’چین کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتا تو کیا فوراً پاکستان چلا جاؤں‘

چین، انڈیا سرحدی کشیدگی کے بعد چینی مصنوعات کا بائیکاٹ سوشل میڈیا پر زیر بحث

02/06/2020 9:49:00 PM

چین، انڈیا سرحدی کشیدگی کے بعد چینی مصنوعات کا بائیکاٹ سوشل میڈیا پر زیر بحث

جہاں انڈیا اور چین کی سرحد پر گذشتہ چند ہفتوں سے صورتحال کشیدہ ہے وہیں سوشل میڈیا پر بھی کم از کم انڈیا میں چین مخالف ٹرینڈز پر گرما گرم بحث جاری ہے اور اس مرتبہ ان ٹرینڈز میں چین میں بنی ہوئی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا کہا جا رہا ہے۔

انڈیا اور چین کے درمیان لداخ کے محاذ پر حالیہ سرحدی کشیدگی کو سنہ 1999 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان کارگل میں ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی کشیدگی کہا جا رہا ہے۔اس کشیدگی پر سوشل میڈیا پر زیادہ بحث ہو رہی ہے لیکن انڈین حکومت کی جانب سے اس حوالے سے خاطر خواہ بیانات نہیں دیے گئے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ صارفین سنی سنائی باتوں پر اپنا غصہ سوشل میڈیا کے ذریعے نکال رہے ہیں۔

شادی کا جھانسہ دیکر بس ہوسٹس کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار - ایکسپریس اردو عمران خان کے قد کا آدمی پورے پاکستان میں نہیں ہے، فواد چوہدری شمالی وزیرستان میں پاک فوج کا آپریشن، 4 جوان شہید، چاردہشت گرد مارے گئے - ایکسپریس اردو

@actormanojjoshiاکثر تو اس حوالے سے صارفین کی ’منافقت‘ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جیسے اداکار منوج جوشی کی ٹویٹ ’بائیکاٹ چائنا‘ کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ آپ چین میں تیار کیے گئے فون سے ’بائیکاٹ چائنا‘ لکھ رہے ہیں۔دنیا بھر کی طرح انڈیا میں بھی چین میں تیار کیے جانے والے سستے اور معیاری فونز بہت مقبول ہیں۔ ایسی ہی ایک کمپنی ریڈمی کے فونز کی انڈیا میں بڑی شہرت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹTwitter/HardikPatniاسی بات کا حوالہ دیتے ہوئے ایک صارف ہردک پٹنا نے لکھا کہ ’لوگ ریڈمی فونز سے ٹویٹ کر رہے ہیں ’بائیکاٹ چائنا‘۔سورو کمار کی طرح بہت سے افراد نے اپنے فون کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس کا مطلب یا بتانا تھا فون میں کوئی چینی ایپ نہیں۔

@scribe_itروی رتن لکھتے ہیں کہ ’بائیکاٹ چائنا ایک لالی پاپ ہے جو لوگوں کو ہر مرتبہ ایسے وقت میں دی جاتی ہے جب حکومت داخلی معاملات میں مشکلات کا شکار ہو۔‘انھوں نے کہا کہ اس سے لوگوں کا غصہ کسی اور پر نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہت سوں کے لیے ٹک ٹاک ڈیلیٹ کرنا حب الوطنی بن جاتی ہے۔

عتیق الانا نامی صارف نے ایک انڈین اخبار کا سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں لکھا تھگ کہ فوج کی بلٹ پروف جیکٹس چین سے درآمد کی جاتی ہیں اور ساتھ اپنے پیغام میں وہ لکھتے ہیں ’انڈین فوج چین میں بنی ہوئی مصنوعات استعمال کرتی ہے۔ یہ بائیکاٹ چائنا صرف آپ کی توجہ اس حکومت کی نا اہلی سے ہٹانے کے لیے ہے۔‘

تاہم کچھ صارفین کو اس موضوع پر انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی کی خاموشی بالکل نہیں بھا رہی، جیسے نیرج بھاٹیہ، جو لکھتے ہیں کہ ’بائیکاٹ چائنا ہیش ٹیگ بہت ہو گیا اب وہ وقت آ گیا ہے کہ مودی چین پر بات کریں۔‘تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesانڈین ٹوئٹر صارفین بائیکاٹ چائنا ہیش ٹیگ استعمال کرنے میں زیادہ متحرک پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ہوئے ہیں۔

بی جے پی کے رہنما اور گجرات کے سٹیٹ سیکرٹری امیت ٹھاکر نے بھی ایسی ایک ویڈیو کچھ عرصے پہلے شیئر کی جسے میں پاکستان کو بھی نشانہ بنایا گیا۔یہ ویڈیو بھی اس ٹرینڈ میں اور بہت ساری ایسی ہی ویڈیوز کی طرح شیئر کی جا رہی ہیں۔ یہ ٹرینڈ بظاہر باقاعدہ مہم کا حصہ ہے۔

ویسٹ انڈیز کی انگلینڈ کے خلاف یادگار فتح - سفارتی محاذ پر وزیراعظم عمران خان کی کامیابیوں پر مبنی ویڈیو جاری وہ خاتون سائنسدان جس نے انسان کی تولیدی زرخیزی کو بدل کر رکھ دیا

جہاں چین اور انڈیا کے درمیان تلخی کی بات ہو وہاں پاکستانی صارفین بھی اپنی آرا کا اظہار نہ کریں یہ تو ہونے سے رہا۔ تو پاکستان سے امیر حمزہ نامی ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ ’بائیکاٹ چین کا کر رہے ہو یا پاکستان کا۔ مطلب یہ ایک تذبذب کا شکار قوم ہے۔‘@rahulkanwal

انڈین صحافی اور اینکر راہل کنول نے ٹوئٹر پر رائے عامہ کا جائزہ لینے کی کوشش کی جس میں پوچھا گیا کہ ’کیا آپ بائیکاٹ چائنا کی تائید کریں گے؟‘ اس پر کم از کم 78 فیصد افراد نے ہاں میں جواب دیا۔اسی کے جواب میں شکیل احمد نے لکھا کہ ’اگر میں چین کا بائیکاٹ کروں تو مجھے دنیا کے سب سے لمبے مجسمے کا بائیکاٹ کرنا پڑے گا جو گجرات کی شان ہے اور انڈیا کے وزیر اعظم کی بھی کیونکہ وہ چین میں بنا تھا۔‘

وہ کہتے ہیں ’چین میں بنی مصنوعات کے بائیکاٹ کا مطلب ہے آپ کے ٹی وی سٹوڈیو میں زیادہ تر سامان، آپ کا موبائل فون سب پھینکنا پڑے گا۔‘راہل کنول کی ایک اور چین مخالف ٹویٹ پر ایک انڈین صارف نے لکھا میں ریڈ می فون استعمال کرتا ہوں اور چین کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہتا تو کیا فوراً پاکستان چلا جاؤں؟

برجیش نے ٹویٹ کی اور لکھا ’جب آپ سب چینی ایپس ڈیلیٹ کرنے میں مصروف تھے تاکہ چین کا بائیکاٹ کریں ایسے میں ایک چینی برینڈ ریئل می کے ٹی وی کا اجرا ہوا اور یہ چند منٹوں میں مکمل طور پر بک گئے‘۔اس ٹرینڈ پر پاکستان سے بہت سارے ٹوئٹر ہینڈلز سے ایک ہی جملے اور تصویر کے ساتھ ٹویٹ شیئر کی گئی اور وہ یہ کہ ’اچھا ہے کہ لداخ میں چینی فوج سے لڑنے کے بجائے انڈین ٹوئٹر پر بائیکاٹ چائنا ٹرینڈ فالو کر رہے ہیں۔‘

مزید پڑھ: BBC News اردو »

بعد میں یہی کچھ رہ جاتا ہے🤣🤣🤣🤣🤣 India gone mad as using China stuff against China 😂😂😂😂😂 Nepal, Bangladesh,Pakistan, Sri Lanka, Iran, Middle east even Israel Afghanistan, Bhutan, , Kazakhstan, North Korea, Kyrgyzstan, Laos, Mongolia, Myanmar , Russia, Tajikistan,shares maritime borders with Brunei, Indonesia, Japan, South Korea, Malaysia, the Philippines, and Taiwan

Laddakh is China .. Free Kashmir.(IOK) Free khalistan. Free assam. Free kerala. Hang Kulbhushan Jadhav.

ڈاکٹرز کے بڑی تعداد میں کورونا کا شکار ہونے پر وزیر اعظم کا نوٹسذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے پیرا میڈیکل اسٹاف اور ڈاکٹرز کی حفاظت کے لئے ہنگامی پلان مانگ لیا۔ کلام اقبال کی تشریحی وڈیوز کے لیئے سبسکرائب کیجئے یوٹیوب چینل بانگ درا👆 ڈاکٹرز کے بڑی تعداد میں کورونا کا شکار ہونے پر وزیر اعظم 'کو' نوٹس جاری ہونا چاہئے

وزیراعظم عمران خان کا کورونا صورتحال پر قوم کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

وزیراعلیٰ پنجاب کا مارکیٹوں میں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا حکملاہور: (دنیا نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کورونا وائرس پھیلنے کے خطرات کے پیش نظر مارکیٹوں اور بازاروں میں ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔

یورپی پارلیمان کا بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہاربرسلز: (ویب ڈیسک) یورپین پارلیمان نے بھارت میں دہشت گردی سے متعلق بنائے گئے قانون کے تحت انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر شدید تشویش ظاہر کردی۔

یورپی پارلیمان کا بھارت میں انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہاربرسلز: (ویب ڈیسک) یورپین پارلیمان نے بھارت میں دہشت گردی سے متعلق بنائے گئے قانون کے تحت انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاری پر شدید تشویش ظاہر کردی۔ Bs tashweesh hi ho gi

ایران کا امریکہ پر شہریوں کیخلاف پر تشدد کارروائیوں کا سلسلہ بند کرنے پرزورایران نے امریکہ پر زوردیا ہے کہ وہ سیاہ فام امریکی باشندے جارج فلوئڈ کی ہلاکت کے بعد ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں اپنے ہی شہریوں کےخلاف پرتشدد کارروائیوں کا