\u0628\u06be\u0627\u0631\u062a : \u0645\u062a\u0639\u062f\u062f \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646\u06cc \u0679\u0648\u0626\u0679\u0631 \u0627\u06a9\u0627\u0648\u0654\u0646\u0679\u0633 \u062a\u06a9 \u0631\u0633\u0627\u0626\u06cc \u0645\u0639\u0637\u0644\u060c \u062f\u0641\u062a\u0631 \u062e\u0627\u0631\u062c\u06c1 \u06a9\u0627 \u0627\u0638\u06c1\u0627\u0631\u0650\u0650 \u0645\u0630\u0645\u062a

28/06/2022 10:32:00 AM

بھارت میں رائے میں تنوع اور معلومات تک رسائی کا دائرہ محدود ہونا انتہائی تشویشناک ہے، دفتر خارجہ #Twitter #India #Pakistan #DawnNews مزید پڑھیں:

بھارت میں رائے میں تنوع اور معلومات تک رسائی کا دائرہ محدود ہونا انتہائی تشویشناک ہے، دفتر خارجہ Twitter India Pakistan DawnNews مزید پڑھیں:

\u0645\u0639\u0637\u0644 \u0627\u06a9\u0627\u0648\u0654\u0646\u0679\u0633 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u06cc\u0631\u0627\u0646\u060c \u062a\u0631\u06a9\u06cc\u060c \u0645\u0635\u0631 \u0627\u0648\u0631 \u0627\u0642\u0648\u0627\u0645 \u0645\u062a\u062d\u062f\u06c1 \u0645\u06cc\u06ba \u0645\u0648\u062c\u0648\u062f \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646\u06cc \u0633\u0641\u0627\u0631\u062a \u062e\u0627\u0646\u0648\u06ba \u06a9\u06d2 \u0627\u0653\u0641\u06cc\u0634\u0644 \u0679\u0648\u0626\u0679\u0631 \u0627\u06a9\u0627\u0648\u0654\u0646\u0679\u0633 \u0634\u0627\u0645\u0644 \u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u062f\u0641\u062a\u0631 \u062e\u0627\u0631\u062c\u06c1

0 پاکستانی وزارت خارجہ نے ان اکاؤنٹس تک رسائی بحال کرنے کیلئے ٹوئٹر پر زور دیا— فائل فوٹو: عرب نیوز پاکستان نے بھارت میں متعدد مقامات پر پاکستان کے سرکاری ریڈیو اور مختلف سفارت خانوں کے ٹوئٹر اکاؤنٹس تک رسائی معطل کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ’اس بات پر گہری تشویش ہے کہ بھارت نے پاکستان کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹس معطل کرکے بھارتی ٹوئٹر صارفین کو معلومات کی فراہمی روک دی ہے‘۔ ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں جن اکاؤنٹس تک روکی گئی ہے ان میں ایران، ترکی، مصر اور اقوام متحدہ میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کے تحت چلنے والے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹس شامل ہیں۔ ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت میں رائے میں تنوع اور معلومات تک رسائی کے لیے دائرہ محدود ہونا انتہائی تشویشناک ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قابل اطلاق بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے۔ ٹوئٹ میں پاکستانی وزارت خارجہ نے ٹوئٹر پر زور دیا کہ وہ ان اکاؤنٹس تک بھارت میں رسائی فوری بحال کرے اور آزادی اظہار رائے کے جمہوری حق کی فراہمی یقینی بنائے۔ یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ کی بھارت میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی مذمت گزشتہ روز بھارتی خبر رساں اداروں میں بتایا گیا کہ بھارت میں’ریڈیو پاکستان‘ کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی بھی بند کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب اس سے قبل بھارتی وزارت اطلاعات و نشریات نے 6 پاکستانی یوٹیوب چینلز سمیت 16 یوٹیوب نیوز چینلز کو اس دعوے کی بنیاد پر بلاک کر دیا تھا کہ وہ بھارت کی قومی سلامتی، خارجہ تعلقات اور امن عامہ سے متعلق غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ دراں اثنا ٹویٹر نے چند ایسے بھارتی اور غیرملکی صحافیوں کے اکاؤنٹس بھی بلاک کر دیے جو مودی حکومت کے ناقد ہیں۔ صحافیوں کے حقوق کے لیے سرگرم عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس(سی جے پی) نے بھارت میں مختلف صحافیوں کے اکاؤٹس تک رسائی روکنے کی مذمت کی ہے۔ سی پی جے ایشیا کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ٹوئٹر کی جانب سے بھارتی حکومت کی درخواست پر عمل کرکے صحافی رعنا ایوب کے اکاؤنٹ تک رسائی روکنے اور کالم نگار سی جے ورلیمن کے اکاؤنٹ کو بلاک کرنے کا عمل سوشل میڈیا پر سنسر شپ کے نئے ٹرینڈ کا حصہ ہے جو کہ ناقابل قبول ہے‘۔ ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ سلسلہ فوری رکنا چاہیے، جمہوریت کے لیے صحافیوں کی بولنے کی آزادی ضروری ہے‘۔.منگل کو انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدرمیں کمی دیکھی گئی۔ 28 جون کو انٹربینک میں امریکی ڈالر 70 پیسے سستا ہوکر207.0 خیبرپختونخوا اسمبلی کی نشست پی کے سیون 30 اپریل کو اے این پی کے ایم پی اے وقار احمد خان کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی—فائل فوٹو:اے پی پی خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے-7 پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار حاجی فضل مولا نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے امیدوار حسین احمد کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی۔ ڈان اخبار کی رپورٹ میں غیر سرکاری نتائج کے حوالے سے بتایا گیا کہ حاجی فضل مولا نے 18 ہزار 42 ووٹ لیے جب کہ ان کے حریف حسین احمد نے 14 ہزار 665 ووٹ حاصل کیے۔ یہ سیٹ 30 اپریل کو اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی وقار احمد خان کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی۔ یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات: نوشہرہ میں پی ٹی آئی کو بڑا دھچکا، مسلم لیگ (ن) کا امیدورار کامیاب ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی اور بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے دوران امن و امان کی صورتحال ٹھیک رہی اور حلقے میں کہیں بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ امن و امان کی ٹھیک صورتحال کے باوجود پولنگ کے دوران حلقے میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ بہت کم رہا جو تقریباً 17 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ ضمنی انتخاب کے دوران صوبائی اسمبلی کی نشست کے لیے 4 امیدوار میدان میں مد مقابل تھے جن میں پی ٹی آئی کے حاجی فضل مولا، اے این پی کے حسین احمد خان، تحریک انقلاب پولیٹیکل موومنٹ کے دولت خان اور آزاد محمد علی شاہ شامل تھے۔ مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے منحرف اراکین پنجاب اسمبلی کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری حلقے میں پی ٹی آئی اور اے این پی کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی تھی کیوں کہ پی ٹی آئی کے سوا، مرکزی دھارے کی تمام سیاسی جماعتوں نے 09-2007 کے عرصے میں بے امنی اور دہشت گردی کاشکار بننے والے خاندان کی قربانیوں کی وجہ سے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کر کے اے این پی کے امیدوار کی حمایت کی تھی۔ ضمنی انتخاب کے لیے مجموعی طور پر 124 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے تھے جن میں 30 پولنگ اسٹیشنز مردوں جب کہ 28 خواتین کے لیے مختص تھےاور 66 پولنگ اسٹیشنز مرد و خواتین ووٹرز کے لیے بنائے گئے تھے، 124 پولنگ اسٹیشنز میں سے 41 کو حساس اور 12 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق اس حلقے میں ایک لاکھ 83 ہزار 308 رجسٹرڈ ووٹرز ہیں جن میں سے ایک لاکھ 2 ہزار 88 ووٹرز مرد جب کہ 81 ہزار 220 خواتین رائے دہندگان ہیں۔ 2008 کے عام انتخابات میں اے این پی کے مرحوم وقار احمد نے اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔ 2013 اور 2018 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد علی نے وقار احمد کو شکست دی تھی جب کہ بعد امجد علی نے بعد میں 2 نشستوں پر کامیاب قرار دیے جانے پر اس سیٹ کو چھوڑ دیا تھا، اس کے بعد ضمنی انتخاب میں اے این پی کے وقار احمد نے اپوزیشن جماعتوں کی حمایت سے اس نشست پر کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے 25 منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تاہم یہ نشست گزشتہ ماہ دل کا دورہ پڑنے سے وقار احمد کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، اس کے بعد اے این پی نے ضمنی انتخاب میں حسین احمد خان عرف خان نواب کو میدان میں اتارا تھا۔ ضمنی انتخاب میں شکست کے بعد اے این پی کے کارکنوں نے کابل چوک پر دھرنا دیا اور ریٹرننگ آفیسر (آر او) کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت اور آر او کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اے این پی کے کارکنوں کو کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر فارم 45 نہیں دیا گیا، وہ کسی صورت ’دھاندلی زدہ الیکشن‘ کو قبول نہیں کریں گے، مظاہرے کے دوران پولیس کی بھاری نفری نے صورتحال پر قابو پایا۔.0 گزشتہ روز سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 اضلاع میں پولنگ ہوئی — فائل فوٹو: اے ایف پی سندھ کے 4 ڈویژنوں سکھر، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد اور میرپورخاص کے 14 اضلاع میں پولنگ ہوئی — فوٹو: امتیاز دھارانی سندھ میں اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر ملک کے 'اعلیٰ حکام' سے صوبے کے 4 ڈویژنز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے اور صوبے میں حکمراں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) پر دھاندلی، جیت کے لیے تشدد کا سہارا لینے، سیاسی مخالفین کے خلاف 'جارحیت' کے لیے پولیس کو 'مسلح ونگ' کے طور پر استعمال کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ گزشتہ روز سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 14 اضلاع میں ہونے والی پولنگ کے دوران پرتشدد واقعات میں 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پاکستان)، سندھ یونائیٹڈ پارٹی (ایس یو پی)، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے)، جمعیت علمائے اسلام-فضل الرحمٰن (جے یو آئی-ف) جماعت اسلامی (جے آئی)، پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) اور مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی پی پی پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام عائد کیا اور پورے انتخابی عمل کو مسترد کردیا۔ یہ بھی پڑھیں: سندھ: بلدیاتی انتخابات کے دوران پرتشدد واقعات،2 افراد جاں بحق تمام جماعتوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پر 14 اضلاع میں ہونے والے انتخابات میں سنگین خلاف ورزیوں کےد وران 'بیکار بیٹھنے' کا الزام لگایا۔ پولنگ شروع ہونے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی مختلف رہنماؤں کی جانب سے سخت ردعمل آنا شروع ہو گیا جب کہ سابق وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی سندھ کے صدر علی زیدی نے پییپلزپارٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی کے خدشات درست ثابت ہوئے، انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی دھاندلی کا رجحان جاری رہنے کی پیش گوئی کی۔ پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کسی کو منصفانہ طریقے سے الیکشن نہیں جیتنے دے گی، پی پی پی اپنی 14 سالہ بدترین حکمرانی، بدعنوانی اور نااہلی کی وجہ سے منصفانہ طریقے سے صاف شفاف انتخابات میں ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکتی، انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوتے ہی توڑ پھوڑ کی گئی، ہمارے امیدواروں کو اغوا کیا گیا، جھوٹے مقدمات بنائے گئے، لوگوں کو ہراساں کیا گیا۔ مزید پڑھین: سندھ: بلدیاتی انتخابات میں پولیس کی گاڑیوں پر کیمرے لگا کر مانیٹرنگ کی ہدایت انہوں نے کہا کہ ہم اس الیکشن کو مسترد کرتے ہیں اور اگر ان انتخابات پر متعلقہ اعلیٰ اداروں سے تصدیق کی مہر لگ گئی تو یہ جمہوریت اور سندھ کے لیے تباہی ہوگی۔ دوسری جانب، ایم کیو ایم پاکستان نے بھی پی پی پی حکومت کے کردار پر سوال اٹھایا اور حکمراں جماعت پر مخالفین، پولنگ عملے کو ہراساں کرنے اور لوگوں کو ووٹنگ کے عمل سے دور رکھنے کے لیے مسلح ڈاکوؤں کو استعمال کرنے کا الزام لگایا۔ وفاقی حکومت میں پیپلز پارٹی کی اتحادی ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما اور سابق میئر کراچی وسیم اختر نے بہادر آباد میں پارٹی کے عارضی ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران سوال کیا کہ کیا ہمیں اسے الیکشن کہنا چاہیے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مذاق ہے اور آپ توقع کرتے ہیں کہ ہم اسے جمہوریت کہیں گے، پولنگ عملہ یرغمال بنا ہوا تھا، ووٹرز جان بچانے کے لیے دباؤ میں تھے، پولیس ان مسلح ڈاکوؤں کی مدد کر رہی تھی جنہیں پیپلز پارٹی لائی تھی، الیکشن کے نام پر یہ سرکس جاری ہے، ہم اس عمل کو مسترد کرتے ہیں اور صاف شفاف نئے انتخابات چاہتے ہیں۔ ادھر ایس یو پی کے صدر سید جلال محمود شاہ نے بھی تقریباً اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے پہلے ہی ہر ادارے کو اپنے تحفظات اور خدشات سے آگاہ کر دیا تھا لیکن کسی نے کوئی توجہ نہیں دی اور تمام خدشات لوگوں کی جانوں کی قیمت پر سچ ثابت ہوئے۔ یہ بھی پڑھیں: تین صوبوں میں ضمنی، بلدیاتی انتخابات کیلئے فوج تعیناتی کی درخواست انہوں نے کہا کہ سندھ میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات نا ممکن نظر آتے ہیں جس کی وجہ کمزور الیکشن کمیشن اور پیپلز پارٹی کی بد معاشی ہے۔ جی ڈی اے نے بلدیاتی انتخابات کو پی پی پی کو اقتدار میں لانے کے لیے 'جعلی' مشق قرار دیتے ہوئے نتخابی عمل کو مسترد کردیا اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ جے یو آئی (ف) ندھ کے جنرل سیکریٹری مولانا راشد محمود سومرو نے کہا کہ ای سی پی سندھ میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے دوران اپنی ذمہ داری انجام دینے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جے یو آئی (ف) کے کارکنوں پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، ہراساں کیا گیا جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی، جب کہ الیکشن کمیشن پری پول رگنگ اور پولنگ کے دن دھاندلی روکنے میں ناکام رہا۔ مزید پڑھیں: سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا شیڈول جاری جے آئی، پی ایس پی، ایم ڈبلیو ایم نے سندھ میں برسراقتدار جماعت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اپنے الگ الگ بیانات میں، جے آئی، پی ایس پی اور ایم ڈبلیو ایم نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کو مسترد کرتے ہوئے پی پی پی پر جان بوجھ کر بدانتظامی کرنے اور طاقت کا استعمال کرتے ہوئے الیکشن جیتنے کے لیے تشدد کو ہوا دینے کے الزامات عائد کیے۔ جماعت اسلامی سندھ کے سربراہ محمد حسین محنتی نے تشدد اور خونریزی کو پیپلز پارٹی کی جاگیردارانہ ذہنیت کا عکاس قرار دیا۔ پی ایس پی نے ایک بیان میں سندھ پولیس پر دھاندلی اور تشدد کے لیے پی پی پی کے مجرموں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام لگایا۔ ایم ڈبلیو ایم نے ایک بیان میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے موثر کردار ادا کرنے کے مطالبات کے باوجود اسے ای سی پی کی مکمل ناکامی قرار دیا۔.

مزید پڑھ:
DawnNews »
Loading news...
Failed to load news.

\u0627\u0646\u0679\u0631\u0628\u06cc\u0646\u06a9 \u0645\u06cc\u06ba \u0688\u0627\u0644\u0631 \u06a9\u06cc \u0642\u062f\u0631\u0645\u06cc\u06ba \u06a9\u0645\u06ccمنگل کو انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدرمیں کمی دیکھی گئی۔ SamaaTV Dollar DollarRate SyedRizwanAmir1

\u0633\u0648\u0627\u062a: \u062d\u0644\u0642\u06c1 \u067e\u06cc \u06a9\u06d2-7 \u0645\u06cc\u06ba \u0636\u0645\u0646\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628 \u0645\u06cc\u06ba \u067e\u06cc \u0679\u06cc \u0622\u0626\u06cc \u0627\u0645\u06cc\u062f\u0648\u0627\u0631 \u06a9\u0627\u0645\u06cc\u0627\u0628\u062d\u0627\u062c\u06cc \u0641\u0636\u0644 \u0645\u0648\u0644\u0627 18\u06c1\u0632\u0627\u0631 42 \u0648\u0648\u0679 \u0644\u06d2 \u06a9\u0631 \u06a9\u0627\u0645\u06cc\u0627\u0628\u060c \u0627\u06d2 \u0627\u06cc\u0646 \u067e\u06cc \u06a9\u06d2 \u062d\u0633\u06cc\u0646 \u0627\u062d\u0645\u062f 14 \u06c1\u0632\u0627\u0631 665 \u0648\u0648\u0679 \u06a9\u06d2 \u0633\u0627\u062a\u06be \u062f\u0648\u0633\u0631\u06d2 \u0646\u0645\u0628\u0631 \u067e\u0631 \u0631\u06c1\u06d2\u060c \u063a\u06cc\u0631 \u0633\u0631\u06a9\u0627\u0631\u06cc \u0646\u062a\u0627\u0626\u062c

\u0633\u0646\u062f\u06be \u0645\u06cc\u06ba \u0628\u0644\u062f\u06cc\u0627\u062a\u06cc \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a: \u0648\u0641\u0627\u0642\u06cc \u062d\u06a9\u0648\u0645\u062a \u0645\u06cc\u06ba \u0634\u0627\u0645\u0644 \u0627\u062a\u062d\u0627\u062f\u06cc\u0648\u06ba \u06a9\u06d2 \u067e\u06cc\u067e\u0644\u0632 \u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u067e\u0631 \u0633\u0646\u06af\u06cc\u0646 \u0627\u0644\u0632\u0627\u0645\u0627\u062a\u0627\u067e\u0648\u0632\u06cc\u0634\u0646 \u0646\u06d2 \u067e\u06cc\u067e\u0644\u0632\u067e\u0627\u0631\u0679\u06cc \u067e\u0631 \u0627\u0644\u0632\u0627\u0645\u0627\u062a \u0639\u0627\u0626\u062f \u06a9\u0631\u062a\u06d2 \u06c1\u0648\u0626\u06d2 \u0627\u0646\u062a\u062e\u0627\u0628\u0627\u062a \u06a9\u0648 \u0645\u0633\u062a\u0631\u062f \u06a9\u06cc\u0627 \u0627\u0648\u0631 '\u0627\u0639\u0644\u06cc\u0670 \u062d\u06a9\u0627\u0645' \u0633\u06d2 \u0646\u062a\u0627\u0626\u062c \u06a9\u0648 \u06a9\u0627\u0644\u0639\u062f\u0645 \u0642\u0631\u0627\u0631 \u062f\u06cc\u0646\u06d2 \u06a9\u0627 \u0645\u0637\u0627\u0644\u0628\u06c1 \u06a9\u06cc\u0627\u06d4 EVM isi lia laya gaya ta magar, gulam ibn gulam ka manzoor nahi, وہ تو پی پی نے دھاندلی کردی ورنہ جیتنا تو پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کو تھا جن کو 80 فیصد حلقوں میں امیدوار ہی نہیں ملے تھے 😆 Electoral System Has Become Completely Rubbished. Despite Of Massive Corruption Of Topflight Leaders In Pakistan Peoples Are Not Enable To Decide What Is Right And Wrong. Poor Class Has Been Converted Into Beggar Class. Beggars Have No Choice. Pakistan Need A New Mechanism? CNN

\u06a9\u0648\u0631\u0648\u0646\u0627 \u06a9\u06cc\u0633\u0632 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0636\u0627\u0641\u06c1\u060c \u06a9\u0631\u0627\u0686\u06cc \u0645\u06cc\u06ba \u0634\u0631\u062d 22 \u0641\u06cc\u0635\u062f \u06a9\u06d2 \u0642\u0631\u06cc\u0628 \u067e\u06c1\u0646\u0686 \u06af\u0626\u06cc\u0645\u062b\u0628\u062a \u0634\u0631\u062d \u06a9\u06d2 \u0644\u062d\u0627\u0638 \u0633\u06d2 \u06a9\u0631\u0627\u0686\u06cc 21.71 \u0641\u06cc\u0635\u062f \u06a9\u06d2 \u0633\u0627\u062a\u06be \u067e\u06c1\u0644\u06d2\u060c 8.77 \u06a9\u06d2 \u0633\u0627\u062a\u06be \u0645\u0631\u062f\u0627\u0646 \u062f\u0648\u0633\u0631\u06d2 \u0627\u0648\u0631 \u062d\u06cc\u062f\u0631 \u0622\u0628\u0627\u062f 8.51 \u0641\u06cc\u0635\u062f \u06a9\u06d2 \u0633\u0627\u062a\u06be \u062a\u06cc\u0633\u0631\u06d2 \u0646\u0645\u0628\u0631 \u067e\u0631 \u0631\u06c1\u0627\u06d4

\u0633\u0646\u062f\u06be \u0645\u06cc\u06ba \u06a9\u0644 \u0628\u0644\u062f\u06cc\u0627\u062a\u06cc \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0646\u062f\u06be\u06cc\u0631 \u0646\u06af\u0631\u06cc \u062a\u06be\u06cc: \u0634\u06c1\u0628\u0627\u0632 \u06af\u0644\u0627\u0633\u0644\u0627\u0645 \u0622\u0628\u0627\u062f: \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u062a\u062d\u0631\u06cc\u06a9 \u0627\u0646\u0635\u0627\u0641 \u06a9\u06d2 \u0631\u06c1\u0646\u0645\u0627 \u0634\u06c1\u0628\u0627\u0632 \u06af\u0644 \u0646\u06d2 \u06a9\u06c1\u0627 \u06c1\u06d2 \u06a9\u06c1 \u06a9\u0644 \u0633\u0646\u062f\u06be \u0627\u0648\u0631 \u06a9\u06d2 \u067e\u06cc \u06a9\u06d2 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0644\u06cc\u06a9\u0634\u0646\u0632 \u06c1\u0648\u0626\u06d2\u060c \u06a9\u06d2 \u067e\u06cc \u0645\u06cc\u06ba \u06a9\u0633\u06cc...

’\u0646\u06cc\u0634\u0646\u0644 \u0627\u06cc\u06a9\u0634\u0646 \u067e\u0644\u0627\u0646 \u0645\u06cc\u06ba \u0635\u0648\u0628\u0648\u06ba \u06a9\u0627 \u06a9\u0631\u062f\u0627\u0631 \u0646\u0638\u0631 \u0627\u0646\u062f\u0627\u0632 \u06c1\u0648\u0646\u06d2 \u0633\u06d2 \u062f\u06c1\u0634\u062a\u06af\u0631\u062f\u06cc \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0636\u0627\u0641\u06c1 \u06c1\u0648\u0627‘\u0645\u0644\u06a9 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0645\u0646 \u0648 \u0627\u0645\u0627\u0646 \u0627\u0648\u0631 \u067e\u0631\u0627\u0645\u0646 \u0645\u0627\u062d\u0648\u0644 \u06a9\u0648 \u06cc\u0642\u06cc\u0646\u06cc \u0628\u0646\u0627\u0646\u0627 \u062a\u0631\u0642\u06cc \u0627\u0648\u0631 \u0642\u0648\u0645\u06cc \u0645\u0639\u06cc\u0634\u062a \u06a9\u06cc \u0628\u062d\u0627\u0644\u06cc \u06a9\u06cc \u0634\u0631\u0637 \u06c1\u06d2\u060c \u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0638\u0645 \u0634\u06c1\u0628\u0627\u0632 \u0634\u0631\u06cc\u0641