’ڈر ہے کہ کورونا سے پہلے بھوک سے نہ مر جائیں‘

کورونا لاک ڈاؤن: ’ڈر ہے کہ وائرس سے پہلے بھوک سے نہ مر جائیں‘

3/27/2020

کورونا لاک ڈاؤن: ’ڈر ہے کہ وائرس سے پہلے بھوک سے نہ مر جائیں‘

انڈیا میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا جانے والا تین ہفتے کا لاک ڈاؤن دیہاڑی دار افراد کے لیے مشکلات کا نیا پیغام لے کر آیا ہے۔

کورونا: مشکل گھڑی میں انسانیت کے لیے پانچ حوصلہ افزا باتیں مجھے ایک کونے میں کچھ لوگ جمع نظر آئے۔ میں نے ان سے محفوظ فاصلے پر رک کر پوچھا کہ کیا وہ لاک ڈاون کی پابندی کر رہے ہیں۔ اترپردیش کے ضلعے بندا سے تعلق رکھنے والے رمیش کمار نے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ ان کو آج دیہاڑی پر لے جانے والا کوئی نہیں ملے گا لیکن پھر بھی انھوں نے اپنی قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ چھ سو روپے روزانہ کماتے ہیں اور ان کی کفالت میں پانچ افراد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چند دنوں میں ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہو گا۔ ’میں جانتا ہوں کہ کورونا وائرس سے کتنا خطرہ ہے لیکن میں اپنے بچوں کو بھوکا نہیں دیکھ سکتا۔' کروڑوں کی تعداد میں دیہاڑی پر کام کرنے والوں کو اسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے اعلان کردہ لاک ڈاؤن کا مطلب یہ ہے اگلے تین ہفتوں تک انھیں کام ملنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حقیقت میں بہت سے لوگوں کے پاس کچھ دنوں میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہو گا۔ Image caption احمد آباد کے کشن لال کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار دنوں میں ان کی کوئی کمائی نہیں ہوئی ہے انڈیا میں چھ سو سے زیادہ مریضوں کے کورونا وائرس کا شکار ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے اور 13 افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ کئی ریاستی حکومتوں نے جن میں شمال مغرب میں اتر پردیش، جنوب میں کیرالا اور دارالحکومت نئی دہلی شامل ہیں کہا ہے کہ وہ مستحق لوگ کے بینک کھاتوں میں براہ راست امدادی رقوم منتقل کریں گی۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی دیہاڑی دار مزدوروں کی مالی مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اس میں بھی کئی مشکلات درپیش ہیں۔ مزدوروں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق انڈیا میں نوے فیصد افرادی قوت غیر سرکاری یا غیر رسمی شعبوں سے وابستہ ہے جن میں رکشہ ڈرائیور، صفائی کا کام کرنے والے، سکیورٹی گارڈز یا چوکیدار، ٹھیلے والے ، کوڑا اکھٹا کرنے والے یا گھروں میں کام کرنے والے شامل ہیں۔ ان کی اکثریت کو پینشن، تنخواہ سمیت چھٹیوں یا بیماری کی چھٹیوں یا کسی انشورنش کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ بہت سے لوگوں کے بینکوں میں اکاؤنٹس بھی نہیں ہیں اور وہ روز کماتے اور روز کھاتے ہیں۔ ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے گھروں سے دور کسی دوسری جگہ یا ریاست میں جا کر کام کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی ایک جگہ مستقل قیام نہیں کرتے اور روزگار کی تلاش میں ایک ریاست سے دوسری ریاست اور شہر سے دوسرے شہر سفر کرتے رہتے ہیں۔ اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ یقیناً یہ بہت پیچیدہ مسائل ہیں اور کسی بھی حکومت کو کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو برق رفتاری سے کام کرنا ہو گا کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ صورت حال بدل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ہمیں کمیونٹی باورچی خانوں کا انتظام کرنا ہو گا تاکہ بڑی مقدار میں کھانا بنا کر متاثرہ افراد تک پہنچایا جا سکے۔ ہمیں نقد رقوم، آٹا اور چاول لوگوں میں تقسیم کرنے ہوں گے یہ دیکھے بغیر کہ کون کسی ریاست سے تعلق رکھتا ہے۔‘ Image caption احمد آباد کا یہ موچی یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ لوگ سفر کیوں نہیں کر رہے اکھلیش یادو کو اپنی ریاست اتر پردیش کے بارے میں بہت تشویش ہے کیوں کہ یہ انڈیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست ہے جس کی مجموعی آبادی 22 کروڑ کے قریب ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’اس وبا کو پھلینے سے روکنے کے لیے انھیں لوگوں کے ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنے کو بھی روکنا ہو گا اور اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ لوگوں تک خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔‘ اکھلیش یادو کا کہنا تھا ’کسی بھی مشکل وقت میں شہروں میں آ کر کام کرنے والے اپنے گھروں کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں جو اس وبائی صورت حال میں بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘۔ اترپردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ انھوں نے سرکاری اہلکاروں کی ایک ٹیم تشکیل دی ہے جو ایسے لوگوں کا پتا لگائے گی جو دوسری جگہوں یا شہروں سے آئے ہوئے ہیں اور جس کسی کو بھی مدد کی ضرورت ہو گی اس کی مدد کی جائے گی۔ انڈیا کے وزیرِ ریلوے نے مارچ کی 31 تاریخ تک تمام مسافر گاڑیوں کی آمدورفت معطل کر دی ہے۔ مسافر گاڑیوں کی آمدورفت کے معطل ہونے سے چند دنوں قبل لاکھوں لوگوں نے کورونا وائرس سے متاثرہ شہروں دہلی، ممبئی اور احمد آباد سے چھتوں تک بھری ہوئی ٹرینوں میں بیٹھ کر اترپردیش اور بہار میں اپنے اپنے قصبوں اور دیہات کا سفر کیا۔ اس کی وجہ سے کورونا وائرس کے ملک کے دور دراز علاقوں تک پھیل جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور ماہرین کو ڈر ہے کہ آنے والے ہفتوں میں انڈیا کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر کوئی اپنے گھر جانے کی اسطاعت نہیں رکھتا۔ کشن لال شمالی شہر احمد آباد میں رکشہ چلاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ چار دنوں میں ان کی کوئی کمائی نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اپنے بچوں کو کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن انھوں نے سنا ہے کہ حکومت نے مالی مدد دینے کا وعدہ کیا ہے مگر وہ نہیں جانتے کہ کب اور کیسے۔ کشن لال کے دوست علی حسن جو ایک دکان میں صفائی کا کام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جس دکان میں وہ کام کرتے تھے وہ دو دن سے بند ہے اور انھیں کوئی مزدوری نہیں ملی ہے۔ انھیں یہ بھی علم نہیں تھا کہ یہ دکان کب کھلے گی۔ ’میں بہت خوف زدہ ہوں۔ میرے بیوی بچے ہیں میں ان کا پیٹ کیسے بھروں گا۔' انڈیا میں کروڑوں لوگ چھوٹے کاروباری ہیں جو دکانیں یا چھوٹا موٹا کاروبار چلاتے ہیں اور کچھ لوگوں کو روزگار بھی مہیا کرتے ہیں۔ محمد صابر کا دہلی میں دودھ اور دہی کا چھوٹا سا سٹال ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گرمیوں میں کام زیادہ ہونے کی امید پر انھوں نے دو افراد کو کام پر رکھا تھا۔ ’اب میں ان کو تنخواہ نہیں دے سکتا۔ میرے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔ گاؤں میں ہمارے خاندان کی کچھ کھیتی باڑی ہے جہاں سے انھیں کچھ رقم مل جاتی تھی لیکن اس مرتبہ ژالہ باری سے فصل تباہ ہو گئی اور وہ بھی مدد کے لیے اب میری طرف دیکھ رہے ہیں۔' انھوں نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو بالکل بےبس محسوس کرتے ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ کورونا سے پہلے وہ بھوک سے مر جائیں گے۔ Image caption محمد صابر کا دہلی میں دودھ اور دہی کا چھوٹا سا سٹال ہے لیکن وہ اپنے ملازمین کو تنخواہ نہیں دے سکتے ملک کے تمام تاریخی مقامات بند ہیں جس کا اثر ان لوگوں پر بری طرح پڑے گا جن کی روزی کا انحصار ان مقامات کی سیر کرنے کے لیے آنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاحوں پر تھا۔ تیج پال کشیپ کا جو دلی کے تاریخی انڈیا گیٹ پر فوٹوگرافی کر کے روزگار کماتے تھے، کہنا ہے کہ انھوں نے کاروبار کے کبھی اتنے برے حالات نہیں دیکھے۔ انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ دو ہفتوں سے جب ابھی لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں ہوا تھا تو کوئی کاروبار نہیں تھا اور کوئی سیاح نہیں تھا۔ اب میں یہاں پھنس گیا ہوں نہ واپس اپنے گاؤں جا سکتا ہوں نہ ہی کوئی کام مل رہا ہے۔ میں اترپردیش میں اپنے بچوں اور بیوی کے لیے بہت پریشان ہوں۔' ٹیکسی سروس اوبر اور اولا کے ڈرائیوروں کا بھی یہ ہی حال ہے۔ یوگندر چودھری جو دلی میں ایک فضائی کمپنی کے ملازمین کے لیے ٹیکسی چلاتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو ان جیسے لوگوں کو مالی مدد فراہم کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ لاک ڈاؤن کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ کورونا وائرس خطرناک ہے اور اس سے بچنا چاہیے لیکن میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اگر لاک ڈاؤن تین ہفتوں تک چلتا رہا تو میں کسی طرح اپنا اور اپنی فیملی کا گزارہ کروں گا۔' Image caption فوٹوگرافر تیج پال کشیپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کاروبار کے کبھی اتنے برے حالات نہیں دیکھے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے اب تک کورونا وائرس کے بارے میں کچھ نہیں سنا۔ ایک موچی نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ احمد آباد کے ریلوے سٹیشن کے باہر برسوں سے مسافروں کے جوتے پالش کرنے کا کام کر رہے ہیں لیکن اب کوئی نظر نہیں آ رہا۔ انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم نہیں کہ لوگوں نے سفر کرنا کیوں بند کر دیا ہے۔ ’نہیں جانتا کہ ان دنوں لوگ ریلوے سے سفر کیوں نہیں کر رہے۔ مجھے یہ تو معلوم ہے کہ کوئی کرفیو وغیرہ لگا دیا گیا ہے لیکن کیوں اس کا مجھے علم نہیں ہے۔' وینود پرجاپتی جو اسی علاقے میں پانی کی بوتلیں فروخت کرتے ہیں، انھوں نے اس بات چیت میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ کورونا وائرس کے بارے میں سب کچھ جانتے ہیں۔ ’یہ بہت خطرناک وائرس ہے اور اس سے پوری دنیا متاثر ہوئی ہے۔ زندگی یا بھوک ہمیں کس کا انتخاب کرنا چاہیے۔‘ متعلقہ عنوانات مزید پڑھ: BBC News اردو

Looks like you are anti pakistan! Shame on you BBC Its happening all over the sorld جام کمال صاحب آپ وزیر اعلی بلوچستان کے علاوہ آپ 1نواب بھی ہیں اگر آپ نواب کے حثیت سے دیکھے یا وزیر اعلی بلوچستان کے نظر سے دیکھے تو پیرامیڈیکل آپ کے بچے ہے تو ان کے لئے رسک الاونس دے Asa he hoga mazdoor bhokk sy mry gy Very true

غربت پر توجہ نہ دے کر دنیا نے غریب کو بےیارومددگار چھوڑ دیا اب لاک ڈاون سے مر جائیں گے جن کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں وہ کیا کریں گے فنڈز ایسے لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ادھر ادھر ہوجاتے ہیں کوئی کچھ نہیں دیتا فنڈز کارکنوں کو دئے جاتے ہیں پھر غریب کے پاس خود کشی کے سوا کوئی چارہ نہیں بھوک سے مریں گے تو اکیلے مریں گے، وائرس سے مریں گے تو ساتھ میں پورا محلہ ساتھ مرے گا۔ وبا اسی کو کہتے ہیں۔

زندہ انسانوں کو یرغمال بنانے۔گائے کا پیشاب پینے۔جسم پر گوبر ملنے۔بتوں کی پوجا کرنے سے قوم کیسے سپئرئیر؟یہی بیماری یہودیوں کو لگی۔کسی نبی کو زندہ نہیں چھوڑا۔نیتن یاہو نے پاگل پن کا ٹیکہ مودی کو لگا دیا۔کرونا وائرس کی وجہ سے مودی اور نیتن یاہو سمیت ساری دنیا یرغمال اور شیر چوکیدار۔ Allah apny bndo ko bhuka nh rkhta,,,,Faith on Allah,❣️

Not many people in India will die of Corona virus as those who die of hunger every day ....Before making the lockdown call, Modi should have also thought about these daily wagers who think that before the coronavirus they will die of hunger ... 21daysoflockdown dailywagers Yahe bat Imran khan Kar Raha tha to an ko moot nazar aa rahe the

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سندھ میں نماز کے اجتماعات پر پابندیسندھ حکومت نے کورونا وائرس کو مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبے میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی۔ مذکورہ فیصلے کا اطلاق 27 مارچ سے 5 اپریل تک رہے گا، تاہم مساجد میں

آج دنیا کو پتا چلے گا لاک ڈاون ھوتا کیا ھے..... کشمیروں کے لیے تو یھ عام بات ھے... سب ھستے تھے کشمیروں پہ، اب ھسو دنیا والو... Allah pr ykeen rkho ni marty bhooky Ryt

کورونا سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں: ظفرمرزاکورونا سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہے ہیں: ظفرمرزا Islamabad zfrmrza PIMS Examine Coronavirus Treatment Facilities COVID19 COVID19Pakistan Covid19Out MoIB_Official pid_gov Pakistan zfrmrza MoIB_Official pid_gov Please Pakistan Main TikTok Facebook Aur YouTube Ko 1Ma Kay Leye Band Kar But lot of people do business using that social media networks that not the solution

کورونا وائرس سے لڑنے کے لیے مدافعتی نظام مضبوط بنانے والی غذائیں - Health - Dawn Newsمظبوط

کیا امریکہ نے کورونا کے علاج کے لیے کلوروکوئن کی منظوری دے دی ہے؟امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملیریا کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی ایک دوائی، کلوروکوئن، کو امریکہ نے کووِڈ 19 کے علاج کے لیے منظور کر لیا ہے۔ کیا یہ دعویٰ درست ہے؟ They have already antiviral They just want its peak time & then sell it اس وقت دنیا میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے صرف اس خبیث کی وجہ سے ہو رہا ہے اس نے ہی کشمیر اور فلسطین والوں پر زیادتی کی ہے یہ دنیا کو امن دینے کی بجائے ان کو رسوا کر رہا ہے جو اس کے لیے خطرناک ہے اگر یہ چاہتا ہے کہ دنیا سے وائرس ختم ہوجائے تو کشمیر سے لاک ڈاؤن ختم کروا دے pata nhii

اٹلی کے بعد اسپین میں بھی کورونا سے چین سے زیادہ ہلاکتیں - World - Dawn News

اٹلی کے بعد اسپین میں بھی کورونا سے چین سے زیادہ ہلاکتیںکورونا وائرس کے مرکز سمجھے جانے والے چین سے زیادہ جہاں رواں ماہ 20 مارچ کو یورپی ملک اٹلی



ایکسپو سینٹر لاہور میں 1000 بستروں پر مشتمل فیلڈ اسپتال صرف 9 دن میں تیار

کرسی سلامت رہے!

'کوشش ہے کہ اینٹی کورونا وائرس ویکسین پاکستان سے تیارہو'

سعودی عرب میں موبائل کمپنیوں نے ایک ماہ کے بل معاف کر دیے

178 new cases reported within 24 hours as Pakistan’s Covid-19 tally jumps to 2039 - 92 News HD Plus

Intensifies lockdown as Punjab decides to close shops, markets by 5pm - 92 News HD Plus

Saudi Arabia urges Muslims to defer hajj plans over virus

تبصرہ لکھیں

Thank you for your comment.
Please try again later.

تازہ ترین خبریں

خبریں

27 مارچ 2020, جمعه خبریں

پچھلا خبر

'پولیس ڈیوٹی میں نہیں پتہ ہوتا کہ کس کو کورونا ہے، کس کو نہیں‘

اگلا خبر

China bans entry of foreigners as imported cases rise
کرونا وائرس : جاپان کا پاکستان کیلئے 21 لاکھ 60 ہزار ڈالرز کی امداد کا اعلان Saudi Arabia urges Muslims to defer Hajj plans over coronavirus - 92 News HD Plus کرونا وائرس، ماسک کی قلت ہے تو اسکارف پہنیں، ٹرمپ کا مشورہ Pakistan, EU agree for joint effort to tackle coronavirus pandemic - 92 News HD Plus وزیراعظم کرونا ریلیف فنڈز، ہم وطنوں‌ کی مدد کے لیے وسیم اکرم اور عماد وسیم کا بڑا اعلان جاپان، کرونا کا ممکنہ علاج، مریضوں پر آزمائش کی تیاری 101 سالہ خاتون نے بھی کروناوائرس کو شکست دے دی حکومت نے 14 اپریل تک لاک ڈاؤن میں توسیع کردی - ایکسپریس اردو بیرون ملک سے آنے والے 9 لاکھ مسافروں کا کوئی علم نہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان کورونا وائرس ، ورلڈ بینک کا خیبر پختونخوا حکومت کیلئے بڑا تحفہ کورونا وائرس : حکومت کا 14 اپریل تک لاک ڈاؤن برقرار رکھنے کا فیصلہ ڈومیسٹک فلائٹس کی بندش میں 10 روز کی توسیع
ایکسپو سینٹر لاہور میں 1000 بستروں پر مشتمل فیلڈ اسپتال صرف 9 دن میں تیار کرسی سلامت رہے! 'کوشش ہے کہ اینٹی کورونا وائرس ویکسین پاکستان سے تیارہو' سعودی عرب میں موبائل کمپنیوں نے ایک ماہ کے بل معاف کر دیے 178 new cases reported within 24 hours as Pakistan’s Covid-19 tally jumps to 2039 - 92 News HD Plus Intensifies lockdown as Punjab decides to close shops, markets by 5pm - 92 News HD Plus Saudi Arabia urges Muslims to defer hajj plans over virus وینٹی لیٹڑز کے 3 ڈیزائن منظور کرلیے, جلد اسپتالوں میں‌ آزمائش ہوگی، فواد چوہدری کورونا وائرس کیخلاف جنگ، سعودی عرب بھی پاکستان کی مدد کیلیے میدان میں آگیا وبا سے بچاؤ اور مشکل کی گھڑی میں مدد کیلئے ہر شہری تک پہنچیں گے، آرمی چیف ایس پی ڈی اور این سی اے کے ملازمین کا کرونا فنڈ میں حصہ ڈالنے کا اعلان - مخیر حضرات کی جانب سے تقسیم راشن دکانوں پر بیچا جانے لگا