ہندوستانی ململ جس کی شہرت تجارت کا ذریعہ بھی بنی، غلامی کا طوق بھی

ہندوستانی ململ جس کی بے پناہ مقبولیت تجارت کا ذریعہ بھی بنی اور غلامی کا طوق بھی

05/07/2020 11:13:00 AM

ہندوستانی ململ جس کی بے پناہ مقبولیت تجارت کا ذریعہ بھی بنی اور غلامی کا طوق بھی

سنہ 1851 میں اپنی بہن کو لکھے ایک خط میں ناول نگار جارج ایلیٹ نے ململ کے کپڑوں پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا 'چھینٹے دار' کپڑے سب سے اچھے ہوتے ہیں لیکن اس کا اثر 'چِنٹز' ہوتا ہے۔

پُرتشدد تاریخہارورڈ یونیورسٹی کے مؤرخ ڈاکٹر سوین بیکرٹ کے مطابق چنٹز یعنی چھینٹ کی کہانی بہت وسیع اور المناک ہے۔’یہ مسلح تجارت، استعمار، غلامی اور مقامی لوگوں کو بے دخل کرنے کی داستان ہے۔ بیکرٹ نے جس کہانی کا حوالہ دیا ہے وہ 15ویں صدی میں شروع ہوئی تھی لیکن چنٹز کی تاریخ اس سے بھی پرانی ہے۔‘

پاکستان قوم کو ذاتی طور پر سلام محبت پیش کرتا ہوں، طیب اردگان - ایکسپریس اردو جشن آزادی؛ ‘‘ ارطغرل غازی ‘‘ پاکستانی سفارتخانے پہنچ گئے، پاکستانی قوم کو مبارکباد - ایکسپریس اردو Think Tank-part All-ep-24147-2020-08-14-Think Tank: 14 Aug 2 | Dunya News

تصویر کے کاپی رائٹGetty ImagesImage captionہارورڈ یونیورسٹی کے مؤرخ ڈاکٹر سوین بیکرٹ کے مطابق چنٹز یعنی چھینٹ کی کہانی بہت وسیع اور المناک ہےانگریزی کا چنٹز لفظ اردو کے لفظ چھینٹ سے بنا ہے جس کا مطلب ہوتا ہے چتی دار۔ فیئی نے اپنی کتاب ’کلاتھ دیٹ چینجڈ دی ورلڈ‘ میں لکھا تھا ’ہزاروں سال پہلے یہ کپڑا برصغیر کے علاقوں میں بنایا جاتا تھا۔‘

چنٹز یا چھینٹ ضروری نہیں کہ چمکدار یا پھول پتوں کے پرنٹ والا کپڑا ہو۔ سادہ الفاظ میں، چنٹز ایک روئی سے بنا ہوا کپڑا ہے جس پر رنگ استعمال کیے جاتے ہیں۔چمکدار اور کڑکوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی قسم کے کپڑوں کے لیے چنٹز کا استعمال کیا جاتا تھا۔ 18ویں صدی میں انگریزی بولنے والے لوگ ملوں میں تیار سوتی کپڑوں کے پرنٹ کے لیے اس کا استعمال کرنے لگے 19ویں صدی میں پھولوں کے پتوں کے ڈیزائن اور چمکنے والے کپڑے کو چنٹز کہا جانے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹImage caption’مہنگا ہندوستانی چنٹز یا چھینٹ چمکدار اور تھوڑا کڑک ہوتا تھا‘رائل اونٹاریو میوزیم کی ایک اور کیوریٹر یا منتظم الیگزینڈرا پامر کا کہنا ہے کہ 'مہنگا ہندوستانی چنٹز یا چھینٹ چمکدار اور تھوڑا کڑک ہوتا تھا۔‘اس کی چھپائی دو طریقے سے کی جاتی تھی ایک لکڑی کے بلاک سے اور دوسرا قلم کاری کے ذریعے۔

انڈیا صدیوں سے چھینٹ کی برآمد کرتا رہا تھا لیکن سنہ 1498 میں واسکو ڈی گاما انڈیا پہنچے تب انڈین چھینٹ نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنی شروع کر دی تھی۔واسکو ڈے گاما سے پہلے کرسٹوفر کولمبس نے کئی سال تک انڈیا کی کھوج لگانے کی ناکام کوشش کی تھی۔بیکرٹ کہتے ہیں کہ جب واسکو ڈے گاما پرتگال واپس گئے تو اپنے ساتھ نہ صرف بیش قیمت مصالحے لے کر گئے بلکہ انڈیا کے شاندار سوتی کپڑے بھی لے کر گئے۔

یہ اس تجارت کا آغاز تھا جو بعد میں پرتشدد رخ اختیار کر گئی جس پر تسلط حاصل کرنے کے لیے 100 سال بعد یورپی ممالک نے ایسٹ انڈیا کمپنی تشکیل دی۔تصویر کے کاپی رائٹShophena Kwon, MaiwaImage captionیہ اس تجارت کا آغاز تھا جو بعد میں پرتشدد رخ اختیار کر گئی جس پر تسلط حاصل کرنے کے لیے سو سال بعد یورپی ممالک نے ایسٹ انڈیا کمپنی تشکیل دی

واسکو ڈے گاما کے جانے کے بعد یورپی تاجروں نے بحر ہند کے خطے میں کپڑے کی تجارت شروع کی۔یورپی منڈیلیکن واسکو ڈے گاما جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہاں ان کے اونی اور لیلن کے کپڑوں کا کوئی حریدار نہیں۔ جس کے بعد وہ انڈین چھینٹ کپڑوں کی طرف متوجہ ہوئے۔انھوں نے پہلے اس علاقے میں انڈین چھینٹ کا کاروبار شروع کیا پھر انھوں نے یورپی منڈیوں کی طرف بھی نگاہ ڈالی۔

تمغہ برائے حسن کارکردگی ملنے پر علی ظفر خوشی سے سرشار - ایکسپریس اردو روزگار اسکیم؛ 12 لاکھ ملازمین کے لیے 125 ارب کے قرضوں کی منظوری دی گئی - ایکسپریس اردو برادرملک پاکستان کویوم آزادی پرمبارکبادپیش کرتاہوں: ترک صدر اردوان

انھیں لگا کہ گھر میں بھی منافع کمایا جاسکتا ہے۔ کپڑوں کی تجارت میں ان کا انحصار پہلے عرب اور ترکی کے تاجروں پر تھا۔لیکن جلد ہی انھوں نے ان دلالوں سے جان چھڑانا شروع کردی اور سمندر کے راستے انڈیا سے براہ راست کاروبار کرنے کا راستہ تلاش کر لیا۔ان کی یہ کوشش کامیاب رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹHarrt Wearne CollectionImage captionچھینٹ کو تمام ممالک میں لباس کے کپڑے کے طور پر نہیں اپنایا گیا تھا۔ فرانس میں اشرافیہ نے سب سے پہلے اس کا مطالبہ کیا15ویں صدی میں شروع ہونے والا ان کا چھینٹ کا کاروبار ’کیلیکو کریز‘ میں بدل گیا اور 17ویں صدی میں یہ عروج کو پہنچ گیا۔

انڈیا سے انگلینڈ جانے والے کپڑوں کو کلیکٹ کے بعد ’کالیکو‘ کہا جاتا تھا۔ بعد میں، عام رنگت کے سفید کپاس کے کپڑے کو کیلیکو بھی کہا جاتا تھا۔فیشن کی دنیا میں پہنچنے سے پہلے چھینٹ کا استعمال اندرونی سجاوٹ میں کیا جاتا تھا۔اشرافیہ کا فیشنفیئی کے مطابق انڈین چھینٹ یا چنٹز اشرافیہ کے گھروں میں خاص طور پر رنگین قالین والے چھوٹے کمرے اور بیڈروم میں استعمال ہوتے تھے۔

وہ دیواروں اور بستروں کو ڈھانپتے تھے۔ وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے سینیئر کیوریٹر ڈاکٹر روزمیری کرل کے مطابق چنٹز کو بنیادی طور پرخواتین کا کپڑا تصور کیا جاتا تھا۔Image captionوکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم کے سینیئر کیوریٹر ڈاکٹر روزمیری کرل کے مطابق چنٹز کو بنیادی طور پرخواتین کا کپڑا تصور کیا جاتا تھا

یورپ میں انڈین ٹیکسٹائل تجارت کی علامتسنہ 1625 تک یورپ لائے جانے والے چھینٹ کے کپڑے دل موہ لینے والے ہوا کرتے تھے۔ ان پر چھپے ہوئے پھولوں میں پھولوں والے پودوں کی نمایاں خصوصیات تھیں جن کے بارے میں کرل نے لکھا ہے کہ وہ یورپ میں انڈین ٹیکسٹائل کی تجارت کی علامت ہیں۔

انڈیا اور آس پاس کے علاقوں میں کھپت والی ’چھینٹ‘ رنگین ہوا کرتی تھی۔ جبکہ یورپ بھیجے جانے والے کپڑے زیادہ تر سفید تھے۔ اس وقت چین کا سیرامک ویئر بھی مشہور تھا۔کرل لکھتے ہیں کہ سفید رنگ صحت، حفظان صحت اور پاکیزگی کے بارے میں بھی نئے معاشرتی اور ثقافتی رویوں کا مظاہرہ کرتا تھا۔

کیا دہائیوں سے جدوجہد کرنے والے کشمیری پاکستان سے ناامید ہو چکے ہیں؟ - BBC News اردو مقبوضہ کشمیرجیوے پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا جشن آزادی پر فائرنگ سے کراچی میں دو درجن افراد زخمی ہوگئے - ایکسپریس اردو

دلکش اور پُر کشش کپڑے17ویں صدی کے وسط سے لباس تیار کرنے کے لیے چھینٹ کا استعمال کیا جاتا تھا۔ سنہ 1625 سے یورپی تاجروں نے ہندوستانی فنکاروں کو یورپی جمالیات کے مطابق ڈیزائن تیار کرنے کی ہدایات دینا شروع کردی۔چھینٹ کو تمام ممالک میں لباس کے کپڑے کے طور پر نہیں اپنایا گیا تھا۔ فرانس میں اشرافیہ نے سب سے پہلے اس کا مطالبہ کیا۔

لیکن انگلینڈ اور سپین میں لوگوں نے سنہ 1670 کی دہائی کے بعد اسے پہننا شروع کیا۔ ’کام کرنے والی خواتین نے کئی دہائیاں قبل اسے اپنایا تھا۔‘پورے یورپ میں ہر طبقے کے لوگ مرد اور خواتین دونوں اسے پہن سکتے تھے لہٰذا ہندوستانی چھینٹ بڑے پیمانے پر فیشن کا پہلا کپڑا سمجھا جاتا ہے۔

یورپ کے فساداتROMImage captionفیئی لکھتی ہیں کہ ریشم، کتان، جوٹ اور لینن بنانے والے تاجروں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے اور غیر مسیحوں کے ہاتھوں تیار ہونے والے سوتی کپڑوں کے خلاف فسادات ہوئےعام لوگوں کے لیے ریشم پہننے کے ضابطے تھے لیکن سوتی کپڑے کے بارے میں کوئی ضابطہ نہیں تھا اور چھینٹ کے کریز سے یورپ میں درآمد کرنے والے تاجروں کو بہت منافع ہوا۔ لیکن یورپ کے مقامی تاجر اس سے خوش نہیں تھے۔

فیئی لکھتی ہیں کہ ریشم، کتان، جوٹ اور لینن بنانے والے تاجروں نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے اور غیر مسیح افراد کے ہاتھوں تیار ہونے والے سوتی کپڑوں کے خلاف فسادات ہوئے۔گھریلو تجارت کے دفاع کے لیے فرانس میں سنہ 1686 سے سنہ 1759 کے درمیان چھینٹ پر پوری طرح پابندی لگا دی گئی۔

برطانیہ نے سنہ 1700 سے سنہ 1774 تک اس پر جزوی پابندی لگائی تھی۔تصویر کے کاپی رائٹHarry Wearne CollectionImage captionتاہم ملک بدری کا خطرہ اٹھاتے ہوئے بھی تاجروں نے یورپ میں چھینٹ کی سمگلِنگ جاری رکھی اور لوگ اسے پہنتے رہےچھینٹ کی نقلسپین، وینس، ایران اور سلطنتِ عثمانیہ میں بھی چھینٹ کے بارے میں کئی طرح کے احکامات جاری کیے گئے۔

تاہم ملک بدری کا خطرہ اٹھاتے ہوئے بھی تاجروں نے یورپ میں چھینٹ کی سمگلِنگ جاری رکھی اور لوگ اسے پہنتے رہے۔سنہ 1700 کے دوران یورپی ٹیکسٹال ملوں نے گھریلو سطح پر چھینٹ کی نقل بنانی شروع کر دی اس سے تکنیکی بہتری بھی آئی۔برطانیہ یورپ میں کپڑے پرنٹ کرنے والا بڑا ملک بن گیا لیکن اس وقت تک برطانیہ سوتی کپڑے کی کھپت کے لیے کافی حد تک انڈیا پر انحصار کرتا تھا۔

برطانوی تاجر نہیں چاہتے تھے کہ ان کا منافع کوئی اور بھی لے۔ بد قسمتی سے انھوں نے اس مسئلے کا جو حل نکالا وہ تباہ کن ثابت ہوا۔تصویر کے کاپی رائٹGetty ImagesImage captionامریکہ نے روئی کی ایسی اقسام تیار کیں جو سردی کو برداشت کرسکیں اور وہ مشینوں کے لیے موزوں تھیں

امریکی المیہامریکہ نے روئی کی ایسی اقسام تیار کیں جو سردی کو برداشت کرسکیں اور وہ مشینوں کے لیے موزوں تھیں۔ اس روئی کو کاشت کرنے کے لیے مغربی افریقہ سے غلاموں کی خدمات حاصل کی گئیں، جنھیں انھوں نے یورپی اور ہندوستانی روئی کے بدلے خریدا تھا۔ان غیر اخلاقی طریقوں کے ساتھ برطانوی تاجروں نے بھی سنہ 1770 اور سنہ 1830 کے درمیان نئی ٹیکنالوجی اپنائی تھی۔

بڑے صنعتی انقلاب کا سببفیئی کے الفاظ میں انگریز تاجروں نے دنیا کی پہلی بڑی فیکٹریاں لگائیں اور مل شہر بسائے۔ بیکرٹ نے اپنی کتاب 'امپائر آف کاٹن' میں لکھا ہے یہ بڑے صنعتی انقلاب کے لیے ’لانچِنگ پیڈ‘ یعنی بنیاد بنی۔سنہ 1776 میں امریکہ میں آزادی کے اعلان کے بعد مغرب میں چھینٹ کی طلب میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی اور برطانیہ کے ہاتھ سے اپنی مشینی چھینٹ کے لیے امریکی منڈی نکل چکی تھی۔

انیسویں صدی میں یورپی فیشن اور روایات تبدیل ہوئیں اور رنگ برنگے کپڑے سٹائل سے باہر ہو گئے۔اٹھارویں صدی کے وسط میں برطانیہ میں فن اور دستکاری کی تحریک نے صنعتی مصنوعات کی تردید اور دستکاری اور ڈیزائنوں کو اپنانے پر زور دیا۔چنٹز کی واپسیانٹیرئر ڈیکوریشن کے لیے چنٹز کی طلب برطانیہ کے ساتھ ساتھ برطانیہ کی مشرقی کالونیوں میں بھی برقرار رہی۔ ایران جیسے ممالک میں اس کی مانگ بڑھ رہی تھی جو انڈیا کی ایک بڑی مارکیٹ تھی۔

چھینٹ انیسویں صدی میں مغربی فیشن سے باہر ہو گیا تھا لیکن اس کے بعد سے اس نے کئی بار فیشن کی دنیا میں واپسی کی۔ ان میں سب سے نمایاں سنہ 1960 کی دہائی کا ’ہِپی‘ فیشن ہے۔سنہ 1980 کی دہائی میں انٹیریئر ڈیکوریشن، اندرونی سجاوٹ، کے لیے لورا ایشلے جیسے برانڈز نے اسے خوب استعمال کیا اور اسے مقبول بنایا۔ لیکن آئکیہ سٹور نے اپنی سنہ 1996 کی بااثر مہم 'چک آؤٹ یور چنٹز' کے زریعے اسے پیچھے دھکیل دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹGetty ImagesImage captionفیئی کا کہنا ہے کہ اس میں 'دادی ماں کے پردے' کے جیسا احساس تھا حالانکہ بہت سے لوگوں کی رائے مختلف ہےسستی برطانوی نقلجارج ایلیٹ نے اصل چھینٹ کی سستی برطانوی نقل کے لیے 'چنٹز' کا لفظ دیا تھا پھر پھولوں کے پتوں کے ڈیزائن میں یہ ہر چیز کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

فیئی کا کہنا ہے کہ اس میں ’دادی ماں کے پردے‘ کے جیسا احساس تھا حالانکہ بہت سے لوگوں کی رائے مختلف ہے۔وکٹوریہ اور البرٹ میوزیم کی کیوریٹر دیویہ پٹیل کے مطابق انڈیا میں عصری ڈیزائنر سفیان کھتری اور راجیش پرتاپ سنگھ چنٹز اور دیگر دیسی لباس استعمال کرتے ہیں۔

اسی طرح ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے ایلونڈ ایڈورڈز کا کہنا ہے کہ انڈین فیشن ویک کیٹ واک میں ریٹیل شاپس اور سٹی مالز میں اجرک جیسی چنٹز کی اقسام دیکھنے کو ملتی ہیں۔تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesچتی دار کپڑوں کا فیشنچھینٹ کو صرف اس کے اصل مقام پر ہی نہیں سراہا گیا ہے۔ الیگزینڈر میک کیوین، سارہ برٹن، رچرڈ کوئن، ایرڈیم مورالیولو اور مولبی سے جانی کوکا جیسے جدید ڈیزائنر سنہ 2010 کے بعد سے چھینٹ کا استعمال کررہے ہیں۔

کیتھ کڈسٹن اور بیٹسی جانسن جیسے ڈیزائنرز کئی دہائیوں سے چھینٹ کا استعمال اور اس کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔ کڈسٹن کہتے ہیں 'میں ہمیشہ ہی چھینٹ کی طرف راغب ہوا ہوں۔ یہ طباعت اور مصوری کے معاملے میں حیرت انگیز کپڑے ہیں اس کی مختلف قسمیں ہیں۔اسی طرح جانسن کا کہنا ہے کہ چھینٹ پچھلے 35 سالوں سے میرے کام کا بنیادی مرکز رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹGetty ImagesImage captionوہ کہتے ہیں کہ اسی طرح جانسن کا کہنا ہے کہ چھینٹ پچھلے 35 سالوں سے میرے کام کا بنیادی مرکز رہا ہےسنہ 2010 میں 'ووگ' سمیت متعدد جریدوں میں چنٹز یا چھینٹ کی واپسی کے بارے میں لکھا گیا تھا۔ سنہ 2018 میں ووگ نے لکھا ہے کہ 'پرنٹ بڑے پیمانے پر واپس آیا ہے'۔ یہ ابھی تک حقیقت میں تبدیل ہونا باقی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹHeritage Art/Heritage Images via Getty ImagesImage captionاس کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ چنٹز یا چھینٹ فیشن کے ساتھ ختم ہونے والا نہیں ہےلیکن اس کی تاریخ کو دیکھیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ چنٹز یا چھینٹ فیشن کے ساتھ ختم ہونے والا نہیں ہے۔ بیٹسی جانسن کہتے ہیں ،'یہ گھر کی سجاوٹ اور فیشن میں ہمیشہ آتا اور جاتا رہے گا کیونکہ یہ بہت عمدہ ہے۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

ورلڈ کپ2011 فائنل تنازع کے بعد ٹاس قوانین میں بھی تبدیلی کا انکشافممبئی(ویب ڈیسک) ورلڈ کپ 2011 فائنل میں تنازع کے بعد ٹاس قوانین میں بھی تبدیلی کا انکشاف ہوا ہے۔فکسنگ الزامات کی وجہ سے حالیہ دنوں میں 9 برس قبل ممبئی میں

شیخوپورہ میں احمدی برادری کا انتظامیہ اور مقامی افراد پر قبروں کی بے حرمتی کا الزامپاکستان کے شہر شیخوپورہ کے ایک نواحی گاؤں کی رہائشی احمدیہ برادری کے افراد نے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی افراد نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر ان کے پیاروں کی قبروں کی بے حرمتی کی ہے۔

بحرین میں طلبہ کو گاڑیوں میں بٹھا کر گریجویشن تقریب کا اہتمامبحرین میں ایک ہائی اسکول کی گریجویشن تقریب کا انعقاد کھلے مقام پر کیا گیا۔ اس موقع پر طلبہ کے والدین اور سرپرست اپنی گاڑیوں میں بیٹھے اس سرگرمی میں شریک رہے۔

لاہور میں 14 سالہ بچے کا قتل: مقدمے کا مدعی ہی ملزم نکلاگھر میں والدین کی غیر موجودگی میں ڈاکو نقدی لے جانے کے ساتھ ساتھ ایک 14 برس کے بچے کو قتل کر کے چلے گئے۔ لیکن بعد میں مقدمے کی تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ڈکیتی کا اصل مقصد قتل ہی تھا۔

پاکستان میں پب جی گیم پر پابندی کا فیصلہ اسلام آبادہائیکورٹ میں چیلنج - ایکسپریس اردوپب جی گیم پر پابندی سے بڑی کمپنیوں کی اسپانسرشپ ختم ہونے کا خدشہ ہے، درخواست گزار

ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتہ) کا دن کیسا رہے گا؟برج حمل ، سیارہ مریخ، 21 مارچ سے 20 اپریل آپ کی اپنی صحت ان دنوں ٹھیک نہیں ہے۔ پٹھوں کے امراض اور پیٹ کے امراض تنگ کر سکتے ہیں۔ آج دوپہر کے بعد ایک شاندار خبر