعت کار زیادہ لگتا ہے۔ اسی لیے تو سارے ملکوں کے اقامے رکھے جاتے ہیں کہ اس کے ساتھ انشورنس بھی محفوظ رہتی ہے جس سے علاج معالجے میں 75 فیصد تک بچت ہوجاتی ہے۔ باقی رہی عوام تو وہ جانے اس کا خدا جانے! پاکستانی سیاستدانوں اور تمام طاقتور حلقوں نے عوام کا ٹھیکہ تھوڑی لے رکھا ہے۔.

مزید پڑھ:
Aaj TV Urdu »
Loading news...
Failed to load news.

تو پھودی بہن دی کرنی وے لل جیا نا ہو وے تے۔

\u0645\u062d\u06a9\u0645\u06c1 \u0645\u0648\u0633\u0645\u06cc\u0627\u062a \u06a9\u0627 \u0645\u0648\u0633\u0644\u0627 \u062f\u06be\u0627\u0631 \u0628\u0627\u0631\u0634\u0648\u06ba \u06a9\u06d2 \u0646\u0626\u06d2 \u0633\u0644\u0633\u0644\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0646\u062a\u0628\u0627\u06c1\u06a9\u0631\u0627\u0686\u06cc \u0633\u0645\u06cc\u062a \u0627\u0646\u062f\u0631\u0648\u0646 \u0633\u0646\u062f\u06be \u0645\u06cc\u06ba \u0633\u06cc\u0644\u0627\u0628\u06cc \u0635\u0648\u0631\u062a\u062d\u0627\u0644 \u067e\u06cc\u062f\u0627\u06c1\u0648\u0633\u06a9\u062a\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u067e\u0646\u062c\u0627\u0628 \u06a9\u06d2 \u0628\u06cc\u0634\u062a\u0631 \u0627\u0636\u0644\u0627\u0639 \u0645\u06cc\u06ba \u0645\u0648\u0633\u0645 \u06af\u0631\u0645 \u0627\u0648\u0631 \u0645\u0631\u0637\u0648\u0628 \u0631\u06c1\u0646\u06d2\u06a9\u0627\u0627\u0645\u06a9\u0627\u0646 \u06c1\u06d2\u060c \u0645\u062d\u06a9\u0645\u06c1 \u0645\u0648\u0633\u0645\u06cc\u0627\u062a

\u0641\u0636\u0627\u0626\u06cc \u0645\u06cc\u0632\u0628\u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0627\u0653\u067e \u0628\u06cc\u062a\u06cc: \u062d\u0627\u0645\u0644\u06c1 \u0645\u0633\u0627\u0641\u0631 \u0627\u0648\u0631 \u062d\u0644\u0627\u0644\u06cc \u0645\u0644\u0627\u0632\u0645\u0645\u06cc\u06ba \u0646\u06d2 \u062f\u06cc\u06a9\u06be\u0627 \u06c1\u06d2 \u06a9\u06c1 \u06c1\u0645\u0627\u0631\u06d2 \u06cc\u06c1\u0627\u06ba \u0644\u0648\u06af \u0646\u06c1\u06cc\u06ba \u06c1\u0646\u0633\u062a\u06d2\u06d4 \u062f\u06a9\u06be \u0633\u06a9\u06be \u062a\u0648 \u0632\u0646\u062f\u06af\u06cc \u06a9\u06d2\u0633\u0627\u062a\u06be \u06c1\u0648\u062a\u06d2 \u06c1\u06cc\u06ba \u0645\u06af\u0631 \u0644\u0648\u06af\u0648\u06ba \u0645\u06cc\u06ba \u0639\u0645\u0648\u0645\u06cc \u0637\u0648\u0631 \u067e\u0631 \u062a\u0627\u062b\u0631\u0627\u062a \u06a9\u06cc \u0627\u0646\u062a\u06c1\u0627\u0626\u06cc \u06a9\u0645\u06cc \u06c1\u06d2

\u0627\u0646\u0634\u0648\u0631\u0646\u0633 \u06a9\u0627\u0631\u0688 \u0627\u0648\u0631 \u0627\u0628\u0648\u0638\u06c1\u0628\u06cc \u06a9\u0627 \u0635\u062d\u062a \u06a9\u0627 \u0646\u0638\u0627\u0645\u0645\u0639\u0645\u0648\u0644\u06cc \u0641\u06cc\u0633 \u062f\u06d2 \u06a9\u0631 \u0639\u0644\u0627\u062c \u0627\u0648\u0631 \u062f\u0648\u0627 \u0645\u0644 \u062c\u0627\u062a\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u0627\u062a\u0646\u06cc \u0633\u06c1\u0648\u0644\u062a\u06cc\u06ba \u0627\u0648\u0631 \u0622\u0633\u0627\u0646\u06cc\u0627\u06ba \u0628\u06be\u06cc \u06a9\u0628\u06be\u06cc \u0632\u0646\u062f\u06af\u06cc \u0645\u06cc\u06ba \u06c1\u0648\u0633\u06a9\u062a\u06cc \u06c1\u06cc\u06ba \u06cc\u06c1 \u06c1\u0645 \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646\u06cc\u0648\u06ba \u06a9\u0648 \u06a9\u06c1\u0627\u06ba \u067e\u062a\u0627 \u062a\u06be\u0627\u06d4

\u0646\u0648\u062c\u0648\u0627\u0646 \u0648\u0627\u0626\u0631\u0644 \u062c\u0648\u0691\u06d2 \u0627\u0633\u062f \u0627\u0648\u0631 \u0646\u0645\u0631\u06c1 \u06a9\u06d2 \u06c1\u0627\u06ba \u0628\u06cc\u0679\u06d2 \u06a9\u06cc \u067e\u06cc\u062f\u0627\u0626\u0634\u0627\u0644\u0644\u06c1 \u06a9\u0627 \u0634\u06a9\u0631 \u06c1\u06d2 \u06a9\u06c1 \u0645\u0634\u06a9\u0644 \u0648\u0642\u062a \u0646\u06a9\u0644 \u06af\u06cc\u0627 \u06c1\u06d2\u060c \u0627\u0633\u062f ImranChNSNews Bs Pakistani channels ko aesi he news milti hain

\u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u06a9\u0648 \u062c\u06cc \u0627\u06cc\u0633 \u067e\u06cc \u067e\u0644\u0633 \u0627\u0633\u0679\u06cc\u0679\u0633 \u0645\u06cc\u06ba \u062a\u0648\u0633\u06cc\u0639 \u0645\u0644\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0638\u0645 \u067e\u064f\u0631 \u0627\u0645\u06cc\u062f\u062c\u06cc \u0627\u06cc\u0633 \u067e\u06cc \u067e\u0644\u0633 \u0627\u0633\u06a9\u06cc\u0645 \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u0627\u0648\u0631 \u06cc\u0648\u0631\u067e\u06cc \u06cc\u0648\u0646\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u0628\u0627\u06c1\u0645\u06cc \u0637\u0648\u0631\u067e\u0631 \u0641\u0627\u0626\u062f\u06c1 \u0645\u0646\u062f \u06c1\u06d2\u060c \u062f\u0648\u0646\u0648\u06ba \u06a9\u06d2 \u062f\u0631\u0645\u06cc\u0627\u0646 \u062a\u062c\u0627\u0631\u062a\u06cc \u062a\u0639\u0644\u0642\u0627\u062a \u0628\u0691\u06be\u0646\u0627 \u0686\u0627\u06c1\u0626\u06cc\u06ba\u060c \u0634\u06c1\u0628\u0627\u0632 \u0634\u0631\u06cc\u0641

\u0627\u067e\u0631 \u06a9\u0648\u06c1\u0633\u062a\u0627\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u0633\u06cc\u0644\u0627\u0628 \u06a9\u06d2 \u0628\u0627\u0639\u062b \u067e\u064f\u0644 \u0628\u06c1\u06c1 \u06af\u06cc\u0627\u062f\u0627\u0633\u0648 \u06c1\u0627\u0626\u06cc\u0688\u0631\u0648 \u067e\u0627\u0648\u0631 \u067e\u0631\u0627\u062c\u06cc\u06a9\u0679 \u06a9\u06d2 \u0631\u06c1\u0627\u0626\u0634\u06cc \u06a9\u06cc\u0645\u067e\u0648\u06ba \u06a9\u06d2 \u0642\u0631\u06cc\u0628 \u0648\u0627\u0642\u0639 \u067e\u064f\u0644 \u06af\u0631\u0646\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0628\u0627\u0639\u062b \u06af\u0644\u06af\u062a \u0628\u0644\u062a\u0633\u062a\u0627\u0646 \u06a9\u0627 \u0645\u0644\u06a9 \u06a9\u06d2 \u062f\u06cc\u06af\u0631 \u062d\u0635\u0648\u06ba \u0633\u06d2 \u0631\u0627\u0628\u0637\u06c1 \u0645\u0646\u0642\u0637\u0639 \u06c1\u0648\u06af\u06cc\u0627\u06d4