\u0627\u0645\u0631\u06cc\u06a9\u0627: \u0633\u067e\u0631\u06cc\u0645 \u06a9\u0648\u0631\u0679 \u06a9\u0627 \u0627\u0633\u0642\u0627\u0637 \u062d\u0645\u0644 \u062d\u0642\u0648\u0642 \u06a9\u06d2 \u062e\u0644\u0627\u0641 \u0641\u06cc\u0635\u0644\u06c1

24/06/2022 8:52:00 PM

بین الاقوامی سطح پر اسقاط حمل کے حقوق میں اضافہ ہورہا ہے، اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال 7.3 کروڑ اسقاط حمل ہوتے ہیں۔ #DawnNews

بین الاقوامی سطح پر اسقاط حمل کے حقوق میں اضافہ ہورہا ہے، اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال 7.3 کروڑ اسقاط حمل ہوتے ہیں۔ DawnNews

\u0628\u06cc\u0646 \u0627\u0644\u0627\u0642\u0648\u0627\u0645\u06cc \u0633\u0637\u062d \u067e\u0631 \u0627\u0633\u0642\u0627\u0637 \u062d\u0645\u0644 \u06a9\u06d2 \u062d\u0642\u0648\u0642 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0636\u0627\u0641\u06c1 \u06c1\u0648\u0631\u06c1\u0627 \u06c1\u06d2\u060c \u062f\u0646\u06cc\u0627 \u0628\u06be\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u06c1\u0631 \u0633\u0627\u0644 7.3 \u06a9\u0631\u0648\u0691 \u0627\u0633\u0642\u0627\u0637 \u062d\u0645\u0644 \u06c1\u0648\u062a\u06d2 \u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u0648\u0631\u0644\u0688 \u06c1\u06cc\u0644\u062a\u06be \u0627\u0653\u0631\u06af\u0646\u0627\u0626\u0632\u06cc\u0634\u0646

0 اسقاط حمل کے حامی اور مخالف مظاہرین واشنگٹن میں سپریم کورٹ کے باہر جمع ہیں— فوٹو: اے ایف پی امریکی سپریم کورٹ نے روئے بمقابلہ ویڈ کے 1973 کے لینڈمارک فیصلے کو ڈرامائی انداز سے کالعدم قرار دے دیا ہے، جس میں اسقاط حمل کو خواتین کا آئینی حق تسلیم کرکے قانونی قرار دیا گیا تھا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اس فیصلے کو ری پبلکن اور مذہبی قدامت پسند اپنی فتح کے طور پر لے رہے ہیں جو اسقاط حمل کو محمود یا اس پر پابندی لگانا چاہتے ہیں۔ عدالت نے 3-6 کے فیصلے سے میسیپی قانون کو برقرار رکھا جس کے تحت 15 ہفتے کے بعد اسقاط حمل پر پابندی عائد ہے۔ ججوں نے کہا کہ روئے بمقابلہ ویڈ کے فیصلے میں 24 تا 28 ہفتوں سے قبل تک اسقاط حمل کی اجازت دی گئی تھی جو کہ غلط فیصلہ تھا کیونکہ امریکی آئین میں اسقاط حمل کے حقوق پر کوئی خاص ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: امریکا: میسوری میں کلینک کو اسقاط حمل سروس جاری رکھنے کا حکم میسیپی کے قانون پر نچلی عدالتوں نے پابندی لگا دی تھی کہ اسقاط حمل کے حقوق سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ہے۔ میسیپی میں واحد بچ جانے والے اسقاط حمل کے کلینک جیکسن وویمنز ہیلتھ آرگنائزیشن نے ڈیمو کریٹک کے امریکی صدر جوبائیڈن کی حمایت سے اس قانون کو 2018 میں سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ متذکره قانون کے مطابق اسقاط حمل کی اجازت صرف میڈیکل ایمرجنسی یا مہلک معذوری کی صورت میں دی گئی تھی لیکن اس میں ریپ کی وجہ سے ہونے والے حمل کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ رو بمقابلہ ویڈ فیصلے میں بتایا گیا کہ امریکی آئین ذاتی رازداری کے تحت خواتین کو اسقاط حمل کا تحفظ فراہم کرتا ہے جبکہ ریپ کے نتیجے میں حاملہ ہونے پر کوئی استثنیٰ نہیں دی گئی ہے۔ 'پلینڈ پیرنٹ ہڈ آف ساؤتھ ایسٹرن پنسلوانیا بمقابلہ کیسی ' کہے جانے والے کیس میں سپریم کورٹ نے 1992 میں اسقاط حمل حقوق کی توثیق کی تھی اور کہا تھا کہ اسقاط حمل قوانین کا نفاذ 'غیر ضروری بوجھ' ڈالنے کے مترادف ہے۔ مزید پڑھیں: ریپ اور محرم سے تعلقات نسل بڑھانے میں مددگار ہیں،امریکی رکن پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹ نے جسٹس سمیوئل الیٹو کے ڈرافٹ کی 2 مئی کو لیک کیے جانے کی مذمت کی تھی اور مجرموں کی شناخت کے لیے تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔ لیک کے بعد جوبائیڈن نے فیصلے کو واپس لینے کی مذمت کی تھی اور کانگریس پر زور دیا تھا کہ ملک بھر میں اسقاط حمل کی رسائی کے لیے قانون منظور کیا جائے۔ اسقاط حمل کے حقوق کے لیے ہزاروں لوگوں نے واشنگٹن اور دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی تھیں۔ ٹیکساس میں ججوں نے 2016 میں اسقاط حمل کی سہولتوں اور ڈاکٹرز کے خلاف سخت پابندیوں کے قانون کو ختم کر دیا تھا۔ پول کے مطابق زیادہ تر امریکن اسقاط حمل کے حقوق کے حامی ہیں لیکن روئے فیصلے کو واپس لیا جانا قدامت پسند کرسچن اور اسقاط حمل مخالفوں کا مقصد رہا ہے، جس کے لیے واشنگٹن میں رواں سال جنوری میں مارچ بھی کیا گیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: خاندانی منصوبہ بندی کی کم معلومات، سالانہ 21 لاکھ اسقاطِ حمل اسقاط حمل حقوق کے حامی گروپ گٹ میچر انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جاری اعداد و شمار مطابق تین سالوں کے درمیان امریکا میں اسقاط حمل میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ روئے فیصلے کے 7 سال بعد 1980 میں امریکا میں اسقاط حمل پیک پر تھا جو ایک ہزار حاملہ خواتین میں 29.0 خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ یہاں ہم ایک 150 سال پرانا نظام چلا رہے ہیں— فائل فوٹو: اے این پی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کو وسیع کرنے کا کوئی امکان نہیں اور یہ منصوبہ موجودہ انفرا اسٹرکچر کی حدود میں رہ کر ہی شروع کیا جائے گا۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سٹی اسٹیشن پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس صرف 12 سے 13 ماہ ہیں، جو معجزاتی کام کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے سے بہت سی کوتاہیاں ہوئی ہیں اور حکومت کے پاس کے اس کا رخ تبدیل کرنے کا وقت اور وسائل نہیں ہیں۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’ اس وقت ہم پاکستان ریلوے کے لیے نئی سمت کا تعین کرسکتے ہیں لیکن اس کو مکمل طور پر تبدیل نہیں کرسکتے ہیں، علاوہ ازیں ہمارے پاس اس کام کے لیے فنڈز بھی موجود نہیں ہیں‘۔ مزید پڑھیں: نیب کا خواجہ سعد رفیق کے خلاف انجنوں کی خریداری کا کیس بند کرنے کا فیصلہ کراچی سرکلر ریلوے کی توسیع یا لوپ سے متعلق سوال کے جواب میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ’ یہ نہیں ہوگا‘۔ ان کا کہنا تھاکہ ہمارے حالات کو دیکھتے ہوئے، میں واقعی میں کے سی آر ایسا ہوتا ہوا نہیں دیکھ رہا ہوں، ریلوے کو خود کو چلانا مشکل ہو رہا ہے، کے سی آر کے بارے میں کیا کہیں؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ ’سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر وہاں جو کچھ بھی ہوا ہے وہی ہوگا، اسے کے سی آر کہیں یا جو چاہیں کہہ لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر کراچی کو میٹرو ٹرین کی ضرورت تھی، جہاں ایک ٹرین منٹوں میں دوسری ٹرین کے پیچھے آتی ہے لیکن کے سی آر واقعی کوئی میٹرو ٹرین نہیں ہے۔ منصوبے کو درپیش متعدد چیلنجز کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے دہرایا کہ کس طرح کے سی آر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ تھا، یہ قابل عمل تھا، لیکن ہم یہ نہیں کرسکتے۔ مزید پڑھیں: وزیر اطلاعات اپنے کرتوتوں کا جائزہ لیں، ریلوے کا پیسہ کہاں جاتا ہے؟ خواجہ سعد رفیق وزیر نے یہ بھی کہا کہ چینی اس منصوبے کے لیے زمین کے حصول میں مسائل کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ افسوسناک ہے کہ کے سی آر کے لیے راستہ بنانے کے لیے کتنے لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا، انہیں مناسب معاوضہ دیا جانا چاہیے تھا اور متبادل رہائش فراہم کی جانی چاہیے تھی، شاید تب چینی بھی پیچھے نہ ہٹتے‘۔ نئے ریلوے ٹریک بچھانے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ یہ سڑکوں کی تعمیر سے بالکل مختلف ہے، ’پٹریاں بچھانے کے لیے ایک مختلف قسم کی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں ہم ایک 150 سال پرانا نظام چلا رہے ہیں، مین لائن(ایم ایل ون) اب بھی ان کی حکومت کے ایجنڈے پر ہے، لیکن ایم ایل ون میں 4 سال کی تاخیر ہوئی ہے اور لاگت واقعی بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب بھی ہم کام کو جاری رکھنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں، ہم معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر منصوبے کی لاگت کم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی نے خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کردیے انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت چین کے ساتھ اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، پھر ہم دیکھیں گے کہ ایم ایل ون کے بارے میں کیا کرنا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ابتدائی منصوبہ لاہور اور ملتان کے درمیان مین لائن کی تعمیر کا تھا، لیکن اب ہم پہلے مرحلے میں کوٹری سے روہڑی تک، یا اگر فنڈز اجازت دیں تو کراچی سے کوٹری تک شروع کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایم ایل ون کے لیے فنڈز نہیں ہیں، اس لیے ہم امید کر رہے ہیں کہ یہ کام سی پیک یا ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ذریعے ہو جائے کیونکہ یہ آسان قرضہ ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے یہ بھی کہا کہ انہیں کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن پر دوستوں کے ساتھ ٹرین کے ذریعے کراچی پہنچنے کی بچپن کی یادیں بہت پسند ہیں، لیکن وہ غیر مردوں کے خواتین کے ساتھ سفر کرنے پر بہت ناخوش ہیں۔ مزید پڑھیں: پی ڈی ایم کا مقصد ایک حکومت کو گراکر اپنی حکومت بنانا نہیں، سعد رفیق خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ’میں اپنی خواتین کے لیے وہاں پردہ کا نظام بنانا چاہتا ہوں، یہاں کی ٹرینوں اور اسٹیشنوں کو بہتر صفائی کی ضرورت ہے کیونکہ چوکیدار اپنا کام نہیں کر رہا تھا‘۔ وزیر نے تجویز پر کہ کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن پر بھی چند لفٹوں کی ضرورت ہے، چونکہ گرین لائن کے نئے بس اسٹیشنوں میں بھی لفٹیں موجود ہیں، جو بزرگوں یا معذوروں کی سہولت کے لیے ہیں۔ لیکن وزیر نے واضح طور پر کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس اسٹیشنوں پر لفٹیں یا ایلیویٹرز نہیں ہو سکتیں کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں۔.0 وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنی مختصر مدت میں سکھر ایئر پورٹ کو بین الاقوامی ایئر پورٹ بنانے کے لیے کام شروع کروائیں —فوٹو: ڈان نیوز وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کراچی سرکولر ریلوے (کے سی آر) منصوبہ لاہور اورینج ٹرین کے ماڈل میں پاک-چین اقتصادہ راہداری (سی پیک) کے تحت ہوگا اور یہ منصوبہ ضرور بنے گا۔ ۔ کراچی میں اتحادی جماعت متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کراچی سرکولر ریلوے (کے سی آر) سی پیک منصوبے میں جا چکا ہے اور یہ پچھلی حکومت میں رجسٹرڈ ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر ہماری اولین ترجیح ہے، اس سلسلے میں ہم سپریم کورٹ کے احکامات کا بھی جائزہ لیں گے لیکن یہ منصوبہ ضرور بنے گا اور وزیر اعظم کے دورہ چین میں بھی یہ ایجنڈے میں سرفہرست ہوگا لیکن یہ منصوبہ سی پیک کے تحت ہی بنے گا اور اس کا ماڈل لاہور میں بنائی گئی اورینج ٹرین کی طرح ہوگا۔ مزید پڑھیں: انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے حوالے سے ایم کیو ایم، سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کی مشترکہ سوچ ہے اور جلد ہی سی پیک کے ماتحت اس منصوبے کا آغاز کیا جائے گا۔ مین لائن-ون (ایم ایل-1) منصوبہ مین لائن-ون (ایم ایل-1) منصوبے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے ہمارا ارادہ تھا کہ پہلے مرحلے میں ملتان سے لاہور رکھیں لیکن یہاں جس ٹریک کو سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہ روہڑی اور کوٹھری کے درمیان ہے اس لیے ہماری یہ کوشش ہوگی کہ کراچی سے روہڑی تک پہلے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ حیدرآباد ہوائی اڈے کو فنگشنل کرنے کی ضرورت ہے، سعد رفیق وفاقی وزیر ریلوے اور ہوائی بازی نے کہا کہ حیدرآباد ہوائی اڈے کو فنگشنل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ حیدرآباد سندھ کے اہم ترین شہروں میں سے ایک ہے۔ یہ بھی پڑھیں: ’چین کی اعانت کے بغیر کے سی آر کے انفرا اسٹرکچر میں توسیع ممکن نہیں‘ انہوں نے کہا کہ اسی طرح سکھر ایئر پورٹ کو بین الاقوامی ایئر پورٹ بننا چاہیے کیونکہ اس کا علاقہ بہت زیادہ ہے اور جو اندرون سندھ کے لوگ ہیں وہ بین الاقوامی پرواز کے لیے یا تو کراچی آتے ہیں یا پھر ملتان اس لیے ان کا یہ حق ہے کہ ان کو قریب ہی ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ملے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم اپنی مختصر مدت میں سکھر ایئر پورٹ کو بین الاقوامی ایئر پورٹ بنانے کے لیے کام شروع کرکے جائیں۔ خواجہ سعد رفیق نے ٹرین میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ انہوں نے متاثرہ خاتون سے بات کی تھی اور انہیں کہا گیا تھا کہ وہ نوکری لے لیں اور اسی طرح نجی ٹرین کمپنی کو بھی ہدایات کی کہ ان کی مالی معاونت کریں لیکن کچھ چیزیں دوسری طرف سے قبول نہیں ہو رہی ہیں لیکن ہم متاثرہ خاتون کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کو قانون کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔.0 جبران ناصر نے کہا سیکریٹری صحت عمر کے تعین کے حوالے سے درخواست منظور نہیں کرتے تو سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے— فائل فوٹو: ڈان نیوز سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دعا زہرہ کے والد کی درخواست خارج کرتے ہوئے انہیں میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں تین رکنی بینچ نے دعا زہرہ کے والد کی درخواست پر سماعت کی، عدالت نے استفسار کیا کہ والدین سے ملاقات کرائی گئی تھی جس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مختصر ملاقات کروائی گئی تھی۔ دورانِ سماعت عدالتی استفسار پر دعا زہرہ کے والد نے بتایا کہ 5 منٹ کے لیے چیمبر میں ملاقات کروائی گئی تھی اس موقع پر کمرے میں 15 سے 20 پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ مزید پڑھیں: دعا زہرہ کے والد نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا جسٹس سجاد علی نے استفسار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اسکا بیان ریکارڈ کیا اور کہا کہ بچی جس کے ساتھ جانا چاہے جا سکتی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آپ نے میڈیکل بورڈ کو چیلنج کیا ہے جس پر وکیل نے کہا کہ ہم نے سیکریٹری صحت کو اس حوالے سے خط لکھا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ جذباتی نا ہوں ہم آپ کی قدر کرتے ہیں قانونی نکات پر عدالت کی معاونت کریں جس پر وکیل نے کہا کہ پولیس نے اغواء کا کیس سی کلاس کردیا ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ بچی نے 2 عدالتوں میں جاکر کہہ دیا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا ہے، سندھ ہائی کورٹ نے تفتیشی افسر کو کیس کا چالان ٹرائل کورٹ میں چالان پیش کرنے کا کہا تھا، دو رکنی بینچ کے سامنے دیا گیا دعا زہرہ کا بیان پڑھیں۔ یہ بھی پڑھیں: دعا زہرہ کے پہلے انٹرویو پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ شادی کو اگر چیلنج کرنا ہو تو کہاں کریں گے، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فیملی کورٹ میں شادی کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کا مزید کہنا تھا کہ لڑکی عدالت کے اندر اتنے بیانات دے رہی ہے اگر آپکی ملاقات ہوجاتی اور لڑکی کہتی کہ مجھے شوہر کے ساتھ جانا ہے پھر کیا ہوتا، لڑکی نے ہائی کورٹ اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان دے دیا ہے۔ عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ پنجاب کا چائلڈ میرج ایکٹ کیا کہتا ہے، اس معاملے میں کتنے لوگ گرفتار ہوئے تھےجس پر وکیل نے بتایا کہ نکاح خواں اور ایک گواہ گرفتار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ 6،8 گھنٹے بچی سے مل لیں صبح 10 بجے سے 2 بجے تک مل لیں، آپ اور آپکی کی بیگم بچی سے تسلی سے مل لیں پوچھ لیں اس پر کوئی دباؤ ہے یا نہیں ہے، اگر پھر بھی بچی آپ کے ساتھ نا جانا چاہے اور کہے کہ میں خوش ہوں توآپ کیا کریں گے۔ مزید پڑھیں: سندھ پولیس کی عدالت سے دعا زہرہ اغوا کیس کو کالعدم قرار دینے کی سفارش جسٹس سجاد علی شاہ نے دعا زہرہ کے والد سے استفسار کیا کہ آپ کیا چاہتے ہیں، ہمیں آپ کے جذبات کا احساس ہے لیکن بچی نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے اسکے بھی حقوق ہیں۔ سپریم کورٹ نے دعا زہرہ کے والد کی درخواست خارج کردی اور انہیں متعلقہ فورمز سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ کیس ہمارے دائرہ کار میں نہیں ہے۔ تاہم فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ریمارکس دیے کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے مناسب فورم سے رجوع کرسکتے ہیں یا اگر آپ کوئی ریلیف لینا چاہتے ہیں، آپ کو سول عدالت سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔ کسی عدالت میں نکاح نامہ جعلی ثابت نہیں ہوا ہے، جبران ناصر سماجی رہنما جبران ناصر کی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہماری استدعا تھی کہ بچی کو کیس کے فیصلے تک شیلٹر ہوم بھیجا جائے، میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔ مزید پڑھیں: غلطی کی معافی مانگتی ہوں، والدین بھی دل بڑا کرکے معاف کردیں، دعا زہرا سماجی رہنما کے مطابق انہوں نے اپنی درخواست واپس لے لی ہے کیونکہ عدالت نے کہا ہے کہ عمر کے تعین کی رپورٹ کو چیلنج کر سکتے ہی، عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کا عمر کے تعین کا فیصلہ رکاوٹ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر کے تعین کے حوالے سے میڈیکل بورڈ کی تشکیل کی درخواست دیں گے سیکریٹری صحت عمر کے تعین کے حوالے سے درخواست منظور نہیں کرتے تو سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کریں گے۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ ہمیں امید ہے کہ میڈیکل بورڈ کا فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا، کسی عدالت میں نکاح نامہ جعلی ثابت نہیں ہوا ہے، بچی سے ایک جھوٹ بلوایا گیا تھا۔ خیال رہے 18 جون کو دعا زہرہ کے والد مہدی کاظمی نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ دعا زہرہ کے والد نے درخواست میں سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دعا زہرہ کے طبی معائنے کی رپورٹ میڈیکل بورڈ نے تیار نہیں کی۔ مزید پڑھیں: دعا زہرہ کی لاہور سے ’ملنے‘ کی خبر پر لوگوں کے تبصرے درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 8 جون 2022 کو دعا زہرہ کو اس کی مرضی سے فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، دعا زہرہ کے بیان اور میڈیکل ٹیسٹ کی بنیاد پر فیصلہ سنادیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ میڈیکل رپورٹ میں دعا زہرہ کی عمر 17 سال بتائی گئی ہے میرے پاس موجود نادرا ریکارڈ ،تعلیمی اسناد اور کے مطابق دعا زہرہ کی عمر 14 سال ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے کیس کا چالان سی کلاس میں ٹرائل کورٹ میں جمع کرادیا ہے، سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں خامی ہے۔ سال مارچ میں کراچی سے لاپتا ہونے والی دعا زہرہ کو رواں ماہ کے آغاز میں پنجاب کے شہر بہاولنگر سے بازیاب کروایا گیا تھا۔ 30 مئی کو دعا زہرہ کی والدہ کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کے دوران لڑکی کی بازیابی میں ناکامی پر عدالت نے آئی جی سندھ کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو دوسرا افسر تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ بھی پڑھیں: دعا زہرہ کی بازیابی کیلئے والد کی درخواست پر فریقین کو نوٹس عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ صوبے کی پولیس اتنی نااہل ہوچکی ہے، عدالت 21 دن سے احکامات جاری کر رہی ہے لیکن بچی کو بازیاب نہیں کروایا گیا، پولیس بچی کو بازیاب نہیں کروائے گی تو کون بچی کو بازیاب کروائے گا۔ تاہم 17 جون کو سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ کی جانب سے اپنے اغوا سے متعلق بیان حلفی دینے کے بعد کیس کو نمٹاتے ہوئے اسے شوہر کے ساتھ رہنے یا والدین کے ساتھ جانے سے متعلق اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دی تھی۔ 3 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے کہا تھا کہ تمام شواہد کی روشنی میں اغوا کا مقدمہ نہیں بنتا۔ تحریری حکم نامے میں سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی تھی۔ حکم نامے میں عدالت نے کہا تھا کہ عدالت بیان حلفی کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دعا زہرہ اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنا چاہے یا اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہے تو جا سکتی ہے، وہ اپنے اس فیصلے میں مکمل آزاد ہے۔ یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کی دعا زہرہ کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت عدالت نے اپنے حکم نامے میں کیس کے تفتیشی افسر کو کیس کا ضمنی چالان جمع کرانے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ عمر کے تعین سے متعلق میڈیکل سرٹیفکیٹ اور سندھ ہائی کورٹ میں ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ دعا زہرہ کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش کرنا سندھ حکومت کی صوابدید ہے، ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے، اس حکم نامے کے ساتھ ہی عدالت نے دعا زہرہ کی بازیابی سے متعلق درخواست نمٹا دی تھی۔.

3 تھا جبکہ 2017 میں یہ ایک ہزار خواتین میں 13.5 تھا جس کے بعد 2020 تک اسقاط حمل بڑھ کر 14.4 فی ہزار خاتون ہو گیا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر اسقاط حمل کے حقوق میں اضافہ ہورہا ہے، اقوام متحدہ کی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال 7.3 کروڑ اسقاط حمل ہوتے ہیں جو تمام حاملہ خواتین کا 29 فیصد بنتا ہے۔.

مزید پڑھ:
DawnNews »
Loading news...
Failed to load news.

’\u0686\u06cc\u0646 \u06a9\u06cc \u0627\u0639\u0627\u0646\u062a \u06a9\u06d2 \u0628\u063a\u06cc\u0631 \u06a9\u06d2 \u0633\u06cc \u0622\u0631 \u06a9\u06d2 \u0627\u0646\u0641\u0631\u0627 \u0627\u0633\u0679\u0631\u06a9\u0686\u0631 \u0645\u06cc\u06ba \u062a\u0648\u0633\u06cc\u0639 \u0645\u0645\u06a9\u0646 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba‘\u06c1\u0645\u0627\u0631\u06d2 \u062d\u0627\u0644\u0627\u062a \u06a9\u0648 \u062f\u06cc\u06a9\u06be\u062a\u06d2 \u06c1\u0648\u0626\u06d2\u060c \u0645\u06cc\u06ba \u062a\u0648\u0633\u06cc\u0639 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba \u062f\u06cc\u06a9\u06be \u0631\u06c1\u0627\u060c \u0627\u0633 \u0648\u0642\u062a \u062e\u0648\u062f \u06a9\u0648 \u0631\u06cc\u0644\u0648\u06d2 \u06a9\u0648 \u0686\u0644\u0627\u0646\u0627 \u0645\u0634\u06a9\u0644 \u06c1\u0648 \u0631\u06c1\u0627 \u06c1\u06d2\u060c \u0648\u0632\u06cc\u0631 \u0631\u06cc\u0644\u0648\u06d2

\u06a9\u06d2 \u0633\u06cc \u0622\u0631 \u0645\u0646\u0635\u0648\u0628\u06c1 \u0644\u0627\u06c1\u0648\u0631 \u0627\u0648\u0631\u06cc\u0646\u062c \u0679\u0631\u06cc\u0646 \u06a9\u06d2 \u0645\u0627\u0688\u0644 \u0645\u06cc\u06ba \u0633\u06cc \u067e\u06cc\u06a9 \u06a9\u06d2 \u062a\u062d\u062a \u06c1\u0648\u06af\u0627\u060c \u0648\u0632\u06cc\u0631\u0631\u06cc\u0644\u0648\u06d2\u06a9\u06d2 \u0633\u06cc \u0622\u0631 \u06c1\u0645\u0627\u0631\u06cc \u0627\u0648\u0644\u06cc\u0646 \u062a\u0631\u062c\u06cc\u062d \u06c1\u06d2 \u0627\u0633 \u0633\u0644\u0633\u0644\u06d2 \u0645\u06cc\u06ba \u06c1\u0645 \u0633\u067e\u0631\u06cc\u0645 \u06a9\u0648\u0631\u0679 \u06a9\u06d2 \u0627\u062d\u06a9\u0627\u0645\u0627\u062a \u06a9\u0627 \u0628\u06be\u06cc \u062c\u0627\u0626\u0632\u06c1 \u0644\u06cc\u06ba \u06af\u06d2 \u0644\u06cc\u06a9\u0646 \u06cc\u06c1 \u0645\u0646\u0635\u0648\u0628\u06c1 \u0636\u0631\u0648\u0631 \u0628\u0646\u06d2 \u06af\u0627\u060c \u0633\u0639\u062f \u0631\u0641\u06cc\u0642 How many times is KCR in CPEC or out of CPEC ---- and how many times do they make us fool حیدرآباد شہر میں شٹل سروس نہیں - بد معاشوں کا راج ہے وہاں

\u062f\u0639\u0627 \u0632\u06c1\u0631\u06c1 \u06a9\u06d2 \u0648\u0627\u0644\u062f \u06a9\u06cc \u06c1\u0627\u0626\u06cc \u06a9\u0648\u0631\u0679 \u06a9\u06d2 \u0641\u06cc\u0635\u0644\u06d2 \u067e\u0631 \u0646\u0638\u0631\u062b\u0627\u0646\u06cc \u06a9\u06cc \u062f\u0631\u062e\u0648\u0627\u0633\u062a \u062e\u0627\u0631\u062c\u0633\u067e\u0631\u06cc\u0645 \u06a9\u0648\u0631\u0679 \u0646\u06d2 \u062f\u0639\u0627 \u0632\u06c1\u0631\u06c1 \u06a9\u06d2 \u0648\u0627\u0644\u062f \u06a9\u0648 \u0645\u06cc\u0688\u06cc\u06a9\u0644 \u0628\u0648\u0631\u0688 \u06a9\u06cc \u062a\u0634\u06a9\u06cc\u0644 \u06a9\u06d2 \u0644\u06cc\u06d2 \u0645\u0646\u0627\u0633\u0628 \u0641\u0627\u0631\u0645 \u0633\u06d2 \u0631\u062c\u0648\u0639 \u06a9\u0631\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u06c1\u062f\u0627\u06cc\u062a \u06a9\u0631\u062f\u06cc\u06d4 shmags_zeus Let this story end there! Corrupt judges Mafia buhut strong hee Closed NADRA offices BBCUrdu Ess judge ke larki keh sath kuch hogga tb patta chlle ga. Corrupt police Corrupt judges Strong mafia BBCUrdu TurkeyUrdu ChinaUrdu_ Dua zehra case Karachi Pakistan

\u067e\u06cc \u0679\u06cc \u0627\u0653\u0626\u06cc \u062d\u06a9\u0648\u0645\u062a \u06a9\u06d2 \u0631\u0648\u0633 \u0633\u06d2 \u062a\u06cc\u0644 \u06a9\u06cc \u062e\u0631\u06cc\u062f\u0627\u0631\u06cc \u06a9\u06d2 \u0645\u0639\u0627\u06c1\u062f\u06d2 \u06a9\u0627 \u0639\u0644\u0645 \u0646\u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u0631\u0648\u0633\u06cc \u0642\u0648\u0646\u0635\u0644 \u062c\u0646\u0631\u0644\u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u0627\u0648\u0631 \u0631\u0648\u0633 \u06a9\u06d2 \u062f\u0631\u0645\u06cc\u0627\u0646 \u0645\u0639\u0627\u0634\u06cc \u062a\u0639\u0627\u0648\u0646 \u0631\u0648\u0633 \u067e\u0631 \u0639\u0627\u0626\u062f \u063a\u06cc\u0631\u0642\u0627\u0646\u0648\u0646\u06cc \u067e\u0627\u0628\u0646\u062f\u06cc\u0648\u06ba \u06a9\u0627 \u062d\u0644 \u0646\u06a9\u0627\u0644\u0646\u06d2 \u06a9\u06cc \u0635\u0648\u0631\u062a \u0645\u06cc\u06ba \u06c1\u06cc \u0645\u0645\u06a9\u0646 \u06c1\u06d2\u060c \u0648\u06a9\u0679\u0631\u0648\u0648\u0686 \u0641\u06cc\u0688\u0631\u0648\u0641

\u06a9\u0631\u06a9\u0679\u0631\u0632 \u06a9\u06d2 \u0646\u0626\u06d2 \u0633\u064a\u0646\u0679\u0631\u0644 \u06a9\u0646\u0679\u0631\u06cc\u06a9\u0679\u0633 \u06a9\u06d2 \u0637\u0631\u06cc\u0642\u06c1\u0654 \u06a9\u0627\u0631 \u0627\u0648\u0631 \u0645\u0639\u0627\u0648\u0636\u06d2 \u0645\u06cc\u06ba \u0627\u0636\u0627\u0641\u06d2 \u06a9\u06cc \u0645\u0646\u0638\u0648\u0631\u06cc\u067e\u06cc \u0633\u06cc \u0628\u06cc \u0628\u0648\u0631\u0688 \u0627\u0653\u0641 \u06af\u0648\u0631\u0646\u0631\u0632 \u0646\u06d2 \u0646\u0626\u06d2 \u0645\u0627\u0644\u06cc \u0633\u0627\u0644 \u06a9\u0627 \u0628\u062c\u0679 \u0645\u0646\u0638\u0648\u0631 \u06a9\u0631\u0644\u06cc\u0627 iamqadirkhawaja غریب ملک کے خزانے پر فضول بوجھ ڈالا جا رہا ہے، کہیں ایسا ہوتا ہے کہ گھر میں فاقے ہوں اور گھر والے کھیل کود کیلیے پیسے ضائع کرنے میں مصروف ہوں،؟ صرف اس لئے کہ ہمسایہ کھیل کود میں اچھا ہے،پہلے اپنے معاشی حالات اچھے کرو، پھر کرتے رہنا یہ لچھن

\u0633\u06cc\u0646\u06cc\u0679 \u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u06a9\u06cc \u067e\u06cc \u0679\u06cc \u0622\u0626\u06cc \u06a9\u06d2 \u0645\u0627\u0631\u0686 \u06a9\u06d2 \u062f\u0648\u0631\u0627\u0646 \u06af\u0631\u0641\u062a\u0627\u0631 \u0627\u0641\u0631\u0627\u062f \u06a9\u06cc \u0641\u0648\u0631\u06cc \u0631\u06c1\u0627\u0626\u06cc \u06a9\u06cc \u06c1\u062f\u0627\u06cc\u062a\u0688\u06cc \u0686\u0648\u06a9 \u0627\u0648\u0631 \u0646\u0627\u062f\u0631\u0627 \u0686\u0648\u06a9 \u06a9\u06cc \u0628\u0646\u062f\u0634 \u067e\u0631 \u0642\u0627\u0626\u0645\u06c1 \u06a9\u0645\u06cc\u0679\u06cc \u06a9\u0627 \u0627\u0638\u06c1\u0627\u0631 \u062a\u0634\u0648\u06cc\u0634 Abhi tak rehai nahi di awam ko shabash hai bhaee police ko noon league ne bhi khilaya or awam se bhi lout rakhay unhe lock up mein rakh Kay begairat police