کیا حکومت کا تحریک لبیک پر پابندی کا طریقہ کار درست ہے؟ - BBC News اردو

تحریک لبیک پاکستان: کیا حکومت انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت کسی جماعت پر پابندی لگا سکتی ہے؟

15/04/2021 2:38:00 PM

تحریک لبیک پاکستان: کیا حکومت انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت کسی جماعت پر پابندی لگا سکتی ہے؟

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ایک سیاسی جماعت پر اس طرح پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

،تصویر کا ذریعہEPAبی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاست نے اس جماعت پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں کوئی ہوم ورک نہیں کیا اور محض وزیر داخلہ کے ذریعے اس جماعت پر پابندی لگانے کا اعلان کروا دیا۔انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اس جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو اس وقت بھی لاہور اور کراچی سمیت مختلف شہروں میں اس جماعت کے کارکنوں کا احتجاج جاری ہے لیکن قانون ان کے خلاف حرکت میں کیوں نہیں آتا؟

شہباز شریف کو دوحہ روانگی سے قبل جہاز سے آف لوڈ کردیا گیا - ایکسپریس اردو شہباز شریف بیرون ملک روانہ نہ ہوسکے، ایف آئی اے نے قطر روانگی سے روک دیا Muslim world awaits ‘good news’ of meeting between Saudi crown prince and Pakistan PM

حامد میر کا کہنا تھا کہ ’اس جماعت کے کارکن ابھی بھی سوشل میڈیا پر کافی متحرک ہیں اور وہ ریاست اور حکومت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔‘واضح رہے کہ پاکستان میں آج صبح سے ٹوئٹر پر جاری ٹرینڈز میں سے اولین ٹرینڈز تحریک لبیک پاکستان کی حمایت اور جماعت کی پابندی کے فیصلے کے خلاف چل رہے ہیں جبکہ کچھ ٹرینڈز ٹی ایل پی مخالف بھی ہیں۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایک حاضر سروس افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی کی نامہ نگار سارہ عتیق کو بتایا کہ ’کسی سیاسی جماعت پر مکمل پابندی کے لیے ضروری ہے کہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر 2002 کے تحت اس جماعت کو تحلیل کیا جائے کیونکہ اسی صورت میں اس سیاسی جماعت کے ارکان پارلیمان کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جا سکتا ہے، ورنہ سیاسی جماعت کا وجود برقرار رہتا ہے۔‘ headtopics.com

،تصویر کا ذریعہGetty Imagesان کا مزید کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے الیکشن کمیشن سے رجسٹرڈ سیاسی جماعت پر انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت پابندی عائد کی ہو۔تاہم سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کسی تنظیم پر تو فوری طور پر پابندی لگانے کا اختیار وفاق کے پاس ہے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں طریقہ کار الیکشن ایکٹ سنہ 2017 میں واضح طور پر لکھا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت کے پاس کسی بھی جماعت کو کالعدم قرار دینے کا اختیار ضرور ہے لیکن آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے تحت ہی کسی جماعت کو کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے پارٹی امور چلانے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرتی ہے اور اس کے ناقابل تردید شواہد بھی سامنے آ جاتے ہیں تو پھر الیکشن ایکٹ کے آرٹیکل 212 کے تحت یہ معاملہ وفاقی حکومت کو بھجوائے گا اور وفاقی حکومت 15 روز میں یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھجوائے گی۔

کنور دلشاد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ فریقین کو نوٹس جاری کرنے اور ان کا موقف سننے کے بعد ہی کی جماعت پر پابندی عائد کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اگر سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت پر ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے یا دہشت گردی پھیلانے کے الزام کے نتیجے میں پابندی عائد کر دیتی ہے تو پھر اس جماعت کے ٹکٹ سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی نااہل قرار ہو جائیں گے۔

ای سی پی کے سابق سربراہ کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ اگر متاثرہ فریق چاہے تو وہ حکومتی فیصلے کے خلاف عدالتوں میں بھی جاسکتا ہے۔واضح رہے کہ تحریک لبیک پاکستان کے اس وقت تین ارکان سندھ اسمبلی کے رکن ہیں۔ ان میں سے دو ارکان سنہ 2018 میں ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہو کر آئے ہیں جبکہ خواتین کی مخصوص نشتوں پر بھی ایک رکن ہیں۔ headtopics.com

وزیراعظم تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے وزیراعظم سعودیہ پہنچ گئے، جدہ ائیرپورٹ پر سعودی ولی عہد نے پرتپاک استقبال کیا مسئلہ کشمیرسے متعلق سعودی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں: فواد چودھری

پاکستان کی تاریخ میں آج تک صرف ایک سیاسی جماعت پر پابندی عائد کی گئی ہے اور وہ سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی تھی۔سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس جماعت کو کالعدم قرار دیے جانے کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں گیا تھا اور اس وقت کے چیف جسٹس حمود الرحمن کی سربراہی میں قائم ایک بینچ نے دو سال تک اس معاملے کی سماعت کرنے کے بعد اس جماعت کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

فروری 2019 میں دیے گئےفیض آباد دھرنا کیسکے فیصلے میں کیا کہا گیا؟سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے نومبر 2017 میں تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے فیض آباد دھرنے کے عدالتیفیصلے میںتحریک لبیک پاکستان کے بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہونے سے متعلق لکھا تھا کہ اس جماعت نے پارٹی فنڈنگ کے بارے میں الیکشن کمیشن کو کوئی معلومات فراہم نہیں کیں اور الیکشن کمیشن نے اس بارے میں بے بسی کا اظہار بھی کیا ہے۔

اس عدالتی فیصلے میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا بھی ذکر ہے کہ وہ ان افراد میں شامل تھے جو تحریک لبیک پاکستان کے فیض آباد دھرنے کی حمایت کر رہے تھے۔،تصویر کا کیپشننومبر 2017 میں وردی میں ملبوس فوجی افسر نے فیض آباد دھرنے کے شرکا میں رقوم تقسیم کی تھیں

اس فیصلے میں اس دھرنے کی حمایت کرنے والوں میں سابق فوجی آمر ضیا الحق کے صاحبزادے اور سابق وفاقی وزیر اعجاز الحق اور حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے علما ونگ کا بھی ذکر ہے کہ انھوں نے بھی ٹی ایل پی کے دھرنے کی حمایت کی۔شیخ رشید اور حکمراں جماعت سمیت دیگر فریقین نے اس عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیلیں بھی دائر کر رکھی ہیں جو دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک سماعت کے لیے مقرر نہیں ہوئیں۔ headtopics.com

اس فیصلے میں فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کی قیادت اور اس کے مالی معاملات کی تفصیلات فراہم نہ کرنے کا بھی ذکر ہے جبکہ آئی ایس آئی نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اس طرح کی معلومات اکھٹی کرنا ان کا دائرہ اختیار نہیں ہے۔

اس فیصلے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سنہ 1997 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس ایکٹ کے تحت ایجنسیوں کا کردار واضح ہے اور ان اداروں کو ایسے عناصر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو تشدد اور نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔خفیہ ایجسنیوں کے بارے میں مزید لکھا گیا ہے کہ یہ ادارے ایسے عناصر کی حرکات و سکنات کی نگرانی کریں جو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

وزیراعظم کے حکم پر ایف آئی اے توہین عدالت کر رہی ہے: مریم اورنگزیب اسیر نوجوان نے 85 سالہ ماں کی مدد سے الیکشن میں بی جے پی کو شکست دیدی - ایکسپریس اردو شہباز شریف کی لندن روانگی کھٹائی میں پڑ گئی ، ایف آئی اے حکام نے لاہور ایئرپورٹ پر روک دیا

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف 2019 میں جو صدارتی ریفرنس دائر ہوا تھا اس کے بارے میں ان کے وکیل منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر ہونے کی اصل وجہ فیض آباد دھرنے سے متعلق ان کا لکھا گیا فیصلہ ہے۔اسی بارے میںتحریک لبیک پاکستان: پرتشدد مظاہروں اور احتجاج کے بعد حکومت کا تحریکِ لبیک پر پابندی لگانے کا اعلان

مزید پڑھ: BBC News اردو »

موجود ٹیم کمبی نیشن کےساتھ مستقبل میں مشکل ہوگی،انضمام

کبھی کبھار شکست ہوجانا بڑی بات نہیں...;

Hukomat ka ghalat faisla h. Yess جس کی لاٹھی اس کی بھینس - Yes نہیں حکومت صرف انسداد دہشتگری والی جماعت پر پابندی عائد کر سکتی ہے نہ کہ علماء کرام اور اسلامی جماعتوں پر I love TLP Sipah e sahaba per bi ban lga ur ANP bi dusre name se ai hoi he. Dahshatgardo ka siyasat se kia taluq? Aese to khi ni hta ke jatha riyasat chalae.

100 percent TLPbanned بلکل جس طرح برطانیہ اپنے مفادات کی حفاظت کرتی ہے۔ BBC Urdu should refrain from poking its nose unless it is being protective of the empire's interests