کورونا: پاکستان میں کیا صنعتی اداروں کے علاوہ مزدوروں کو بچانے کی بھی ضرورت ہے؟

پاکستان میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور نوکریوں سے فارغ

28/03/2020 7:57:00 AM

پاکستان میں کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے مزدور نوکریوں سے فارغ

پاکستان میں حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود چھوٹی بڑی صنعتوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کو یا تو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے یا غیر معینہ مدت کے لیے بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھنے کا کہا جا رہا ہے۔

شئر پینل منتخب کیجیےتصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesپاکستان میں کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے باعث ملک کی متعدد صنعتیں اور کارخانے بند ہیں اور یہاں کام کرنے والے افراد کو متعدد معاشی اندیشوں اور خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت کی طرف سے یقین دہانی کے باوجود چھوٹی بڑی صنعتوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کو یا تو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے یا غیر معینہ مدت کے لیے بغیر تنخواہ کے گھر بیٹھنے کا کہا جا رہا ہے۔

طیارہ حادثہ؛ فوجی افسران کی واپسی سے اہلخانہ لاعلم تھے - ایکسپریس اردو طیارہ حادثہ؛ انجن کی رن وے پر رگڑ کے نشانات سامنے آگئے - ایکسپریس اردو کورونا وائرس: امریکہ میں بھوک، افلاس اور بے روزگاری میں اضافہ

کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات کے نتیجے میں کئی کارخانے، ملیں، اور فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں یا بند ہونے کے عمل میں ہیں۔ جس کے نتیجے میں ان کارخانوں اور ملوں میں کام کرنے والوں کو نکالے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔بغیر تنخواہ گھر بیٹھنے کا حکم

سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں متعدد صنعتوں سے وابستہ افراد، کئی مزدوروں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کو نکالا گیا ہے۔ ان تمام افراد کو نوکری سے یہ کہہ کر نکالا گیا کہ ملک میں کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کے باعث اس وقت صورتحال غیر یقینی ہے۔

سندھ حکومت نے حال ہی میں ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں یہ واضح طور پر کہا گیا کہ صوبے میں جاری پابندی کے دوران کسی بھی ملازم یا مزدور پیشہ فرد کو نوکری سے نہیں نکالا جائے گا اور تنخواہیں بروقت دی جائیں گی لیکن اس اعلامیہ پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔سندھ کے ایک بڑے کاروباری گروپ، ہاشو گروپ سے منسلک ہوٹل نے حالیہ دنوں میں ملازمین کو رواں ماہ کی تنخواہ دے کر گھر بیٹھنے کا کہا ہے۔ جبکہ ان ملازمین میں سے صرف چند کی ملازمت فعال رکھی گئی ہے۔

ان ملازمین میں سے ایک نے بی بی سی سے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’چاہے کوئی کانٹریکٹ پر ہے یا پکی نوکری پر اس وقت سب کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ سالانہ چھٹیاں بھی منجمد کردی ہیں۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ وہ تب فعال ہوں گی جب حالات بہتر ہوں گے۔ اور اس وقت کسی کو نہیں پتا کہ حالات کب بہتر ہونگے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesاس بارے میں جب ہاشو گروپ کے ترجمان سے بات کی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ ’اس وقت ہمارے تمام ہوٹل بند ہیں۔ ہمارے ساتھ جُڑے کسی بھی ہوٹل میں، چاہے وہ میریئٹ ہو، پرل کانٹیننٹل یا پھر ہوٹل ون، ہم نے اپنے لوگوں کو گھر کسی منطق کی بنیاد پر بھیجا ہے۔ جب ہوٹل بند ہیں تو ہم انھیں کام پر بلا کر کیا کریں؟‘

ترجمان نے کہا کہ ’مارچ ابھی ختم بھی نہیں ہوا اور ہم نے تمام ملازمین کو رواں ماہ کی تنخواہ دے کر چھٹی پر بھیجا ہے۔ ہم خود ہاشو فاؤنڈیشن کے تحت لوگوں کی معاشی مدد کرتے ہیں۔ ہم اپنے لوگوں کے ساتھ غلط نہیں کررہے۔‘جب ترجمان سے سندھ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے حالیہ اعلامیہ کی بات کی گئی تو ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ’قانون میں لکھا ہے کہ بزنس بند ہونے کی صورت میں آدھی تنخواہ اور مکمل طور پر بند ہونے کی صورت میں بغیر تنخواہ ملازموں کو چھٹی پر بھیجا جاسکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی نہیں آئی کہ ہر گھنٹے بعد صورتحال مختلف ہو۔ ہم ہر وقت مانیٹر کررہے ہیں کہ اس سب سے کیسے نمٹا جائے۔‘

سائیکل چلاتی لڑکی پر ایوانکا ٹرمپ کی ٹویٹ انھیں مہنگی پڑ گئی کورونا: ’امریکی قیادت کو سیاسی وائرس لگ گیا ہے‘ Afghan president to free up to 2,000 Taliban prisoners

گارمینٹ فیکٹری اور مِلیںسندھ اور پنجاب میں اب بھی گارمینٹ فیکٹری اور مِلیں کھلی ہیں اور وہاں پر کام کرنے والوں کے مطابق اُن کو آنا پڑتا ہے۔ اور پابندی کے باعث گھر بیٹھنے کی صورت میں نوکری سے ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesحال ہی میں پولیس نے کراچی کے لانڈھی کے علاقے سے ایک کپڑوں کی فیکٹری کے مینیجر کو فیکٹری بند نہ کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا۔

ملک میں مزدوروں سے منسلک قوانین یا تو ایک صوبے کی حد تک محدود ہیں یا پھر ان کا اطلاق نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں اس وقت ہزاروں کی تعداد میں لوگ بیروزگار ہورہے ہیں اور ان کے پاس اپنی بات کرنے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔معاشی پیکج اور تین ہزار روپے کا راشنجبکہ دوسری جانب سرکار دو سو ارب کے معاشی پیکج کا اعلان کر چکی ہے جس کے تحت یومیہ اجرت پر کام کرنے والے افراد اور مزدوروں کو معاشی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

لیکن ماہرین کے مطابق اس معاشی پیکج کا فائدہ بڑے صنعتی اداروں کو تو مل جائے گا جبکہ مزدوروں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے افراد پر اس پیکج کا کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت بڑے صنعتی اداروں کو بچانے کے بجائے مزدوروں اور ملازموں کو بچانے کی ضرورت ہے۔

طیب اردوان کا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ٹیلیفون، عیدالفطر کی مبارکباد امریکا نے پاکستان کی فنڈنگ میں ساٹھ لاکھ ڈالر کا اضافہ کردیا ترک صدر کا پاکستانی ہم منصب کو فون، طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار - ایکسپریس اردو

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر کرامت علی نے کہا کہ ’اداروں میں اصلاحات لائے بغیر آپ مزدوروں کے حق اور نوکری کے تحفظ کی بات نہیں کرسکتے، یہ زخم صحیح کیے بغیر پٹی کرنے والی بات ہے۔ 3000 روپے میں کیا ہوسکتا ہے؟ قوانین بحال کریں تاکہ ملازم پیشہ یا مزدور پیشہ افراد خود کو سنبھال سکیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹGetty Imagesاس وقت ملک بھر میں دیہاڑی پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ مشکل میں ہیں۔ کیونکہ یہ واحد طبقہ ہے جس کی کوئی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتا۔لیکن لاہور کے رہائشی اور سماجی کارکن مرتضی باجوہ اس وقت مزدوروں اور نوکریوں سے نکالے جانے والے ملازمین کے لیے ماہانہ راشن کا انتظام کررہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ چند ماہ پہلے تک بطور سپروائزر کام کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’اس وقت صورتحال بہت خراب ہے کیونکہ اب بھی چند ایسی فیکٹریاں موجود ہیں جو ورکرز سے دو ماہ کام لینے کے بعد ایک ماہ کی تنخواہ دے رہے ہیں۔‘حال ہی میں لاہور کے گجوّمتہ فیکٹری ایریا اور شاہ درا کے علاقے سے تقریباً 200 ملازمین کو بغیر کسی اطلاع دیے نوکری سے فارغ کردیا گیا۔

تھرڈ پارٹی کنٹریکٹسماجی کارکن مرتضی باجوہ نے بتایا کہ ’کنٹریکٹ ورکرز کو یہ کہہ کر نکالا جارہا ہے کہ وہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے نوکریوں پر لگائے گئے تھے اس لیے باقی ملازمین کو ملنے والے حقوق ان پر لاگو نہیں ہوتے۔ جبکہ اس وقت ہر طرح کے فیکٹری ورکر کی نوکری خطرے میں ہے۔‘

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ منان باچہ نے تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ کے بارے میں بتایا کہ اس میں وہ ملازمین شامل ہوتے ہیں جو ٹھیکیدار یا ایجنٹ کے ذریعے فیکٹریوں میں لائے جاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایسے چھوٹے بڑے انڈسٹریل یونٹ موجود ہیں جن میں ایک مدت سے مزدوروں کو کوئی لیٹر یا ثبوت نہیں دیا جاتا جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ اس ادارے کے ملازم ہیں۔

’تھرڈ پارٹی ملازمین کی قانونی پوزیشن کمزور ہوتی ہے کیونکہ عدالتوں میں مالک منع کردیتے ہیں کہ یہ ہمارا ملازم نہیں ہے۔ جبکہ سندھ حکومت کے قوانین کے تحت تھرڈ پارٹی کا کوئی کونسیپٹ نہیں ہے۔‘منان باچہ نے کہا کہ اس وقت پاکستان کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے تقریباً 80 فیصد ملازم تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ کے ذریعے آتے ہیں۔جن کا مستقبل حالیہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے مشکل نظر آتا ہے۔

اس وقت مختلف سماجی کارکن سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے ذریعے مزدور پیشہ افراد اور ان تمام لوگوں کی معاشی مدد کرنے میں مصروف ہیں جن کو حال ہی میں نوکریوں سے نکالا گیا ہے۔لیکن ایڈووکیٹ منان کے مطابق ’اس وقت معاملہ صرف کنٹریکٹ پر کام کرنے والوں تک محدود نہیں رہا۔ بلکہ اس وقت ملازمت اور مزدوری کرانے کے طریقہ کار پر بات کرنے کی اور جلد از جلد لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔‘



مزید پڑھ: BBC News اردو

جنگ گروپ جیسا ادارہ اپنے ملازمین کو تھرڈ پارٹی کانٹریکٹ پر ہائر کرتا ہے دی نیوز و جنگ سمیت تقریباً ہر پرچے و کاروبار میں ٹوٹل میڈیا سولوشنز کے کانٹریکٹ سائن جائے جاتے ہیں اس پر بھی کچھ لکھا جاوے میر شکیل کی آذادی کے نعرے وہ بیچارے لگا رہے ہیں جو ٹوٹل میڈیا کے کارکنان ہیں You never covered the big guns across Europe who are saying goodbye to their workers in different areas and talking up Pakistan who has just 1200 plus positive covid19 cases from 2200 million people may UK and US be saved from the pandemic thanks for concern!

عمران خان صاحب ہمیں فروری 2020 کی تنخواہ 5000 ہی دے دیں پلیز عمران خان دنیا کا خوش قسمت ترین انسان ہے۔ پاکستانی قوم دنیا کی بد نصیب ترین قوم ہے۔ Sari zindgi Kiya ha 4 din ghr ni nekal skty agr Mr ghy to fir be skon krna ha na fir Kahan sy kana ha زمین برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک سے پاک ہو جائے امن خوشحالی ہر ملک کا نصیب ہو گی ان شاءاللہ غریب اور متوسط ممالک کی اقتصاد اور حکومتی مشینری ان کے قبضہ میں ہے۔ ان وفادار سیاست دانوں سرکاری ملازموں صنعت کاروں کو شہریت دے رکھی ہے ان کے ذریعے ان ممالک کی دولت سمیٹ رہے ہیں

پاکستان میں اس وبائی مرض کی آمد سے قبل بھی بےروزگاری کی شرح بلند ترین سطح پر تھی، رہی سہی کسر کرونا وائرس نے نکال دی - Same as UK n all world. And ji_reliefactivities are going on all over Pakistan to reduce their difficulties. Pakistani people have faith on AL_Khidmat Jamaat_e_Islami . They are contributing with them

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سندھ میں نماز کے اجتماعات پر پابندیسندھ حکومت نے کورونا وائرس کو مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے صوبے میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کردی۔ مذکورہ فیصلے کا اطلاق 27 مارچ سے 5 اپریل تک رہے گا، تاہم مساجد میں

پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 15 فیصد اضافہپاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 15 فیصد اضافہ SamaaTV CoronaVirusPakistan CoronavirusPandemic گھر میں بیٹھ کر نیٹ استعمال کر کے وقت گزارا جارہا ہے

کورونا وائرس کے وار جاری ، پاکستان میں کیسز میں مزید اضافہ ہو گیالاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان میں کورونا وائرس کے وار تیز ہوتے جارہے ہیں اور اب

کورونا کے بارے میں آپ کے سوال اور ان کے جوابدنیا میں جیسے جیسے کووِڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ ممالک کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے عام آدمی کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

پاکستان میں کووڈ 19 کے پہلے مریض سے ایک ہزار تک کا سفر - Pakistan - Dawn News

پاکستان میں کورونا وائرس کی وباءسے نمٹنے کے لیے چین نے بڑا اعلان کردیااسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) عالمی وبا کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے چین نے پاکستان