\u0639\u0631\u0627\u0642\u06cc \u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0638\u0645 \u06a9\u0627 \u0627\u0639\u0644\u06cc\u0670 \u0633\u0637\u062d\u06cc \u0648\u0641\u062f \u06a9\u06d2 \u06c1\u0645\u0631\u0627\u06c1 \u062f\u0648\u0631\u06c1 \u0627\u06cc\u0631\u0627\u0646

27/06/2022 8:05:00 AM

عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی ایران دورے کی اصل وجہ کیا سعودیہ سے تعلقات کی بحالی کے لئے ہے ؟ تفصیلات:

عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی ایران دورے کی اصل وجہ کیا سعودیہ سے تعلقات کی بحالی کے لئے ہے ؟ تفصیلات:

\u0627\u0645\u06a9\u0627\u0646 \u06c1\u06d2 \u0627\u06cc\u0631\u0627\u0646 \u0627\u0648\u0631 \u0633\u0639\u0648\u062f\u06cc \u0639\u0631\u0628 \u06a9\u06d2 \u062f\u0631\u0645\u06cc\u0627\u0646 \u0645\u0630\u0627\u06a9\u0631\u0627\u062a \u06a9\u06cc \u0628\u062d\u0627\u0644\u06cc \u067e\u0631 \u0628\u0627\u062a \u0686\u06cc\u062a \u06c1\u0648\u06af\u06cc

Comments عراقی وزیراعظم سعودی عرب کے دورے کے بعد ایران پہنچ گئے، تصویر: خبررساں ایجسنی تسنیم عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی ایک اعلیٰ سطحی سیاسی و اقتصادی وفد کی قیادت کے ساتھ کو تہران پہنچے گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق عراقی وزیراعظم کے ایرانی دارالحکومت پہنچنے پر ایران کے وزیر توانائی علی اکبر محرابیان نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے عراقی وزیر اعظم کا سرکاری طور پر استقبال کرکیا۔ عراقی وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی کا منصوبہ ہے کہ وہ اعلیٰ سطحی ایرانی حکام کے ساتھ انتہائی اہم باہمی اور بین الاقوامی امور پر بات چیت کریں گے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور عراق کے وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی سے جدہ میں ملاقات، تصویر: ایس پی اے امکان ہے کہ ایرانی اور عراقی ایران اور سعودی عرب کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر بات چیت کریں گے، جن کا پانچواں دور اپریل میں ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اپنے دورہ ایران سے پہلے کاظمی نے سعودی عرب کا دورہ کیا تھا، جہاں سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔.0 محکمہ داخلہ سندھ نے ہفتے کے روز وقت کی پابندی کے بغیر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار کراچی: وفاقی حکومت کے توانائی کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کے منصوبے کے تحت کاروباری اوقات میں کمی کے ٹھیک ایک ہفتے بعد سندھ حکومت نے جمعہ کو کھانے پینے کے مراکز کے لیے کاروباری اوقات میں توسیع کرتے ہوئے کچھ پابندیوں میں نرمی کردی ہے اور ہفتے کے روز اوقات کی پابندی کے بغیر ہر قسم کی تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی ہے۔ ڈان اخبار کی کے مطابق محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تمام ریسٹورنٹ، کافی/چائے کی دکانوں اور کیفے پورے ہفتے رات ساڑھے 11 بجے تک کام کر سکیں گے۔ مزید پڑھیں: اگر مارکیٹیں اوقات درست کرلیں تو 3500 میگاواٹ بجلی بچ سکتی ہے، خواجہ آصف اعلامیے میں مزید گیا کہا کہ تمام کاروباروں کے لیے ہفتہ کے دن کاروباری کی بندش کے لیے کوئی مخصوص اوقات نہیں ہوں گے۔ گزشتہ ہفتے صوبائی حکومت نے ملک میں توانائی کی کمی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے دکانوں، بازاروں، مالز، شادی ہالوں، بینکوئٹس اور کھانے پینے کی اشیا سمیت تمام تجارتی منصوبوں کے آپریشن پر نئی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ یہ پابندیاں کم از کم ایک ماہ کے لیے لگائی گئی تھیں، سندھ نے کاروبار کی تین اقسام میں کمرشل آپریشنز کے لیے الگ الگ اوقات کے ساتھ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ گزشتہ نوٹیفکیشن کے مطابق دکانوں، بازاروں، بازاروں اور شاپنگ مالز کو رات 9 بجے تک کاروبار بند کرنے کا کہا گیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ بھر میں مارکیٹیں رات 9 بجے بند کرنے کا حکم تاہم میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز، اسپتال، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، بیکریاں اور دودھ کی دکانیں اس حکمنامے سے مستثنیٰ تھیں۔ دوسری قسم میں شادی ہال، ضیافت اور شادی سے متعلق تقریبات کی میزبانی کرنے والے مقامات شامل تھے، اس طرح کے تمام مقامات کو رات ساڑھے 10 بجے تک بند کرنا پڑا، ہوٹل، ریستورنٹ، کافی شاپس اور کیفے سمیت تیسری قسم کے کاروبار کی بندش کے اوقات رات 11 بجے مقرر کیے گئے تھے۔.Jun 25, 2022 کاروباری ہفتے کے آخری روز صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں 2 جون کو سونے کی فی اونس قیمت 3 ڈالر اضافے کے بعد ایک ہزار 827 ڈالر رہی۔ بین الاقوامی بلین مارکیٹ کے برعکس ملکی صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان دیکھا گیا۔ ہفتے کے روز صرافہ بازاروں میں ایک تولہ سونا 600 روپے سستا ہوکر ایک لاکھ 41 ہزار روپے جبکہ 10 گرام سونا 515 روپے سستا ہوکر ایک لاکھ 20 ہزار 885 روپے ہوگیا۔ دوسری جانب چاندی کی فی تولہ قیمت ایک ہزار 560 روپے اور 10 گرام چاندی کی قیمت ایک ہزار 337 روپے پر مستحکم رہی۔.0 ایم کیو ایم پاکستان کے وفد نے پی اے ایف فیصل بیس میں وزیراعظم سے ملاقات کی—فوٹو:مسلم لیگ (ن) ٹوئٹر وزیر اعظم شہباز شریف نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کی اس تجویز سے اتفاق کیا جس میں دونوں پارٹیوں کے ارکان پر مشتمل کمیٹی کی درخواست کی گئی تھی جو سزائے اور اقتدار میں آنے سے قبل فریقین کے درمیان طے پانے والی شرائط پر پیشرفت کا جائزہ لے گی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے قیام کے بارے میں دی گئی تجویز پر اصولی طور پر اتفاق کیا گیا اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتے کے شروع میں دونوں پارٹیوں کے 3،3 ارکان پر مشتمل کمیٹی کا باضابطہ طور پر نوٹی فکیشن جاری کیا جائے گا۔ گفتگو کےدوران ایم کیو ایم پاکستان نے گورنر سندھ کی تقرری کا معاملہ بھی اٹھایا۔ واضح رہے کہ گورنر سندھ کی تقرری اب تک نہیں کی جاسکی، یہ دفتر 11 اپریل سے خالی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے وزیراعظم سے اپنے نامزد گورنر کی تقرری کے عمل کو تیز کرنا کا بھی کہا۔ وزیر اعظم کی جانب سے گورنر سندھ کی تقرری دونوں پارٹیوں کے درمیان اعتماد سازی کے بڑے اقدام کے طور پر کام کر سکتا ہے۔ یہ معاہدہ پی اے ایف فیصل بیس پر ہونے والی ملاقات میں ہوا جہاں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، امین الحق، وسیم اختر، عامر خان اور کنور نوید جمیل نے وزیراعظم شہباز سے ملاقات کی اور وفاق کے اربن سندھ ڈویلپمنٹ پروگرام سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات کے دوران حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان مارچ 2022 کے اجلاس میں طے پانے والے معاہدے پر عمل در آمد سے متعلق بھی بات چیت کی گئی جس پر دونوں پارٹیوں نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہٹانے کے لیے اتحادی بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ سندھ کا وزیر اعظم سے صوبے کے مسائل پر تبادلہ خیال دوسری جانب، وزیر اعظم شہباز شریف نے نواب شاہ میں زرداری ہاؤس کے دورے کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کی رضاعی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں وفاقی حکومت کو درپیش چیلنجز اور سیاسی و معاشی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے تاہم معاشی اور توانائی کے بحرانوں کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت غریب اور کم مراعات یافتہ طبقے کو ریلیف فراہم کرنے اور ملکی معیشت کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ ملاقات کے دوران سابق صدر آصف زرداری نے وزیراعظم کو قوم کی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت کے تمام پہلوؤں کے ساتھ اپنے تعاون اور حمایت کا یقین دلایا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری ، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ زرداری ہاؤس کے ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے وزیر اعظم شہبازشریف سے پانی کی قلت اور بجلی کی لوڈشیڈنگ سمیت صوبہ سندھ سے متعلق مسائل پر بھی تبادلہ خیال کیا، وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ کو صوبے کے مسائل کے حل میں مرکزی حکومت کے تعاون کا یقین دلایا۔.

مزید پڑھ:
Aaj TV Urdu »
Loading news...
Failed to load news.

\u0633\u0646\u062f\u06be: \u062a\u062c\u0627\u0631\u062a\u06cc \u0645\u0631\u0627\u06a9\u0632\u060c \u06a9\u06be\u0627\u0646\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0645\u0642\u0627\u0645\u0627\u062a \u06a9\u06cc\u0644\u0626\u06d2 \u06c1\u0641\u062a\u06d2 \u06a9\u06d2 \u062f\u0646 \u06a9\u0627\u0631\u0648\u0628\u0627\u0631\u06cc \u0627\u0648\u0642\u0627\u062a \u0645\u06cc\u06ba \u0646\u0631\u0645\u06cc\u0645\u062d\u06a9\u0645\u06c1 \u062f\u0627\u062e\u0644\u06c1 \u0633\u0646\u062f\u06be \u0646\u06d2 \u06c1\u0641\u062a\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0631\u0648\u0632 \u0648\u0642\u062a \u06a9\u06cc \u067e\u0627\u0628\u0646\u062f\u06cc \u06a9\u06d2 \u0628\u063a\u06cc\u0631 \u06c1\u0631 \u0642\u0633\u0645 \u06a9\u06cc \u062a\u062c\u0627\u0631\u062a\u06cc \u0633\u0631\u06af\u0631\u0645\u06cc\u0648\u06ba \u06a9\u06cc \u0627\u062c\u0627\u0632\u062a \u062f\u06d2 \u062f\u06cc\u06d4

\u06c1\u0641\u062a\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0622\u062e\u0631\u06cc \u062f\u0646 \u0633\u0648\u0646\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0628\u06be\u0627\u0624 \u0645\u06cc\u06ba \u0646\u0645\u0627\u06cc\u0627\u06ba \u06a9\u0645\u06cc\u0641\u06cc \u062a\u0648\u0644\u06c1 \u0633\u0648\u0646\u0627 600 \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u0633\u0633\u062a\u0627 \u06c1\u0648\u06af\u06cc\u0627

\u06a9\u0631\u0627\u0686\u06cc: \u0634\u06c1\u0628\u0627\u0632 \u0634\u0631\u06cc\u0641 \u0627\u0648\u0631 \u0627\u06cc\u0645 \u06a9\u06cc\u0648 \u0627\u06cc\u0645 \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 '\u0688\u06cc\u0644' \u067e\u0631 \u0639\u0645\u0644\u062f\u0631\u0622\u0645\u062f \u06a9\u06d2 \u0644\u06cc\u06d2 \u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u06a9\u06d2 \u0642\u06cc\u0627\u0645 \u067e\u0631 \u0645\u062a\u0641\u0642\u0648\u0632\u06cc\u0631 \u0627\u0639\u0638\u0645 \u0646\u06d2 \u0646\u0648\u0627\u0628 \u0634\u0627\u06c1 \u0645\u06cc\u06ba \u0632\u0631\u062f\u0627\u0631\u06cc \u06c1\u0627\u0624\u0633 \u06a9\u06d2 \u062f\u0648\u0631\u06d2 \u06a9\u06d2 \u062f\u0648\u0631\u0627\u0646 \u0622\u0635\u0641 \u0632\u0631\u062f\u0627\u0631\u06cc \u0633\u06d2 \u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0631\u0636\u0627\u0639\u06cc \u0648\u0627\u0644\u062f\u06c1 \u06a9\u06d2 \u0627\u0646\u062a\u0642\u0627\u0644 \u067e\u0631 \u062a\u0639\u0632\u06cc\u062a \u06a9\u0627 \u0627\u0638\u06c1\u0627\u0631 \u06a9\u06cc\u0627\u06d4

\u0627\u06cc\u0645 \u06a9\u06cc\u0648 \u0627\u06cc\u0645 \u06a9\u06d2 \u0633\u0628 \u062f\u06be\u0691\u0648\u06ba \u06a9\u0648 \u062a\u0642\u0633\u06cc\u0645 \u062e\u062a\u0645 \u06a9\u0631 \u06a9\u06d2 \u0627\u06cc\u06a9 \u06c1\u0648\u0646\u0627 \u0686\u0627\u06c1\u06cc\u06d2\u060c \u0641\u0627\u0631\u0648\u0642 \u0633\u062a\u0627\u0631\u0648\u0633\u06cc\u0639 \u062a\u0631 \u0645\u0641\u0627\u062f \u06a9\u06d2 \u0644\u06cc\u06d2 \u0633\u0628 \u06a9\u0648 \u0645\u0644 \u0628\u06cc\u0679\u06be\u0646\u0627 \u067e\u0691\u06d2 \u06af\u0627\u060c \u0641\u0627\u0631\u0648\u0642 \u0633\u062a\u0627\u0631 اچھی بات کہی ہے فاروق ستار بھائی نے 🙂 ٹی ایل پی نے سارے کنجر ایک جگہ اکھٹے کر دیے 🤣🤣 پتا تھاایک دن یہی ھونا ھے

\u0633\u0648\u0627\u062a \u06a9\u06d2 \u062d\u0644\u0642\u06c1 \u067e\u06cc \u06a9\u06d2 7 \u067e\u0631 \u0636\u0645\u0646\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628 \u0645\u06cc\u06ba \u067e\u06cc \u0679\u06cc \u0622\u0626\u06cc \u0627\u0645\u06cc\u062f\u0648\u0627\u0631 \u06a9\u0627\u0645\u06cc\u0627\u0628\u067e\u06cc \u0679\u06cc \u0627\u0653\u0626\u06cc \u06a9\u06d2 \u0627\u0645\u06cc\u062f\u0648\u0627\u0631 \u0641\u0636\u0644 \u0645\u0648\u0644\u0627 17 \u06c1\u0632\u0627\u0631 500 \u0648\u0648\u0679 \u0644\u06d2 \u06a9\u0631 \u06a9\u0627\u0645\u06cc\u0627\u0628 \u0642\u0631\u0627\u0631 \u067e\u0627\u0626\u06d2 \u062c\u0628\u06a9\u06c1 \u0639\u0648\u0627\u0645\u06cc \u0646\u06cc\u0634\u0646\u0644 \u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u06a9\u06d2 \u0627\u0645\u06cc\u062f\u0648\u0627\u0631 \u062d\u0633\u06cc\u0646 \u0627\u062d\u0645\u062f 14 \u06c1\u0632\u0627\u0631 665 \u0648\u0648\u0679 \u0644\u06d2 \u06a9\u0631 \u062f\u0648\u0633\u0631\u06d2 \u0646\u0645\u0628\u0631 \u067e\u0631 \u0631\u06c1\u06d2\u06d4

\u0645\u0644\u06a9 \u0645\u06cc\u06ba \u0633\u0648\u0646\u06d2 \u06a9\u06d2 \u0628\u06be\u0627\u0624 \u0645\u06cc\u06ba \u06a9\u0645\u06cc\u0633\u0648\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u0642\u06cc\u0645\u062a \u0645\u06cc\u06ba 600 \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06a9\u06cc \u06a9\u0645\u06cc \u06c1\u0648\u0626\u06cc \u06c1\u06d2 \u062c\u0633 \u06a9\u06d2 \u0628\u0639\u062f \u0641\u06cc \u062a\u0648\u0644\u06c1 \u0633\u0648\u0646\u0627 1 \u0644\u0627\u06a9\u06be 41 \u06c1\u0632\u0627\u0631 \u0631\u0648\u067e\u06d2 \u06a9\u0627 \u06c1\u0648\u06af\u06cc\u0627 \u06c1\u06d2