کیا لاک ڈاؤن سے انڈیا میں غذا کی قلت ہو جائے گی؟

کورونا وائرس: کیا لاک ڈاؤن سے انڈیا میں غذا کی قلت ہو جائے گی؟

08/04/2020 5:12:00 AM

کورونا وائرس: کیا لاک ڈاؤن سے انڈیا میں غذا کی قلت ہو جائے گی؟

انڈیا کا شمار سب سے زیادہ چاول، گندم، گنا، کپاس، سبزیاں اور دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھیتی باڑی کو روکنے سے نہ صرف کسان اور مزدور متاثر ہوں گے بلکہ اس سے فوڈ سکیورٹی بھی متاثر ہو گی۔

پیاز کے تاجر منوج جین نے مجھے بتایا: ’پہلے ٹرک نے آنا بند کر دیا۔ پھر کچھ مزدور چلے گئے۔ پھر وائرس کی زد میں آنے والے مریض کی خبر آئی تو بچے ہوئے مزدور بھی بھاگ گئے۔‘انھوں نے مزید کہا ’بھیڑ بھار کے پیاز کی نیلامی والے اس بازار میں سماجی دوری بنائے رکھنا انتہائی مشکل کام ہے۔‘

حکومت کے پاس لوگوں کو مزید پیسے دینے کیلئے وسائل نہیں، وزیراعظم عمران خان لوگ کورونا ہی نہیں حکومتی نااہلی کی وجہ سے بھی جانیں گنوارہے ہیں، مریم نواز - ایکسپریس اردو سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے جوتے تیار

اس جگہ سے تقریبا 1700 کلومیٹر فاصلے پر مشرقی ریاست بہار میں ایک کسان کو اسی صورتحال کا سامنا ہے۔بہار کے سمستی پور ضلع کے منونت چودھری اپنے 30 ایکڑ پر پھیلے کھیتوں میں دھان (چاول)، سبزیاں، پھل اگاتے ہیں اور مویشی پالتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاں کام کرنے والے مزدور مقامی ہیں اور سڑک پار ہی رہتے ہیں لیکن انھوں نے بھی کام پر آنے سے منع کر دیا ہے۔

انھوں نے بتایا: ’وہ سڑک پار کر کام پر آتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں کیونکہ انھیں یہ خوف ہے کہ انھیں واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔‘’یہاں وائرس کے بارے میں اس قدر غلط معلومات اور خوف پھیلا ہوا ہے کہ گاؤں والوں نے باہر نکلنا بالکل ہی بند کر دیا ہے۔ جب میں نے اپنی ایک ملازمہ کو کہا کہ اسے تھوڑھی تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ دھونے ہیں تو اس نے پوچھا کہ کیا وہ اس سے بچنے کے لیے دوا کے طور پر گائے کا پیشاب پی سکتی ہے۔ اس لیے ہم سماجی دوری قائم رکھتے ہوئے کھیتی باڑی بھی نہیں کر سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹImage captionلاک ڈاؤن کے بعد خوراک کی ترسیل ایک بہت بڑا چیلنج ہےانڈیا کی نصف سے زیادہ پیداواری قوت کاشتکاری میں لگی ہوئی ہے جبکہ زراعت کا انڈیا کی مجموعی پیداوار میں 16 فیصد کا حصہ ہے۔ انڈیا سب سے زیادہ چاول، گندم، گنا، کپاس، سبزیاں اور دودھ پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کھیتی باڑی کو روکنے سے نہ صرف کسان اور مزدور متاثر ہوں گے بلکہ اس سے فوڈ سکیورٹی بھی متاثر ہو گی۔

لاک ڈاؤن اس سے زیادہ خراب صورت حال میں نہیں آ سکتا تھا۔انڈیا میں کاشتکاری کی سب سے زیادہ سرگرمی اپریل سے جون کے مہینوں کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب جاڑے کی فصل گندم، چاول اور دال کو کاٹا اور فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ پھلوں کا بھی سب سے سرگرم موسم ہوتا ہے۔ اور یہی وہ موسم ہے جب کسان گرمی کی بارش میں اگنے والی فصلیں بوتے ہیں جن میں دھان، دلہن، کپاس اور گنا شامل ہیں۔

اشوکا یونیورسٹی میں عمرانیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر میکھالا کرشنامورتی کہتے ہیں ’لاک ڈاؤن نے دونوں موسم کو متاثر کیا ہے۔‘اس کے علاوہ وبا کے پھیلنے سے قبل ہی کسان کو مشکلات کا سامنا تھا۔ فصلوں کی کم قیمت نے بڑے پیمانے پر دیہی صرفے کو سست کر دیا تھا۔ مناونت چودھری نے بتایا: ’عام حالات میں بھی کاشتکاری ناقابل عمل ہے۔

سنہ 1997 سے اب تک تقریبا دو لاکھ کسانوں نے خود کشی کر لی ہے۔ زیادہ تر خودکشیاں غربت، قرض، فصل اگانے کے خرچ میں بھاری اضافے اور کیڑوں کے حملے سے فصلوں کو ہونے والے نقصانات کی وجہ سے ہوئی ہیں۔تصویر کے کاپی رائٹAFPImage captionانڈیا میں ساڑھے سات ہزار بڑے تھوک کے بازار جبکہ اس کے علاوہ 25 ہزار ہفتہ وار بازار ہیں

مودی کی پالیسیاں خطے کے امن کیلئے خطرہ ہیں: عمران خان کا اطالوی وزیراعظم سے رابطہ مقبوضہ وادی: قابض بھارتی فوج نے ایک روز کے دوران 13 کشمیریوں کو شہید کر دیا آئندہ بجٹ 7600 ارب روپے کا ہو گا، دفاع کیلئے 10 فیصد اضافے کی تجویز

حکومت نے فوڈ سکیورٹی اور غریبوں کو نقد پیسے منتقل کرنے کے لیے 23 ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے لیکن اس کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ کم اور نامناسب ہے۔ریاستی حکومتیں فنڈ جمع کرنے اور فصلوں کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جنوب میں تمل ناڈو ریاست کسانوں کو قرض پر ٹریکٹر دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے لیکن یہ واضح نہیں کہ ان پر عمل درآمد ہو سکے گا یا نہیں۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بغیر کسی نرمی کے سپلائی چین کو کس طرح آسان بنایا جا سکتا ہے۔

اور اس کے علاوہ دیگر بڑے چیلنجز بھی ہیں۔مہاجر مزدوروں کو کام پر واپس لوٹنے کے لیے کس طرح راضی کیا جائے گا؟ اور کتنی جلدی خریداروں کو لاک ڈاؤن سے پہلی والی سطح پر لایا جا سکے گا؟ اگر وہ کم خریداری کریں گے تو اس کی وجہ سے بازار میں اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا جبکہ دوسری جانب کسانوں کی آمدن میں مزید کمی ہو گی۔

لیکن ساری خبریں بری ہی نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر زمینی سطح پر چیزوں میں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔انڈیا میں ساڑھے سات ہزار بڑے تھوک کے بازار ہیں جہاں کھیت سے اگنے والی اشیا ملتی ہیں۔ اس کے علاوہ 25 ہزار ہفتہ وار بازار ہیں۔ ڈاکٹر کرشنامورتھی کا کہنا ہے ’ان میں سے بعض کھلنے لگی ہیں اور وہاں اس چیز پر غور کیا جا رہا ہے کہ کس طرح سماجی دوری بناتے ہوئے بازار کو کھلا رکھنا ہے اور سامان لانا اور بھیجنا ہے۔‘

اس کے ساتھ موسم سرما کی فصل بھی اچھی ہوئی ہے۔ انڈیا کے پاس اشیائے خوردنی کو ذخیرہ کرنے کا مضبوط نظام ہے جس میں چھ کروڑ ٹن اناج کو رکھا جا سکتا ہے اس کے علاوہ سرکاری طور پر دنیا کا سب سے بڑا تقیسم کا سلسلہ بھی ہے۔ایسے میں اشیائے خوردنی کی کمی غیر متوقع ہے لیکن حالات کو معمول پر آنے سے قبل تک کسانوں، حصہ داروں اور مزدوروں کی امداد کرنے کے چیلنج ضرور ہیں۔ اس کے علاوہ غریبوں تک غذا پہنچانے اور اگلے موسم کے لیے فصل بچا کر رکھنے کے بھی چیلنجز ہیں۔

Image captionریاست مہاراشٹر کے شہر اکولا کے کسان گنیش نانوتے نے بتایا کہ اب وہ اپنے کھیت پر تنہا ہی کام کر رہے ہیںناموافق حالات کے باوجود انڈیا کے کسان زیادہ تر لچک دکھانے والے ہیں۔ریاست مہاراشٹر کے شہر اکولا کے ایک کسان گنیش نانوتے نے فون پر مجھے بتایا: ’ہماری پریشانی یہ ہے کہ بازار بند ہیں اور کوئی ٹرانسپورٹ نہیں ہے اس لیے ہم اپنی چیزیں فروخت نہیں کر پا رہے ہیں لیکن اب میں اپنے کھیت پر تنہا ہی کام کر رہا ہوں۔‘

اس کے بعد انھوں نے کھیت سے اپنی ایک سیلفی بھیجی جس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ’ہمت نہیں ہاری ہے۔‘ مزید پڑھ: BBC News اردو »

Abhi se horahi h اس بندش سے سماج کے ہر طبقے پر منفی اقتصادی اثرات ضرور پڑے گیں بالخصوص غریبی کے نچلی سطح میں زندگی بسر کرنے والے مزدور اور زراعت سے منسلک زمیندار ـ چرالی آنکھ اکثر دوستوں نے وقت آنے پر مگر بد خواہ کچھ نکلے بڑے ہی خیر خواہوں میں۔

کورونا وائرس: انڈیا میں 109 اموات، متاثرین کی تعداد چار ہزار سے بڑھ گئی - BBC Urduدنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 12 لاکھ 74 ہزار جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 69 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ وائرس کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی روکنے کے لیے سعودی عرب اور روس میں جاری مذاکرات معطل ہونے کے بعد قیمتیں مزید گر گئی ہیں۔ hi ya jo bamri ha ya kashmer ki waja sy aai ha plz ap masalh kashmer py baat kary jab ya masalh hal ho jay ga to corona khatm ho jy ga AB ENHY KON SAMJHAYE اگر چیتے شکار ہو سکتے ہیں تو پالتو جانور بھی لازمی ایفکٹ ہوتے ہوں گے

بھارت میں مسلمان حاملہ خاتون کو اسپتال میں داخل کرنے سے انکار، نومولود دم توڑ گیاراجستھان کے ایک سرکاری اسپتال پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے ایک حاملہ خاتون کو مسلمان ہونے کی وجہ سے داخل کرنے سے منع کر دیا۔ Shame جب تک ہمارے اپنی ذات پے نہیں گزری گی ہم کو مسلمانوں کے ساتھ مظالم کا احساس نہیں ہوگا Its too sad

کروناوائرس: امریکا میں 10ہزار اموات، دنیا میں 73ہزار سے زائدہلاکتیںکروناوائرس: امریکا میں 10 ہزار اموات، دنیا میں 73 ہزار سے زائد ہلاکتیں SamaaTV CoronaVirusPakistan CoronaVirusUpdate CoronavirusOutbreak CoronavirusPandemic

فرانس اور امریکا میں ایک دن میں کرونا سے 2820 افراد ہلاکواشنگٹن: وبائی مرض کروناوائرس نے امریکا اور فرانس میں شہریوں کی زندگی اجیرن کردی، ایک دن میں کرونا سے دونوں ممالک میں اموات کی تعداد 2820 ریکارڈ کی گئی۔ May Allah protected to all Muslims brother. All people want is to stay at home and protect themselves Ya Allah reham!

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 82ہزار سے تجاوزکورونا کے باعث کس ملک میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں ؟ تفصیلات جانیئے:AajNews AajUpdates CoronaVirusUpdate

کورونا: پاکستان میں کیسز کی تعداد تین ہزار سے بڑھ گئی، 50 ہلاک،دنیابھر میں 12 لاکھ سے زائد افراد متاثر،ہلاکتیں 65 ہزار سے زائد ریکارڈاسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد3277 ہو گئی ہے جب کہ50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔دوسری جانب کورونا وائرس کے