ہم نے دھرنا ختم نہیں کیا بلکہ ملتوی کیا ہے، حافظ نعیم

28/01/2022 4:39:00 PM

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے دھرنا ختم نہیں کیا بلکہ ملتوی کیا ہے۔ تفصیلات جانیے: #DailyJang

Ji, Nasir Shah

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے دھرنا ختم نہیں کیا بلکہ ملتوی کیا ہے۔ تفصیلات جانیے: DailyJang

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلدیاتی قانون سے متعلق ترامیم اسمبلی کے آیندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے دھرنا ختم نہیں کیا بلکہ ملتوی کیا ہے، صوبائی وزیر ناصر شاہ صاحب نے ہمارے مطالبات میڈیا کے سامنے مانے ہیں، امید ہے مطالبات پر دو ہفتوں میں نوٹیفکیشن ہوجائے گا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلدیاتی قانون سے متعلق ترامیم اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ سندھ ترمیمی بلدیاتی قانون 2021ء میں تبدیلی کے لیے جماعتِ اسلامی اور حکومت سندھ کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے جس کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔اس معاہدے کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی نے 29 روز سے سندھ اسمبلی پر جاری اپنا دھرنا ختم کردیا۔جماعتِ اسلامی اور حکومتِ سندھ کے درمیان ہونے والے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء اور ترمیمی بل 2021ء میں ترامیم کے معاہدے کے مسودے کے مطابق طویل مذاکرات کے بعد دونوں جانب سے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے ہو گیا جن کو سندھ حکومت 2013ء کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں صوبائی اسمبلی میں ترمیم کے ذریعے روبہ عمل لائے گی، نیز جن امور پر رولز بنانے یا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ضرورت ہے وہ 2 ہفتوں میں سندھ حکومت سر انجام دے گی۔

مزید پڑھ:
Daily Jang »

Red Line With Syed Talat Hussain | SAMAATV | 30 November 2022

#samaatv ➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-date on the major news making headlines... مزید پڑھ >>

کیا نئے معاون خصوصی برائے احتساب نے نیب ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا؟وزیراعظم کے نئے معاون خصوصی برائے امور احتساب بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جمعرات کو نیب ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ملاقات کی. تفصیلات جانیے: DailyJang

وزیراعظم نے ترجمانوں سے کیا کیا کہا؟ اندرونی کہانی سامنے آگئیوزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہوئے ترجمانوں کے اجلاس کی اندرونی کہانی باہر آگئی۔

کیا ایم کیو ایم نے حدّ ادب پار کر لی تھی ؟ - Urdu Blogs | ARY Newsہر طنز کیا جائے ہر اک طعنہ دیا جائےکچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں نہ رہا جائےتاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی پیغامحق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے کیا ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان آج حق چھین لینے کے ارادے سے سڑکوں پر نکلے اور کیا انھوں نے حدِّ […] غیرت آج نہیں جاگی تو آفاق احمد عامر خان مصطفیٰ کمال فاروق ستار اور کراچی سے کما کر کھانے والوں ڈوب کر مر جانا آج کراچی کی نہیں ھجرت کی توھین ھوئی اورپھر تمھاری ماؤں بہنوں کی عزت پر حملہ پر حملہ ھر لمحہ ھونگے اور تم بے غیرت اور رسوائی کا نام ھو گے g wo sab border paar ker k india ja rahey they , mil gai saza ab khushhh سندھو دیش کے نعرے گویا حد میں رہ کر لگائے جاتے ہیں

صحت کارڈ سے ملنے والے 18ہزار کیا سی سیکشن کیلئے کافی ہیں؟حکومت کے دیگر دعوؤں کی طرح اس پراجیکٹ کی ہنڈیاں بھی اس وقت بیچ چوراہے میں پھوٹی جب لاہور کے متعدد اسپتالوں نے اس کارڈ کے توسط سے ڈیلیوری کی فیس کی ادائیگی لینے سے انکار ہی کردیا، پڑھیے Daniyalspeaks کی رپورٹ SamaaTV Daniyalspeaks kesa ganda channel hay ye doob maro iss project ko b nakam karnay ki koshish kar rahay hayn Daniyalspeaks لفافہ چینل Daniyalspeaks I think Zero Rupess kafi thay. May be 18 Hazar Na kafi ho :)

شہزاد اکبر کا کیا قصور تھا؟ - ایکسپریس اردوشہزاد اکبر نے میاں شہباز شریف فیملی پر 27 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام لگایا چوہدری صاحب آپ بتائیں کہ مردہ ضمیر وزیراعظم عمران خان کا کی ڈکٹیشن پر چل رہا ہے اب تو احتساب کے فوجی بریگیڈیئر لگا دیا ہے پاکستان میں انصاف نہ ملک نہ ہی قوم اے ہورہا ہے ۔شہزاد اکبر نے بھی پھر ملک کا کھلواڑ کیا ۔ تیرے پچھواڑے سے دھواں کیوں نکل رہا ہے حرامی۔ شہزاداکبرکابھی وہی جرم ہےجوتمھاراہے۔تم عوام سےجھوٹ۔بولتےہواوراسنےوزیراعظم سے جھوٹ بولاوزیراعظم کےپاس جھوٹےکوگھر بھیجنےکااختیارتھاسوآج شہزاداکبرفارغ ہوگیا۔عوام کےھاتھ میں یہ اختیاربھی ناپختہ ہے اسلئےتم اورتم جیسےہم پرمسلط ہیں۔جس دن یہ اختیارپختہ ہوگیاتم بھی فارغ۔آیاسمجھ میں بےنسلے

سعودی عرب میں داخلے کیلئے اہم شرائط کیا ہیں؟ -کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد سعودی عرب نے ان غیر ملکیوں کو عمرے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا جنہوں نے ویکسین ARYNEWSOFFICIAL Aslam o alikum, My name is Mujtaba and i want to introduce you to an amazing business opportunity that can change your life!. I am helping others to earn money online upto 100k pkr monthly whithin three months, if you are interested msg me on Whats 00966565351326 Thank u

خاص رپورٹ امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ہم نے دھرنا ختم نہیں کیا بلکہ ملتوی کیا ہے، صوبائی وزیر ناصر شاہ صاحب نے ہمارے مطالبات میڈیا کے سامنے مانے ہیں، امید ہے مطالبات پر دو ہفتوں میں نوٹیفکیشن ہوجائے گا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلدیاتی قانون سے متعلق ترامیم اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ سندھ ترمیمی بلدیاتی قانون 2021ء میں تبدیلی کے لیے جماعتِ اسلامی اور حکومت سندھ کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے جس کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ اس معاہدے کے نتیجے میں جماعتِ اسلامی نے 29 روز سے سندھ اسمبلی پر جاری اپنا دھرنا ختم کردیا۔ جماعتِ اسلامی اور حکومتِ سندھ کے درمیان ہونے والے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء اور ترمیمی بل 2021ء میں ترامیم کے معاہدے کے مسودے کے مطابق طویل مذاکرات کے بعد دونوں جانب سے درج ذیل امور پر اتفاقِ رائے ہو گیا جن کو سندھ حکومت 2013ء کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں صوبائی اسمبلی میں ترمیم کے ذریعے روبہ عمل لائے گی، نیز جن امور پر رولز بنانے یا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی ضرورت ہے وہ 2 ہفتوں میں سندھ حکومت سر انجام دے گی۔ 1: صحت و تعلیم سے متعلق سہولتیں و اختیارات جو بلدیاتی حکومتوں سے ترمیمی بل کے ذریعے صوبائی حکومت میں لے لیے گئے تھے دوبارہ بلدیاتی حکومت کے سپرد کر دیے جائیں گے اور اس سلسلے میں ایکٹ اور اس کے متعلقہ شیڈول سے حذف کیے گئے اندراجات بحال کر دیے جائیں گے۔ 2: مئیر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے چیئرمین ہوں گے۔ 3: بلدیاتی اداروں کے انتخابات کے 30 دن کے اندر پی ایف سی کی تشکیل، اجلاس اور ایوارڈ کا اعلان کر دیا جائے گا، منتخب میئر و چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے، نیز مقامی حکومتوں کے لیے ایوارڈ میں مندرجہ ذیل مالیاتی امور شامل کیے جائیں گے: ٭ آکٹرائے ضلع ٹیکس کے عوض جی ایس ٹی کا حصہ تاریخی حصے داری کی بنیاد پر جو 2000-1999 میں طے کیا گیا تھا، اسی تناسب سے اب بھی دیا جائے گا۔ ٭ صوبائی حکومت جمع شدہ موٹر وہیکل ٹیکس میں مقامی حکومت کو حصہ دے گی۔ ٭ صوبائی حکومت کی جانب سے یو سیز کو ماہانہ اور سالانہ اخراجات کے لیے فنڈز کی فراہمی آبادی کی بنیاد پر ہو گی۔ ٭ صوبے میں پبلک سیفٹی کمیشن تشکیل دیے جائیں گے اور متعلقہ میئر و چیئرمین اس کے ممبر ہوں گے۔ ٭ تعمیر و ترقی، پلاننگ، سہولتوں کی فراہمی سے متعلق تمام اداروں بشمول کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے، ماسٹر پلان اور بلڈنگ کنٹرول وغیرہ کے نظام، ایڈمنسٹریشن میں میئر و چیئرمین کا فعال اور مؤثر کردار ہو گا۔ ٭ سندھ میں بلدیاتی اداروں کی مدت کے اختتام سے 90 دن قبل آئندہ انتخابات کا اعلان کر دیا جائے گا، اس کے لیے ایکٹ میں ضروری ترمیم لائی جائے گی۔ ٭ یہ بات بھی طے کی گئی کہ جماعتِ اسلامی کی جانب سے وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھیجے گئے خط میں درج جن تجاویز پر اتفاق ہو گیا ہے ان پر عمل درآمد کے لیے اور جن پر حکومتِ سندھ کی جانب سے اتفاق نہیں کیا گیا اُن کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے مذاکراتی کمیٹی اپنا کام جاری رکھے گی۔ جماعتِ اسلامی اور حکومتِ سندھ کے درمیان درج ذیل نکات پر بھی اتفاقِ رائے پایا گیا۔ 1: سندھ حکومت فراہمیٔ آب کے 650 ایم جی ڈی کے کے فور منصوبے کی فوری اور ایک ساتھ تکمیل کے لیے وفاقی حکومت پر اپنا مکمل اثر و رسوخ استعمال کرے گی۔ 2: حب کنال، کے بی نہر کی اپ گریڈیشن اور کراچی کے لیے 650 ایم جی ڈی اضافی پانی کی فراہمی کے منصوبے پر جلد از جلد کام مکمل کرے گی۔ 3: سندھ حکومت تعلیمی اداروں میں طلبہ یونین کی بحالی اور ان کے انتخابات کا فوری اہتمام کرے گی اور اس کے لیے ضروری قانون سازی کرے گی۔ 4: کراچی میڈیکل اور ڈینٹل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دلانے کے لیے سندھ حکومت مقامی حکومت کی مدد کے لیے فوری اور ضروری اقدامات کرے گی۔ قومی خبریں سے مزید .مراسلات اسلام آباد (انصار عباسی) وزیراعظم کے نئے معاون خصوصی برائے امور احتساب بریگیڈیئر (ر) مصدق عباسی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جمعرات کو نیب ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سے ملاقات کی جن کے متعلق بتایا گیا ہے کہ انہیں کورونا ہوگیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عباسی نے ڈپٹی چیئرمین نیب سے بھی ملاقات کی۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ دورے کا مقصد بیورو کی مدد کرنا تھا تاکہ ادارہ کارکردگی دکھا سکے اور اس بات کو یقینی بنا سکے کہ ادارہ تیز رفتار انداز سے نتائج کی بنیاد پر احتساب کر سکے۔ رابطہ کرنے پر نیب کے ترجمان نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کی اور نہ تردید۔ بدھ کو ترجمان نے دی نیوز کو بتایا تھا کہ جاوید اقبال کورونا کی وجہ سے پچھلے کئی دن سے دفتر نہیں آ رہے۔ جمعرات کو جب ترجمان سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ چیئرمین جمعرات کو دفتر آئے تھے یا نہیں یا پھر وہ کورونا سے صحتیاب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں علم نہیں کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی بیورو کے ہیڈکوارٹرز آئے تھے۔ ترجمان نے کہا کہ چیئرمین نیب کے اسٹاف کو اس بات کا علم ہوگا کہ آیا وہ آفس آئے تھے اور یہ بھی کہ معاون خصوصی نے دورہ کیا تھا یا نہیں۔ وزیراعظم عمران خان نیب کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، ادارے میں نہ صرف صلاحیتوں کا مسئلہ ہے بلکہ ادارے میں کل وقتی چیئرمین بھی نہیں ہے جس سے ادارہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ موجودہ چیئرمین جاوید اقبال نئے چیئرمین کے تقرر تک کام کرتے رہیں گے اور لگتا ہے کہ حکومت کو بھی نیا چیئرمین لانے کی جلدی نہیں۔ تاہم، نیب کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ جاوید اقبال اپنی موجودہ حیثیت سے ناخوش ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ دفتر نہیں جا رہے۔ ذریعے نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جاوید اقبال صرف بدھ کو یعنی ایک مرتبہ دفتر گئے اور رواں ہفتے صرف ایک مرتبہ یعنی جمعرات کو، جس کی وجہ معاون خصوصی کا دورہ تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اگرچہ حکومت نے نئے ریگولر چیئرمین کے تقرر تک موجودہ چیئرمین کو کام کرنے کی اجازت کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے لیکن وزارت قانون نے موجودہ چیئرمین کو عہدے پر کام کرنے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ چیئرمین نیب ماہر قانون ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حیثیت میں اُن کے بحیثیت چیئرمین نیب کیے گئے فیصلوں پر سوالات اٹھ سکتے ہیں اور اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ حکومت انہیں دوسری مدت کیلئے عہدے پر مقرر کرے۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ چار ماہ سے نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ ایک ذریعے کا دعویٰ تھا کہ اس عرصہ کے دوران کوئی ریفرنس دائر ہوا ہے اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ نیب ذرائع کہتے ہیں کہ بیورو کا کام موجودہ صورتحال کی وجہ سے بُری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ اس بات کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ حکومت نئے چیئرمین کے تقرر کی کارروائی کب شروع کرے گی۔ اگرچہ موجودہ چیئرمین چار سال کی دوسری مدت حاصل کرنے کیلئے کوشاں نظر آتے ہیں لیکن سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت میں کچھ با اثر افراد سابق ڈپٹی چیئرمین نیب حسین اصغر کو چیئرمین نیب بنانے کے حق میں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حکومت میں ایک اور گروپ چاہتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) بلال اکبر کو چیئرمین نیب لگای جائے۔ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ چیئرمین نیب کون ہوگا کیونکہ اس عہدے پر تقرر کیلئے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مذاکرات ضروری ہیں۔ اگر یہ دونوں کسی نام پر اتفاق نہیں کرتے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا۔ اہم خبریں سے مزید.ذرائع کے مطابق ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ، صحت کارڈ اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف کرپشن کیسز پر بات کی۔ دوران اجلاس وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی رپورٹ میں مالی کرپشن کا کوئی ذکر نہیں، صرف قانون کی حکمرانی سے متعلقہ معاملات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پر وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے کا وعدہ پہلے 90 دن میں ختم کردیا تھا، موجودہ دور حکومت میں کوئی مالی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ عمران خان نے مزید کہا کہ سابقہ ادوار میں پاناما جیسے بڑے بڑے اسکینڈل سامنے آتے رہے، ترجمان اپوزیشن لیڈر کی کرپشن کیسز اور منی لانڈرنگ کے معاملات کو مزید اجاگر کریں۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کو بتایا جائے شریف خاندان نے چپڑاسیوں اور کلرکوں کےنام پر کیسے منی لانڈرنگ کی۔ وزیراعظم نے دوران اجلاس بہترین معاشی اشاریوں اور صحت کارڈ جیسی بڑی سہولت سے متعلق عوام کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی اداروں کی معیشت سے متعلق رپورٹوں کا بھی بتایا جائے، کوئی بڑا واقعہ رونما نہ ہوا تو معیشت مزید بہتر ہو گی۔ قومی خبریں سے مزید.ہر طنز کیا جائے ہر اک طعنہ دیا جائے کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں نہ رہا جائے تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی پیغام حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے کیا ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان آج حق چھین لینے کے ارادے سے سڑکوں پر نکلے اور کیا انھوں نے حدِّ ادب پار کر لی تھی جس پر انھیں لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سامنا کرنا پڑا؟ ایسا نہیں‌ ہے۔ یہ احتجاجی دھرنا ہی تھا، اور ایک سیاسی جماعت کا حق تھا لیکن شاید ریڈ زون سے باہر رہتے ہوئے یہ احتجاج مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ یہ بھی حقیقت یہ ہے کہ تقسیم اور ڈھرے بندی کا شکار ایم کیو ایم ہی کیا قومی سطح کی مضبوط سیاسی جماعتوں نے کبھی تاریخ کو اتنی اہمیت ہی نہیں‌ دی کہ اس سے کوئی سبق حاصل کرسکے، کچھ سیکھے۔ جمہوری نظام میں حق چھین کر لیا جاتا ہے یا عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے اور قانون کا سہارا لے، یہ تو کوئی سیاسیات کا ماہر ہی بتا سکتا ہے، لیکن اس وقت کراچی کے سلگتے ہوئے مسائل پر حکومت سے الجھتے ہوئے سیاسی راہ نماؤں‌ کی شعلہ باری اور اپنے مخالفین کو نامناسب انداز میں‌ للکارنے سے شہریوں میں‌ جو بے چینی اور خوف پیدا ہوا ہے، اسے دور کرنا ضروری ہے۔ موجودہ منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو رواں ماہ وفاق اور صوبوں‌ میں‌ بھی حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ سندھ کی طرف چلیں‌ تو وفاق کی حکم راں جماعت تحریکِ انصاف نے پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ کہلانے والے لاڑکانہ میں‌ عوامی اجتماع منعقد کیا اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس کا جواب دیا۔ ادھر کراچی کو حق دو، کراچی والوں کے ساتھ انصاف کرو، کراچی ہمارا ہے جیسے نعروں کے ساتھ گزشتہ چند دنوں میں مختلف پارٹیوں کے کارکن بھی شہر کی سڑکوں پر نظر آئے۔ آج ماضی کی ایک بڑی سیاسی طاقت اور سندھ کے شہری علاقوں‌ کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیا تھا۔ یہ بلدیاتی قانون میں حالیہ ترامیم کے خلاف احتجاجی دھرنا تھا۔ ایم کیو ایم کے کارکنان اور دھرنے میں شامل شہری جب اپنی قیادت کے ساتھ ریڈ زون میں‌ داخل ہوگئے تو پولیس نے انھیں‌ منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، گرفتاریاں ہوئیں اور صورتِ حال بگڑ گئی۔ اس سے قبل ٹنڈو الہ یار میں خلیل عرف بھولو خانزادہ کا قتل اور اس کے بعد سندھ کی شہری آبادی کی قیادت کی جانب سے صوبائی حکومت کو ذمہ دار قرار دے کر لسانی فسادات کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہی نہیں‌ بلکہ سخت بیانات اور ایسی تقاریر کی گئیں جنھیں مختلف واقعات پر سیاسی ردعمل تو کہا جاسکتا ہے، لیکن یہ سب صوبے میں‌ بسنے والوں کے درمیان نفرت اور دوریاں پیدا کرسکتا ہے۔ سنجیدہ و باشعور عوامی حلقے بلدیاتی قانون میں ترامیم پر حکومتِ سندھ کو بھی مطعون کرتے نظر آتے ہیں اور دانش وَر طبقہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ عوام دشمنی کے مترادف ہے، لیکن اس وقت سیاسی جماعتوں جس قسم کا ماحول بنا دیا ہے، اس میں‌ عام آدمی خوف زدہ نظر آرہا ہے۔ بلدیاتی اختیارات اور مسائل کے حوالے سے سیاسی لڑائی بجا، مگر کراچی کے شہریوں کی تشویش دور کرنا اور انھیں تحفظ کا احساس دلانا ضروری ہے۔ اس میں‌ سب سے بڑی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے جو ایک طرف تو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں‌ ناکام نظر آتی ہے اور عوام کے مسائل کے حل میں تاخیر کے حربے استعمال کرتے ہوئے آج بلدیاتی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرچکی ہے۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے بلدیاتی قانون میں ترامیم کے خلاف ایم کیو ایم ہی نہیں‌ سندھ میں‌ حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتیں بھی سراپا احتجاج ہیں۔ جماعتِ اسلامی کی احتجاجی ریلی اور دھرنے، مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق احمد کے جلسے، پاک سَرزمین پارٹی کے مصطفیٰ کمال اور مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین کے احتجاج کے دوران تقریر میں بھی سندھ اسمبلی میں منظور کردہ بلدیاتی بِل کو کالا قانون قرار دیا گیا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی حکومت نے مقامی حکومتوں کے اختیارات سلب کر لیے ہیں اور عوام کے مسائل سے لاتعلق نظر آتی ہے جب کہ صوبائی حکومت کے سربراہ مراد علی شاہ، اور پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت اراکینِ اسمبلی کی نظر میں ان ترامیم کے بعد سندھ میں بلدیاتی قانون دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہو گیا ہے، لیکن کس کا مؤقف درست ہے، یہ جاننے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ انتشار اور افراتفری کی فضا کا خاتمہ کیا جائے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سندھ میں بلدیاتی اداروں کو جس قدر بااختیار ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہیں جب کہ کسی بھی جمہوری اور ترقیّ یافتہ معاشرے کے لیے بااختیار مقامی حکومتیں ضروری ہیں۔ کراچی جو ملک کا معاشی حب اور سب سے بڑا شہر ہے، گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے اور مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل کئی گنا بڑھ چکے ہیں اور صورتِ حال گمبھیر ہے، اسے حل کرنے کے لیے ایک مؤثر اور ہر قسم کے سیاسی امتیاز سے پاک اور مداخلت سے آزاد نظام کی ضرورت ہے۔ سندھ میں اپوزیشن اسی حقیقی مسئلے کو اجاگر کرنے اور حکومت کو متوجہ کرنے کے لیے میدان میں ہے۔ تحریک انصاف اور فنکشنل لیگ بھی گزشتہ دنوں‌ اس حوالے سے متحرک نظر آئی تھیں، لیکن کیا حکومت اور سیاسی جماعتیں تند و تیز بیانات دیتے ہوئے یہ سوچ رہی ہیں‌ کہ اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آج وزیرِ اعلیٰ‌ ہاؤس کے سامنے ایم کیو ایم پاکستان کے دھرنے کے شرکا کے ساتھ جو کچھ ہوا، اسے صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی اور من مانی کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے، لیکن دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے راہ نماؤں نے بھی ایسی تقاریر اور تند تیز بیانات دینا شروع کر دیے ہیں جو خود ان کے ووٹروں اور حامیوں کی مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں حکومتِ سندھ کے اقدامات کے خلاف کوئی تحریک کام یاب ہو یا ناکام، سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے عوام میں دوریاں ضرور بڑھیں گی اور اس کے اچھے نتائج سامنے نہیں‌ آئیں گے۔ سندھ میں اپوزیشن کا یہ مطالبہ درست ہے کہ کراچی کو وہ بلدیاتی نظام دیا جائے جو ایک بڑے شہر کو جدید خطوط پر اس کی ضرورت کے مطابق چلانے کا ذریعہ بنے۔ شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے ذمہ دار محکمے ہی نہیں حکومت، پولیس کو بھی مقامی حکومت کے ماتحت کرے جو حالات میں بہتری لانے کا سبب بنے گا۔ ایک طرف کراچی میں لوٹ مار کے واقعات اور ڈکیتیوں کے دوران مزاحمت پر شہریوں کا قتل معمول بن گیا ہے جب کہ مؤثر بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پہلے ہی مصائب کا شکار ہیں۔ عوامی حلقے بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے بنیادی ضروریات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤثر بلدیاتی نظام دینے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں، لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکم راں اور اپوزیشن جماعتوں‌ کو سمجھنا چاہیے کہ سیاسی میدان میں ان کی شعلہ بیانی سے صوبے میں انتشار اور لسانیت کو فروغ ملے گا اور یہ سب بڑے سماجی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ Share.