’ایک دکھ والد کی موت کا تھا اور دوسرا یہ کہ میت کے لیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑا‘ - BBC News اردو

سمیع اللہ خان: دوران چھاپہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مردان کے پولیس اہلکار کی میت حوالگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟

27/01/2022 4:06:00 AM

سمیع اللہ خان: دوران چھاپہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مردان کے پولیس اہلکار کی میت حوالگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟

جرائم پیشہ افراد اور شدت پسندوں کے خلاف مختلف مقامات پر مقابلوں میں شریک سمیع اللہ خان منگل کو ایک چھاپے کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

9 منٹ قبل’ایک دکھ تو والد کی موت کا تھا اور دوسرا دکھ یہ کہ انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔ گاؤں میں اعلانات ہو گئے تھے اور لوگ گھر پہنچ رہے تھے، علاقے میں ویسے بھی شہید کے جنازے میں شرکت کے لیے دور دور سے بھی لوگ آتے ہیں۔‘ابرار بتاتے ہیں کہ ’ہم مردان سے پشاور پہنچے تو معلوم ہوا کے والد صاحب کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے اور ہمیں پولیس لائن پہنچنے کا کہا گیا، جہاں ہم نے ساڑھے تین گھنٹے انتظار کیا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پہلے نو بجے کا وقت دیا گیا، پھر دس بجے اور پھر ساڑھے بارہ بجے کا وقت بتایا گیا۔‘ان کا کہنا تھا کہ انھیں جو وقت پشاور میں بتایا گیا انھوں نے اسی حساب سے گاؤں میں تدفین کا وقت مقرر کیا تھا لیکن یہاں پشاور میں مسلسل تاخیر کی جا رہی تھی۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

Awaz with Ehtesham Amir ud-din - SAMAA TV - 16 May 2022

#SAMAATV #LatestNews #PakistanNewsLive➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-date on th... مزید پڑھ >>

aik ya alfaz zra sae trha is the mal kro مجھے تو تم لوگوں کی سوچ پر حیرت آتی ہے لانت ہے تم پڑھے لکھے جاہل لوگوں پر ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا ہے لکھتے ہوئے شرم آتی ہے کیا

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کی منظوریسعودی عرب کی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے کی منظوری دے دی۔سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی ایس پی اے کے مطابق کابینہ کا

پاکستان کی ہوابازی کی صنعت میں ایک اور ملکی ایئرلائن کا اضافہسی ای او کیو ایئرویز کپٹن احسن قریشی کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد کیو ایئرویز جلد ریگولر پبلک ٹرانسپورٹ (آر پی ٹی) لائسنس حاصل کرلے گی۔

سعودی عرب کی پاکستان کے ساتھ قیدیوں کی منتقلی کی منظوری - ایکسپریس اردوپاکستان کے ساتھ جرائم اور منشیات اسمگلی کے انسداد کے معاہدے کی بھی منظوری دی گئی

ایم کیو ایم کے دھرنے پر شیلنگ اور لاٹھی چارج، ایک عہدیدار جاں بحقبلدیاتی قانون کیخلاف وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہرایم کیوایم پاکستان کے مظاہرے کے دوران احتجاج کرنیوالوں پر پولیس نے شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا تھا جس کے باعث رکن سندھ اسمبلی سمیت کئی کارکنان زخمی ہوگئے تھے ایک عہدیدار جاں بحق۔ اور اگر ایہہ کم عمران خان دی حکومت نے کیتا ظندا اس ٹائم پستی تو لے کے بولی تک سب کھل کے پے جانے سن حکومت نو۔ فیر_کہندے_بوٹا_گالاں_کڈدا_اے

پاکستان میں فضائی آپریشن کے لیے ایک اور نجی ایئرلائن تیار منظوری مل گئیاسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ نے آج نجی شعبے کی ائیر لائن کیو ائیر ویز کی منظوری دے دی ہے , کیو ائیر ویز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او)کیپٹن احسن

ایک رپورٹ کے باعث ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رینکنگ میں تنزلی ہوئی، فرخ حبیباپوزیشن کاٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ پر واویلا بلاجواز ہے، وزیر مملکت Chal jhoote Uff Allah atni sadgi😍😍😍😍

سمیع اللہ خان: دوران چھاپہ فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مردان کے پولیس اہلکار کی میت حوالگی میں تاخیر کیوں ہوئی؟ عزیز اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور 9 منٹ قبل ،تصویر کا ذریعہ Twitter/@MYusufzai ’ایک دکھ تو والد کی موت کا تھا اور دوسرا دکھ یہ کہ انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔ گاؤں میں اعلانات ہو گئے تھے اور لوگ گھر پہنچ رہے تھے، علاقے میں ویسے بھی شہید کے جنازے میں شرکت کے لیے دور دور سے بھی لوگ آتے ہیں۔‘ جرائم پیشہ افراد اور شدت پسندوں کے خلاف مختلف مقامات پر پولیس مقابلوں میں شریک پولیس اہلکار سمیع اللہ خان منگل کو ایک چھاپے کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہو گئے لیکن ان کے ورثا کو میت حاصل کرنے میں کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ ان کے بیٹے ابرار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز انھیں اطلاع ملی تھی کہ والد صاحب ایک چھاپے میں فائرنگ کا نشانہ بن گئے ہیں۔ ابرار بتاتے ہیں کہ ’ہم مردان سے پشاور پہنچے تو معلوم ہوا کے والد صاحب کا پوسٹ مارٹم ہو چکا ہے اور ہمیں پولیس لائن پہنچنے کا کہا گیا، جہاں ہم نے ساڑھے تین گھنٹے انتظار کیا۔‘ انھیں حکام کی جانب سے اس انتظار کی وجہ یہ بتائی گئی کہ جب پولیس افسران آ جائیں گے تب پشاور کی پولیس لائن میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔ ابرار نے خاندان سے مشاورت کے بعد گاؤں میں شام ساڑھے چار بجے کا وقت نماز جنازہ اور تدفین کے لیے مقرر کیا تھا تاہم پشاور کی پولیس لائن میں انھیں میت حوالے نہیں کی جا رہی تھی اور یہی کہا جاتا رہا کہ ’تھوڑی دیر انتظار کریں افسران آنے والے ہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’پہلے نو بجے کا وقت دیا گیا، پھر دس بجے اور پھر ساڑھے بارہ بجے کا وقت بتایا گیا۔‘ ،تصویر کا ذریعہ Courtesy Ibrar Khan ان کا کہنا تھا کہ انھیں جو وقت پشاور میں بتایا گیا انھوں نے اسی حساب سے گاؤں میں تدفین کا وقت مقرر کیا تھا لیکن یہاں پشاور میں مسلسل تاخیر کی جا رہی تھی۔ ’تاخیر کی ایک وجہ یہ بتائی گئی کہ کسی ایک پولیس افسر کی والدہ فوت ہو گئی ہیں اور یہاں سے افسران ان کی نماز جنازہ کے لیے گئے ہیں۔‘ انھوں نے بتایا کہ پشاور پولیس لائن سے وہ پونے ایک بجے فارغ ہوئے اور مردان کے لیے روانہ ہوئے جہاں بڑی تعداد میں لوگ انتطار کر رہے تھے۔ یہ خبر اس وقت منظر عام پر آئی جب سینیئر صحافی مشتاق یوسفزئی نے یہ معاملہ ٹوئٹر پر پوسٹ کیا۔ صحافی مشتاق یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ سمیع اللہ کا تعلق ان کے گاؤں سے ہے اور جب انھیں اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال پہنچے جہاں معلوم ہوا کہ سمیع اللہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’سمیع اللہ کے بچے مردان کے قریب گاؤں کاٹلنگ میں تھے اور انھیں یہاں پہنچنے میں وقت لگ گیا تھا۔‘ ،تصویر کا ذریعہ Courtesy Ibrar Khan ’اس کے بعد وہ میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے گئے، جو بیس منٹ میں ہو گیا۔ اس کے بعد وہ میت گاؤں لے جانا چاہتے تھے لیکن پولیس اہلکاروں نے کہا کہ پہلے میت پولیس لائن لے جائیں گے اس کے بعد میت ورثا کے حوالے کی جائے گی۔‘ مشتاق یوسفزئی کا کہنا تھا کہ وہ پولیس لائن صبح نو بجے پہنچ گئے تھے۔ سمیع اللہ کے بیٹے بھی پہنچ گئے اور میت پولیس لائن کی مسجد میں رکھ دی گئی۔ اس کے بعد انھیں کئی گھنٹے اس لیے انتظار کرنا پڑا کیونکہ پولیس افسران نہیں پہنچے تھے۔‘ یہ بھی پڑھیے