’گھر کا واحد کمانے والا ایک سال سے جیل میں بند ہے‘ - BBC News اردو

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال: ’گھر کا واحد کمانے والا ایک سال سے جیل میں بند ہے‘

05/08/2020 7:16:00 AM

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک سال: ’گھر کا واحد کمانے والا ایک سال سے جیل میں بند ہے‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے لیے پانچ ہزار سے زیادہ کشمیری گرفتار ہوئے اور اب بھی سینکڑوں افراد بیرونِ کشمیر محبوس ہیں۔

محمد یوسف گنائیراحت بیگم بتاتی ہیں ’مجھے تھانے میں بتایا گیا کہ میں واپس گھر جاؤں، پوچھ گچھ کے بعد یوسف بھی لوٹ آئے گا۔‘’لیکن ایک سال ہوگیا ہے میں نے اُسے نہیں دیکھا، اب روز سڑک پر جاتی ہوں، گمان ہوتا ہے کہ وہ آئے گا، مگر مایوس ہوجاتی ہوں۔ اب کیا کروں؟‘

کورونا میں دوبارہ اضافہ؛ کراچی میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ - ایکسپریس اردو اداکار مرزا شاہی کورونا وائرس کے باعث انتقال کرگئے - ایکسپریس اردو ’بابری مسجد انہدام کیس میں اڈوانی کو سزا ملنا تاریخ کی ستم ظریفی ہو گی‘ - BBC News اردو

یوسف گنائی سوزن کاری کا کام کرکے مشکل سے اپنے تین بیٹوں کی پڑھائی اور روزمرہ اخراجات کا انتظام کر پاتے تھے۔ اُن کے بڑے بیٹے شاہد یوسف یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔وہ کہتے ہیں ’حالات بہت خراب تھے، فون بھی بند تھے۔ میں روز تھانے پیدل جاتا تھا، لیکن وہاں پولیس والے ہر روز کہتے تھے کہ شام کو رہا کریں گے۔ یہاں تک کہ ایک دن پولیس والا گھر پہنچا اور کہنے لگا کہ میرے والد کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت اُترپردیش جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔ دادی اور ماں رونے لگیں اور ہمیں لگا کہ سب ختم ہوگیا۔‘

،تصویر کا ذریعہ،تصویر کا کیپشنمحمد یوسف گنائی کا خاندانانڈین پارلیمان میں گذشتہ برس ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیرداخلہ امت شاہ نے اعتراف کیا تھا کہ پانچ ہزار سے زیادہ کشمیریوں کو احتیاطی طور گرفتار کیا گیا ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ بیشتر کو رہا کیا جاچکا ہے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق سو سے زیادہ کشمیری اُترپردیش، مدھیہ پردیش، نئی دلی، راجھستان اور دوسرے مقامات پر آج بھی قید ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے لیے سرگرم ادارے کہتے ہیں محبوس کشمیریوں کی تعداد سرکاری دعوے سے کئی گنا زیادہ ہے اور حکومت درست اعدادوشمار کو جاری نہیں کر رہی ہے۔

گذشتہ تیس برس کے دوران گرفتاریوں اور قید وبند کا سلسلہ جاری رہا، لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ بڑی تعداد میں کشمیری نوجوان وادی سے دُور شدید گرمی والے علاقوں کی جیلوں میں محبوس ہیں۔پچھلے سال کے تاریخی واقعہ کے بعد تعلیم اور تجارت کا جو ہوا سو ہوا، لیکن سینکڑوں افراد کے والدین اور اہل خانہ کے لیے بیرون کشمیر جیلوں میں اپنے پیاروں کے ساتھ ملاقات کرنا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور مہنگا ثابت ہوا۔

،تصویر کا ذریعہ،تصویر کا کیپشنمحمد یوسف گنائی کے والدینیوسف گنائی کی ماں، بیوی اور تین بیٹے ابھی تک اُن سے ملاقات نہیں کر پائے۔ یوسف کی بیوی سلیمہ زاروقطار روتے ہوئے کہتی ہیں: ’ہم کیسے سفر کرتے، پیسہ نہیں تھا، کون لے جاتا۔‘تاہم یوسف کے ایک کزن نذیر احمد میر نے تھوڑا پیسہ اِکھٹا کرکے یوسف کے والد کو اُترپردیش پہنچایا۔ نذیر کہتے ہیں ’وہ بہت تکلیف دہ سفر تھا۔ ہم لکھنو پہنچے تو پولیس نے کہا پریاگ راج جاؤ، وہاں کی جیل میں ہے یوسف۔‘

’ہم نے راستے پر سب سے پوچھا کہ پریاگ راج کہاں ہے، کوئی نہیں جانتا تھا۔ پھر ایک شخص نے ہماری حالت دیکھی تو کہا بھائی پریاگ راج نیا نام ہے، تم لوگ اِلہ آباد معلوم کرو۔ پھر بہت جدوجہد کے بعد ہم پریاگ راج یعنی الہ اباد پہنچے۔‘نذیر کہتے ہیں پولیس والوں کے حِصار میں چند منٹوں کی ملاقات کے لیے ایک ہفتے کا سفر کرنا پڑا تھا۔ نذیر کہتے ہیں ’یوسف کا خاندان نہایت پسماندہ ہوچکا ہے کیونکہ گھر کا واحد کمانے والا جیل میں بند ہے۔ ہم سب رشتہ دار باری باری اُن کے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں۔‘

پاکستانی خواتین میں دفاعی آلات کی خریداری کا رجحان کیوں بڑھ رہا ہے؟ - BBC News اردو اسرائیلی شہری کی پاکستانی کرکٹرز سے والہانہ محبت کی داستان - BBC News اردو افغان امن عمل کا پیغام - ایکسپریس اردو

وہ کہتے ہیں کہ سننے میں آ رہا ہے تھا عیدالاضحیٰ کے موقع پر رہا کریں گے۔ لیکن ایسی کوئی علامت نظر نہیں آ رہی۔‘،تصویر کا ذریعہ،تصویر کا کیپشنشاہد احمدپولیس کے مطابق گذشتہ برس پانچ اگست سے ذرا قبل اور اُس کے بعد گرفتار ہونے والے بیشتر کشمیریوں کو امن و قانون میں رخنہ ڈالنے کا ارادہ رکھنے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا۔

پبلک سیفٹی ایکٹ اُن گنے چُنے قوانین میں سے ایک ہے جسے خودمختاری ختم کرنے کے بعد قائم رکھا گیا۔ نئے سسٹم کے تحت اب بیشتر قوانین وفاقی نوعیت کے ہیں اور پولیس کو براہِ راست وفاقی وزارت داخلہ کے تابع رکھا گیا ہے۔ماضی میں گرفتاریوں کے بارے میں رہائی کا فیصلہ مقامی حکومت ایک جائزہ کمیٹی کی سفارش کے بعد لیتی تھی، لیکن اب گرفتاری اور رہائی براہ راست نئی دلی کے کنٹرول میں ہے۔ اس صورتحال پر ایمنسٹی انٹنیشل اور دوسرے عالمی اداروں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہShafat Farooqگزشتہ برس پانچ اگست کے بعد پولیس پر کم سن بچوں کی گرفتاری کا بھی الزام عائد کیا گیا۔ سرینگر کے صورہ علاقے میں پچھلے سال دو بچوں نے بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں بتایا تھا کہ اُنھیں گرفتار کرکے جیپ میں بٹھایا گیا اور بندوق سینے پر رکھ کر پوچھا گیا کہ پتھراؤ کرنے والوں کا نام بتاؤ۔

حالانکہ حکومت ہند نے دعویٰ کیا تھا کہ آرٹیکل 370 کا خاتمہ امن، ترقی اور خوشحالی کی نوید لے کر آئے گا، لیکن ایک سال گزرنے کے بعد بھی کشمیر میں غیریقینی کی صورتحال ہے اور سلیمہ یوسف جیسی خواتین اور شاہد جیسے نوجوان اپنے پیاروں کے انتظار میں ہیں۔اسی بارے میں

آرٹیکل 370 کا خاتمہ: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی اہم سیاسی جماعتیں گذشتہ ایک سال سے ’وینٹیلیٹر‘ پر کیوں ہیں؟ مزید پڑھ: BBC News اردو »

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛اپوزیشن کے احتجاج کےباوجود حکومت نے 8 بل منظور کرا لیے - ایکسپریس اردو

اپوزیشن عددی اکثریت کے باوجود پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومتی بلوں کی منظوری نہ روک سکی

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سرینگر میں دو روزہ کرفیو نافذ - BBC News اردوانڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں دو دنوں کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیاہے۔ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کی پہلی برسی کے موقع پر انتظامیہ کو شدید احتجاج کا خدشہ ہے۔

کورونا وبا میں کمی؛ ملک بھر میں بینکوں کے معمول کے اوقات کار بحال - ایکسپریس اردوبینک پیر تا جمعرات صبح 9:30 سے شام 5:30 جب کہ جمعے کو صبح 9 بجے سے شام 6 بجے تک کھلے رہیں گے

او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مشن قائم ہونے سے کشمیر کے تعلق سے سرگرمیوں میں نئی جان آگئی :مسعود احمد پوریجدہ (محمد عامل عثمانی ) کشمیر کمیٹی جدہ کے صدرمسعود احمد پوری نے ایک آن لائن میٹنگ سے خطاب کرتے ہوے کہا ہے کہ میری خوش قسمتی ہیکہ میں آج تحریک آزادی کشمیر

مقبوضہ کشمیر میں مظاہروں کے ڈر سے مزید پابندیاں عائد، سرینگر میں کرفیو نافذ

وزیر خارجہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کا یوم استحصال کے حوالے سے حکمت عملی پر تبادلہ خیالوزیر خارجہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کا یوم استحصال کے حوالے سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال SMQureshiPTI PM_AJK

جون کے مقابلے میں جولائی میں مہنگائی میں 2.50 فیصد اضافہ | Abb Takk News