کورونا:سیکس ورکر بازاروں سے غائب، آن لائن تک محدود

کورونا وائرس: سیکس ورکر بازاروں سے غائب، آن لائن تک محدود

08/04/2020 9:14:00 AM

کورونا وائرس: سیکس ورکر بازاروں سے غائب، آن لائن تک محدود

کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے بعد سیکس ورکر باہر کام نہیں کر سکتے اور آن لائن ان کی آمدنی بھی کم ہو گئی ہے اور کچھ کو یہ خطرہ بھی ہے کہ گھر والوں کو ان کے کام کے بارے میں پتہ چل جائے گا۔

آن لائن کام کرنے والی ایک سیکس ورکر ایوا دی ول کہتی ہیں: ’ابھی بہت سی نئی لڑکیاں شامل ہو رہی ہیں یا آف لائن کام کرنے والی سیکس ورکرز اپنے اخراجات پورا کرنے کے لیے آن لائن آ رہی ہیں۔‘وہ کہتی ہیں: ’کیمرے پر کام کرنے والی میری جیسی لڑکیوں کے لیے کورونا وائرس کے مطابق خود کو ڈھالنا کوئی اتنا مشکل نہیں۔ ہم آن لائن اور گھر سے کام کرنے کی عادی ہیں۔‘

Violations of SOPs: Govt hints at ending relaxation in lockdown after Eid holidays - 92 News HD Plus طیارہ حادثہ میں شہید پائلٹ کے والد نے پی آئی اے انکوائری کو مسترد کردیا آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اسکولز کھل گئے، مغربی علاقوں میں گردوغبار کا طوفان

تصویر کے کاپی رائٹTwitterImage captionکچھ عورتیں اس لیے بھی آن لائن نھیں جانا چاہتیں کیونکہ اس سے ان کے گھر والوں کو بھی ان کے کام کے بارے میں علم ہونے کا خطرہ ہےاتنا آسان بھی نہیںلیکن بہت سے سیکس ورکرز کے لیے آن لائن منتقل ہونا کوئی آسان حل نہیں۔برطانیہ میں سیکس کے کاروبار سے منسلک گریسری نے ٹوئٹر پر لکھا: ’ایسا نہیں کہ آپ آن لائن صرف نپل (پستان کا سرا) دکھا کر بڑی رقم کما لیتے ہیں۔‘

’آن لائن اپنے فالوورز بنانے اور انھیں اپنا بنایا ہوا مواد فروخت کرنے میں عرصہ لگ جاتا ہے۔‘آن لائن پلیٹ فارم کو استعمال کرنے کا مطلب ہے کہ ان کی کمائی میں کچھ کمی ہو جائے گی اور سامان جیسے کہ ٹرائی پوڈ، مناسب روشنی، جنسی کھلونے وغیرہ خریدنے کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ لاک ڈاؤن کے دوران ان کو حاصل کرنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

گریسری کا کہنا ہے:’اس مارکیٹنگ میں بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے، یہ غیر حقیقی ہے۔‘’میں اتنی بہادر نہیں کہ آن لائن برہنہ ہو جاؤں اور لوگوں کی تنقید کا سامنا کروں۔‘’کیمرے کے سامنے جو جذباتی محنت کی جاتی ہے وہ غیر حقیقی ہے۔۔۔ مسلسل بات کرنا اور خوشگوار موڈ میں رہنا۔‘

رازداری ایک اور باعث تشویش معاملہ ہے۔آن لائن کسی کی شناخت چھپانا بہت مشکل ہے اور ویڈیو مواد چوری بھی کیا جا سکتا ہے۔مثال کے طور پر فروری میں، لندن کی سوشل میڈیا ایپ OnlyFans پر تقریباً 1.5TB کی ویڈیوز اور تصاویر لیک ہوئیں۔برطانیہ کی سیکس ورکر لیزی کا کہنا ہے کہ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد سے کیمرے کے سامنے مقابلہ اور زیادہ ہو گیا ہے۔

اور دنیا کی سب سے بڑی ’کیمنگ‘ ویب سائٹوں کے اعداد و شمار بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ویب سائٹ سٹرپ چیٹ (جہاں لوگ براہ راست سیکس دیکھنے کی فیس بھرتے ہیں) کے میکس بینیٹ کہتے ہیں: ’بالغوں کی پرفارمنس لائیو کیمروں کی جانب جا رہی ہے کیونکہ روایتی مارکیٹس بند ہیں۔‘

امریکہ کی لائیو سٹریمنگ سائٹ چیٹوربیٹ کے مطابق وبا شروع ہونے کے بعد سیکس ورکرز کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس شرح میں تیزی اسے دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافے سے زیادہ ہے۔میکس کہتے ہیں: ’ہم دنیا بھر میں بدلتی ٹریفک کو دیکھ رہے ہیں خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں لاک ڈاؤن ہے۔‘

ناصرشاہ نے سندھ میں مکمل لاک ڈاؤن کا عندیہ دیدیا عید کے تیسرے روز بعض علاقوں میں رات کے وقت ٹھنڈی ہوائیں چلنے کی پیشگوئی سندھ حکومت کی عیدالفطر کے بعد کرفیو لگانے کی افواہوں کی تردید

’تنہا رہنے والوں کا ہم زیادہ رش دیکھ رہے ہیں۔‘’لیکن گھروں میں یا خاندان کے ساتھ رہنے والوں کے لیے صورتحال پیچیدہ ہے۔‘اپنی مانگ بڑھانے کے لیے آن لائن سیکس ورکرز خصوصی اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ایوا کہتی ہیں: ’میں نے بہت سی لڑکیوں کو ڈسکاؤنٹ یا رعایت دیتے بھی دیکھا ہے۔‘

’ہمیں (صارفین کی) آمدنی میں کمی کا احساس ہے اگرچہ مجھے ابھی تک اخراجات میں کمی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔‘کیمنگ ویب سائٹس بھی اس حوالے سے کام کر رہی ہیں۔مثال کے طور پر سٹرپ چیٹ اپنے نئے ناظرین کو دنیا بھر میں سینکڑوں مفت ٹوکن دے رہا ہے جو کہ ہر وصول کنندہ کے لیے کسی سیکس ورکر کو دس منٹ کے نجی سیشن کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔

میکس کہتے ہیں: ’مرکزی بینک کی حیثیت سے کام کر کے، ہم رقم کی فراہمی میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اداکاروں کی نئی لہر کو بحران سے بچنے میں مدد کرسکتے ہیں۔‘’ہم نے اپنے اطالوی ماڈلز کی ادائیگی کو دگنا کر دیا ہے۔‘’ایک ماہ میں 60 ملین سے زیادہ افراد کے سماجی نیٹ ورک کے طور پر، صارفین کو سڑکوں سے دور رکھنے (مدد کرنے) کے لیے ہمارے پاس زبردست پلیٹ فارم ہے۔‘

’کوئی چارہ نہیں‘لیکن کچھ سیکس ورکرز کو آن لائن منتقل ہونے میں بہت زیادہ اخراجات اور چیلنجز کا سامنا ہے۔لیزے کہتی ہیں: ’ابھی بھی کچھ سیکس ورکرز ایسی ہیں جو اپنے گاہکوں سے ذاتی طور پر ملاقات کر رہی ہیں کیونکہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔‘’وبائی مرض کے دوران اپنی اور دوسروں کی صحت کو خطرے میں ڈالنا اور زندگی گزارنے کے لیے رقم کا حصول کرنے میں کسی ایک کا انتخاب کرنا مضحکہ خیز ہے۔‘

ان سیکس ورکرز کے لیے کیے کچھ مدد بھی دستیاب ہے۔ایشیا اور تارکین وطن جنسی ورکر کے سپورٹ نیٹ ورک ’بٹرفلائی‘ نے ایک کوویڈ 19 گائیڈ شائع کی ہے جس میں دوسری احتیاطی تدابیر کے علاوہ ایسی جنسی پوزیشنز بھی تجویز کی گئی ہیں جن میں چہرے سے کم سے کم رابطہ شامل ہے۔

لیکن اس صنعت کی نوعیت کی وجہ سے یہاں کام کرنے والے افراد کا سرکاری سکیموں میں شامل ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔تصویر کے کاپی رائٹTwitterImage captionکچھ لوگوں کو یہ تشویش بھی ہے کہ آن لائن ان کی آمدنی پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہو گیانگلینڈ، ویلز اورسکاٹ لینڈ میں جسم فروشی غیر قانونی نہیں اگرچہ شمالی آئرلینڈ میں سیکس کی ادائیگی غیر قانونی ہے لیکن یہ کاروبار اکثر نقد رقم کی صورت میں ہوتا ہے اور اس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہوتا۔

وزیراعظم اورترک صدرکا رابطہ،مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی پامالیوں پرگفتگو اس عید پر 10 ارب روپے سے کم کاروبار ہوا، عتیق میر عید پر شدید گرمی سے تنگ منچلوں نے نہر کا رخ کر لیا

امریکہ میں کوویڈ 19 کے بیل آؤٹ بل سے قانونی طور پر کام کرنے والے سیکس ورکرز کو خارج کردیا گیا ہے۔انگلینڈ میں سیکس ورکرز کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ انگلش کولیکٹو آف پراسیٹیوشن (English Collective of Prostitutes) کے مطابق بہت سی سیکس ورکرز سنگل مدرز ہیں جو پہلے ہی کفایت شعاری کے اقدامات سے غریب تر ہو گئیں ہیں اور اب کورونا وائرس ان کی صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔

ان خدشات کو ذہن میں رکھتے ہوئے آن لائن کیے جانے والے سینکڑوں اقدامات دنیا بھر میں پھیل چکے ہیں، جیسا کہ برطانیہ میں سیکس ورکرز کے ایک گروپ سوارم (Swarm) نے کوویڈ 19 فنڈ قائم کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اس سے 234 ضرورت مند سیکس ورکرز کی مدد کر چکے ہیں۔گاڈیس کلیو کہتی کہ اس کا طویل المیعاد حل سیکس ورکرز کے لیے بہترحکومتی مدد میں ہے۔

وہ کہتی ہیں: ’جب سیکس کے کام کو اصل کام سمجھا جاتا ہے اور مکمل طور پر قانونی ہے تو سیکس ورکرز کو بھی دوسرے ملازمین کی طرح ہی انسانی حقوق تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔‘ مزید پڑھ: BBC News اردو »

ان منحوس سکس ورکروں کی منحوسیت ملک پر چھا گئی ہے Achi Baath Hai Na , Leken ap Log Tho un ko Yeh Clue de rahe hai ke Online ja ke dekh sakte hon Sharam Aana Chahiye Bari Afsos hai ke Log corona sy is gunaho sy Bach rahe hai Aur Aap Log un Ko Yeh kehna chahte hai ke aap Online ja ke dekh sakte honn ڈیئر بی بی سی جھوٹی خبر نہ دیں۔۔ پاکستان میں صحافتی سیکس ورکرز بلکُل غائب نہیں ہوئے بلکہ اب تو برہنہ ہو کر ناچ رہے ہیں کیوں کہ گاہکوں کی بھر مار ہے کرونا وائرس پر سیاست کرنے والے گاہک۔۔ 😂😂 کچھ صحافتی سیکس ورکرز بی بی سی اُردو کے لئیے بھی رپورٹنگ کرتے ہیں۔۔

بی بی اردو کو کاروبار خراب ہونے کا افسوس ہے 😃 yeah koi news hai..in hi sb beheyao aur besharmio k vajha say musibatain ati hain.. Allah enho ko aur logon ko hedayat atta karay. اوہو اب بی بی سی والے کماتے کہاں سے ہوں گے Very shameful post BBC 🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓🖓 News of the year..👎👎👎👎

جن ممالک میں سیکس لیگل ہے وہاں بھی کرونا کی وجہ سے سیکس ورکرز کو مشکلات ہیں تو جن ممالک میں یہ لیگل نہیں وہاں کیا حال ہوگا جہاں تک ممکن ہو سکے ان کی مدد کرنی چائیے اور انکے حقوق کئلیے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھانی چائیے بی بی سی کی یہ اچھی کاوش ہے شکریہ Prostitute not sex worker بی بی سی اپنے دفتر میں ان کو کام پر لگا لے اگر اتنی ہی فکر ہے ان بے چارے جسم فروشوں کی

انشا اللہ جلد ہی یہ لوگ جہنم میں ہوں گے جب تک یہ لوگ یہ کفر چھوڑ کر اللہ تعالیٰ سے رجوع نہ کر لیں Mout nazar aii to bhag gae? Marna to sbne ha, qq na achyy kam krke maro Good اللہ انکو مستقل صبر دے اور انکو رزق حلال کمائی نصیب فرمائے Ya to hone he thaa اس طرح کے بےہودہ تصاویر شائع کرنے پر بی بی سی کے خلاف مقدمہ دائر ہوناچاہیے۔ یہ کمینے اپنی ماں بہن کو ننگا کرکے لذت محسوس کرتے ہیں۔

دنیا میں جو چیز قدرت اور فطرت کے خلاف ہو، وہ محدود ہی نہیں بلکہ ختم ہو جاتی ہے۔ The contrary things to nature in the world, is not limited but also ends. تم گھٹیا لوگوں کو اور کوئی ٹاپک نہیں ملتا. بکواس پہ بکواس کرتے جاتے ہو.... ایسا لگتا ہے ان کے غائب ہونے سے تم لوگوں کا نقصان ہورہا ہے سیکس ورکرز...نہین چکلے چلانی والی بازارو عورت کہین

Dair kha oshoo شکر ہے رب کا One of the nice and lovely topics of our famous BBC only just shameful جل دبَ Why call them sex workers? A more apt name is randi. 😜😜😜

پائلٹس کے بعد پی آئی اے کی ایئرہوسٹس میں بھی کورونا وائرس کی تصدیقلاہور : پی آئی اے کے پائلٹس کےبعد ایک ایئرہوسٹس میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی،جس کے بعد متاثرہ ایئر ہوسٹس کو ایکسپو سینٹر لاہورقرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔ اللّٰہ پاک رحم فرمائے اللہ پاک سب کی خفاظت فرمائے🙏 Allah rehm kry ab bssss

خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کے علاج کیلئے پلازما کے استعمال کی اجازت - Pakistan - Dawn News

پٹھوں کی تکلیف کورونا کے تشویشناک مریضوں کی علامات ہیں: ماہرینپٹھوں کی تکلیف کورونا کے تشویشناک مریضوں کی علامات ہیں: ماہرین CoronaVirus MusclePain Symptoms InfectiousDisease DeadlyVirus SpreadRapidly

نجی ہائوسنگ کے 16 سیکیورٹی گارڈز میں کورونا وائرس کی تصدیق، لاک ڈاﺅن کی تیاریاں شروعلاہور (ویب ڈیسک) لاہور میں رائیونڈ کے نزدیک نجی ہائوسنگ کے 16 سیکیورٹی گارڈز میں کوروناوائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔ جیو نیوز کے ذرائع کے مطابق رائیونڈ کے قریب

حکومت کورونا کے تناظرمیں عوام کوریلیف فراہم کرنے کی انتہائی کوشش کررہی ہے: علی محمدخانحکومت کورونا کے تناظرمیں عوام کوریلیف فراہم کرنے کی انتہائی کوشش کررہی ہے: علی محمدخان AliMuhammadKhan Pakistan CoronaVirus PTIGovernment PMImranKhan ReliefPackage pid_gov MoIB_Official PTIofficial ImranKhanPTI Ali_MuhammadPTI pid_gov MoIB_Official PTIofficial ImranKhanPTI Ali_MuhammadPTI Don’t just try Just Do It ! Bunch of Thugs

نیویارک کے چڑیا گھرمیں موجود چیتے میں کورونا وائرس کی تصدیق | Abb Takk News