\u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u06a9\u06d2 \u0642\u0631\u0636 \u067e\u0631\u0648\u06af\u0631\u0627\u0645 \u067e\u0631 \u0622\u0626\u06cc \u0627\u06cc\u0645 \u0627\u06cc\u0641 \u0628\u0648\u0631\u0688 \u06a9\u0627 \u0627\u062c\u0644\u0627\u0633 \u062f\u0648\u0628\u0627\u0631\u06c1 \u0645\u0644\u062a\u0648\u06cc

27/01/2022 8:48:00 AM

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہم جلد ہی اس بل کو سینیٹ میں لے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اسے منظور کر الیا جائے گا۔ #IMF #SBP #Pakistan #DawnNews

Imf, Sbp

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ہم جلد ہی اس بل کو سینیٹ میں لے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اسے منظور کر الیا جائے گا۔ IMF SBP Pakistan DawnNews

\u0622\u0626\u06cc \u0627\u06cc\u0645 \u0627\u06cc\u0641 \u0628\u0648\u0631\u0688 \u0646\u06d2 \u06c1\u0645\u0627\u0631\u06cc \u062f\u0631\u062e\u0648\u0627\u0633\u062a \u0642\u0628\u0648\u0644 \u06a9\u06cc \u0627\u0648\u0631 \u0646\u0638\u0631\u062b\u0627\u0646\u06cc \u06a9\u0627 \u0639\u0645\u0644 2 \u0641\u0631\u0648\u0631\u06cc \u062a\u06a9 \u0645\u0644\u062a\u0648\u06cc \u06a9\u0631\u062f\u06cc\u0627\u060c \u0648\u0632\u06cc\u0631 \u062e\u0632\u0627\u0646\u06c1 \u0634\u0648\u06a9\u062a \u062a\u0631\u06cc\u0646

ڈان اخبار کیانہوں نے بتایا کہ حکومت کو اسٹیٹ بینک کا بل بدھ کو سینیٹ سے منظور کروانا تھا تاکہ آئی ایم ایف بورڈ 28 جنوری کو ہونے والے اپنے اجلاس میں چھٹے جائزے کی تکمیل پر غور کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم جلد ہی اس بل کو سینیٹ میں لے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اسے منظور کر الیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:متنازع ضمنی فنانس بل 2021 المعروف منی بجٹ اور اور اسٹیٹ بنک ترمیمی بل دونوں کی منظوری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے چھٹے جائزے کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری مل جائے۔آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی پر پُرامید ہوں، شوکت ترین

مزید پڑھ: DawnNews »

Nadeem Malik live - SAMAATV - 17 Aug 2022

#NadeemMalik #shahbazgill #ImranKhan #samaatv ➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-da... مزید پڑھ >>

منحوس آدمی آئی ایم ایف کو کوئی جلدی نہیں ان کو پتہ ہے کہ پاکستان پر اس کے چیلے مسلط ہیں وہ پاکستان کو اس کی جھولی میں جلد ڈال دیں گے۔

\u0622\u062e\u0631 '\u0627\u06d2 \u0627\u06cc\u0645' \u0627\u0648\u0631 '\u067e\u06cc \u0627\u06cc\u0645' \u06a9\u0627 \u0627\u0635\u0644 \u0645\u0637\u0644\u0628 \u06a9\u06cc\u0627 \u06c1\u06d2\u061f\u0628\u06cc\u0634\u062a\u0631 \u0627\u0641\u0631\u0627\u062f \u06a9\u06d2 \u062e\u06cc\u0627\u0644 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u06d2 \u0627\u06cc\u0645 \u0633\u06d2 \u0645\u0631\u0627\u062f \u0622\u0641\u0679\u0631 \u0645\u0688\u0646\u0627\u0626\u0679 \u062c\u0628\u06a9\u06c1 \u067e\u06cc \u0627\u06cc\u0645 \u06a9\u0627 \u0645\u0637\u0644\u0628 \u067e\u0627\u0633\u0679 \u0645\u0688\u0688\u06d2 \u06c1\u06d2\u060c \u0645\u06af\u0631 \u06cc\u06c1 \u062f\u0631\u0633\u062a \u0646\u06c1\u06cc\u06ba\u06d4 Yes ante meridiem( before midday) post meridiem (after midday) Before noon (Am ) after noon (pm)

\u0627\u06cc\u0645 \u06a9\u06cc\u0648 \u0627\u06cc\u0645 \u06a9\u06d2 \u06a9\u0627\u0631\u06a9\u0646\u0648\u06ba \u06a9\u0627 \u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0644\u06cc\u0670 \u06c1\u0627\u0624\u0633 \u06a9\u0631\u0627\u0686\u06cc \u06a9\u06d2 \u0628\u0627\u06c1\u0631 \u062f\u06be\u0631\u0646\u0627\u0633\u0646\u062f\u06be \u0644\u0648\u06a9\u0644 \u06af\u0648\u0631\u0646\u0645\u0646\u0679 \u0627\u06cc\u06a9\u0679 2021 \u06a9\u06d2 \u062e\u0644\u0627\u0641 \u0631\u06cc\u0644\u06cc \u0631\u06cc\u0644\u06cc \u0646\u06a9\u0627\u0644\u06d2 \u062c\u0633 \u06a9\u06d2 \u0628\u0639\u062f\u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0644\u06cc\u0670 \u06c1\u0627\u0624\u0633 \u06a9\u06d2 \u0628\u0627\u06c1\u0631 \u062f\u0631\u06be\u0631\u0646\u0627 \u062f\u06d2 \u062f\u06cc\u0627

\u0627\u06cc\u0645 \u06a9\u06cc\u0648 \u0627\u06cc\u0645 \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u06a9\u0627 \u06a9\u0644 \u06cc\u0648\u0645 \u0633\u06cc\u0627\u06c1 \u0645\u0646\u0627\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0639\u0644\u0627\u0646MQMPakistan

\u0627\u06cc\u0641 \u0628\u06cc \u0627\u0653\u0631 \u0646\u06d2 \u0679\u06cc\u06a9\u0633 \u06a9\u06cc \u0639\u062f\u0645 \u0627\u062f\u0627\u0626\u06cc\u06af\u06cc \u067e\u0631 \u067e\u06cc \u0627\u0653\u0626\u06cc \u0627\u06d2 \u06a9\u06d253 \u0627\u06a9\u0627\u0624\u0646\u0679\u0633 \u0645\u0646\u062c\u0645\u062f \u06a9\u0631\u062f\u06cc\u0626\u06d2\u067e\u06cc \u0627\u0653\u0626\u06cc \u0627\u06d2 \u0641\u06cc\u0688\u0631\u0644 \u0627\u06cc\u06a9\u0633\u0627\u0626\u0632 \u0688\u06cc\u0648\u0679\u06cc \u0627\u0648\u0631 \u0627\u0646\u06a9\u0645 \u0679\u06cc\u06a9\u0633 \u06a9\u06cc \u0645\u062f \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u06cc\u0641 \u0628\u06cc \u0622\u0631 \u06a9\u0627 26 \u0627\u0631\u0628 15 \u06a9\u0631\u0648\u0691 17\u0644\u0627\u06a9\u06be \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06a9\u0627 \u0646\u0627\u062f\u06c1\u0646\u062f\u06c1 \u06c1\u06d2\u06d4

\u0641\u0648\u0627\u062f \u0686\u0648\u06c1\u062f\u0631\u06cc\u060c \u0627\u0639\u0638\u0645 \u0633\u0648\u0627\u062a\u06cc \u067e\u06cc \u0679\u06cc \u0622\u0626\u06cc \u06a9\u06d2 \u0633\u06cc\u0646\u0626\u0631 \u0646\u0627\u0626\u0628 \u0635\u062f\u0648\u0631 \u0646\u0627\u0645\u0632\u062f\u0648\u0632\u06cc\u0631 \u0627\u0639\u0638\u0645 \u0639\u0645\u0631\u0627\u0646 \u062e\u0627\u0646 \u0646\u06d2 \u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u06a9\u06cc \u062a\u0646\u0638\u06cc\u0645 \u0646\u0648 \u06a9\u06d2 \u0644\u06cc\u06d2 \u06af\u0632\u0634\u062a\u06c1 \u0645\u0627\u06c1 \u0627\u0633\u062f \u0639\u0645\u0631 \u06a9\u0648 \u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u06a9\u0627 \u062c\u0646\u0631\u0644 \u0633\u06cc\u06a9\u0631\u06cc\u0679\u0631\u06cc \u0645\u0642\u0631\u0631 \u06a9\u06cc\u0627 \u062a\u06be\u0627\u06d4 😇

\u067e\u06cc \u0688\u06cc \u0627\u06cc\u0645 \u0646\u06d2 \u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0638\u0645 \u06a9\u06d2\u062e\u0644\u0627\u0641 \u062a\u062d\u0631\u06cc\u06a9 \u0639\u062f\u0645 \u0627\u0639\u062a\u0645\u0627\u062f \u0644\u0627\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u062e\u06cc\u0627\u0644 \u062a\u0631\u06a9 \u06a9\u0631\u062f\u06cc\u0627\u0627\u067e\u0648\u0632\u06cc\u0634\u0646 \u0627\u062a\u062d\u0627\u062f \u0646\u06d2 \u067e\u0627\u0631\u0644\u06cc\u0645\u0646\u0679 \u0645\u06cc\u06ba \u062a\u062d\u0631\u06cc\u06a9 \u0639\u062f\u0645 \u0627\u0639\u062a\u0645\u0627\u062f \u0644\u0627\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0627\u0642\u062f\u0627\u0645 \u06cc\u06c1 \u06a9\u06c1\u062a\u06d2 \u06c1\u0648\u0626\u06d2 \u0645\u0644\u062a\u0648\u06cc \u06a9\u0631\u062f\u06cc\u0627 \u06a9\u06c1 \u0627\u0633 \u06a9\u06d2 \u0644\u06cc\u06d2 \u0627\u0628\u06be\u06cc \u0648\u0642\u062a \u0645\u0646\u0627\u0633\u0628 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba\u06d4 SKhaqanAbbasi پھر تو 2023 تک انتظار کرنا پڑے گا میرا بھائی Faer Teri Akh khull jani a... وہ چاہ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اب انکے سر پہ ہاتھ رکھے

0 وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم جلد ہی اس بل کو سینیٹ میں لے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اسے منظورکرالیا جائے گا—فائل فوٹو/اے ایف پی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ سینیٹ سے منظور کرانے میں ناکامی کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کی درخواست پر چھٹا جائزہ مکمل کرنے کا عمل مؤخر کردیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ نے ہماری درخواست قبول کی اور نظرثانی کا عمل 2 فروری تک ملتوی کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو اسٹیٹ بینک کا بل بدھ کو سینیٹ سے منظور کروانا تھا تاکہ آئی ایم ایف بورڈ 28 جنوری کو ہونے والے اپنے اجلاس میں چھٹے جائزے کی تکمیل پر غور کر سکے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس طلب، قرض پروگرام بحال ہونے کا امکان انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم جلد ہی اس بل کو سینیٹ میں لے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ اسے منظور کر الیا جائے گا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے کمرشل بینکوں کو اپنے قرضے مختص کرتے وقت سرکاری قرضوں پر نادہندہ ہونے کے ممکنہ امکان کو مدنظر رکھنے کے نوٹیفکیشن (آئی ایف آر ایس -نائن)سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ نوٹیفکیشن مالیاتی خطرات پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی ضرورت تھی لیکن حکومت سرکاری قرضوں پر چھوٹ دینے کے لیےاسٹیٹ بینک اور نجی بینکوں کے ساتھ بات کرےگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری قرضوں کے رسک کو تجارتی قرضوں کے رسک کی طرح نہیں دیکھا جا سکتا۔ مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک ترمیمی بل پر حکومت، اپوزیشن کے آمنے سامنے آنے کا امکان واضح رہے کہ اس سے قبل 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر نظرثانی کے لیے آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ 12 جنوری کو ہونی تھی جسے پاکستان کی درخواست پر پیشگی اقدامات کے اطلاق کا وقت دینے کے لیے ری شیڈول کرکے 28 جنوری کیا گیا تھا۔ متنازع ضمنی فنانس بل 2021 المعروف منی بجٹ اور اور اسٹیٹ بنک ترمیمی بل دونوں کی منظوری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کے چھٹے جائزے کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری مل جائے۔ اس سے قبل وزارت فنانس کے ایک سینئر عہدیدار نے ڈان کو بتایا تھا کہ حکومت کے پاس وقت نہیں سوائے اس کے کہ وہ بل کو ایوان بالا سے بلڈوز کرے، کیونکہ حکومت کے پاس سینیٹ میں اکثریت نہیں ہے جس کے باعث اس میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف سے مذاکرات کی کامیابی پر پُرامید ہوں، شوکت ترین عہدیدار نے اس وقت بھی یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بل کی منظوری میں تاخیر ایک مرتبہ پھر آئی ایم ایف بورڈ میٹنگ کی ری شیڈولنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ قوانین کے تحت ایس بی پی بل سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے فنانس اور ریونیو میں بھیجا جائے گا جہاں اس کا شق وار جائزہ اور ترامیم کی منظوری لی جائے گی، اس کے بعد کمیٹی ترامیم پر اپنی رپورٹ سینیٹ کو پیش کرے گی، چیئرمین کمیٹی کو اپنی سفارشات جمع کرانے کا ٹائم فریم دیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ ایوان بالا میں پیش کرنے کے بعد اس بل پر ووٹنگ کے لیے اراکین کو 48 گھنٹوں کا نوٹس دیا جائے گا، تاہم حکومت کے پاس ایک تحریک کے ذریعے اس رول کو معطل کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اس نے 13 جنوری کو ایس بی پی بل کی منظوری کے وقت قومی اسمبلی میں کیا تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2021 مرکزی بینک کو مکمل خودمختار کرنے کے ساتھ حکومت کے مرکزی بینک سے قرضے کے حصول پر مکمل پابندی عائد کردے گا، تاہم حکومت مارکیٹ ریٹ پر کمرشل بینکوں سے قرض لے سکے گی، جس سے کاروباری اشرافیہ کی ملکیت کے نجی بینکوں کو فائدہ ہوگا۔ مزید پڑھیں: حکومت کو آئی ایم ایف اجلاس سے قبل منی بجٹ منظور کرانے کی کوئی جلدی نہیں تمام بتائی گئیں 54 ترامیم جس میں 10 نئی شقیں بھی شامل ہیں، ایس بی پی ایکٹ 1956 میں متعارف کرائی گئی ہیں، ایس بی پی بل 2021، 3 مارچ 2021 کو کابینہ نے منظور کیا تھا جبکہ اس مہینے کے شروع میں وزیراعظم سیکریٹریٹ کے لا ڈویژن کی سفارشات پر اس پر نظر ثانی کی گئی تھی۔ مجوزہ ترامیم میں ڈومیسٹک پرائس اسٹیبلیٹی کو ایس بی پی کے بنیادی مقصد کے طور پر شامل ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے مرکزی بینک حکومت کی جانب سے طے کردہ میڈیم ٹرم انفلیشن ٹارگٹ کے مطابق کام کرے گا۔ اگرچہ حکومت کے ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کرنا کا بنیادی مقصد ہوگا، خیال کیا جاتا ہے کہ مرکزی بینک اقتصادی ترقی کے لیے حکومت کی پالیسیوں کو جاری رکھے گا جب تک کہ اس کی حمایت، قیمت اور مالی استحکام کے اس کے بنیادی مقصد کو کمزور نہ کرے۔ .0 — شٹر اسٹاک فوٹو انگلش زبان میں روزمرہ کی متعدد چیزوں کے لیے مخفف استعمال کیے جاتے ہیں جیسے ائیر کنڈیشنر کو اے سی کہا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کا عام استعمال ہوتا ہے، مگر کچھ مخفف ایسے ہیں جو ہمارے ملک میں بھی بول چال میں نظر آتے ہیں مگر ان کا مطلب اکثر کو معلوم نہیں ہوتا۔ ان میں سب سے نمایاں گھڑی کے وقت کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح اے ایم اور پی ایم ہیں جو کہ دن یا رات کے فرق کے لیے عام استعمال ہوتی ہے، مگر جب کسی سے پوچھا جائے کہ اے ایم یا پی ایم کن الفاظ کا مخفف ہیں تو یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ بہت کم لوگ ہی اصل الفاظ جانتے ہیں۔ بیشتر افراد کے خیال میں اے ایم سے مراد آفٹر مڈنائٹ جبکہ پی ایم کا مطلب پاسٹ مڈڈے ہے، مگر یہ درست نہیں۔ کیا آپ کو اس کا مطلب معلوم ہے؟ اگر نہیں تو پہلے جان لیں کہ انگلش زبان کے متعدد دیگر الفاظ اور جملوں کی طرح اے ایم اور پی ایم لاطینی زبان کے جملوں کا مخفف ہیں۔ اے ایم لاطینی جملے ' ante meridiem ' یا بی فور مڈڈے (دوپہر سے پہلے) جبکہ پی ایم ' post meridiem ' یا آفٹر مڈ ڈے (دوپہر کے بعد) کا مخفف ہے۔ اس حوالے سے تو زیادہ تفصیلات موجود نہیں کہ کب اے ایم اور پی ایم انگلش زبان کا حصہ بن کر عام استعمال ہونے لگے، مگر یہ معلوم ہے کہ 12 گھنٹے کا ٹائم کیپنگ سسٹم قدیم مصر کے عہد سے تعلق رکھتا ہے۔ آج دنیا کے اکثر حصوں میں 24 گھنٹے کا سسٹم استعمال ہوتا ہے مگر جہاں انگلش زبان کا غلبہ ہے وہاں 12 گھنٹے والی گھڑی چلتی ہے۔.Comments فائل فوٹو کراچی کے ریڈزون میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے۔ مارچ کرنے والوں نے پولیس کی رکاوٹوں سے گزر کر وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے دھرنا دیا جبکہ احتجاج کے باعث صدر اور اس کے اطراف میں ٹریفک جام ہوگئی ۔ دسمبر میں سندھ اسمبلی سے منظور کیے گئے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2021 کے خلاف کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان ایک ریلی نکالی۔ منظور کردہ ایکٹ کو ایم کیو ایم اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے"کالا قانون" قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے کیونکہ یہ بلدیاتی نمائندوں سے اختیارات لے کر صوبائی حکومت کے حوالے کرتا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے مارچ کے شرکاء شارع فیصل سے سفر کرتے ہوئے ہوٹل میٹرو پول پہنچے جہاں انہوں نے فوارہ چوک اور کراچی پریس کلب جانے کے بجائے وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف رخ کیا۔ جب پولیس اہلکاروں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو مظاہرین نے پولیس کی رکاوٹیں توڑ دیں اور نعرے بازی کی اس موقع پر سیاسی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے جہاں وہ احتجاج کررہے ہیں جہاں انہوں نے دھرنا دیا۔ ٹریفک جام کی صورتحال حکام نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے قریب پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کر دی ہے جبکہ ریلی کے باعث ریڈ زون اور اطراف میں ٹریفک میں خلل کے باعث کئی سڑکیں بند ہوگئی ہیں۔ پولیس نے پی آئی ڈی سی اور کراچی کلب کی طرف جانے والے راستے بند کر دیے ہیں تاہم آئی آئی چندریگر روڈ اور شارع فیصل کا ریڈ زون جانے والا ٹریک ٹریفک جام کا سامنا رہا۔ وزیراعلیٰ کا طبی معائنہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (این آئی سی وی ڈی) میں طبی معائنہ ہوا جبکہ طبیعت ناساز ہونے پر وہ بغیر پروٹوکول کے ہسپتال پہنچے۔ سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے پریس کانفرنس کی اور بلدیاتی قانون کے خلاف احتجاج کرنے پر ایم کیو ایم پی اور جماعت اسلامی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی تقریباً ایک ماہ سے سندھ اسمبلی کے باہر دھرنا دے رہی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ اویس شاہ نے کہا ہے کہ دھرنوں سے کراچی میں نظام زندگی درہم برہم ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے لیکن وہ بلدیاتی قانون کو بحال نہیں کرے گی جو مشرف دور میں نافذ کیا گیا تھا۔.ایم کیو ایم پاکستان کا کل یوم سیاہ منانے کا اعلان January 26, 2022 January 26, 2022 0 کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کل یوم سیاہ منانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں ورنہ شہر کے دروازے بند کردیں گے۔ کراچی پریس کلب کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ خواتین پر تشدد کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ پر امن مظاہرین پر تشدد کے خلاف کل یوم سیاہ منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ہمیں دوبارہ للکارہ ہے، ڈاکو کراچی پر مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم پی اے صداقت حسین پرتشدد کا حساب لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری ماؤں، بہنوں پرڈنڈے برسائے گئے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینرنے کہا کہ ہم جمہوریت کو واحد راستہ سمجھتے ہوئے پاکستان کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں، وزیراعظم کو فوری کراچی آنا چاہیے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم آئی جی اورڈی آئی جی کومعطل کریں۔ previous post.