کورونا وائرس: پاکستان میں آن لائن ذرائع سے تدریسی عمل جاری مگر طلبا کو مسائل کا سامنا

کورونا وائرس: پاکستان میں آن لائن ذرائع سے تدریسی عمل جاری مگر طلبا کو مسائل کا سامنا

30/03/2020 5:29:00 AM

کورونا وائرس: پاکستان میں آن لائن ذرائع سے تدریسی عمل جاری مگر طلبا کو مسائل کا سامنا

کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال معاشی اور سماجی خطرہ بن کر پوری دنیا کو مکمل طور پر اپنے شکنجے میں لے چکی ہے

Image captionحکومت کی جانب سے کہا گيا ہے کہ وہ طلبا کے تعلیمی سال کو بچانے کی پوری کوشش کرے گیآن لائن کلاسز کے اجرا کے بعد پاکستان کے طول و عرض میں رہنے والے طالب علم انٹرنیٹ سروس کے نہ ہونے اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کی شکایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔گذشتہ روز وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی جانب سے بتایا گیا کہ ملک بھر کے نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کی تعطیلات میں 31 مئی تک توسیع کردی گئی ہے۔ وزارت تعلیم کے نوٹیفیکیشن کے مطابق تعلیمی اداروں کی بندش موسم گرما کی چھٹیوں کے طور پر ہو گی۔

لداخ اور سکم بارڈر پر مزید پانچ ہزار چینی فوجی تعینات، بھارت بھیگی بلی بن گیا پنجاب میں کورونا وزیر اعلیٰ کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے پھیل رہا ہے: عظمیٰ بخاری اللہ کی رحمتیں ہماری زندگیوں میں خوشحالی اورکامیابیاں لائے، جوہی چاولہ - ایکسپریس اردو

تاہم متعدد طلبا کے مطابق ابھی تک تعلیمی اداروں کی جانب سے حکومتی فیصلے پر باقاعدہ اطلاع نہیں دی گئی نہ ہی جامعات آن لائن کلاسز میں درپیش نقائص دور کر پا رہی ہیں جبکہ متعدد طالب علموں کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی یونیورسٹیز سالانہ فیس کی سہہ ماہی قسط ادا کرنے کا تقاضہ کر رہی ہیں۔

طلبا کو آن لائن کلاسز کے اجرا پر کن مسائل کا سامنابلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے نواحی گاؤں کے رہائشی محمد اعظم بلوچ نے بی بی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے طالب علم ہیں۔وہ کہتے ہیں ’انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے شیڈول کے مطابق روزانہ صبح دس بجے سے شام چھ بجے کے دوران تین سے چار مضامین کی آن لائن کلاسز رکھی گئی ہیں لیکن گذشتہ ایک ہفتے میں طالب علم ایک بھی مضمون کا لیکچر مناسب انداز میں نہیں لے سکے۔‘

محمد اعظم بلوچ نے بتایا ’میں اپنی کلاسز میں حاضری یقینی بنانے کے لیے انٹرنیٹ کی بہتر سروس کھوجتے ہوئے روازنہ گاؤں سے پچیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے جعفرآباد جاتا ہوں اور وہاں بھی ویڈیو لیکچر میں اساتذہ کی آواز تک صحیح نہیں سن پاتا۔‘گلگت کی رہائشی علیزہ خان فورمین کرسچن کالج میں میڈیا سائنسز کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے حکومتی فیصلے کے پیش نظر یونیورسٹی بند کرتے ہوئے انھیں مارچ کے تیسرے ہفتے میں ایک ہی دن میں ہاسٹل خالی کرنے کا کہا، جس کے بعد سے وہ گلگت شہر میں مقیم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹImage captionفائل فوٹوعلیزہ کا کہنا ہے ’گذشتہ ہفتے انھیں ایک ای میل کے ذریعے آن لائن کلاسز کا شیڈول موصول ہوا جبکہ انٹرنیٹ کی غیر موزوں سروس والے علاقوں کے طالب علموں کو یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیدار کو آگاہ کرنے کا کہا گیا تھا۔‘علیزہ خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گلگت شہر میں رہتی ہیں جہاں انٹرنیٹ کی سہولت قریبی علاقوں سے بہتر ہے لیکن بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کی وجہ سے انھیں آن لائن کلاسز میں مشکلات کا سامنا ہے۔

وہ کہتی ہیں ’ہماری آن لائن کلاس میں ایک بھی ایسا دن نہیں رہا جس میں سٹوڈنٹس نے لیکچر سمجھ نہ آنے کی شکایت نہ کی ہو۔ میں نے اور میری کلاس کے متعدد طالب علموں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اس پریشانی سے آگاہ کیا ہے، جس کا تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔‘ان کا کہنا تھا ’یونیورسٹی انتظامیہ نے سینئیر طالب علم کے ذریعے بتایا ہے کہ ان کے مڈ ٹرم امتحانات اسائنمنٹس کی بنیاد پر لیے جائیں گے، جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انتظامیہ یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اسائنمنٹس کی تکمیل بھی ان حالات میں انٹرنیٹ کے بغیر ممکن نہیں اور یہ سٹوڈنٹس کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔‘

اسلام آباد کی نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز کے متعدد طالب علموں نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے اسی قسم کی مشکلات سے آگاہ کیا ہے تاہم ان میں کوئی بھی نام واضح کرنے پر رضامند نہیں، جس کی وجہ طالب علموں کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کا میڈیا پر یونیورسٹی سے متعلق خبر آنے پر سخت رویے کا اظہار کرنا بتایا گیا ہے۔

مصباح الحق کا گیند پر تھوک کا استعمال روکنے کیلیے بولرز کو ماسک پہنانے کا مشورہ - ایکسپریس اردو پاکستان میں سیاحت پر پابندی ہزاروں خاندانوں کے لیے تباہی کا پیغام پی آئی اے نے امریکہ کیلئے نان سٹاپ فلائٹس کا شیڈو ل جاری کر دیا ، کب روانہ ہو گی ؟ اعلان ہو گیا

صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے باجوڑ ضلع کے رہائشی ایک طالب علم نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے علاقے میں 20 گھنٹے سے زائد لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے نہ تو موبائل چارج ہو پاتا ہے اور نہ ہی لیپ ٹاپ۔وہ کہتے ہیں کہ باجوڑ میں صرف ایک موبائل کمپنی کے نیٹ ورک پر ٹو جی انٹرنیٹ سروس مہیا کی جاتی ہے، جس کی مدد سے آن لائن کلاس میں شامل ہونا تو دور کی بات، واٹس ایپ میسجز موصول ہونے میں بھی دو سے تین دن لگ جاتے ہیں۔

سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے ایک گاؤں کے رہائشی نمل یونیورسٹی کے ہی ایک طالب علم کا کہنا ہے کہ کورونا کی وبا سے درپیش حالات میں میرے لیے ایزی لوڈ یا انٹرنیٹ پیکج کرانا بہت بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔’سندھ میں کورونا کی صورتحال کی وجہ سے مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے پاکستان کے دیگر حصوں کی نسبت بہت زیادہ سختی ہے، ایک جانب گھر سے باہر نکلنا مشکل اور خطرناک ہے تو دوسری جانب تمام تجارتی مراکز مکمل طور پر بند ہیں، اور جو اکا دکا دکانیں کھلتی ہیں وہاں موبائل کارڈز یا ایزی لوڈ میسر نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹImage captionفائل فوٹوپنجاب یونیورسٹی لاھور کی طالبہ زینب اورنگزیب کہتی ہیں کہ آن لائن کلاسز کے حوالے سے ان کی یونیورسٹی انتظامیہ غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔’طلبا اور اساتذہ دونوں ہی ٹیکنالوجی کی زیادہ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ کورونا وائرس نے سٹوڈنٹس کو نفسیاتی طور پر شدید متاثر کیا ہے اور ان حالات میں ایسے تعلیم حاصل کرنا کہ جب آپ ٹیچر کی نہ آواز سمجھ پا رہے ہوں اور نہ ہی ان سے دوبارہ پوچھنا ممکن ہو، یہ جہاں تعلیمی اعتبار سے نقصان دہ ہے وہیں نفسیاتی طور پر بھی انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔‘

طلبا تنظیموں کا کیا کہنا ہےملک بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے آن لائن کلاسز کے اجرا، امتحانات اور فیسوں کے مسئلے پر طلبا کی تنظیم پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو سوشل میڈیا پر آواز اٹھا رہی ہے۔تنظیم کی سنٹرل کمیٹی کے رکن علی بہرام نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی بحرانی کیفیت میں حکومت کی جانب سے آن لائن کلاسز کا جو منصوبہ پیش کیا گیا ہے، اس پر ملک کے چند بڑے شہروں کی حد تک ہی عملدرآمد ہو سکتا ہے۔

علی بہرام کا کہنا ہے ’پاکستان میں ٹیکنالوجی نے اتنی ترقی نہیں کی کہ بلوچستان یا کسی اور دور دراز کے علاقے میں بیٹھے طالب علم کو آن لائن تعلیم دی جا سکے۔‘انھوں نے کہا ’پورا ملک لاک ڈاؤن میں ہے، کاروبار بند ہیں، انسانی جانیں نظر نہ آنے والے خطرے سے دوچار ہیں اور تعلیمی اداروں خصوصاً نجی یونیورسٹیوں کی جانب سے طلبا سے فیس کی قسط ادا کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ یہ سہولت غریب والدین نے حاصل ہی اس لیے کی تھی کہ ان کے لیے اپنے بچوں کی فیس یکمشت ادا کرنا ممکن نہ تھا۔‘

علی بہرام کا کہنا تھا کہ نجی یونیورسٹیوں کے طالب علم ان حالات میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔’ایک جانب ان کی تعلیم کا نقصان ہو رہا ہے اور والدین کی معاشی حالت مزید کمزور ہو رہی ہے تو دوسری جانب نفسیاتی دباؤ میں آن لائن کلاس لینا ہے جس سے وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہے۔‘

بھارت میں پھنسے 179 پاکستانیوں کو واپسی کی اجازت مل گئی امریکی ریاست کیلیفورنیا میں عبادت گاہیں کھولنے کا اعلان سعودی عرب کا مرحلہ وار کرفیو ختم کرنیکا اعلان

تاہم نجی تعلیمی ادارے جو اپنے اساتذہ اور ملازمین کی تنخواہیں طالب علموں کی فیس سے ادا کرتے ہیں، کے لیے حکومتی مداخلت کے بغیر طلبا کو ریلیف دینا ممکن نظر نہیں آتا۔ مزید پڑھ: BBC News اردو »

It's V. Very difficult semester break Waste of time no internet network proper working just earn money We want a semester Break Ghazi University Dera Ghazi Khan Punjab Pakistan

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد چھ لاکھ سے بڑھ گئیپنجاب حکومت کا ڈاکٹرز،پیرامیڈیکل اسٹاف کوایک ماہ کی اضافی تنخواہ دینے کا اعلان Punjab pid_gov

کورونا وائرس : دنیا بھر میں 30 ہزار سے زائد اموات، امریکا متاثرہ ممالک میں‌ سرفہرستواشنگٹن: کورونا وائرس سے دنیا بھر میں مزید 31 ہزار افراد جانب بحق ہوگئے۔ جس کےبعدمرنے والوں کی تعداد 30 ہزار 880 ہو گئی۔ وبائی مرض کورونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے Plz rest home

کراچی میں 5، جڑواں شہر میں 2 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق - Pakistan - Dawn News

کراچی میں 5، جڑواں شہر میں 2 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق - Pakistan - Dawn News

خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 188ہوگئیصوبے میں گزشتہ روز مزید کتنے نئے کیسز رپورٹ ہوئے؟ تفصیلات جانیئے:AajNews AajUpdates coronavirusinpakistan

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 30ہزار879ہوگئیکورونا وائرس سے کس ملک میں کتنی اموات ہوئیں؟ یہاں جانیئے:AajNews AajUpdates coronavirus