’پیسہ چین کا پھر بھی صرف 37 فیصد کام‘: وزیراعظم کا ترقیاتی منصوبوں پر کام نہ ہونے پر اظہار ناراضی

24/06/2022 8:51:00 PM

کیا یہ مقام عبرت نہیں؟چین کیا سوچ رہا ہوگا کہ یہ لوگ گرانٹ سے بھی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے: شہباز شریف کا گوادر میں خطاب

کیا یہ مقام عبرت نہیں؟چین کیا سوچ رہا ہوگا کہ یہ لوگ گرانٹ سے بھی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے: شہباز شریف کا گوادر میں خطاب مزید پڑھیں: ShahbazSharif Gawadar Cpec GeoNews

کیا یہ مقام عبرت نہیں؟چین کیا سوچ رہا ہوگا کہ یہ لوگ گرانٹ سے بھی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے: شہباز شریف کا گوادر میں خطاب

— فوٹو: پی آئی ڈی پیسہ چین کا، فری گرانٹ، پھر بھی صرف 37 فیصد کام، وزیراعظم نے گوادر میں ترقیاتی منصوبوں پر کام نہ ہونے پر اظہار ناراضی کیا اور کہا کہ کیا یہ مقام عبرت نہیں؟ دورہ گوادر میں اپنے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ چین کیا سوچ رہا ہوگا کہ یہ لوگ گرانٹ سے بھی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے، چین نے ہمیں قرضہ دیا ہے، ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونا ہوگا، قرض لینے کے بجائے صنعت، زراعت اور دیگر شعبوں میں خود کفیل ہونا ہوگا۔ وزیرِاعظم شہبازشریف کی زیرصدارت گوادر میں ترقیاتی کاموں سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو معینہ مدت میں پورا کیا جائے— فوٹو: پی آئی ڈی انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے گوادر اسپتال کا کام روکے رکھا ، بلوچستان کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی، گوادر میں ائیرپورٹ اور اسپتال جلد مکمل کرائیں گے، بلوچستان کے عوام کے مسائل حل کیے بغیر گوادر کی ترقی بےمعنی ہے۔ وزیرِاعظم شہبازشریف کی زیرصدارت گوادر میں ترقیاتی کاموں سے متعلق اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ہدایات جاری کیں کہ گوادر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو معینہ مدت میں پورا کیا جائے، پانی اور بجلی کی فراہمی کے منصوبوں میں کسی قسم کا مزید تعطل قبول نہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ گوادر میں 12 لاکھ گیلن یومیہ کاڈی سیلینیشن پلانٹ جلد مکمل کیاجائے، پانی کی گھر گھر فراہمی کیلئے پائپ لائنز کے نظام کو فی الفور بہتر کیا جائے، منصوبوں میں تعطل اور مجرمانہ غفلت کی نشاندہی کیلئے فوراً انکوائری کروائی جائے۔ شہباز شریف نے کہا کہ 62 میگا واٹ کے سولر منصوبے کے حوالے سے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے— فوٹو: پی آئی ڈی شہباز شریف نے کہا کہ 62 میگا واٹ کے سولر منصوبے کے حوالے سے تین ہفتوں میں رپورٹ پیش کی جائے، گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تکمیل جولائی 2023 تک یقینی بنائی جائے، تربت اور کوئٹہ کے ہوائی اڈوں پر بین الاقوامی پروازوں کو بحال کیا جائے، پورے بلوچستان میں آف گرڈ بجلی کے منصوبوں کیلئے حکمتِ عملی مرتب کی جائے۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ گوادر میں انٹرنیٹ کی سہولیات کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات کیے جائیں، گوادر اسپتال کی تکمیل دسمبر کی بجائے ستمبر میں یقینی بنائی جائے۔ مزید خبریں :.ویب ڈیسک 24 جون 2022 لندن: برطانیہ میں ریل کا پہیہ جام ہو گیا ہے، لیکن صورت حال جس رخ پر جا رہی ہے، اس میں یہ پریشان کن سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا اب ہوائی جہازوں کی بھی ہڑتال ہوگی؟ برطانوی میڈیا کے مطابق ملک میں ریل کا پہیہ جام ہو چکا ہے، 40 ہزار ریلوے ملازمین کی ہڑتال کا آج تیسرا روز ہے، ریلوے اسٹیشنز سنسان ہو گئے ہیں۔ لندن میں انڈر گراؤنڈ ریل سروس بھی جزوی طور پر تعطل کا شکار ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ہڑتالی ملازمین کا مطالبہ ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ اور برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے۔ دوسری طرف ریلوے کے بعد فضائی کمپنیوں نے بھی ہڑتال کا اشارہ دے دیا ہے، عالمی مہنگائی کے سبب برطانیہ میں بھی افراطِ زر کی شرح 9 فی صد تک جا پہنچی۔ ادھر بیلجیم میں پائلٹس اور کریو ممبران کی ہڑتال کے باعث تین سو سے زائد فلائٹس منسوخ ہو چکی ہیں، اور اس کے نتیجے میں ہزاروں مسافر ایئر پورٹس پر پھنس گئے۔ ریلوے، میری ٹائم اینڈ ٹرانسپورٹ (RMT) یونین نے اپنی ہڑتال کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 40 ہزار سے زائد اراکین ایک بار پھر واک آؤٹ کر گئے۔ یونین کے جنرل سیکریٹری مک لنچ نے کہا ہمارے ارکان تمام ورکرز کی تنخواہوں میں اضافے اور ملازمتوں کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوئے ہیں، جدید معیشت میں ورکرز کو ان کی محنت کے لیے مناسب معاوضہ ملنے، اچھے حالات سے لطف اندوز ہونے اور اس ذہنی سکون کی ضرورت ہے کہ ان کی ملازمت ان سے نہیں چھینی جائے گی۔.وزیراعظم نے ہدایت دی کہ مری شہر کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے جلد از جلد منصوبہ بندی کی جائے.’ڈرامہ کوئین‘ پوڈکاسٹ میں سنیے وہ باتیں جنہیں کسی کے ساتھ بانٹنے نہیں دیا جاتا قسطیں مواد پر جائیں وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے 10 فیصد سپر ٹیکس لگانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’اس سے اکٹھے ہونے والے پیسوں کو غربت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔‘ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ’سپر ٹیکس کے ذریعے گذشتہ چار ریکارڈ بجٹ خساروں کو کم کیا جائے گا۔‘ اشفاق تولہ نے کہا کہ ’یہ ٹیکس حالات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت ہنگامی اقدامات کے تحت اسے عائد کر سکتی ہے۔‘ ڈاکٹر اکرام الحق نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’اس ٹیکس کا مقصد یہی ہے کہ زیادہ پیسے اکٹھے کیے جائیں گے لیکن اس ٹیکس کے ذریعے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر مزید بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر زیادہ پیسے اکٹھے کرنے ہیں تو اس کے دوسرے بھی طریقے ہیں کہ جس میں بجٹ میں دی جانے والی ٹیکس چھوٹ کو ختم کیا جائے اس کے ساتھ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لائی جائے۔‘ ’زرعی ٹیکس اور ہول سیلرز اور ٹریڈرز کے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے لیکن حکومت نے پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والے شعبوں پر ہی زیادہ ٹیکس ڈال دیا ہے۔‘ کیا یہ ون ٹائم ٹیکس ہے؟ سپر ٹیکس کے نفاذ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ ’حکومت کی جانب سے اس ٹیکس کے ون ٹائم (یعنی صرف ایک مرتبہ) کے لیے نافذ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔‘ انھوں نے سپر ٹیکس کی ادائیگی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’پاکستان میں بینک 31 دسمبر کو اپنے اکاوئنٹس بند کرتے ہیں۔‘ ’یعنی جب بینکوں نے 31 دسمبر 2021 کو اپنے اکاونٹس بند کیے تو انھیں 30 ستمبر 2022 تک اپنے ریٹرن فائل کرنے ہیں اور ان ریٹرنز میں انھیں یہ ٹیکس ادا کر کے دیکھانا ہے۔‘ 'یعنی جب وہ اپنے سال کلوز کر رہے تھے تو اس وقت یہ ٹیکس نہیں تھا تاہم اب جب چھ مہینے بعد یہ ٹیکس لگا ہے تو انھیں اپنے منافع میں سے یہ ٹیکس ادا کرنا اور ریٹرن میں دکھانا پڑے گا۔‘ دوسری جانب کمپنیوں کے اکاؤنٹس مالی سال کے اختتام پر بند ہوتے ہیں یعنی جب 30 جون 2022 کو کمپنیاں اپنے اکاونٹس بند کریں گی اور انھیں اپنے ریٹرن 31 دسمبر 2022 تک جمع کروانا ہوں گے تو انھیں یہ اضافی ٹیکس ادا کر کے ریٹرن میں دیکھانا ہو گا۔ ڈاکٹر اکرام نے کہا کہ 'حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ ون ٹائم ٹیکس ہے تاہم اس کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ اگلے سال حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے۔' ،تصویر کا ذریعہ Getty Images سپر ٹیکس کس پر لگا اور صنعتی شعبوں کو کیسے متاثر کرے گا؟ وفاقی وزیر خزانہ کی جانب سے دس فیصد کی شرح سے سپر ٹیکس 13 صعنتی شعبوں پر لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان شعبوں میں سیمنٹ، بینکنگ، ایوی ایشن انڈسٹری، ٹیکسٹائل، آٹو موبائل، شوگر، بیوریج، سٹیل، تیل و گیس، فرٹیلائزر، سگریٹ، کیمیکل کے شعبے کی انڈسٹریاں شامل ہیں جنھیں دس فیصد کے حساب سے یہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ پاکستان میں ان شعبوں کے علاوہ دوسرے صعنتی شعبے چار فیصد کے حساب سے ٹیکس ادا کر رہے ہیں اور درج بالا پر چار فیصد شرح میں چھ فیصد کی شرح سے اضافہ کر کے ان پر سپر ٹیکس کی صورت میں دس فیصد ٹیکس کی شرح کر دی گئی ہے۔ پاکستان فیڈریشن آف چمبرز آف کامرس اور انڈسٹری کے قائم مقام صدر شبیر منشا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سپر ٹیکس کے فیصلے کو صنعتی شعبے کے لیے ’تباہ کن‘ قرار دیا۔ واضح رہے کہ سپر ٹیکس کی زد میں آنے والے شعبوں کی کمپنیوں پر اضافی ٹیکس لگنے کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ جمعے کے روز کریش کر گئی کیونکہ ان کمپنیوں میں سے بڑی تعداد سٹاک مارکیٹ پر لسٹڈ ہیں۔ شبیر منشا نے بتایا کہ 'صعنتی شعبے پر گیس، بجلی، اور بلند شرح سود کی وجہ سے پہلے ہی بہت زیادہ بوجھ ہے اور سپر ٹیکس اس شعبے کی ترقی کو متاثر کر کے ملک کی اقتصادی ترقی کو متاثر کرے گا۔' انھوں نے کہا کہ ’سپر ٹیکس کو کمپنیاں عوام تک منتقل کر سکتی ہیں جس کی وجہ سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔‘ ڈاکٹر اکرام نے سپر ٹیکس کی وجہ سے انڈسٹریلائزیشن اور کارپوریٹائزیشن کے عمل پر منفی اثرات کے خدشے کا اظہار کیا۔ ،تصویر کا ذریعہ Getty Images 'امیر طبقے پر ٹیکس خوش آئند لیکن یہ پیسہ بھی صارف سے ہی وصول ہو گا' پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کی بڑی صنعتوں پر 10 فیصد سپر ٹیکس کے اعلان کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر بحث کا آغاز ہو گیا۔ ایک جانب تو امیر طبقے پر ٹیکس لگانے کے فیصلے کو خوش آّئند قرار دیا گیا تو دوسری جانب اس خدشے کا اظہار بھی کیا گیا کہ اس کے اثرات بھی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں عوام کو ہی برداشت کرنا ہوں گے۔ اگر پہلے طبقے کی بات کی جائے تو ثاقب ریاض لکھتے ہیں کہ ’صنعتوں اور ان کے مالکان پر سپر ٹیکس لگنے سے حکومتی خسارہ کم ہو گا اور عام آدمی کو ریلیف ملنے کا امکان بڑھے گا، امیروں پر نئے ٹیکس پوری دنیا میں لگ رہے ہیں کیونکہ ان کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا صرف ان کا منافع کم ہو گا۔ خدارا، اچھے برے فیصلوں میں تمیز کرنا سیکھیں۔‘ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’میں نہیں جانتا کہ سپر ٹیکس کے بارے میں کیا محسوس کیا جائے۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گا لیکن کچھ حد تک حمایت ضرور کروں گا۔ امیر پر ٹیکس لگانا درست سمت میں قدم ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اس کا معیشت پر کیا اثر پڑتا ہے؟‘ ادھر دوسری جانب ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو اس فیصلے کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دے رہا ہے۔ تحریک انصاف حکومت کے دوران معاشی ترجمان رہنے والے مزمل اسلم نے لکھا کہ انڈسٹریز پر 10 فیصد سپر ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ ’اب ترقی اور معیشت کو خدا حافظ کہہ دیں۔‘ ،تصویر کا ذریعہ.

مزید پڑھ:
Geo News Urdu »
Loading news...
Failed to load news.

لعنت ایسی صحافت پر جیو والو ایسی صحافت سے تو اچھا ہے کہ اپنی بہن بیٹی کی دلالی کرلو جب یہ غنڈا شو باز مرے اس کی قبر پر لکھا جائے چور یہ حرامی مردوں کے کفن بھی چوری کر لے گا Ajeeb besharam admi hai yeh SAD. Joker zaleel ka bacha خبروں کے مطابق چین نے قرضہ نہیں دیا۔ چین کے بینکوں سے کمرشل قرضہ لیاگیاہے۔ جن پہ شرح سود یقینا بہت زیادہ ہوگا۔ یہ قرضے ایک عام انسان بھی لے سکتاہے۔ امپورٹڈ_حکومت_نامنظور

Tuady mon te har vely lanat geo walo Mr Chor NRO 2 Chinese Pvt banks se udhar ka paisa..Airports,Roads sab kuch dey kar. Tell this cartoon character Chinese are executing all major work themselves part of contract گرانٹ سے تو ہمیشہ تم لوگوں نے اپنے جیب کا فائدہ اٹایا ہے

برطانیہ میں ریل کا پہیہ جام، کیا اب ہوائی جہازوں کی بھی ہڑتال ہوگی؟برطانیہ میں ریل کا پہیہ جام، کیا اب ہوائی جہازوں کی بھی ہڑتال ہوگی؟ arynewsurdu

سر ہم نے فائدہ اٹھانا ہوتا تو یوں ہر نئی حکومت آتے ہی قرض نہ لیتی۔۔اب آپ صرف ایک سال کےلیے آئے اور آتے ہی بیگ دفتر میں اور آپ آئی ایم ایف کے پاس۔۔۔اب آپ نے جو قرض لے رہے ہیں جاتے ہوئے اسکے فوائد ضرور بتا کے جائیے گا بغیرت اپنے پیسے لے آ وه_کون_تھا امپورٹڈ_بجٹ_نامنظور Sharm ani chaiy is beqari ko aor lafafa news ko sara mulk diwalya kr betha ha aor phr muh utha k mdia py a jata

یا اللہ 1947 سے آج تک جن جن حکمرانوں نے پاکستان کو لوٹا ان پر اور ان کی حرام مال کھانے والی آل اولاد ان کے حواریوں اور ان کے سہولت کاروں پر اپنی بیشمار لعنت برسا اور ان سب کو اس دنیا و آخرت میں رسوا فرما. بولیں آمین Bhai jan China ka pysa Gogi ki rang baazyooooo per laga hy تحریک لبیک پاکستان کے فیصل آباد والے جلسے کی کورج کیوں نہیں کر رہے...؟؟

وزیراعظم شہباز شریف کا مری کا دورہ, ترقیاتی کاموں کا جائزہوزیراعظم شہباز شریف کا مری کا دورہ, ترقیاتی کاموں کا جائزہ Murree PMShehbazsharif CMShehbaz GovtofPakistan pmln_org Pakistan PMO_PK president_pmln CMShehbaz GovtofPakistan pmln_org PMO_PK president_pmln مری کے مقامی لوگ زیادہ تر پرانی جی ٹی روڈ استعمال کرتے ہیں ۔ اسے بھی مرمت کیا جائے ۔

’سپر ٹیکس‘ کیا ہے اور یہ کیوں لگایا جاتا ہے؟ - BBC News اردوپاکستان کی وفاقی حکومت کی جانب سے بڑی صنعتوں پر دس فیصد کے حساب سے ’سپر ٹیکس‘ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ جس کے بعد ایک جانب تو ’امیر طبقے‘ پر ٹیکس لگانے کے فیصلے کو خوش آّئند قرار دیا جا رہا ہے تو دوسری جانب اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اس کے اثرات بھی قیمتوں میں اضافے کی شکل میں عوام کو ہی برداشت کرنا ہوں گے۔ مگر ون ٹائم سپر ٹیکس ہے کیا اور یہ کیوں لگایا جاتا ہے؟ Ye ab Kuch apni na ehli ki waja se dbo rehy hn... Pher kaheen ge IK Ker Gia tha ye sb

عمران خان نیند میں بھی نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپا کرے گا; مریم نوازمسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کو بہت گہرا اور ناقابلِ تلافی صدمہ پہنچا ہے،یہ نیند میں بھی نیوٹرل نیوٹرل کا راگ الاپا کرے گا۔چیئرمین MaryamNSharif pmln_org Maryam Safdar same as you repeatedly say Imran Imran امپورٹڈ_حکومت_نامنظور پلانٹڈ_مہنگائی_نامنظور قوم_کا_ہیرو_عمران_خان

کراچی میں آج بھی ہلکی بارش کا امکانبارش کے باعث مختلف حادثات میں 2 بچوں سمیت 5 افراد جاں بحق ہوئے۔

سکواش کا زمان خاندان، جس کی تیسری نسل بھی چیمپیئن بن گئی - BBC News اردونور زمان کا تعلق سکواش کی مشہور زمان فیملی سے ہے۔ اس فیملی کی پہلی نسل سے تعلق رکھنے والے پانچ بڑوں نے بین الاقوامی سکواش میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ پھر اس خاندان کی دوسری نسل سکواش کورٹ میں اتری اور اب نور زمان کی شکل میں اس خاندان کی تیسری نسل بھی چیمپیئن کہلانے لگ گئی ہے۔ Great people, great generation champions