یوریا کھاد کا بحران شدت اختیار کرگیا

26/01/2022 2:00:00 PM

پتوکی ، پھولنگر ، جمبر، حبیب آباد، سرائے مغل کے علاقوں میں یوریا کھاد کا بحران شدت اختیار کرگیا زمیندار کھاد کے حصول کے لئے جگہ جگہ دھکے کھانے پر مجبور

Punjan, Farmers

یوریا کھاد کا بحران شدت اختیار کرگیا Punjan Farmers UreaFertilizer Crisis Lahore PunjabGovt GovtofPunjabPK CMPunjabPK UsmanAKBuzdar DC Lahore hasaankhawar PtiNorthPunjab PakPMO

پتوکی ، پھولنگر ، جمبر، حبیب آباد، سرائے مغل کے علاقوں میں یوریا کھاد کا بحران شدت اختیار کرگیا زمیندار کھاد کے حصول کے لئے جگہ جگہ دھکے کھانے پر مجبور

مزید پڑھ: Waqtnews »

Nadeem Malik live - SAMAATV - 17 Aug 2022

#NadeemMalik #shahbazgill #ImranKhan #samaatv ➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-da... مزید پڑھ >>

سعودی عرب اور تھائی لینڈ میں نیلے ہیرے کی چوری پر منقطع ہونے والے سفارتی تعلقات 33 برس بعد بحال - BBC News اردوسنہ 1989 میں ایک سعودی محل سے قیمتی جواہرات کی چوری سے قتل کا ایک سلسلہ اور ایک ایسا سفارتی بحران شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ 2/2 1/2 ہاہاہاہہہاہا چور بھی ہونے چاہئیں ورنہ خبر کہاں سے آئے گا۔۔۔

\u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0638\u0645 \u06a9\u06d2 \u062a\u0628\u0635\u0631\u06d2 \u062e\u0648\u0641 \u0633\u06d2 \u0628\u06be\u0631\u067e\u0648\u0631 \u06c1\u06cc\u06ba\u060c \u0631\u0648\u0627\u0646\u06af\u06cc \u0642\u0631\u06cc\u0628 \u06c1\u06d2\u060c \u0645\u0631\u06cc\u0645 \u0627\u0648\u0631\u0646\u06af\u0632\u06cc\u0628\u0648\u0632\u06cc\u0631\u0627\u0639\u0638\u0645 \u06a9\u0648 \u0641\u0648\u0631\u06cc \u0645\u0633\u062a\u0639\u0641\u06cc \u06c1\u0648 \u062c\u0627\u0646\u0627 \u0686\u0627\u06c1\u06cc\u06d2 \u06a9\u06cc\u0648\u0646\u06a9\u06c1 \u0627\u0646 \u06a9\u06cc \u0646\u0627\u0627\u06c1\u0644\u06cc \u067e\u0627\u06a9\u0633\u062a\u0627\u0646 \u06a9\u0648 \u0628\u06c1\u062a \u0645\u06c1\u0646\u06af\u06cc \u067e\u0691 \u0631\u06c1\u06cc \u06c1\u06d2\u060c \u062a\u0631\u062c\u0645\u0627\u0646 \u0645\u0633\u0644\u0645 \u0644\u06cc\u06af(\u0646) تم اپنا اوقات چیک کر لو اور خان صاحب کا چیک کریں بڑی آئی اوقات والی

پاکستانی شہروں میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات افغانستان میں ٹی ٹی پی پر پُراسرار حملوں کا ردعمل ہیں؟ - BBC News اردو2022 کے پہلے ماہ یعنی جنوری کے دوران پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ نے اس کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ایسی کارروائیوں کو فوج جبکہ پنجاب اور سندھ سی ٹی ڈی کے حوالے ہیں۔ Foreign intervention and weak counter intelligence make terror reign possible. نہیں۔ TTP کی مثال تاجی کھوکھر کے شیروں کی طرح ہے۔ ان سے عوام کو خوفزدہ رکھنے کا کام لیا جاتا ہے۔ جب بھی کٹپتلی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ہدایات سے انحراف کرتی ہے، تو TTP حرکت میں اجاتا ہے۔ سموگ کے باوجود ٹاور کا جہر نہٹر چل رہا ہے جسکا شور اور پلوشن ہمارے گھر میں اتی ہے شکایت درج نمبر pu15032188112059 ۔۔۔pu1092188989280 دس ارب درخت لگان کا کیا فایدہ اپ شکایت سیل ختم کرے۔یا پھر ارام پرستوں کو مستقل ارام کرنے کیلیے گھر بھجے نوجوانوں میں ٹیلنٹ کی کمی بھرتی کرے

ثقلین مشتاق کا پی سی بی کے ساتھ مزید کام نہ کرنے کا فیصلہپاکستان کرکٹ بورڈ ثقلین مشتاق کوہائی پرفارمنس کوچ مقررکرنےکا خواہش مند تھا: ذرائع

نئی مانیٹری پالیسی ، اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلانپریس کانفرنس کے دوران آج پہلی مرتبہ یہ احساس ہورہا تھا کہ اب اسٹیٹ بینک ہمارا نہیں رہا۔۔۔ جناب رضا باقر اسٹیٹ بینک کے گورنر کم، IMF کے تنخواہ دار زیادہ لگ رہے تھے۔۔۔

زمیندار کھاد کے حصول کے لئے جگہ جگہ دھکے کھانے پر مجبور  دس روز سے تحصیل پتوکی میں یوریا کھاد کی سپلائی معطل ۔، وزیر اعلی پنجاب ، صوبائی وزیر زراعت ،کمشنر لاہور فوری طور پر نوٹس لیں  تحصیل پتوکی اور گردونواح میں یوریا کھاد کی سپلائی دس روز سے معطل ہے جس وجہ سے یوریا کھاد کا بحران پیداہوگیا زمیندار جگہ جگہ دھکے کھاتے نظر آتے ہیں آل پاکستان کسان اتحادتحصیل پتوکی  کے صدر ساجد ارشاد نمبردار نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور یوریا کھاد کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ زمینداروں کی فصلیں متاثر نہ ہوں .سعودی عرب اور تھائی لینڈ میں نیلے ہیرے کی چوری کے بعد منقطع ہونے والے سفارتی تعلقات 33 برس بعد بحال 29 ستمبر 2019 اپ ڈیٹ کی گئی ایک گھنٹہ قبل ،تصویر کا ذریعہ Getty Images سعودی عرب اور تھائی لینڈ میں لگ بھگ 33 برس بعد سفارتی تعلقات مکمل طور پر بحال ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات کی منسوخی سنہ 1989 میں ہوئی تھی جب تھائی لینڈ کے ایک شہری نے ایک سعودی شہزادے کا 20 ملین ڈالر مالیت کا مشہور ’نیلا ہیرا‘ چُرا لیا تھا۔ بی بی سی فارسی کے مطابق سفارتی تعلقات میں یہ بحالی تھائی لینڈ کے وزیر اعظم پریوت چان کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے تناظر میں ہوئی ہے۔ تھائی وزیر اعظم اپنے دورے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملے اور اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور تجارتی روابط کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ نیلے ہیرے کی چوری کی داستان اور اس پر ہونے والی تفتیش کے دوران متعدد اندھے قتل کی کہانی ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔ ،تصویر کا ذریعہ Not Specified سنہ 1989 میں ایک سعودی محل سے قیمتی جواہرات کی چوری سے قتل کا ایک سلسلہ اور ایک ایسا سفارتی بحران شروع ہوا جو لگ بھگ تین دہائیوں تک جاری رہا۔ اب ایک غیر معمولی انٹرویو میں اس چوری میں ملوث شخص اپنی کہانی سُنا رہے ہیں۔ سعودی شہزادہ اور ان کی اہلیہ تین ماہ کے لیے چھٹیوں پر گئے ہوئے تھے اور چور جانتا تھا کہ یہی اس کام کے لیے بہترین وقت ہے۔ کریانگکرائی ٹیچامونگ ایک بڑا خطرہ مول لے رہے تھے۔ سعودی عرب میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہو سکتی ہے مگر کریانگکرائی کوئی عام چور نہیں تھے۔ ان کی آنکھیں ان درجنوں قیمتی جواہرات اور نگینوں پر تھیں جو ان کے مالک اور سعودی شہنشاہ فہد کے سب سے بڑے بیٹے شہزادہ فیصل کی ملکیت میں تھے۔ ایک خاکروب ہونے کی وجہ سے کریانگکرائی شہزادہ فیصل کے محل کے چپے چپے سے واقف تھے اور انھوں نے یہ جان لیا تھا کہ شہزادہ فیصل کے جواہرات جن تجوریوں میں محفوظ رکھے جاتے تھے، ان چار تجوریوں میں سے تین کو تالہ لگائے بغیر چھوڑ دینا معمول تھا۔ یہ ایسا موقع تھا جسے گنوایا نہیں جا سکتا تھا۔ کریانگ کرائے قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور یہ پابندیوں سے بھرے اس ملک سے باہر نکلنے کے لیے ایک سنہری موقع تھا جس میں وہ مزید نہیں رہ سکتے تھے۔ ایک شام انھوں نے اندھیرا ہونے کے بعد بھی محل میں رہنے کے لیے ایک بہانہ تراش لیا۔ انھوں نے تب تک انتظار کیا جب تک کہ عملے کے دیگر ارکان وہاں سے چلے نہیں گئے۔ اس کے بعد وہ چپکے سے شہزادے کی خوابگاہ میں داخل ہو گئے۔ انھوں نے کچھ جواہرات اٹھا لیے اور انھیں ٹیپ کے ساتھ اپنے جسم سے چپکا لیا۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے صفائی کے سامان بشمول ویکیوم کلینر کے تھیلوں میں بھی کئی جواہرات چھا لیے۔ ،تصویر کا ذریعہ ،تصویر کا کیپشن کریانگکرائی ٹیچامونگ اس کارروائی کے اختتام تک وہ 30 کلو (66 پاؤنڈ) سامان لوٹ چکے تھے جن کی قیمت اس وقت کوئی دو کروڑ ڈالر کے قریب تھی۔ بعد میں سعودی حکام نے کہا کہ چرائے گئے سامان میں کئی طلائی گھڑیاں اور کئی یاقوت بھی شامل تھے۔ اس رات کریانگکرائی نے محل میں ایسی کئی جگہوں پر لوٹ کا سامان چھپا دیا جہاں وہ جانتے تھے کہ انھیں تلاش نہیں کیا جا سکے گا۔ اس کے بعد ایک ماہ کے دورانیے میں وہ ان جواہرات کو اس سامان میں منتقل کر کے چھپاتے رہے جو وہ تھائی لینڈ میں اپنے گھر بھیج رہے تھے۔ جب تک اس چوری کا علم ہوا تب تک کریانگکرائی اپنے آبائی ملک تھائی لینڈ فرار ہوچکے تھے اور ان سے کچھ دن قبل ہی ان کا سامان بھی روانہ ہو چکا تھا۔ مگر چور کے سامنے اب ایک اور چیلنج تھا، یعنی اس لوٹے گئے سامان کو تھائی کسٹمز سے گزارنا۔ امپورٹ کیے گئے تمام سامان کو ملک میں داخلے کے وقت چیک ہونا تھا مگر چونکہ وہ جانتے تھے کہ تھائی حکام رشوت کو کبھی نہ نہیں کہہ سکتے، اس لیے کریانگکرائی نے سامان میں ایک لفافے میں پیسے ڈال کر اس کے ساتھ ایک نوٹ لکھ کر رکھ دیا۔ اس نوٹ میں انھوں نے لکھا تھا کہ ان کے سامان میں فحش مواد موجود ہے اور وہ چاہیں گے کہ اس کی تلاشی نہ لی جائے۔ ان کا منصوبہ کام کر گیا مگر کریانگکرائی زیادہ عرصے تک انصاف سے بھاگ نہ سکے۔ جنوری سنہ 1990 میں انھیں تھائی لینڈ کے شمالی صوبے لمپانگ میں واقع ان کے گھر سے اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب سعودی حکام نے تھائی حکام کو اس حوالے سے اطلاع دی تھی۔ جواہرات اور نگینے جن میں سے کچھ وہ فروخت کر چکے تھے اور کچھ ان کے پاس تھے، جلد ہی برآمد کر لیے گئے۔ مگر ان کی برآمدگی اور ان کی ریاض واپس منتقلی کے دوران ایک اور جرم ہو گیا۔ سعودی حکام نے کہا کہ تقریباً 80 فیصد ابھی بھی کم تھے جبکہ لوٹائے گئے کئی جواہرات نقلی تھے۔ اس کے بعد ایک سینیئر تھائی اہلکار کی اہلیہ کی کچھ تصاویر سامنے آئیں جن میں انھوں نے ایک گمشدہ نیکلس سے انتہائی مماثلت رکھنے والا نیکلس پہن رکھا تھا۔ مگر سب سے زیادہ پریشانی جس ایک چیز کی گمشدگی پر تھی وہ ایک انڈے کے سائز کا 50 قیراط کا ایک نیلا ہیرا تھا۔ 10,000 ہیروں میں سے صرف ایک کا ہی غیر معمولی رنگ ہوتا ہے اور ان میں سے بھی بہت کم ہیرے نیلے رنگ کے ہوتے ہیں چنانچہ یہ دنیا کے نایاب ترین اور قیمتی ترین جواہرات میں سے ہیں۔ ان کا مخصوص رنگ ان کے اندر موجود بوران عنصر کی ہلکی سی مقدار کی وجہ سے ہوتا ہے جو زمین کی تہہ میں 600 کلومیٹر گہرائی میں ہیروں کے بننے کے وقت موجود تھا۔ آج دنیا میں موجود زیادہ تر نیلے ہیرے جنوبی افریقہ میں پریٹوریا کے نزدیک کلینن کان سے نکالے گئے ہیں مگر سعودی نیلے ہیرے کا ماخذ معلوم نہیں ہے اور اس کی کوئی تصاویر بھی نہیں ہیں۔ کریانگکرائی کی تقریباً تین سال قید اور سعودی عرب کی جانب سے گمشدہ جواہرات بالخصوص نیلے ہیرے کی گمشدگی سے متعلق انکار کے بعد کیس ختم ہو جانا چاہیے تھا مگر اس کے بجائے تفتیش نے ایک خونی رخ اختیار کر لیا۔ فروری سنہ 1990 کے اوائل میں بینکاک میں سعودی سفارت خانے کے ویزا سیکشن کے دو اہلکار تھائی لینڈ کے دارالحکومت میں اپنے کمپاؤنڈ کی جانب جا رہے تھے۔ اپنی منزل سے کوئی آدھ میل دور ان کی گاڑی پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا اور دونوں اہلکار مارے گئے۔ اسی دوران ایک مسلح شخص ان دونوں اہلکاروں کے ایک ساتھی کے اپارٹمنٹ میں داخل ہوا اور اسے گولی مار دی۔ اس کے کچھ ہفتے بعد سعودی کاروباری شخصیت محمد الرویلی کو بنکاک بھیجا گیا تاکہ وہ گمشدہ سامان کے بارے میں پتہ لگا سکیں۔ مگر انھیں بھی ہدف بنایا گیا۔ انھیں اغوا کیا گیا اور آج تک ان کا جسم نہیں مل سکا۔ خیال ہے کہ انھیں بھی قتل کر دیا گیا۔ ان تمام ہلاکتوں کے بارے میں کئی نظریات پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ سنہ 2010 میں بینکاک میں امریکی سفارت خانے کے سفارتی عملے کے ڈپٹی چیف کی جانب سے لکھے گئے ایک سفارتی نوٹ جسے بعد میں وکی لیکس نے شائع کیا، کے مطابق تینوں سفارتکاروں کا قتل ’تقریباً یقیناً' شیعہ مسلم عسکریت پسند گروہ 'حزب اللہ کے ساتھ سعودی مخاصمت کا ایک حصہ تھا۔' مگر ایک سعودی اہلکار بالخصوص اس حوالے سے قائل تھے کہ ان کے پیچھے کون ہو سکتا ہے۔ سفارت کاری میں 35 سال کا تجربہ رکھنے والے محمد سعید کھوجہ کو چوری کے کچھ ہی عرصے بعد تفتیش کی نگرانی کے لیے بینکاک بھیجا گیا۔ انھیں تھائی لینڈ میں صرف تین ماہ رہنا تھا مگر وہ وہاں پر کئی سال تک مقیم رہے۔ ،تصویر کا ذریعہ Khaosod تکنیکی طور پر وہ سفیر نہیں بلکہ اس سے ایک درجہ نیچے 'ناظم الامور' تھے۔ یہ اس لیے تھا کیونکہ سعودی عرب نے چوری اور ہلاکتوں کے بعد تھائی لینڈ کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات میں تنزلی کر دی تھی۔ اس اقدام سے سعودی عرب میں تھائی افرادی قوت کی تعداد دو لاکھ سے کم ہو کر صرف 15 ہزار رہ گئی تھی۔ اس سے مبینہ طور پر تھائی معیشت کو ہر سال اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا کیونکہ اس کا کافی حد تک انحصار بیرونِ ملک سے موصول ہونے والے زرِ مبادلہ پر تھا۔ سخت گیر طبعیت کے مالک کھوجہ اپنی میز پر اپنی سمتھ اینڈ ویسن کی بندوق رکھ کر پریس کو انٹرویوز دیا کرتے اور اصرار کرتے تھے کہ تھائی پولیس مسلسل ان کے پیچھے ہے۔ ان کے انٹرویوز جو کہ تھائی اخبارات کے صفحۂ اول پر شائع ہوتے تھے کسی بھی سفارت کار کے حوالے سے نہایت بے لاگ ہوا کرتے تھے۔ وہ کھلے عام تھائی پولیس پر برآمد کیے گئے جواہرات چرانے اور اپنی اس خرد برد کو چھپانے کے لیے سعودی اہلکاروں کو قتل کرنے کا الزام عائد کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان سعودی اہلکاروں کو اس لیے قتل کیا گیا تھا کیونکہ وہ اس چوری کے بارے میں اہم معلومات تک پہنچ چکے تھے۔ سفارت کاروں کے قتل کی تحقیقات کے انچارج افسر پر محمد الرویلی کی گمشدگی کا باضابطہ الزام عائد کیا گیا مگر بعد میں یہ الزامات واپس لے لیے گئے۔ ستمبر سنہ 1994 میں نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کھوجہ نے کہا تھا 'یہاں پر پولیس حکومت سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ میں مسلمان ہوں اور میں یہاں اس لیے رکا ہوا ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ میں شیطانوں سے لڑ رہا ہوں۔' یہ اسی ماہ ان کے دیے گئے کئی انٹرویوز میں سے صرف ایک تھا اور یہ چوری سے منسلک ایک اور قتل کے فوراً ہی بعد دیا گیا تھا۔ ،تصویر کا ذریعہ Getty Images سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے تھائی لینڈ اس کیس کا حل تلاش کر رہا تھا۔ تھائی حکام نے اس شخص کی نشاندہی کر لی تھی جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا تھا کہ اس نے کریانگکرائی کی تھائی لینڈ واپسی پر جواہرات کے اس ذخیرے کو سنبھالا تھا۔ جواہرات کے اس تھائی ڈیلر کے بارے میں مانا جا رہا تھا کہ اس نے اصل فروخت کر کے انھیں نقل سے تبدیل کر دیا تھا۔ اور وہی اس کیس میں مرکزی گواہ بنے۔ مگر جولائی سنہ 1994 میں اس کی بیوی اور بیٹا لاپتہ ہو گئے اور بعد میں ان کی لاشیں بینکاک کے باہر ایک مرسیڈیز گاڑی سے ملیں۔ ویسے تو ان کی لاشوں پر شدید چوٹوں کے نشانات تھے مگر فارینسک رپورٹ کے مطابق ان کی ہلاکت ان کی گاڑی کی ایک بڑے ٹرک سے ٹکر سے ہوئی تھی۔ کھوجہ نے اس پر بھی کئی انٹرویوز دیے۔ ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا 'فارینسک کمانڈر سمجھتے ہیں کہ ہم بے وقوف ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ وہ سب کچھ چھپانا چاہتے ہیں۔' کھوجہ صحیح تھے۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ گمشدہ جواہرات تلاش کرنے پر مامور پولیس نے اس میں سے کچھ خرد برد کر لیے تھے، جواہرات کے ڈیلر سے بھتہ لیا تھا اور ان کی اہلیہ اور بیٹے کو مار دیا تھا۔ اصل تحقیقات کے پولیس چیف انچارج شالور کرڈتھیس نے بالآخر 20 سال جیل میں گزارے۔ 'جو کچھ بھی ہوا، وہ ایک ڈراؤنا خواب تھا' کریانگکرائی اب پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ جیل سے ان کی رہائی کو 28 سال ہو چکے ہیں اور اس دلیرانہ چوری کو 30 سال۔ اب وہ شمال مغربی تھائی لینڈ میں اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ کئی دنوں تک بی بی سی تھائی سروس کی ایک ٹیم ان کے پتے کے بارے میں ایک کے بعد ایک سراغ کا پیچھا کرتے ہوئے بالآخر ان کے سادہ سے گھر تک پہنچ گئی۔ ان کی آنکھیں کبھی دائیں کبھی بائیں دیکھ رہی ہیں اور ان کا خوف واضح ہے۔ وہ بار بار پوچھتے ہیں کہ کہیں ہمارے رپورٹر پولیس افسر تو نہیں۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ ہم ان کے گھر سے باہر نکلیں اور قریب ہی واقع ان کے چاولوں کے کھیت میں کھڑے ہو کر بات کریں۔ گھٹنوں تک بلند اپنے پودوں کے درمیان راستہ بناتے ہوئے وہ بات کرنا شروع کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، 'جو کچھ بھی ہوا، وہ میرے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔' اگلے چند دنوں میں انھوں نے اُس چوری کے بعد سے اب تک کے سب سے تفصیلی انٹرویوز میں سے ایک دیا جس کی وجہ سے کم از کم تین اور ممکنہ طور پر کئی دیگر لوگوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ اتنے سال گزر جانے کے بعد بھی انھیں خوف ہے کہ انھیں قتل کیا جا سکتا ہے۔ یہ خوف انھیں پکڑے جانے سے لے کر اب تک لاحق رہا ہے۔ ،تصویر کا ذریعہ Panumas Sanguanwong/BBC Thai وہ کہتے ہیں 'جس وقت مجھے گرفتار کیا گیا اس وقت مجھے لگ رہا تھا کہ میں پاگل ہوں۔ میں اپنے ارد گرد موجود ہر کسی چیز کی وجہ سے گھبراہٹ اور خوف کا شکار تھا۔ میرے ذہن پر صرف ایک چیز سوار تھی کہ میں زندہ بچ نہیں سکوں گا۔ مجھے یہ بھی خوف تھا کہ کئی لوگ مجھے لاپتہ یا قتل کرنا چاہتے تھے۔ مجھے ایک ہفتے تک تو نیند ہی نہیں آئی۔' کریانگکرائی کا اصرار ہے کہ انھیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا کیا گیا جرم اس قدر حساس صورت اختیار کر لے گا۔ وہ جانتے تھے کہ سونا بہت قیمتی ہوتا ہے مگر انھیں دیگر اشیا کی پوری قیمت کا اندازہ جیل سے باہر آنے تک نہیں تھا۔ وہ کہتے ہیں 'جب پولیس نے مجھے ڈھونڈ نکالا تو میں نے لڑنے کے بجائے ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دی۔ میں نے جواہرات بھی واپس لوٹا دیے اور فروخت کی جا چکی چیزوں کی واپس کے حصول میں مدد دی۔ پر اگر اس کہانی میں تھائی لینڈ کے طاقتور لوگ شامل نہ ہوتے تو یہ معاملہ اس قدر نہ الجھتا۔' اپنا جرم قبول کرنے کے بعد ان کی سزا پانچ سال سے کم کر دو سال اور سات ماہ کر دی گئی۔ جیل سے نکلتے ہی انھوں نے اپنے بیٹے کو شرمندگی سے بچانے کے لیے اپنا آخری نام تبدیل کر لیا۔ چور سے راہب مگر وہ اپنے کیے پر پچھتاتے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جیل کے بعد ان کی زندگی 'مایوسیوں اور افسوس ناک واقعات' سے پر رہی۔ چنانچہ مارچ سنہ 2016 میں انھوں نے بدھ راہب بننے کا فیصلہ کر لیا۔ ،تصویر کا ذریعہ Panumas Sanguanwong/BBC Thai جب وہ تربیت پا کر راہب بن گئے تو ایک تقریب میں انھوں نے میڈیا کو مدعو کیا اور چند الفاظ کہے: 'میں زندگی بھر کے لیے راہب بننا چاہتا ہوں تاکہ سعودی ہیرے کی نحوست کو مٹا سکوں اور اپنی اچھائی ان لوگوں کے لیے وقف کر سکوں جنھیں میرے برے اعمال سے نقصان پہنچا ہے اور ان کے لیے جو ماضی کے واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔ میں اپنے کیے پر ہر کسی سے معافی کا طلبگار ہوں۔' ایک راہب کے طور پر کریانگکرائی نے اپنے لیے ایسا نام چنا جس کے معنیٰ ہیں 'ہیرے جیسے مضبوط'۔ اس دن وہاں موجود لوگوں میں شالور کرڈتھیس بھی تھے جنھیں جواہرات کے ڈیلر کے خاندان کے قتل کے لیے قید کی سزا ہوئی تھی۔ تھائی میڈیا کے مطابق جیل میں بھی ان کا بیان تھا کہ وہ مجرم نہیں ہیں اور انھوں نے مشہور گلوکار ایلوس کی نقالی میں ملکہ حاصل کر لیا تھا۔ رہائی کے بعد انھوں نے بھی راہب بننے کا فیصلہ کیا مگر خانقاہ میں وہ زیادہ عرصہ نہیں رکے۔ صرف شالور اور کریانگکرائی نیلے ہیرے کے اس پورے معاملے میں جیل جانے والے لوگ ہیں۔ مارچ میں تھائی لینڈ کی سپریم کورٹ نے پانچ سابق پولیس اہلکاروں کو سعودی کاروباری شخصیت محمد الرویلی کی گمشدگی اور قتل کے پانچ ملزموں کو بری کر دیا تھا۔ ،تصویر کا ذریعہ Matichon خانقاہ میں بھی کریانگکرائی اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔ لوگ انھیں ڈھونڈتے اور ان سے پوچھتے کہ انھوں نے نیلا ہیرا کہاں چھپا رکھا ہے۔ وہ انھیں کچھ نہ بتاتے جس سے لوگ یہ سمجھتے کہ انھوں نے یہ گھر پر چھپا رکھا ہے۔ نیلا ہیرا آج تک نہیں مل سکا ہے۔ کریانگکرائی اس خانقاہ میں صرف تین سال رہے۔ وہ کہتے ہیں 'میں زندگی بھر کے لیے راہب نہیں بنا رہ سکتا تھا کیونکہ میرا خاندان بھی ہے۔' اب 61 سال کے ہو چکے کریانگکرائی گزر بسر کے لیے کوئی بھی کام کر لیتے ہیں چاہے چاول کے کھیت اگانا ہو یا مرمت وغیرہ۔ اپنے لکڑی کے گھر میں بیٹھے کریانگکرائی کہتے ہیں 'اب میں ایک دیہاتی کے طور پر عام زندگی جیتا ہوں۔ میرے پاس زیادہ پیسے نہیں ہیں۔ یہ صرف میرے خاندان کی گزر بسر جتنے ہی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ میرے لیے یہی حقیقی خوشی ہے۔' متعلقہ عنوانات.0 مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم کو فوری مستعفی ہو جانا چاہیے— فوٹو: ڈان نیوز مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لائیو ٹیلی ویژن شو میں مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بنانے پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے تبصرے خوف اور ناامیدی سے بھرپور ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی روانگی قریب ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اورنگزیب نے وزیر اعظم کو ملک کو مہنگائی اور غربت میں دھکیلنے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے کیونکہ ان کی نااہلی پاکستان کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے۔ مزید پڑھیں: اگر حکومت سے باہر نکل آیا تو زیادہ خطرناک ہوں گا، وزیراعظم وزیر اعظم عمران خان نے اتوار کو براہ راست ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں لیکن مجرموں کے ساتھ مفاہمت نہیں کروں گا، انہوں اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان سے بات کرنا ملک سے غداری کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو قوم کا مجرم بھی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے رمضان شوگر ملز کیس میں ابھی تک جوابات جمع نہیں کرائے اور عدالت پر زور دیا کہ وہ شہباز شریف کے مقدمے کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر کے جلد از جلد اس معاملے کا فیصلہ کرے۔ اپنے بیانیے کا جواب دیتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ عمران کو خوف ہے کہ نواز اور شہباز ہی واحد رہنما ہیں جو ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں، اس لیے وہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہے ہیں اور ہر وہ حربہ استعمال کررہے ہیں جو وہ ان کو نیچا دکھانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی ہمت کیسے ہوئی شہباز شریف کو مجرم کہنے کی؟ پی ٹی آئی کی حکومت بطور وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے تصور کردہ منصوبوں کو دوبارہ شروع کر رہی ہے۔ یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا بیان گیدڑ بھبکی کے سوا کچھ نہیں، مکافات عمل کا شکار ہوئے ہیں، مریم نواز مسلم لیگ(ن) کی ترجمان نے وزیر اعظم پر 26 بے نامی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ کا الزام لگایا اور مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو غیر ملکی فنڈنگ ​​کیس کی حقیقی تفصیلات بتائیں کیونکہ ان کی جماعت چھ سال میں ایک بھی دستاویز جمع نہیں کرا سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان سیاسی شہید بننے کی کوشش نہ کریں اور اپنی نااہلی کی وجہ سے موجودہ بحران کا الزام اداروں پر نہ ڈالیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ہمارے جماعت وزیر اعظم عمران کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے تمام عوامی اور سیاسی حربوں کا سہارا لے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم آپ کو ناصرف اقتدار سے ہٹائیں گے بلکہ آپ نے جو عوام کے ساتھ کیا ہے اس پر ہم آپ کو کان سے پکڑ کار باہر نکالیں گے۔ مزید پڑھیں: حکومت کا جانا ہفتوں، مہینوں نہیں چند دنوں کی بات نظر آرہی ہے، مریم نواز وزیراعظم کی جانب سے مخالفین کو خبردار کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما نے کہا کہ وزیراعظم کو عوام کے غصے کا سامنا صرف اس صورت میں کرنا پڑے گا جب وہ سڑکوں پر آئیں گے۔ وزیر اعظم نے اپوزیشن جماعتوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیا تو آپ کے لیے زیادہ خطرناک ہوں گا، ابھی تک تو میں چپ کر کے بیٹھا ہوتا ہوں، اگر میں سڑکوں پر نکل آیا تو آپ کے لیے چھپنے کی جگہ نہیں ہو گی کیونکہ لوگ آپ کو پہچان چکے ہیں۔.فائل فوٹو پاکستان میں امن کی واپسی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں 2017 کے بعد بتدریج کمی آنا شروع ہو چکی تھی۔ اس کا اندازہ اعداد و شمار کی مدد سے لگایا جائے تو ساؤتھ ایشیا ٹیریرزم پورٹل کے مطابق سنہ 2013 میں پاکستان میں دہشت گردی کے تقریبا چار ہزار واقعات ہوئے تھے جو 2020 میں کم ہو کر 319 رہ چکے تھے۔ ان میں سے بھی کئی واقعات ایسے تھے جن میں کالعدم تحریک طالبان، القاعدہ جیسے شدت پسند گروہو کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اور خیال کیا جا رہا تھا کہ ملک میں موجود دہشت گردوں کی کارروائیوں کا دائرہ کار انتہائی محدود ہو چکا ہے اور دہشت گرد گروہ ملک بدر کر دیے گئے ہیں۔ اس دورانیے میں ایسی رپورٹس بھی موصول ہوییں کہ کالعدم تحریک طالبان کے زیادہ تر اراکین افغانستان فرار ہو چکے تھے اور کئی جیلوں میں قید ہیں۔ اگلے تین سالوں میں پاکستان میں امن کی واپسی ہوئی جسے بین الاقوامی طور پر بھی تسلیم کیا گیا۔ اس کا ایک اظہار پاکستان میں کرکٹ کی واپسی کی شکل میں بھی ہوا۔ افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے نتائج گذشتہ برس اگست میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور اس کے نتیجے میں حکومت کی اچانک تبدیلی ایک ایسا واقعہ تھا جس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے گئے۔ سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اس تبدیلی کا تعلق ایسے گروہوں سے تھا جن کے بارے میں پاکستان کا مؤقف تھا کہ یہ گروپ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہیں اور پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ حکومت اور پاکستان فوج کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ ان گروہوں کی پشت پناہی بھی کی جا رہی ہے جس کے لیے کبھی براہ راست تو کبھی بلاواسطہ انڈیا کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان میں دو مختلف آرا پائی جاتی تھیں۔ کچھ ماہرین کا خیال تھا کہ طالبان کی حکومت کی مدد سے پاکستان می دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے میں مدد ملے گی جب کہ چند ماہرین کا ماننا تھا کہ پاکستان مخالف گروہوں، جن میں کالعدم تحریک طالبان سرفہرست ہے، کو مزید تقویت ملے گی۔ ایسے میں افغانستان کی جیلوں میں قید تحریک طالبان پاکستان کے اراکین کی رہائی کی خبریں اور مناظر سامنے آئے جن کے بعد گذشتہ سال ہی پاکستان کے شمالی مغربی سرحدی علاقوں میں دہشت گرد کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ،تصویر کا ذریعہ Getty Images ،تصویر کا کیپشن افغانستان نے طالبان میں اقتدار میں آنے کے بعد جیلوں سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیا گیا تھا جن میں ٹی ٹی پی کے کمانڈرز بشمول خالد بلتی (تصویر میں نہیں ہیں) بھی شامل تھے 202 1 میں دہشت گردی میں اضافہ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2021 میں پاکستان میں 207 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 335 ہلاکتیں ہوئیں جبکہ 555 افراد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والے افراد میں سے 177 سکیورٹی فورسز کے اہلکار تھے جب کہ 126 عام شہری اور 32 دہشت گرد تھے۔ ڈیٹا کے مطابق دہشت گرد حملوں میں سنہ 2020 کے مقابلے میں تقریباً 42 فیصد اضافہ ہوا۔ ان حملوں میں سے 128 کارروائیوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان، مقامی طالبان گروپس اور داعش ملوث تھے۔ 2020 میں ان گروپس نے مجموعی طور پر 95 حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ یعنی واضح طور پر پاکستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا جس پر وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ایسے میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک بین الاقوامی ادارے کو انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد طالبان کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی اور جنگ بندی کا اعلانات بھی سامنے آیا۔ لیکن یہ مذاکرات جلد ہی ناکام ہو گئے تھے، جس کے بعد طالبان کی جانب سے گذشتہ سال نو دسمبر کو جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ ،تصویر کا ذریعہ Getty Images ،تصویر کا کیپشن آئی ایس پی آر کی ایک حالیہ پریس کانفرنس میں ٹی ٹی پی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اُن سے مذاکرات معطل ہیں اور اُن کے خلاف آپریشنز جاری ہیں جو اپنے منطقی انجام تک پہنچیں گے کیا پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی لوٹ رہی ہے؟ حکومت پاکستان اور کالعدم تحریک طالبان کے درمیان مذاکرات کی ناکامی دائمی ہے یا وقتی، اس سوال سے قطع نظر یہ بات واضح ہے کہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر کے دوران صرف تحریک طالبان ہی نہیں بلکہ داعش بھی سرگرم نظر آ رہی ہے۔ عبد الباسط سنگاپور میں مقیم ٹیرزم ایکسپرٹ اور ایس راجہ رتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز میں ریسرچ فیلو ہیں۔ بی بی سے بات کرتے ہوئے عبد الباسط کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور لاہور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں کوئی لنک نہیں۔ ’یہ دونوں مختف واقعات ہیں جن کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔’ عبد الباسط کے مطابق دہشت گردی کے واقعات میں کمی اور بیشی کا سلسلہ نیا نہیں بلکہ ایسا پہلے بھی ہوتا رہتا ہے۔ ایسی لہریں پہلے بھی آئیں اور ختم ہو گئیں لیکن ہر لہر کے پیچھے چند عوامل ضرور ہوتے ہیں جنھیں سمجھنا ضروری ہے۔ عبد الباسط کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر کا آغاز اگست میں ہوا تھا جب کالعدم تحریک طالبان کو ایک جانب افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد آزادی اور حوصلہ ملا تو دوسری جانب 11 مختلف گروہ موجودہ سربراہ نور ولی محسود کی قیادت میں دوبارہ اکھٹے ہوئے۔ ’اس کا ایک نتجہ دہشت گردی کی نئی لہر کے نیتجے میں نکلا لیکن یہ سلسلہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔’ عبدالسید سویڈن میں مقیم پاکستان اور افغانستان کے سکیورٹی امور پر تحقیق کرتے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کےتحریک طالبان پاکستان کے موجودہ سربراہ نور ولی محسود کی سربراہی میں دوبارہ متحد اور مضبوط ہوئی جس کے بعد دہشت گردی کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ عبد السید کے مطابق دہشت گردی کا سلسلہ افغانستان سے منسلک سابقہ قبائلی علاقوں خصوصاً وزیرستان، باجوڑ اور دیر سے شروع ہوا مگر بتدریج ان کا دائرہ کار خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع سمیت پنجاب اور بلوچستان کے شہری علاقوں تک بڑھا ہے۔ ’اسلام اباد میں سال 2020 میں بھی پاکستان طالبان نے دو حملوں کا دعویٰ کیا تھا اور پچھلے سال بھی تین کا، اس لیے یہ حملہ کوئی پہلا حملہ نہیں تھا۔’ ان کے مطابق حالیہ لہر کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ’اس بار اہداف محدود ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’ٹی ٹی پی کے موجودہ سربراہ نور ولی محسود نے اپنی جنگ کو پاکستان میں فقط سیکورٹی فورسز اور حکومت کے بعض اہداف تک محدود رکھا جس کا مقصد یہ تھا کہ ماضی میں تحریک طالبان پاکستان کے حملوں میں عوام کے جانی و مالی نقصانات سے ان کی تنظیم کو عوامی سطح پرجس تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اس کا راستہ روکا جائے۔’ ،تصویر کا ذریعہ.