پاک فوج کے نامزد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ زندگی پر ایک نظر

24/11/2022 10:05:00 AM

پاک فوج کے نامزد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ خدمات پر ایک نظر

Asim Munir, Coas

پاک فوج کے نامزد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی پیشہ ورانہ خدمات پر ایک نظر

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہوں گے جو ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی میں رہ چکے ہیں

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم کو پاک فوج کا نیا سپہ سالار تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف تعینات کرنے کی سمری وفاقی حکومت نے منظوری کے لیے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے کیرئیر پر ایک نظرلیفٹننٹ جنرل عاصم منیر منگلا ٹریننگ اسکول سے پاس آؤٹ ہوئے اور انہوں نے فوج میں فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔یہ بھی پڑھیںایڈوائس صدر کے پاس چلی گئی، عمران کا امتحان ہے وہ ادارے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں یا متنازع: خواجہ آصف

مزید پڑھ:
Geo News Urdu »

جنرل عاصم منیر صاحب کو مبارک ھو ❤️ اور اللہ مدد اور آسانیاں فرمائے پاکستان زنداباد شکلو تے شریف لگ رہا ہے ماسٹر ٹائلز گوجرانوالہ کا مالک جی ایچ کیو کے باہر 2 ارب روپے لے کر کھڑا ہے اور جنرل عاصم سے غیر مشروط معافی مانگتا ہے کہ جب حافظ سید جنرل عاصم نے 90 کروڑ تاوان مانگا تو اس نے وزیر اعظم سے شکایت کی اور تاوان ادا نہیں کیا۔

سلام علیکم آج بھی نیا آرمی چیف کے ا جانے کے بعد بھی، کچھ پیسوں سے اپنے پیشے کو بیچنے والوں کو بھی سکون نہیں ہے۔۔ان کے News_chanall پر بھی خان صاحب کی بات ہو رہی ہے۔ ان کو پتہ نہیں۔عمران خان پاکستان کی پہچان اور مان بھی ہے۔تم خان کا کچھ بھی نہیں کر پاؤ گے انشاء اللۂ۔ اللہ کرے یہ والا اصلی اور نسلی ہو اللہ رحم کرے ہم پہ۔

Meanwhile Geo News 🤣 عارف شرلی نے دستخط کر دئیے۔۔۔ کیوں کہ دندان ساز کو پتہ تھا کہ دانتوں کی کیا اہمیت ہے 😂😂😂 اس نے اپنے دانت تڑوانے کے بجائے بچانے کو ترجیح دی 😛😛😛😛 وڈے آئے ٹکر کے لوگ 😂😂😂 کیا پرویز کیانی آئی ایس آئی چیف نہیں تھے؟ Allah mulk or alam e islam ki khedmat ki tufeq dy ameen 💗 بہت اچھا پالتو ہو گا یہ امریکہ کا

پاک فوج کے نئے سپہ سالار لیفٹیننٹ جنرل سید عاصم منیر کون ہیں؟اسلام آباد: پاک فوج کے نئے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر حافظ قرآن ہیں اور ڈی جی آئی ایس آئی، کور کمانڈر گوجرانوالہ اور ڈی جی ایم آئی سمیت کئی اہم عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ New addition to the list of Billioneer list of Pakistan اگلے 3 سال شریف فیملی کے مزے ہیں اب نواز شریف بھی بہت جلد حاجی بن کر آئے گا اور جو آج تک چور تھا کل کو نواز شریف اس ملک کا سب سے ایماندار شخص بن جائے گا نواز شریف اور امریکہ کا غلام اور کون ہو گا جو آیا ملک اور قوم کی بجا کر چلا گیا ہے

🤣🖐️ Proud of you Sir Best wishes and much love from the nations Have a great services for our mother land Proud of Pakistan Army جتنی تُم تعریف کر رہے ہو لگتا ہے میر شکیل کے گھر بھی رہ چکے ہیں۔ 😂 یہ پہلا آرمی چیف بھی ہو گا جو کاکولین نہیں ہے جلدی جلدی چکو کوئی نا چک لے۔ اب ایک طرف جادو ٹونے والی پیرنی ہے تو دوسری طرف حافظ صاحب شیطانی طاقتوں کا مقابلہ قرآنی آیات سے ہونا حافظ صاحب نے وظیفے تیار رکھے ہیں 😂😂

🤣🤣🤣 jitny attention is apppointment pe thi 1 saal se uski 50 % b economy pe hoti tu aj mulk itni mushkill pe na hota afsos hai eak normal appointment ko itna bara tofaan khara kiya Congratulations ASIM MUNIR SB NEW COAS تالاش کامرس کالج گراؤنڈ اسٹیج تیار۔ جلسے کا آغاز کچھ دیر بعد ۔

نامزد چیئرمین جوائنٹ چیفس لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد کے کیرئیر پر ایک نظرلیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد اس وقت پاک فوج کی ٹین کور راولپنڈی کے کور کمانڈر ہیں۔

سازش کا جھوٹا بیانیہ، پھر راہ فرار، سول ملٹری قیادت کو نامناسب القاب دیئے، ہم نے ملکی مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا، صبر کی بھی حد ہے، آرمی چیفپاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بھارتی عوام کم وبیش ہی اپنی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اس کے برعکس ہماری فوج گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے DailyJang Hindustan mei kitni baar marshal law laga hy Apni chowkidari Karo tk tarh se politics se door raho. تاریخ میں جنرل باجوہ کا سیاسی کردار سیاہ حروف سے لکھا جائے گا، عوامی نفرت کا جو سامنا جنرل باجوہ نے کیا ہے شاہد ہی کسی ڈکٹیٹر کے حصے میں آیا ہو۔ دوران سروس جنرل باجوہ نے اپنے ادارے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے، سب سے بڑا نقصان ادارے اور عوام کے بیچ خلیج پیدا کرنا ہے

صدر مملکت آرٹیکل 48 کے تحت آرمی چیف کی تقرری کی ایڈوائس واپس بھیج سکتے ہیں: ماہر قانونوزیراعظم نئے آرمی چیف کیلئے لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو نامزد کرتے ہیں تو یہ غیرآئینی و غیرقانونی ہوگا: شعیب شاہین ایفی صاحب دی اینی ہمت ن App p t i kay palto haan یہ سیاسی کارکن ہے اور اس نے یہی کہنا تھا 😁

کون ہوگا پاک فوج کا نیا سپہ سالار، GHQ نے سمری بھیج دی، پینل میں سنیارٹی کے لحاظ سے 6 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز عاصم منیر، ساحر شمشاد، اظہر عباس، نعمان محمود، فیض حمید اور محمد عامر شاملپینل میں سنیارٹی کے لحاظ سے 6 سینئر ترین لیفٹیننٹ جنرلز عاصم منیر، ساحر شمشاد، اظہر عباس، نعمان محمود، فیض حمید اور محمد عامر شامل DailyJang Jo bhee army chief ho pakistan ka faida hona chaheye جو بھی ہو اللہ کرے پاکستان کے ساتھ وفادار ہو Kon banai ga caror pati

پاک فوج کا نیا سپہ سالار کون ہوگا؟ وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آجپاک فوج کا نیا سپہ سالار کون ہوگا؟ وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج arynewsurdu Tara jasa chor aur kamina na hu ju bhi hu bus Matter of concern for army. Should cabinet pick or choose? آج اللّہ تعالیٰ نے پھر ثابت کیا کہ عزت اور ذلت صرف اس کے اختیار میں ہے۔ آج حاجی صاحب کی حالت قا بل رحم نہیں بلکہ نشان عبرت ہے BloodyCivilian

۔ فوٹو فائل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس نے لیفٹیننٹ جنرل عاصم کو پاک فوج کا نیا سپہ سالار تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف تعینات کرنے کی سمری وفاقی حکومت نے منظوری کے لیے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کو بھجوا دی ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کے کیرئیر پر ایک نظر لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر منگلا ٹریننگ اسکول سے پاس آؤٹ ہوئے اور انہوں نے فوج میں فرنٹئیر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ یہ بھی پڑھیں ایڈوائس صدر کے پاس چلی گئی، عمران کا امتحان ہے وہ ادارے کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں یا متنازع: خواجہ آصف انہوں نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ماتحت بریگیڈیئر کے طور پر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز میں فوج کی کمان سنبھالی، انہیں 2017 میں ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس مقرر کیا گیا اور اکتوبر 2018 میں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیا تاہم وہ مختصر عرصے کیلئے اس عہدے پر فائض رہے۔ آئی ایس آئی کی سربراہی کے بعد لیفٹننٹ جنرل عاصم منیر کو کور کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کیا گیا اور دو سال بعد وہ جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل کے عہدے پر تعینات ہوئے اور ابھی بھی اسی عہدے پر کام کررہے ہیں۔ ، جنرل عاصم منیر پہلے آرمی چیف ہیں جو اعزازی شمشیر یافتہ ہیں۔ بطور لیفٹیننٹ کرنل مدینہ منورہ میں تعیناتی کے دوران عاصم منیر نے قرآن پاک حفظ کیا۔ مزید خبریں : .تفصیلات کے مطابق پاک فوج میں سینئرترین لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو پاک فوج کا نیا سربراہ تعینات کردیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر پاک فوج کے سینئر ترین تھری اسٹار آفیسر ہیں ، انھوں نے آفیسرز ٹریننگ اسکول سے تربیت مکمل کی اور پاک فوج کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ پاک فوج میں سینئرترین لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر ڈی جی آئی ایس آئی، کور کمانڈر گوجرانوالہ اور ڈی جی ایم آئی سمیت کئی اہم عہدوں پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم حافظ قرآن ہیں اور انہیں دوران تربیت اعزازی شمشیر سے بھی نوازا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر 2014 میں کمانڈرفورس کمانڈ ناردرن ایریا خدمات انجام دینے کے بعد 2017 میں جنرل عاصم منیر کو ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس کے عہدے پر فائز کیے گئے۔ اکتوبر 2018 میں انہیں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جس کے بعد جنرل عاصم منیر کو ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کیا گیا۔ کچھ عرصہ خدمات کی انجام دہی کے بعد انہیں جون 2019 میں کور کمانڈر گوجرانوالہ کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا۔ جنرل عاصم منیر اکتوبر 2021 سے جی ایچ کیو میں کوارٹر ماسٹر جنرل فرائض سر انجام دے رہے تھے۔.24 نومبر ، 2022 ساحر شمشاد اس وقت پاک فوج کی ٹین کور راولپنڈی کے کور کمانڈر ہیں/ فائل فوٹو حکومت نے لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا کا تعلق سندھ رجمنٹ سے ہے وہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے دور میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز رہے ہیں۔ لیفٹننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف آپریشز کی نگرانی کی اور وہ انٹرا افغان مذاکرات کرنے والے کوآرڈیلیٹرل کوآرڈینیشن گروپ میں شامل تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا گلگت، بلتستان اصلاحات کمیٹی کے بھی رکن رہے اور بطور لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد مرزا چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر تعینات رہے۔ ساحر شمشاد اس وقت پاک فوج کی ٹین کور راولپنڈی کے کور کمانڈر ہیں۔.مراسلات راولپنڈی (ایجنسیاں) پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ بھارتی عوام کم وبیش ہی اپنی فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اس کے برعکس ہماری فوج گاہے بگاہے تنقید کا نشانہ بنتی ہے، میرے نزدیک اس کی بڑی وجہ70سال سے فوج کی مختلف صورتوں میں سیاست میں مداخلت ہے جو غیر آئینی ہے، پچھلے سال فروری میں فیصلہ کیا کہ فوج آئندہ کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی، فوج نے تو اپنی اصلاح شروع کردی ہے، امید ہے سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رویے پر نظرثانی کریں گی، 2018ء کے عام انتخابات میں بعض پارٹیوں نے آر ٹی ایس کے بیٹھنے کو بہانہ بنا کر جیتی ہوئی پارٹی کو سلیکٹڈ کا لقب دیا اور 2022 میں اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو امپورٹڈ کا لقب دیا، ہمیں اس رویے کو رد کرنا ہوگا، ہر پارٹی کو اپنی فتح اور شکست کو قبول کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا تاکہ اگلے الیکشن میں ایک امپورٹڈ یا سلیکٹڈ گورنمنٹ کے بجائے الیکٹڈ گورنمنٹ آئے، سازش کا جعلی اور جھوٹا بیانیہ بناکر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی اور اب اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے، سول ملٹری لیڈرشپ کو غیر مناسب القابات سے پکارا گیا، فوج کی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کیلئے بہت سے مواقع اور وسائل موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا، یہ بات سب کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس صبر کی بھی ایک حد ہے، میں اپنے اور فوج کیخلاف اس نامناسب اور جارحانہ رویے کو درگزر کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہوں کیوں کہ پاکستان ہم سب سے افضل ہے۔ وہ بدھ کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہدا تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ آرمی چیف نے کہا کہ آج یوم شہدا پاکستان سے بطورآرمی چیف آخری بارخطاب کررہا ہوں، مجھے فخر ہے کہ 6 سال اس فوج کا سپہ سالار رہا ہوں ۔ فوج کا بنیادی کام ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کرنا ہے لیکن پاک فوج ہمیشہ اپنی استطاعت سے بڑھ کر اپنی قوم کی خدمت میں پیش پیش رہتی ہے، ریکوڈک کا معاملہ ہو یا کارکے کا جرمانہ، فیٹف کے نقصان ہوں یا ملک کو وائٹ لسٹ سے ملانا یا فاٹا کا انضمام کرنا، بارڈر پر باڑ لگانا ہو یا قطر سے سستی گیس مہیا کرانایا دوست ملکوں سے قرض کا اجرا کرانا ، کووڈ کا مقابلہ یا ٹڈی دل کا خاتمہ، سیلاب کے دوران امدادی کارروائی ہو، فوج نے ہمیشہ اپنے مینڈیٹ سے بڑھ کر قوم کی خدمت کی ہے اور ان شااللہ کرتی رہے گی۔آرمی چیف نے کہا کہ سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں بلکہ ایک سیاسی ناکامی تھی۔ لڑنے والے فوجیوں کی تعداد 92 ہزار نہیں صرف34ہزارتھی‘باقی لوگ مختلف گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹس کے تھے اور ان 34 ہزار لوگوں کا مقابلہ ڈھائی لاکھ انڈین آرمی، دو لاکھ تربیت یافتہ مکتی باہنی سے تھا لیکن اس کے باوجود ہماری فوج بہت بہادری سے لڑی جس کا اعتراف خود سابق بھارتی آرمی چیف فیلڈ مارشل مانیکشا نے بھی کیا۔ان بہادر غازیوں اور شہیدوں کی قربانیوں کا آج تک قوم نے اعتراف نہیں کیا جو بہت بڑی زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال فروری میں فیصلہ کیا کہ فوج آئندہ کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی‘میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے تاہم اس آئینی عمل کا خیر مقدم کرنے کے بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بناکر بہت غیر مناسب اور غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا، فوج پر تنقید عوام اور سیاسی پارٹیوں کا حق ہے لیکن الفاظ کے چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ایک جعلی اور جھوٹا بیانیہ بناکر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی اور ابھی اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے‘میں آپ کو واضح کردینا چاہتا ہوں فوج کی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے لیکن کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جاسکتی ہے۔مجھے امید ہے سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رویوں پرنظرثانی کریں گی، ہمیں غلطیوں سے سبق سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے، آج پاکستان سنگین معاشی بحران کا شکار ہے کوئی ایک پارٹی ان مسائل سے نہیں نکال سکتی، وقت آگیا ہے اسٹیک ہولڈرز ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر آگے بڑھیں‘پاکستان میں ایک سچا جمہوری کلچراپنانا ہوگا۔ ہار جیت سیاست کا حصہ ہے، ہر پارٹی کو اپنی شکست اور فتح کو قبول کرنا ہو گا‘آج تجدید عہد کا دن ہے، ہم سب مل کرپاکستان کی بہتری کے لیے کام کریں گے، مادروطن کے لیے کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈال دیں گے وہ بھی ہمیشہ ناکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ افراد اور پارٹیاں تو آتی جاتی رہتی ہیں لیکن پاکستان ان شا اللہ ہمیشہ قائم رہنا ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان میں ہر ادارے، سیاسی پارٹی اور سول سوسائٹی سے بھی غلطیاں ہوئی ہیں، ہمیں ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے، میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان آج سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے اور کوئی بھی ایک پارٹی پاکستان کو اس معاشی بحران سے نکال نہیں سکتی، اس کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے، اب وقت آگیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی ذاتی انا کو ایک طرف رکھتے ہوئے ماضی کی غلطیوں سے سیکھیں اور آگے بڑھیں اور پاکستان کو اس بحران سے نکالیں۔ اہم خبریں سے مزید.