Asadullahghalib, Kashmir, Pakistanis

Asadullahghalib, Kashmir

ترک صدر کے خطاب میں پاکستان کے قومی ترانے کی مہکار

یہ نظریہ باطل ہو گیا کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا۔یہ نظریہ بھی باطل ہو گیا کہ

18/02/2020 8:11:00 AM

ترک صدر کے خطاب میں پاکستان کے قومی ترانے کی مہکار پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا۔یہ نظریہ بھی باطل ہو گیا کہ کشمیر پر کوئی طاقت پاکستان کی ہم نوا نہیں AsadullahGhalib Kashmir PMOIndia trpresidency Pakistanis pid_gov

یہ نظریہ باطل ہو گیا کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہو گیا۔یہ نظریہ بھی باطل ہو گیا کہ

ضرور پڑھیں: وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال کی پاکستان کبڈی ٹیم کو فائنل جیتنے پر مبارکبادوزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ کشمیر کے سفیر اور وکیل بنیں گے اور انکی کوششیں رنگ لا رہی ہیں۔ترک صدر کا خطاب تو ہر جگہ لوگوں نے دانتوں میں انگلیاں دبا کر سنا۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ کوئی مہمان بول رہا ہے بلکہ لگتا تھا کہ کوئی محب وطن پاکستانی لیڈر بول رہا ہے اور پاکستانی عوام کے دل کی پکار بلند کر رہا ہے۔ ترک صدر نے کئی بار کہا ہے کہ پاکستان ان کادوسرا گھر ہے۔ہر ترک پاکستان سے والہانہ محبت کرتا ہے، اس کاا حساس ہر ا س پاکستانی کو ہو جاتا ہے جو کسی بھی ترک ہوائی اڈے پر اترتا ہے، حضرت ایوب انصاری ؓ کے مقبرہ کی زیارت کرتا ہے ۔ رومی رقص میں شرکت کرتا ہے یا شامی مہاجریں کی مدد لے کر شام ا ور ترکی کی سرحد میں واقع مہاجریں کے کیمپوں کا رخ کرتا ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ یہ کیمپ نہیں ہیں،بلکہ ہر ترک نے اپنا آدھا گھر شامی مہاجر کو دان کر رکھا ہے۔ہر ترک نے اپنی دکان پر شامی مہاجریں کو بٹھا رکھا ہے اور ہر ترک نے اپنا آدھا دفتر شامی مہاجر کے حوالے کر رکھا ہے۔ یہ مواخات مدینہ کی بہترین مثال ہے اور وزیر اعظم عمران خان بھی پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔

عیدالاضحی پر کورونا کا پھیلاؤ روکنے کیلیے عوامی آگاہی بیدار کی جائے ، وزیر اعظم - ایکسپریس اردو Think Tank-part All-ep-23940-2020-07-04-Think Tank: 04 July | Dunya News ’’آپ توانائی نہیں مہنگائی کے وزیر ہیں‘‘، لوڈ شیڈنگ پر حکومتی اتحادی برہم - ایکسپریس اردو

ترک صدر نے عالم ا سلام کو درپیش مشکلات پر وہی موقف اختیار کیا جو پاکستان کا موقف ہے جس سے لگتا ہے کہ پاکستان ا ور ترکی دو جسم اور ایک جان کی مثال ہیں ترک صدر نے تاریخ کے صفحات کھولے اور تحریک خلافت کے راہنمائوں کو سلام پیش کیا۔خلافت ختم کر کے عالمی قوتوںنے عالم اسلام کو پارہ پارہ ہی کر دیا تھا۔ اس کا دکھ ترک صدر کو اچھی طرح ہے اور وہ دوبارہ عالم اسلام کو اسی شکل میں دیکھنے کے خواہاں ہیں۔وہ او آئی سی کومتحرک دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ کشمیر کو بھارتی غلامی سے

ا ٓزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔وہ فلسطین کی ریاست کی آزادی چاہتے ہیں۔ وہ عالم اسلام کے مناقے دور کروانا چاہتے ہیں ۔ ترک صدر نے پاکستان کے معاشی مسائل کاا دراک بھی کیا اور اپنی اس پالیسی کا کھل کر اظہار کیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم میں اضافہ چاہتے ہیں۔ اور مرحلہ وار اسے ایک بلین ڈالر سے بڑھا کر پانچ بلین ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ اہداف کوئی ایسا خواب نہیں کہ جس کی تعبیر مشکل اور ناممکن ہے۔ دونوں ملک اپنی پالیسیوں کو ایک دوسرے کے مفادات کے مطابق ڈھالیں تو سب کچھ ممکن ہے اور من تو شدم اور تو من شدی کی تصویر سامنے آ سکتی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان وفد کی سطح پر بھی مذاکرات کے دو رچلے۔ اور کئی ایم او یوز پر دستخط کئے گئے۔ ترکی پہلے ہی پاکستان میںمقدور بھر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے میٹرو بسوں کا نظام اس کا مرہون منت ہے۔ شہروں کی صفائی بھی ہم نے اس کے ماڈل سے سیکھی۔ بجلی کے منصوبوں میں ترکی کا تعاون بھی الم نشرح ہے۔ ترکی تو پاکستان کو بہت کچھ دینا چاہتا تھا مگر ماضی کی حکومت نے ترکی بول بول کر ترکی کو بیوقوف بنایا اور کئی منصوبوں کے اربوں روپے خورد برد کر لیے۔ عمران خان نے ایک شفاف نظام تشکیل دیا ہے اور توقع رکھنی چاہئے کہ ہمارا کرپٹ مافیا لکڑ ہضم پتھر ہضم کا تجربہ نہیں دہرائے گا۔ ترکی کی خاتون اول بھی پاکستانیوں سے گھل مل گئیں ، انہوں نے پاکستانی خواتیں کے نمائندہ اجتماع سے خطاب کیا اور دل کھول کر رکھ دیا۔ ترک لوگ دل کی بات زبان پر لانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے حکمران غیر ملکی دورے کرتے ہیں۔ مودی صاحب بن بلائے نواز شریف کی نواسی کی تقریب میں آن دھمکے۔ واجپائی بھی ایک بس میں بیٹھے اور لاہور پہنچے جہاںمینار پاکستان پر انہوںنے خطاب میں تسلیم کیا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے ،اگر میرے علم میں یہ نہیں کہ کبھی کسی غیر ملکی مہمان نے وفور جذبات میں آ کر میزبان ملک کا قومی ترانہ بھی گایا ہو۔ ہم بھارت جاتے ہیں۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ونڈے ماترم کے الفاظ بھی زبان پر لائیں مگر ترک صدر طیب اردوان نے نئی اور نادر مثال پیش کی اور کشور حسین شاد باد۔ تو نشان عزم عالی شان سنا یاا ور سننے والے جھوم جھوم اٹھے، یہ ترک صدر کی پاکستان سے محبت کی لازوال مثال ہے۔ جو شاید کوئی ا ور نہ دہرا سکے گا۔ترکی اور پاکستان تاریخ ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں منسلک ہیں۔ ایک شاندار ماضی ہے جس پردونوں ملک فخر کر سکتے ہیں اس دور کے احیاا ور نشاۃ ثانیہ کے لئے کئی کوششیں ہوتی رہی ہیں، ایکو بنی۔ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے کوششیں ہوئیں۔ کوئی دن آتا ہے کہ ہم ایک ہوں گے، ایک ہو کر سوچیں گے ا ور متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔ ترک صدر کے دورے بے پختہ بنیادیں رکھ دی ہیں۔ ان پر ایک شنادارا ور فلک بوس عمارت تعمیر ہو گی اور آسمان کی بلندیوں کو چھوئے گی۔

پاکستانی قوم اور کشمیری مسلمان ترک صدر طیب اردوان کے مشکور ہیں کہ انہوںنے حق کی آواز بلند کی۔ اور مظلوموں کو زبان بخشی اور بھارت کی ناراضی کی قطعی پروا نہیں کی۔ پاکستان اور ترکی اکٹھے ہو کر عالم اسلام کی تقدیر بدل سکتے ہیں اور اغیار کے استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں۔پاک ترک دوستی زندہ باد پائندہ باد۔

مزید پڑھ: Daily Nawa-i-Waqt »

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے قوی امکانات، فیٹف اجلاس پیرس میں شروعگرے لسٹ میں ڈلوایا کس 'خبیث' نے..؟

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے قوی امکانات، فیٹف اجلاس پیرس میں شروع

پاکستان کے افغان مہاجرین کی میزبانی کے چالیس سنہری سالپاکستان کے افغان مہاجرین کی میزبانی کے چالیس سنہری سال اس پس منظر میں ، پاکستان دنیا کی چند قوموں میں نہایت فخرسے کھڑا ہے کیونکہ ہم نے چالیس طویل عرصے سے چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو فراخ دل پناہ گاہیں اور مکانات فراہم کیے ہیں, ShehryarAfridi1

پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے قوی امکانات، فیٹف اجلاس پیرس میں شروعپاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے قوی امکانات، فیٹف اجلاس پیرس میں شروع FATF Begins Today FATFNews FATFWatch ForeignOfficePk MoIB_Official pid_gov Pakistan

’احسان اللہ احسان کے فرار کی تحقیقات ہو رہی ہیں‘وفاقی وزیر داخلہ برگیڈیئر اعجاز شاہ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار ہونے سے متعلق خبروں کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔ Han is ma koi shak dashatgardo ka tikana GHQ GHQ ا س کو برف کی سل پر ننگھا لٹائیں یہ سب بتا دے گا کہ اسے کیسے بگایا گیا ہے ھھھھھ

صحافی عزیز میمن کے قتل کا مقدمہ درج نہ ہو سکا، ایس ایچ او معطلنوشہروفیروز: سندھ کے شہر محراب پور میں سینئر صحافی عزیز میمن کے قتل کا مقدمہ تا حال درج نہیں کیا جا سکا ہے، ایس ایس پی ڈاکٹر فاروق نے ایس ایچ او عظیم راجپر کو معطل کر دیا۔تفصیلات کے مطابق صدر محراب پور پریس کلب عزیز میمن کے قتل کا مقدمہ تاحال درج نہی HamidMirPAK میر صاحب آپکی حکومت ہے سندہ میں واہ کیا ڈرامہ کھیلا جا راہا ہے واہ سائیں سرکار واہ SHO معطل بہت بڑا ایکشن ہے اسکو کہا گیا کچھ دنو کیلئے گھر بیٹھ جب قوم بھول جائگی کسی دوسرے ایشو میں الجھ جائںگے تو تو واپس اجانا۔ عزیز میمن کو پیپلز پارٹی کے نوشہرہ فیروز کے ایم این اے ابرار شاہ دھمکیاں دے رہے تھے۔ JusticeForAzizMemon