پاکستان میں کیا 50 ہزار روپے میں گھر بنایا جاسکتا ہے؟

یاسمین لاری: صرف 50 ہزار روپے میں ماحول دوست گھر بنانے والی پاکستانی ماہرِ تعمیرات

05/06/2020 8:46:00 AM

یاسمین لاری: صرف 50 ہزار روپے میں ماحول دوست گھر بنانے والی پاکستانی ماہرِ تعمیرات

نامور ماہرِ تعمیرات یاسمین لاری کا دعویٰ ہے کہ دیہی علاقوں میں یہ ماحول دوست مکانات اس سے بھی کم قیمت میں تعمیر ہو سکتے ہیں۔

عالمی ایوارڈ یافتہ ماہرِ تعمیرات یاسمین لاری کا کہنا ہے کہ ہر کوئی ’سٹار آرکیٹیکٹ‘ بننا چاہتا ہے اور خواہش ہوتی ہے کہ بڑی بڑی خوبصورت عمارتیں بنائیں، ان کا بھی وہ ہی حال تھا اور تقریباً 36 سال انھوں نے یہی کیا۔Image captionیاسمین لاری کراچی کی مشہور ایف ٹی سی بلڈنگ کی معمار ہیں لیکن اب وہ اس مٹیریل کا استعمال ترک کر چکی ہیں

جے آئی ٹی رپورٹ: عزیر بلوچ کے حکم پر کراچی میں پولیس تبادلوں کا انکشاف، آصف زرداری کا ذکر شامل نہیں وادی گلوان: انڈیا کو چینی تیاری کی خفیہ معلومات کیوں نہ مل سکیں؟ کمال سے کباڑ تک: آسمانوں کو چھونے والے پاکستانی آرٹسٹ کی کہانی

’اس وقت دنیا اور تھی۔ کھپت مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ خیال نہیں آیا کہ ہم دنیا کے گولے کے وسائل ختم کرتے جا رہے ہیں۔ اب ہمیں معلوم ہے کہ کیا تباہی آئی ہے۔ ہم نے زمین کو بری طرح سے استعمال کیا ہے۔ قدرتی آفات بڑھ گئی ہیں اور عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گلیشیئر پگھل رہے ہیں جس کی وجہ سے سیلاب آرہے ہیں۔‘

یاسمین لاری لاہور کے شاہی قلعے کے تحفظ کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے سائنس، تعلیم اور ثقافت یونیسکو کی مشیر رہی ہیں۔ اسی دوران 2005 میں کشمیر میں زلزلہ آگیا اور بقول یاسمین لاری کے یہ زلزلہ ان سمیت کئی لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لایا۔’میں نے یہ سوچا کہ تعمیرات میں مقامی طریقوں اور زمین کو کیسے استعمال کروں؟ اس میں چونے کا بڑا ہاتھ تھا۔ جو تاریخی عمارتیں ہیں، ان کے تحفظ میں چونے کا استعمال ہوتا ہے۔ وہ میں نے وہاں سے سیکھا اور بعد میں زلزلے سے متاثرہ علاقے میں یہی استعمال کیا۔ اس کی وجہ سے ہمارے گھر بڑے سستے بنتے تھے اور لوگ خود بنا سکتے تھے۔ لکڑی ہو یا پتھر، اس سے ہم نے تعمیرات کیں۔‘

پاکستان میں 2010 اور 2011 میں آنے والے سیلاب اور بعد میں زلزلوں نے یاسمین لاری کو ’کم قیمت‘ مکانات کی تعمیر کا موقع فراہم کیا۔ ’میں نے جو کچھ سیکھا ہے، وہ پرانی قدروں سے سیکھا ہے۔ میں جو بھی ڈیزائن کرتی ہوں وہ ورنیکیولر روایات (دیسی طرزِ تعمیر) ہیں یا تاریخی عمارتوں کی مرمت سے سیکھا۔

Image captionیاسمین لاری نے پنج گوشہ اور اگلو سٹائل سمیت جیومیٹری کی مختلف اشکال کے گھر بنائے ہیں جو ایک کمرے سے لے کر تین کمروں تک پر مشتمل ہیںیاسمین لاری نے سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں مکلی قبرستان کے قریب اپنا ماڈل ولیج بنایا ہے اور ہیریٹیج فاؤنڈیشن نامی تنظیم کے پلیٹ فارم سے زیرو کاربن یا ماحول دوست تعمیرات کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ ان کی تعمیرات میں مٹی، چونے اور بانس کا استعمال عام ہے۔

’مٹی ہر جگہ موجود ہے۔ چونا ایک قدیم میٹریل ہے جو اہرامِ مصر، رومن طرز تعمیر اور جو بڑے بڑے قلعے ہیں، ان میں بھی استعمال ہوا۔ 1990 کی دہائی سے چوں کہ سیمنٹ کا دور دورہ شروع ہوگیا اس لیے عام لوگ صرف سیمنٹ کو جانتے ہیں حالانکہ چونے میں سے سب کم کاربن کا اخراج ہوتا ہے اور یہ ہوا سے کاربن کو جذب بھی کرتا ہے۔ مٹی دوبارہ جا کر مٹی میں مل سکتی ہے اور بانس کی فصل ہر دو سال کے بعد مل جاتی ہے۔ لکڑی استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔‘

یاسمین لاری نے پنج گوشہ اور اگلو سٹائل سمیت جیومیٹری کی مختلف اشکال کے گھر بنائے ہیں جو ایک کمرے سے لے کر تین کمروں تک پر مشتمل ہیں، جن کی دیواریں مٹی جبکہ چھت، دروازے، کھڑکیاں اور دروازے بانس سے بنے ہوئے ہیں۔یاسمین لاری کے مطابق یہ بانس کا پری فیب یا پہلے سے تیار شدہ گھر ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کو ایک ڈھانچہ دیتے ہیں جس کی فنیشنگ وہ خود کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ٹوائلٹ جو بھی بانس سے بنتا ہے اور ہینڈ پمپ جو پانچ لوگ شیئر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ چولھا بھی ہوتا ہے جس کو ہم نے پاکستان چولھے کا نام دیا ہے، اس کو عالمی ایوراڈ مل چکا ہے۔ ان سب چیزوں کی لاگت تقریبا 27 ہزار روپے بنتی ہے، یہ ہر خاندان کو ملنا چاہیے۔‘

کورونا ایس اوپیز پر عمل کرنے سے اسپتال جلد ویران ہونگے، شبلی فراز - ایکسپریس اردو کراچی سمیت سندھ میں بارشوں کی پیشگوئی، آسمانی بجلی گرنے کے امکانات لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی ہے

Image captionایک گھر کی تعمیر کے دوران یاسمین لاری کام کا معائنہ کر رہی ہیںیاسمین لاری کے مطابق یہ گھر گرمی میں ٹھنڈا بھی رہتا ہے جبکہ کنکریٹ بہت زیادہ گرم ہوجاتا ہے۔ ’دیہاتوں میں ماحول مختلف ہے، وہاں ضرورت ہی نہیں ہے کہ کنکریٹ یا سٹیل کا استعمال کریں۔ جو تعمیرات کے پرانے طریقے ہیں، ان میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ہم ایسی چیزیں کریں جو غریبوں کے لیے مناسب ہوں۔ ہمیں یہ فکر نہیں کرنی چاہیے کہ یہ امیروں کے لیے اچھی ہیں یا نہیں؟‘

پاکستان میں 2010 اور 2011 کے سیلاب کے بعد ہزاروں گھر تعمیر ہوئے جن کے لیے مقامی اور بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں نے متاثرین کی مالی معاونت کی۔ یاسمین لاری کے مطابق ان دنوں جو بڑے بڑے عالمی ادارے مدد کے لیے آئے، انھوں نے جو گھر بنائے وہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کی مالیت میں ایک کمرہ بناتے تھے۔ اُن میں پکی اینٹیں، کنکریٹ کے بلاک اور سٹیل کے شہتیر استعمال کیے جاتے تھے۔ ڈیڑھ لاکھ روپے ایک کمرے کے لیے بہت زیادہ ہوتا ہے، اس زمانے میں ہمارے گھر 20 ہزار سے لیکر 30 ہزار روپے میں بن جاتے تھے۔

Image captionیاسمین لاری کے ماحول دوست تعمیراتی منصوبوں میں خواتین بھی کام میں حصہ لیتی نظر آتی ہیںوزیراعظم عمران خان نے پاکستان کے مختلف شہروں میں کم آمدنی والے لوگوں کے لیے 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا اعلان کیا جس کے لیے رجسٹریشن کا بھی آغاز کیا گیا، تاہم کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد مزید پیش رفت رک گئی۔

یاسمین لاری کا کہنا ہے کہ ابھی جو سکیم آئی ہے یا پہلے جو آئیں، وہ کبھی بھی غریبوں تک نہیں پہنچ پائیں۔ ’موجودہ سکیم میں بھی ایک کمرہ 15 لاکھ روپے تک کا ہوگا، یہاں تو کئی لوگوں میں اتنی بھی سکت نہیں ہے کہ پانچ ہزار روپے بھی کسی چیز میں ڈال سکیں۔‘ مزید پڑھ: BBC News اردو »

Really a good thinking & a good step to reduce losses Waooo amazing You are Legend of Pakistan. Nhi pakistan main 50hazar main 50makan banai jasakty hain yahn pe itni sasti cheezain milti hain koi andaza b nhi laga sakta shame on u پچاس ہزار سے ایک دیوار نھیں بنتی آپ مکان بنا رھے ھیں ہمارے پاس چولستان اور تھر میں بے شمار ایسے گھر ہیں اور ان کو مقامی زبان میں گوپا کہتے ہیں.کیوں کے یہاں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں اور دنیا کی کوئ سہولت نہیں ہے سب سے اہم بات اس بی بی نے کون سا تیر مارا ہے جو بی بی سی نے اس کی خبر شائع کی ہے کسی نے اگر دیکھنے ہوں تو چولستان اجاے

یہاں یہ مکان پہلی بارش میں بہہ جائے گا These are the most pathetic and poor quality houses.she awarded a project from UNDP youth social cohesion In Dikhan. A huge embezzlement with third class construction. All are wiped out یاسمین لاری صاحبہ میرے پاس رہنے کو گھر نہیں ہے کیا آپ مدد کریں گی afiasalam اس گھروں کی کوٸی وارنٹی ہے یا کام مکمل ھونے کہ دو دن باد گر جاٸيں گے?

afiasalam Love her ♥️♥️ आजकल कौन आर्किटेक्ट गरीबों की सोचता हैं, इन्होंने सोचा और कुछ बनाया इसका तहेदिल से शुक्रिया करना होगा। شاندار 👏👏👏 50 ہزار کا 🏠 اگر شہروں سے دور بیابان میں بغیر دیگر سہولتوں کے مٹی اور بوسے وغیرہ کی سی قسم کے مٹریل سے زیادہ تعداد میں ممکن ہے۔ Great architect have great works بہت عمدہ کالم زبردست

Addrees and contact no of lari send plz Latest Situation in America . امریکہ میں لوٹ مار کے منظر۔ ایک سیاہ فام نے بینک لوٹ کر پیسہ عوام میں لٹا دیا ۔ Right yh model hna chye.... Village mn.... Jis trh abadii barh rhii hy.... Hmain thorii zameen pe axha mahool dost ghr bnana chye... Ju hmarii zareeii zameen bhii bacha saky

اب تس بکریاں چرانے والا بہی ماربل ٹائلس کی تمنا گرتا ہے تو اس کچے پکے گہر میں رہینگے جون🤔 ایسے گھر شاید سندھ بلوچستان کے صحرائی علاقوں کیلئے موزوں ہونگے کیونکہ وہاں بارشیں کم ہوتی ہیں زیادہ بارش والے علاقوں میں قائم نہ رہ سکےمزید یہ کہ ایسےگھر جگہ زیادہ گھیرنے کی بناپرزرخیز علاقوں کے لئے بھی موزوں نہیں ہونگے۔ کیونکہ آج کل کئی منزلہ عمارتوں کا رواج ہےتاکہ جگہ کی بچت ہو

S__u__n__Shine She should do work for villagers. Bilkul sahi Varienty? یہ کچے گھروندے سہ پائنگے تند و تیز موسم کے تیور ؟؟؟ Wasif_yours Bhai Jan chk krn.. Ftt idea for poor...need to work Excellent Bnaya tau ja skta hy. Yh btaey k raha bhi ja skta hy ya nhi? 🤔

بنگلہ دیش سے اس مشکل وقت میں پاکستان کیلئے کیا چیز آ گئی؟ اچھی خبرڈھاکا (ویب ڈیسک) بنگلہ دیشی دوا ساز کمپنی نے پاکستان کو کورونا کی میڈیسن بھیج دی،تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کی دوا ساز کمپنی بیکسیمکو فارماسیوٹیکل نے اتوار کو L

پاکستان میں مقامی منتقلی کیسز کی تعداد میں بلا کا اضافہفروری کے آخری ہفتے میں جب ایران سے واپس آنے والے کراچی کے نوجوان یحیٰی جعفری نے طبعیت کی ناسازی کے بعد آغا خان ہسپتال سے اپنا ٹیسٹ کرایا تو 26 فروری کو وہ پاکستان میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے پہلے مریض بن گئے۔ کورونا وائرس،مریضوں کا اضافہ قدرتی بات 'جتنے زیادہ ٹیسٹ اتنے زیادہ مریض'، احتیاطی تدابیر کا نہ اپنانا۔ ڈاکٹرز اور سٹاف کو کورونا وائرس ہو جانا احتیاطی تدابیر سے دوری۔ ایک دوسرے کے ماسک اور دستانے استعمال نہ کریں۔خوف خدا،توبہ و استغفار،درود و سلام محمد و آل محمد علیہ السلام پر۔ کیا یہ (covid 19) ایران ، چائینہ یا دیگر حیاتیاتی وار سے متاثر ملکوں سے آۓ لوگوں کی وجہ پھیلا ہے اور اب مقامی منتقلی جاری ہے؟

مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی، پیرس میں کیفے اور ریستوران کھل گئےمختلف ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی، پیرس میں کیفے اور ریستوران کھل گئے LockDown Eased CoronaVirus Paris Reopened Cafes Restaurants PrecautionaryMeasures

بلوچستان میں جگہ جگہ احتجاج، مظاہرین چاہتے کیا ہیں؟احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ڈکیتی، راہزنی سمیت متعدد دیگر واقعات کے پیچھے عام جرائم پیشہ لوگ نہیں بلکہ مسلح گروہوں کے لوگ ہیں۔ مظاہرین وہ یکیاں بند کروانا چاہتے ہیں جو پنجابی کے نام پر ان کے ساتھ ہو رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ فوج وی جائے بلوچستان سے اور بی ایل اے کا کُت خانہ بھی بند ہو۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمارا ایک سپوت فائز عیسی جو پورے نظام کو للکار بیٹھا ہے، اس کی فتح میں روڑے نہ اٹکائے جائیں۔ JusticeForBramsh Balochistan Thanks BBC 🙏❤

جارج فلائیڈ کی موت نے امریکا میں نسلی امتیاز کو نمایاں کیا: اوباماجارج فلائیڈ کی موت نے امریکا میں نسلی امتیاز کو نمایاں کیا: اوباما تفصیلات جانئے: DailyJang Whites are so much afraid of blacks. If a black sets up a shop in a market, the whites run away.

ماضی میں ہیلتھ سیکٹر کو نظر انداز کیا گیا، وزیرِ اعظموزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے ایک بیان میں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹروں سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹرز اور ہیلتھ کیئر اسٹاف کی خدمات لائق تحسین ہیں، پوری قوم ڈاکٹرز اور ہیلتھ کئیراسٹاف کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور ان دو سالوں میں تو انقلاب آگیا ہے