پی ڈی ایم سربراہی اجلاس، نواز شریف نے مولانا کی تجویز کی حمایت کردی

25/01/2022 2:50:00 PM

مولانا فضل الرحمان کی زیرِصدارت پی ڈی ایم سربراہی اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

Pdm, Daily Jang

اتحادی ایوان میں اپوزیشن کی حمایت کردیں تو عدم اعتماد کی بھی ضرورت نہیں ہوگی، مولانا فضل الرحمان تفصیلات جانیے: DailyJang

مولانا فضل الرحمان کی زیرِصدارت پی ڈی ایم سربراہی اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں۔پی ڈی ایم سربراہ نے تجویز دی کہ اتحادی جماعتوں کو اپنے مؤقف پر قائل کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ایوان میں اپوزیشن کی حمایت کردیں تو عدم اعتماد کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔

ان کی اس تجویز کی مسم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے حمایت کردی۔اجلاس میں ن لیگ کی جانب سے شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور بلال کیانی شریک ہوئے۔نیشنل پارٹی کے عبدالمالک، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤ اور جمعیت علماء پاکستان کے اویس نورانی بھی اجلاس میں شریک تھے۔

مزید پڑھ: Daily Jang »

اسٹیٹ بینک نے 75 روپے کا یادگاری نوٹ جاری کر دیا

اسٹیٹ بینک نے 75 روپے کا یادگاری نوٹ پاکستان کے 75ویں یوم آزادی پر جاری کیا ہے۔ جو ستمبر 2022 کے آخری ہفتے میں دستیاب ہو گا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ مزید پڑھ >>

ناصر حسین شاہ اور مرتضی وہاب کی پی ایس پی قیادت سے ملاقاتکراچی : پیپلزپارٹی رہنماؤں ناصر حسین شاہ اور مرتضی وہاب کی پی ایس پی قیادت سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں نئے بلدیاتی قانون پر گفتگو کی گئی۔ ایک دوسرے کیخلاف

ویرات کی ففٹی، انوشکا کی بیٹی کے ہمراہ کوہلی کو سپورٹ کرنے کی ویڈیو وائرلانوشکا شرما اور ویرات کوہلی کے ہاں گزشتہ سال 11 جنوری کو بیٹی وامیکا کی پیدائش ہوئی تھی مزید جانیے : ViratKohli GeoNews anushkasharma

صدارتی نظام اور مولانا مودودی کی بلیپہلے ایک دلچسپ واقعہ سنیے۔ جماعت اسلامی کی تاریخ کا سب سے بڑا تنظیمی حادثہ 1957ء میں پیش آیا جب مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا عبدالرحیم اشرف جیسی شخصیات جماعت سے الگ ہوگئیں۔ پڑھیئے خورشید ندیم کا مکمل کالم: RoznamaDunya DunyaColumns

پی ایس ایل کی پلیئنگ کنڈیشنز میں ترامیم کا اعلانپر پی ایس ایل 7 کہ سانگ کا کوئی لیول نہیں ہے

پاک بحریہ میں پی این ایس طغرل اور سی کنگ ہیلی کاپٹرز کی شمولیت - ایکسپریس اردوپاکستان اورچین میں چار054 ایلفافریگیٹس کی تیاری کامعاہدہ جون2018 میں طے پایا تھا،سی کنگزہیلی کاپٹرزقطرنے تحفے میں دیے اب تو فقیر بھی مانگتے ہوئے بھیک نہیں بلکہ تحفہ مانگتے ہیں ہماری گوورنمنٹ کی طرح۔

پی ایس ایل کی پلیئنگ کنڈیشنز میں ترامیم کا اعلان

اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت اخلاقی طور پر اپنا وجود کھو چکی ہے، حکومتی اتحادی بھی عوام دشمن پالیسیوں کے باعث تذبذب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو اتحادی جماعتوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرنے چاہئیں۔ پی ڈی ایم سربراہ نے تجویز دی کہ اتحادی جماعتوں کو اپنے مؤقف پر قائل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ایوان میں اپوزیشن کی حمایت کردیں تو عدم اعتماد کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان کی اس تجویز کی مسم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے حمایت کردی۔ اجلاس میں ن لیگ کی جانب سے شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور بلال کیانی شریک ہوئے۔ نیشنل پارٹی کے عبدالمالک، قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیرپاؤ اور جمعیت علماء پاکستان کے اویس نورانی بھی اجلاس میں شریک تھے۔ حافظ عبدالکریم،صدیق الفاروق، حافظ حمداللہ کے علاوہ احسن اقبال، مریم نواز اور شہبازشریف وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔ قومی خبریں سے مزید .ہوئی۔ ملاقات میں نئے بلدیاتی قانون پر گفتگو کی گئی۔ ایک دوسرے کیخلاف الزامات کی پٹاری کھولنے والے بلدیاتی قانون پر مشاورت کیلئے مل بیٹھے۔ پیپلزپارٹی کے وفد نے پی ایس پی قیادت کے ساتھ بلدیاتی قانون پر مذاکرات کیے۔ 30جنوری کا احتجاج ملتوی کرنے کی درخواست کی اور تجاویز شامل کرنے کا عندیہ بھی دے دیا۔کبھی ایک دوسرے کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے رہنمائوں نے اب کی بار ایک دوسرے کا شکریہ بھی ادا کیا اور تعریفیں بھی کیں، سلام تحسین بھی پیش کیے گئے۔مصطفی کمال نے کہا کہ دو ہزار ایک کا بلدیاتی قانون بحال ہونا چاہیے۔ لسانیت کے نام پر سیاست کو چمکانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ اچھا کام کرینگے تو پیپلزپارٹی کو فائدہ ہو گا۔.ویرات کوہلی کے بھائی نے انوشکا ویرات کی بیٹی کی تصویر پر وضاحت کردی تاہم اب وامیکا کی شکل میڈیا پر پہلی بار سامنے آگئی ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہورہی ہے۔ جی ہاں ان دنوں بھارتی کرکٹ ٹیم جنوبی افریقا کے دورے پر موجود ہے جہاں اتوار کے روز تیسرے ون ڈے انٹرنیشنل میچ کے دوران وامیکا پہلی بار واضح طور پر کیمرے میں دیکھی گئیں۔ ویرات نے جنوبی افریقا کے خلاف نصف سنچری بنائی اس موقع پر میدان میں انوشکا اور وامیکا بھی موجود تھیں جو ویرات کی شاندار بیٹنگ پر جشن منارہی تھیں۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں وامیکا کو 2 پوہنیاں باندھے بظاہر گلابی رنگ کے سوٹ میں انوشکا کی گود میں دیکھا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر میچ کے اس خاص لمحے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صارفین پہلی بار وامیکا کو دیکھ کر خوش ہورہے ہیں۔ واضح رہے کہ جنوبی افریقا نے بھارت کو تیسرے ون ڈے میں بھی شکست دیکر سیریز 3 صفر سے اپنے نام کرلی۔ مزید خبریں :.کیا صدارتی نظام کی بلی ایک بار پھر تھیلے سے باہر آگئی ہے؟ پہلے ایک دلچسپ واقعہ سنیے۔ جماعت اسلامی کی تاریخ کا سب سے بڑا تنظیمی حادثہ 1957ء میں پیش آیا جب مولانا امین احسن اصلاحی اور مولانا عبدالرحیم اشرف جیسی شخصیات جماعت سے الگ ہوگئیں۔ اس علیحدگی کے بعد مولانا مودودی اور مولانااصلاحی کے مابین خط و کتابت ہوئی۔ یہ دونوں شخصیات علم ِدین ہی نہیں‘ قدرت ِکلام کے اعتبار سے بھی بے مثل تھیں۔ مولانا مودودی کی ادبی حیثیت تو مسلمہ ہے۔ مولانا اصلاحی کو جنہوں نے پڑھاہے‘ جانتے ہیں کہ ان کی نثر بھی ادبِ عالیہ کا نمونہ ہے۔ ان کی تحریر کے سحر سے نکلنا آسان نہیں۔ تنقیدی ادب میں تو ان کا جواب نہیں۔ ان شخصیات کی اس خط و کتابت کا شمار بڑے ادبی معرکوں میں کیا جا سکتا ہے۔ دونوں نے اپنا نقطہ نظر جس شان سے پیش کیا‘وہ پڑھنے کے لائق ہے۔ اختلاف کا سبب یہ بنیادی سوال تھا کہ امیرِ جماعت کو شوریٰ کی رائے کا پابند ہو نا چاہیے یا نہیں؟مولانا مودودی کا خیال تھا کہ امیر مشورہ تو لے گا لیکن وہ شوریٰ کا پابند نہیں۔ مولانا اصلاحی کی رائے اس کے برخلاف تھی۔ ان خطوط میں مولانا مودودی اپنے اس نقطہ نظر کی تاریخ بیان کرتے ہوئے یہ لکھتے ہیں کہ ان کا موقف‘ کوئی ایسی بلی نہیں تھی جو وہ پہلی بار شیر کوٹ کے اجتماع میں اپنے تھیلے سے اچانک نکال لائے بلکہ یہ ان کا پرانا موقف ہے جو انہوں نے 1941ء میںجماعت کے پہلے اجتماع ہی میں بیان کر دیا تھا۔ اگر یہ کوئی بلی تھی تو ''اُسی وقت میں نے اسے تھیلے سے نکال کر سب کے سامنے رکھ دیا تھا۔‘‘ مولانااصلاحی نے اس کے جواب میں لکھا کہ آپ نے ناحق اپنی 'بلی‘ کی تاریخِ پیدا ئش بیان کی۔ مجھے معلوم ہے کہ یہ بلی پہلے ہی دن سے آپ کے تھیلے میں موجود تھی۔ میں نے فلاں اجتماع میں اس کی گردن مروڑنے کوشش کی مگر یہ مر نہ سکی‘یہاں تک کہ تقسیم کے بعد جماعت کا جو دستور بنا‘اُس میں اس کی موت کا آخری فیصلہ ہوگیا۔ آپ نے پھرمسیحائی کاآخری ا فسوں پڑھا اور اسے زندہ کر دیا۔ اب آپ پھر مجھ دعوت دیتے ہیں کہ میں شوریٰ میں آؤں اوراسے مارنے کی کوشش کروں۔ ''اس کے معنی یہ ہیں کہ میں ساری زندگی اس 'گربہ کشی‘ ہی کی نذر کردوں‘آخر یہ کون سا شریفانہ پیشہ ہے‘‘۔ صدارتی نظام کا معاملہ بھی مولانا مودودی کی بلی جیسا ہے۔ یہ' بلی‘ بھی پہلے دن سے حقیقی نظام سازوں کے تھیلے میں موجود تھی‘جسے حسبِ توفیق لوگوں نے مارنے کی کوشش کی۔ نظام سازوں کے پاس مگر ایسا منتر تھا کہ جب پڑھتے‘یہ زندہ ہوجاتی۔ کبھی اسے قائد اعظم کے تھیلے سے برآمد کیا گیا کہ وہ صدارتی نظام چاہتے تھے۔ لوگوں نے اس کو رد کیا تو اسے کر اسلام کے نام پرپھر زندہ کر دیا گیا کہ صدارتی نظام اسلام کے نظامِ سیاست سے قریب ہے۔ جب اس کی غلطی واضح کی گئی تو سیاسی جماعتوں کی ناکامیوں کو پارلیمانی نظام کے سر ڈال کر‘یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ یہ نظام ناکام ہوچکا‘اس لیے اب متبادل چاہیے۔ اس پربھی کچھ لوگوں نے اپنے تئیںاس بلی کی گردن مروڑی مگر آج کل یہ پھر دندناتی پھر رہی ہے۔ لگتا ہے نظام سازوں کے پاس کوئی ایسا جادو ہے کہ جب چاہتے ہیں اس کے مولودِ سعید کی خوش خبری سنا دیتے ہیں۔ چندسال پہلے مجھے ایک صاحب نے بتایا کہ سیاسی نظاموں کے ایک ٹکسال سے ان کا گزر ہوا۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ اس 'بلی‘ کے خدوخال سنوارے جا رہے ہیں۔ میں نے حسبِ توفیق اس بلی کو اپنے کالم سے مارنے کی کوشش کی لیکن کیا میں اور کیامیرا کالم۔ اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑھا۔ کچھ رائے ساز اس کی رضاعت و پرورش بھی کر رہے تھے جیسے اب ہو رہا ہے۔ یوں یہ بلی آج بھی زندہ سلامت موجود ہے۔ پاکستان میں ایک عرصہ سے ایک منظم اور ہمہ جہتی کاوش جاری ہے‘ جس کا مقصود عوام کو یہ سمجھانا ہے کہ جمہوریت ناکام ہو چکی اور سیاسی جماعتیں دراصل مافیا ز ہیں جو ملک کی ترقی میں حائل ہیں اوران سے نجات ازبس ضروری ہے۔ 1973 ء کے آئین نے اگرچہ نظاموں کی اس بحث کا خاتمہ کر دیا تھا جب پوری قوم کے نمائندوں نے پارلیمانی نظام کے حق میں رائے دی تھی مگر جنرل ضیاء الحق صاحب نے اس 'بلی‘ کوپھر سے زندہ کر دیا۔ ضیاء الحق مرحوم سیاسی جماعتوں کو پاکستان کے لیے مضر سمجھتے تھے۔ یہاں تک کہ اسلام پسند ہونے کے باوجود‘وہ مذہبی جماعتوں کو بھی گوارا نہیں کر تے تھے۔ کراچی میں انہوں نے پیپلزپارٹی کے ساتھ جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے پاکستان کو ختم کرنے کے لیے جو کچھ کیا‘وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس کے لیے مذہب کو استعمال کیا اور یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اسلام میں سیاسی جماعتوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے وزیر مذہبی امور مولانا وصی مظہر ندوی نے ایک کتاب لکھی جس میں بتایا کہ اسلام کے نزدیک سیاسی جماعتوں کا قیام ناجائز ہے۔ جنرل صاحب نے غیر جماعتی انتخابات کے حربے سے بھی سیاسی جماعتوں کے وجود کو ختم کر نے سعیٔ نامسعود کی۔ ان کی شہادت ہوئی تو ملک کو متحد رکھنے کے لیے سیاسی جماعتوں‘بالخصوص پیپلزپارٹی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اس دور کے نظام سازوں نے ضیاء الحق صاحب کے خیالات کو ایک طرف رکھا اور پیپلز پارٹی سے معاملہ کیا۔ جب مشرف صاحب کو موقع ملا توانہوں نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ یوں سیاسی جماعتوں سے جان چھڑا لی؛ تاہم جلد ہی انہیں بھی اندازہ ہو کہ ان کے بغیر کام نہیں چلنے والا۔ تب انہوں نے بھی نون لیگ سے (ق) لیگ برآمدکی۔ ایم کیو ایم کو مضبوط کیا اور ایسی سیاسی جماعتوں کے تصور کو آگے بڑھا جو 'نظام فرینڈلی‘ ہوں۔ مشرف صاحب کا سیاسی انجام بھی ضیاء الحق صاحب کی طرح ہوا۔ بے نظیر کی شہادت سے ایک بار ثابت ہوا کہ حقیقی سیاسی جماعتوں کے بغیر ملک کو متحد نہیں رکھا جا سکتا۔ پھر نظام سازوں کو اپنی بے مائیگی کو اندازہ ہوا اور انہیں آصف زرداری صاحب کی منت کرنا پڑی کہ وہ صدرکا منصب قبول کرلیں۔ مشرف صاحب نہ صرف مطلق العنان نہ بن سکے بلکہ انہیں اپنے ہاتھوں سے اقتدار سیاسی جماعتوں کو سونپنا پڑا۔ ان پے در پے ناکام سیاسی تجربات کے بعد‘ہونا یہ چاہیے تھا کہ صدارتی نظام جیسی بلی ہمیشہ کے لیے مر جاتی اور اس بات کو تسلیم کر لیا جاتا کہ سیاسی جماعتوں کے بغیر کوئی سیاسی نظام نہیں چل سکتا۔ اس بات سے کسی احمق ہی کو انکار ہوگا کہ سیاسی جماعتوں کو اصلاح کی شدید ضرورت ہے لیکن یہ بات بھی ہوش و خرد سے بیگانگی کی دلیل ہے کہ سیاسی جماعتوں کے بغیر کوئی ایسا نظام چل سکتا ہے جسے عوامی تائید حاصل ہو۔ یہ دراصل جمہوریت سے جان چھڑانے کی کوشش ہے جس کا مقصدیک جماعتی نظام اور فسطائیت کے لیے راستہ نکالناہے۔ اچھا ہوا کہ تحریکِ انصاف سمیت تمام اہم سیاسی جماعتوں نے صدارتی نظام کو رد کر دیا ہے۔ اگر قومی اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرارداد کی سب جماعتیں حمایت کر د یں تو امکان ہے کہ یہ بلی ہمیشہ کے لیے مر جائے۔ بصورتِ دیگر ہم کب تک اس بلی کو مارتے رہیں گے۔ بقول مولانا اصلاحی 'آخریہ کون سا شریفانہ پیشہ ہے۔‘ Advertisement.