چیئرمین پیپلزپارٹی نے متحدہ کو سازشی کا لقب دے دیا

27/01/2022 6:44:00 AM

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو سازشی کا لقب دے دیا۔ تفصیلات جانیے: #DailyJang

Bilawal Bhutto, Mqm

پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایم کیو ایم کو سازشی کا لقب دے دیا۔ تفصیلات جانیے: DailyJang

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایم کیو ایم ٹائپ سازشی بننا چاہتے ہیں، ان کو اپنا کام کرنے دیں، سازش کرنے دیں، ہم اپنا کریں گے۔

واضح رہے کہ سندھ کے بلدیاتی نظام کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کے ساتھ احتجاج کیا گیا، پولیس نے ریڈ زون کی خلاف ورزی پر احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی۔مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے نتیجے میں رکن سندھ اسمبلی سمیت کئی کارکنان زخمی ہوگئے جبکہ ایک عہدیدار جاں بحق ہوگیا۔

مزید پڑھ:
Daily Jang »

🔴 LIVE | Imran Khan Addressing Seminar on Economy & Foreign Policy | Breaking News

🔴 LIVE | Imran Khan Addressing Seminar on Economy & Foreign Policy | Breaking News#PTI #ImranKhan #BreakingNewsImran Khan | Imran Khan Speech | Imran Khan L... مزید پڑھ >>

کیا ایم کیو ایم نے حدّ ادب پار کر لی تھی ؟ - Urdu Blogs | ARY Newsہر طنز کیا جائے ہر اک طعنہ دیا جائےکچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں نہ رہا جائےتاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی پیغامحق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے کیا ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان آج حق چھین لینے کے ارادے سے سڑکوں پر نکلے اور کیا انھوں نے حدِّ […] غیرت آج نہیں جاگی تو آفاق احمد عامر خان مصطفیٰ کمال فاروق ستار اور کراچی سے کما کر کھانے والوں ڈوب کر مر جانا آج کراچی کی نہیں ھجرت کی توھین ھوئی اورپھر تمھاری ماؤں بہنوں کی عزت پر حملہ پر حملہ ھر لمحہ ھونگے اور تم بے غیرت اور رسوائی کا نام ھو گے g wo sab border paar ker k india ja rahey they , mil gai saza ab khushhh سندھو دیش کے نعرے گویا حد میں رہ کر لگائے جاتے ہیں

پنجاب میں شدید دھند کے باعث موٹروے ایم 2 ، ایم 3 اور ایم 11 بندڈرائیور حضرات دھند میں رفتار کم اوراگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں ، کسی مشکل کی صورت میں ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں، ترجمان موٹروے

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ہر سیاستدان کو چورکہنے والوں کو آئینہ دکھادیا: فضل الرحمانپاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) نے 23 مارچ کو ہی لانگ مارچ کرنے کا اعلان کر دیا۔اسلام آباد میں پی ڈی ایم اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی juipakofficial MoulanaOfficial pmln_org ANPMarkaz ملاں ڈیزل چور اور ہمنواء

ایم کیو ایم پاکستان کا آج یومِ سیاہ منانے کا اعلانخالد مقبول صدیقی نے آئی جی سندھ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ وہ ’’لڑنا نہیں چاہتے‘‘ لیکن سب کو پتا ہے کہ وہ ’’لڑنا جانتے ہیں‘‘۔ Drama hen. Murderer of Pashtuns

ایم کیو ایم کے کارکنوں پر پولیس کا تشدد، حیدرآباد اور میرپور خاص میں احتجاجی مظاہرےصورتحال کو دیکھتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں میں رینجرز تعینات کردی گئی ہے جبکہ پولیس نے بھی گشت بڑھادیا ہے Aslam o alikum, My name is Mujtaba and i want to introduce you to an amazing business opportunity that can change your life!. I am helping others to earn money online upto 100k pkr monthly whithin three months, if you are interested msg me on Whats 00966565351326 Thank u پاکستان کی مفسد اسٹیبلشمنٹ یہی چاہتی ہے

ایم کیو ایم کے دھرنے پر پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج متعدد افراد گرفتارکراچی میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر دھرنے پر پولیس نے لاٹھی چارج اور شیلنگ کردی۔ایم کیو ایم پاکستان نے سندھ کے متنازع

بلاول بھٹو زرداری نے پی ٹی آئی حکومت کو کچرا قرار دیتے ہوئے کہا کہ 27 فروری کو کراچی سے نکلیں گے اور اسلام آباد کے کچرے کا بھی صفایا کردیں گے۔ واضح رہے کہ سندھ کے بلدیاتی نظام کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کے ساتھ احتجاج کیا گیا، پولیس نے ریڈ زون کی خلاف ورزی پر احتجاجی مظاہرین پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی۔ مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے نتیجے میں رکن سندھ اسمبلی سمیت کئی کارکنان زخمی ہوگئے جبکہ ایک عہدیدار جاں بحق ہوگیا۔ قومی خبریں سے مزید .ہر طنز کیا جائے ہر اک طعنہ دیا جائے کچھ بھی ہو پر اب حد ادب میں نہ رہا جائے تاریخ نے قوموں کو دیا ہے یہی پیغام حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے کیا ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان آج حق چھین لینے کے ارادے سے سڑکوں پر نکلے اور کیا انھوں نے حدِّ ادب پار کر لی تھی جس پر انھیں لاٹھی چارج اور شیلنگ کا سامنا کرنا پڑا؟ ایسا نہیں‌ ہے۔ یہ احتجاجی دھرنا ہی تھا، اور ایک سیاسی جماعت کا حق تھا لیکن شاید ریڈ زون سے باہر رہتے ہوئے یہ احتجاج مؤثر ثابت نہیں ہوتا۔ یہ بھی حقیقت یہ ہے کہ تقسیم اور ڈھرے بندی کا شکار ایم کیو ایم ہی کیا قومی سطح کی مضبوط سیاسی جماعتوں نے کبھی تاریخ کو اتنی اہمیت ہی نہیں‌ دی کہ اس سے کوئی سبق حاصل کرسکے، کچھ سیکھے۔ جمہوری نظام میں حق چھین کر لیا جاتا ہے یا عوامی طاقت کا مظاہرہ کرکے اور قانون کا سہارا لے، یہ تو کوئی سیاسیات کا ماہر ہی بتا سکتا ہے، لیکن اس وقت کراچی کے سلگتے ہوئے مسائل پر حکومت سے الجھتے ہوئے سیاسی راہ نماؤں‌ کی شعلہ باری اور اپنے مخالفین کو نامناسب انداز میں‌ للکارنے سے شہریوں میں‌ جو بے چینی اور خوف پیدا ہوا ہے، اسے دور کرنا ضروری ہے۔ موجودہ منظر نامے پر نظر ڈالی جائے تو رواں ماہ وفاق اور صوبوں‌ میں‌ بھی حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کی جماعتیں آمنے سامنے ہیں۔ سندھ کی طرف چلیں‌ تو وفاق کی حکم راں جماعت تحریکِ انصاف نے پاکستان پیپلز پارٹی کا گڑھ کہلانے والے لاڑکانہ میں‌ عوامی اجتماع منعقد کیا اور بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس کا جواب دیا۔ ادھر کراچی کو حق دو، کراچی والوں کے ساتھ انصاف کرو، کراچی ہمارا ہے جیسے نعروں کے ساتھ گزشتہ چند دنوں میں مختلف پارٹیوں کے کارکن بھی شہر کی سڑکوں پر نظر آئے۔ آج ماضی کی ایک بڑی سیاسی طاقت اور سندھ کے شہری علاقوں‌ کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم نے وزیراعلیٰ ہاؤس پر دھرنا دیا تھا۔ یہ بلدیاتی قانون میں حالیہ ترامیم کے خلاف احتجاجی دھرنا تھا۔ ایم کیو ایم کے کارکنان اور دھرنے میں شامل شہری جب اپنی قیادت کے ساتھ ریڈ زون میں‌ داخل ہوگئے تو پولیس نے انھیں‌ منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا، گرفتاریاں ہوئیں اور صورتِ حال بگڑ گئی۔ اس سے قبل ٹنڈو الہ یار میں خلیل عرف بھولو خانزادہ کا قتل اور اس کے بعد سندھ کی شہری آبادی کی قیادت کی جانب سے صوبائی حکومت کو ذمہ دار قرار دے کر لسانی فسادات کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہی نہیں‌ بلکہ سخت بیانات اور ایسی تقاریر کی گئیں جنھیں مختلف واقعات پر سیاسی ردعمل تو کہا جاسکتا ہے، لیکن یہ سب صوبے میں‌ بسنے والوں کے درمیان نفرت اور دوریاں پیدا کرسکتا ہے۔ سنجیدہ و باشعور عوامی حلقے بلدیاتی قانون میں ترامیم پر حکومتِ سندھ کو بھی مطعون کرتے نظر آتے ہیں اور دانش وَر طبقہ بھی سمجھتا ہے کہ یہ عوام دشمنی کے مترادف ہے، لیکن اس وقت سیاسی جماعتوں جس قسم کا ماحول بنا دیا ہے، اس میں‌ عام آدمی خوف زدہ نظر آرہا ہے۔ بلدیاتی اختیارات اور مسائل کے حوالے سے سیاسی لڑائی بجا، مگر کراچی کے شہریوں کی تشویش دور کرنا اور انھیں تحفظ کا احساس دلانا ضروری ہے۔ اس میں‌ سب سے بڑی ذمہ داری صوبائی حکومت کی ہے جو ایک طرف تو شہریوں کی جان و مال کے تحفظ میں‌ ناکام نظر آتی ہے اور عوام کے مسائل کے حل میں تاخیر کے حربے استعمال کرتے ہوئے آج بلدیاتی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کرچکی ہے۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے بلدیاتی قانون میں ترامیم کے خلاف ایم کیو ایم ہی نہیں‌ سندھ میں‌ حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتیں بھی سراپا احتجاج ہیں۔ جماعتِ اسلامی کی احتجاجی ریلی اور دھرنے، مہاجر قومی موومنٹ کے آفاق احمد کے جلسے، پاک سَرزمین پارٹی کے مصطفیٰ کمال اور مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین کے احتجاج کے دوران تقریر میں بھی سندھ اسمبلی میں منظور کردہ بلدیاتی بِل کو کالا قانون قرار دیا گیا۔ حزبِ اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی حکومت نے مقامی حکومتوں کے اختیارات سلب کر لیے ہیں اور عوام کے مسائل سے لاتعلق نظر آتی ہے جب کہ صوبائی حکومت کے سربراہ مراد علی شاہ، اور پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت اراکینِ اسمبلی کی نظر میں ان ترامیم کے بعد سندھ میں بلدیاتی قانون دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہتر ہو گیا ہے، لیکن کس کا مؤقف درست ہے، یہ جاننے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ انتشار اور افراتفری کی فضا کا خاتمہ کیا جائے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سندھ میں بلدیاتی اداروں کو جس قدر بااختیار ہونا چاہیے تھا، وہ نہیں ہیں جب کہ کسی بھی جمہوری اور ترقیّ یافتہ معاشرے کے لیے بااختیار مقامی حکومتیں ضروری ہیں۔ کراچی جو ملک کا معاشی حب اور سب سے بڑا شہر ہے، گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے اور مقامی سطح پر لوگوں کے مسائل کئی گنا بڑھ چکے ہیں اور صورتِ حال گمبھیر ہے، اسے حل کرنے کے لیے ایک مؤثر اور ہر قسم کے سیاسی امتیاز سے پاک اور مداخلت سے آزاد نظام کی ضرورت ہے۔ سندھ میں اپوزیشن اسی حقیقی مسئلے کو اجاگر کرنے اور حکومت کو متوجہ کرنے کے لیے میدان میں ہے۔ تحریک انصاف اور فنکشنل لیگ بھی گزشتہ دنوں‌ اس حوالے سے متحرک نظر آئی تھیں، لیکن کیا حکومت اور سیاسی جماعتیں تند و تیز بیانات دیتے ہوئے یہ سوچ رہی ہیں‌ کہ اس کے کیا نتائج نکل سکتے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آج وزیرِ اعلیٰ‌ ہاؤس کے سامنے ایم کیو ایم پاکستان کے دھرنے کے شرکا کے ساتھ جو کچھ ہوا، اسے صوبائی حکومت کی ہٹ دھرمی اور من مانی کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے، لیکن دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے راہ نماؤں نے بھی ایسی تقاریر اور تند تیز بیانات دینا شروع کر دیے ہیں جو خود ان کے ووٹروں اور حامیوں کی مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں حکومتِ سندھ کے اقدامات کے خلاف کوئی تحریک کام یاب ہو یا ناکام، سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے عوام میں دوریاں ضرور بڑھیں گی اور اس کے اچھے نتائج سامنے نہیں‌ آئیں گے۔ سندھ میں اپوزیشن کا یہ مطالبہ درست ہے کہ کراچی کو وہ بلدیاتی نظام دیا جائے جو ایک بڑے شہر کو جدید خطوط پر اس کی ضرورت کے مطابق چلانے کا ذریعہ بنے۔ شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے ذمہ دار محکمے ہی نہیں حکومت، پولیس کو بھی مقامی حکومت کے ماتحت کرے جو حالات میں بہتری لانے کا سبب بنے گا۔ ایک طرف کراچی میں لوٹ مار کے واقعات اور ڈکیتیوں کے دوران مزاحمت پر شہریوں کا قتل معمول بن گیا ہے جب کہ مؤثر بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے لوگ پہلے ہی مصائب کا شکار ہیں۔ عوامی حلقے بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے بنیادی ضروریات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤثر بلدیاتی نظام دینے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں، لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکم راں اور اپوزیشن جماعتوں‌ کو سمجھنا چاہیے کہ سیاسی میدان میں ان کی شعلہ بیانی سے صوبے میں انتشار اور لسانیت کو فروغ ملے گا اور یہ سب بڑے سماجی المیے کو جنم دے سکتا ہے۔ Share.ویب ڈیسک 27 جنوری ، 2022 موٹروےایم 3کو لاہور سے جڑانوالہ تک ، موٹر وے ایم 2 ٹھوکر نیاز بیگ سے شیخوپورہ تک اور ایم 11کولاہورسےسیالکوٹ تک بند کردیا گیا ہے —فوٹو: فائل پنجاب کے میدانی علاقوں میں پھر دھند چھا گئی ہے ، موٹر وے ایم2، 3 اورایم 11 کو مختلف مقامات سےٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ ترجمان موٹر وے پولیس کےمطابق موٹروےایم 3کو لاہور سے جڑانوالہ تک ، موٹر وے ایم 2 ٹھوکر نیاز بیگ سے شیخوپورہ تک اور ایم 11کولاہورسےسیالکوٹ تک بند کردیا گیا ہے ۔ ترجمان موٹروے کا کہنا ہے کہ موٹر ویز مسافروں کی حفاظت کیلئے بند کی گئی ہیں ، ڈرائیور حضرات دھند میں رفتار کم اوراگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں ، کسی مشکل کی صورت میں ہیلپ لائن 130 پر رابطہ کریں۔ مزید خبریں :.ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 23 مارچ کو ملک کے کونے کونے سے عوام اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ان کی مصنوعی ایمانداری کا آئینہ دکھا دیا ، حکمرانوں کو ذرا شرم و حیا ہوتی تو چلو بھر پانی میں ڈوب مرتے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو مہنگائی کے ایسے بھنور میں پھنسا دیا گیا ہے جس سے نکلنے کے آثار نہیں آرہے، عوام کی چیخیں انہیں سنائی نہیں دے رہے، ان حکمرانوں کو عوام کے کرب کا کوئی احساس نہیں، سارے سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے نعرے اور چور چور اور چور کہنے والوں کو ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ان کے مصنوعی ایمانداری کا آئینہ دکھا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج کرپشن میں چند سالوں میں 117 سے 140 پہ چلا گیا ہے، کچھ میں شرم ہوتی ان کو چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے تھا۔سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ تاریخ کی سب سے ناکام، کرپٹ اور نااہل حکومت یہ ثابت ہوچکی ہے، اب بھی کوشش کررہی ہے کہ مشینوں کا سہارا لے کر دھاندلی کے ذریعے اقتدار کے مزے لوٹے، قوم بیدار ہے ان کو مکھی کی طرح انگلی سے پکڑ کر اقتدار سے باہر کیا جائے گا۔.