Coronarovirus, Health, Healthcare, Healthandsafety, Healthandwellness, Healthy, Healthylife, Healthyliving, Coronaviruspakistan, Healthyfood, Covıd 19

Coronarovirus, Health

کورونا وائرس کی نئی قسم 9 گنا زیادہ متعدی - Health - Dawn News

04/07/2020 11:34:00 PM

یہ بات ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی coronarovirus Health health care health andsafety health andwellness health y Health yLife Health yLiving CoronaVirusPakistan Health yFood COVID19 DawnNews

یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹونوول کورونا وائرس کی نئی قسم پہلے سے زیادہ متعدی ہے مگر وہ پرانی قسم کے مقابلے میں لوگوں میں کووڈ 19 کی شدت میں اضافہ نہیں کررہی۔یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبیتحقیقمیں سامنے آیا۔اس تحقیق میں ایسے ٹھوس شواہد دریافت کیے گئے کہ یورپ سے لے کر امریکا تک اس وائرس کی نئی قسم زیادہ تیزی سے پھیلی اور یہ اب بالادست قسم بن چکی ہے۔

مسجد وزیرخان میں ناچ گانے کے ذمے داروں کو فوری گرفتار کیا جائے، چوہدری برادران - ایکسپریس اردو PML-Q leaders lead condemnation of dancing video in mosque بیروت دھماکے پر لبنان کی وزیر اطلاعات سمیت 6 ارکان اسمبلی مستعفی - ایکسپریس اردو

لا جولا انسٹیٹوٹ فار امیونولوجی کی تحقیق میں شامل محقق ایریکا اولیمن شیپری کا کہنا تھا 'یہ نئی قسم اب وائرس کی نئی شکل ہے'۔جریدے جرنل سیل میں شائع تحقیق اس تحقیقی ٹیم کے سابقہ کام پر مبنی تھی جو کچھ عرصے پہلے پری پرنٹ سرور میں شائع کی گئی تھی، جس میں جینیاتی سیکونس کے تجزیے کے بعد عندیہ دیا گیا تھا کہ ایک نئی قسم نے دیگر پر سبقت حاصل کرلی ہے۔

اب تحقیقی ٹیم نے نہ صرف مزید جینیاتی سیکونسز کا جائزہ لیا بلکہ لوگوں، جانوروں اور لیبارٹری میں خلیات پر بھی تجربات کرکے ثابت کیا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم زیادہ عام اور دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے۔ایریکا اولیمن کے مطابق ہم اب جانتے ہیں کہ نیا وائرس کتنا پھیل چکا ہے مگر پہلی نظر میں یہ زیادہ بدتر نہیں لگتا۔

یہ نئی قسم وائرس کے اسپائیک پروٹین پر اثرانداز ہوئی ہے یعنی وائرس کی وہ ساخت جو خلیات کو متاثر کرتی ہے اور اب محققین یہ جانچ پڑتال کررہے ہیں کہ اسے کنٹرول کرنے کے حوالے سے ویکسین پر یہ نئی قسم کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے۔اس وقت جن ویکسینز پر کام کیا جارہا ہے ان میں سے بیشتر اسپائیک پروٹین کو ہی ہدف بنارہی ہیں، مگر وہ وائرس کی پرانی اقسام کو پر مبنی ہیں۔

اس نئی تحقیق میں پہلے کے کام کی تصدیق کی کہ وائرس کی نئی قسم زیادہ عام ہے اور محققین نے اسے جی 614 کا نام دیا ہے اور محققین نے ثابت کیا کہ یہ قسم لگ بھگ پہلے ورژن ڈی 614 کی جگہ امریکا اور یورپ میں لے چکی ہے۔مریضوں کی بقا پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوئےمحققین کا کہنا تھا کہ عالمی ٹریکنگ ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ جی 614 زیادہ تیزی سے پھیلی، یعنی یہ وائرس پہلے سے زیادہ متعدی ہوگیا، مگر ہم نے ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قسم بیماری کی شدت پر اثرانداز ہوئی ہے۔

برطانیہ کی واروک یونیورسٹی کے پروفیسر لارنس ینگ (جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے) نے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر اچھی خبر ہے 'اس حالیہ تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ اگرچہ جی 614 زیادہ متعدی قسم ہے، مگر یہ زیادہ جان لیوا نہیں، جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو دیکھتے ہوئے ایک امید پیدا ہوئی ہے کہ یہ وائرس شاید کم بیمار کرنے والا بن جائے۔

تحقیقی ٹیم نے یورپ اور امریکا بھر میں مریضوں میں وائرس کے جینومز کے سیکونسز کے نمونے جمع کیے اور ان کا موازنہ پہلے سے موجود سیکونسز سے کیا گیا، جس سے انہیں دونوں اقسام کے پھیلاؤ کا نقشہ تیار کرنے میں مدد ملی۔محققین کا کہنا تھا کہ یکم مارچ 2020 تک جی 614 یورپ سے باہر نہ ہونے کے برابر تھا مگر مارچ کے آخر تک دنیا بھر میں پہنچ چکا تھا۔

آٹھ سال سے انڈیا میں مقیم پاکستانی خاندان کے 11 افراد ہلاک - BBC News اردو ہولوگرام بیم ٹیکنالوجی کے ذریعے فوت شدہ افراد سے بھی ’تقریباً حقیقی ملاقات‘ ممکن - ایکسپریس اردو فیصل واوڈا کا احسن اقدام، رکشہ ڈرائیور کا دل جیت لیا، ویڈیو وائرل -

انہوں نے کہا کہ اس نئی قسم کا پھیلاؤ لاک ڈاؤن کے بعد بھی برقرار رہا اور یہ بالادست قسم بن گئی۔محققین کا کہنا تھا کہ یہ نئی قسم نظام تنفس کی بالائی نالی یعنی ناک، نتھنوں اور حلق میں کئی گنا تیزی سے پھیلتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ بہت تیزی سے متاثرہ فرد سے کسی صحت مند شخص میں منتقل ہوتی ہے۔

مگر انہوں نے برطانیہ میں زیرعلاج ایک ہزار مریضوں کے ٹیسٹوں میں دریافت کیا کہ جو لوگ اس نئی قسم سے متاثر تھے، ان میں اصل وائرس کے شکار لوگوں کے مقابلے میں بیماری کی شدت زیادہ بدتر نہیں ہوتی۔ڈیوک یونیورسٹی ایڈز ویکسین ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈیوڈ مونٹے فیورے نے کہا 'ہم یہ ٹیسٹ کرنے کے قابل ہیں کہ کیا وائرس کی یہ نئی قسم پرانی قسم کے مقابلے میں زیادہ متعدی ہے یا نہیں، تمام نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ جی قسم پرانے ورژن کے مقابلے میں 3 سے 9 گنا زیادہ متعدی ہے'۔

وائرس کے لیبارٹری ٹیسٹوں سے بھی جینیاتی نقشوں کے نتائج کی تصدیق ہوئی۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ وائرس کی نئی قسم اصل قسم کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے پھیلنے کے لیے تیار ہے، جس سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ فیس ماسک کا استعمال کریں اور سماجی دوری کو اختیار کریں۔

جی 614 کے ساتھ وائرس کی دیگر اقسام بھی موجود ہیں مگر ابھی ان کے اثرات واضح نہیں۔محققین کا کہنا تھا کہ مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ نتائج کو مزید ٹھوس کیا جاسکے اور معلوم ہوسکے کہ یہ تبدیلیاں اس وبا اور مریضوں کے لیے کیا معنی رکھتی ہیں۔ مزید پڑھ: DawnNews »

کورونا وائرس: وزیر اعظم کی عیدالاضحیٰ پر خصوصی اقدامات کی ہدایت - Pakistan - Dawn News

کورونا وائرس؛ ترکی میں نئی پابندیاں عائد -انقرہ: ترکی میں کورونا کیسز کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر مہلک وبا سے بچاؤ کے لیے مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ حکومت نے دارالحکومت انقرہ میں ہر قسم کے عوامی اجتماعات، میٹگنز اور مظاہروں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ گورنریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا …

’کورونیل‘: یوگا گُرو رام دیو کی کمپنی کی ’کورونا دوا‘ کی حقیقتانڈیا میں یوگا گرو بابا رام دیو کی آیورویدک کمپنی ’پتانجلی‘ کی جانب سے بھی ’کورونا کا علاج‘ دریافت کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، انڈیا کی حکومت اب اس دعوے کی تحقیقات کر رہی ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 221,896ہوگئی - Pakistan - Aaj.tv

سگریٹ نوشی کی صورت میں کورونا وائرس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے: عالمی ادارہ صحتسگریٹ نوشی کی صورت میں کورونا وائرس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے: عالمی ادارہ صحت Smoking CoronaVirus Cigarettes RiskIncreased InfectiousDisease WHO Smokers WHO

سندھ میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 90721 تک پہنچ گئی، 1459 ہلاکتیں - BBC Urduدنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 21 ہزار سے زیادہ لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ دوسری طرف انگلینڈ نے 50 ممالک کے شہریوں کو قرنطینہ کی شرط سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔