ٹونگا آتش فشاں: زمین عارضی طور پر سرد ہو سکتی ہے

24/01/2022 3:16:00 PM

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

ٹونگا آتش فشاں: زمین عارضی طور پر سرد ہو سکتی ہے arynewsurdu

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

24 جنوری 2022بحرالکاہل میں واقع ملک ٹونگا میں سمندر کے نیچے وسیع سطح پر ایک آتش فشاں پھٹنے سے ماحولیات پر منفی اثرات کے مرتب ہونے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔اب ایک جاپانی ماہر نے کہا ہے کہ ٹونگا کے قریب ہونے والی بڑی آتش فشانی سے راکھ اور دیگر اجزا کے دھوئیں کے بادل فضا کی بلندی میں پھیلنے کے باوجود کرۂ ارض کے ماحول پر اس کے اثرات نہایت محدود ہوں گے۔

جاپانی ماہر کا کہنا تھا کہ آتش فشانی مواد کی بڑی مقدار کے فضا میں پھیلنے سے کرۂ ارض عارضی طور پر سرد ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ 15 جنوری کو سمندر کی تہہ کے نیچے آتش فشاں پھٹنے سے آتش فشانی مواد فضائی کرۂ ہوائی کی سطحِ زمین سے 10 کلومیٹر سے زائد بلندی پر واقع تہہ تک پہنچ گیا تھا۔

مزید پڑھ:
ARY News Urdu »

Benaqaab 29, September 2022 | AbbTakk | AB1

#abbtakk #benaqaab #saifankhan Welcome to AbbTakk’s Official Channel where we bring the latest news, events and topics affecting you, from across the country... مزید پڑھ >>

Snowpiercer Means Snowpiercer is not based on fiction 👀

عمرہ اور زیارت کی نئی پالیسیاں2سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔پوری دنیا پر کورونا کا عذاب مسلط ہے اور پوری دنیا اقتصادی طور پر تباہ ہو چکی ہے...

برطانیہ کی وہ پرخطر سڑک جس پر کی گئی ایک غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے - BBC News اردوبرطانیہ کے معروف سیاحی خطے لیک ڈسٹرکٹ میں جھیلوں کے درمیان پر پیچ اور پر خطر پہاڑی سڑک جسے برطانیہ کا دشوار ترین راستہ کہا جا سکتا ہے۔ I drove there Yes feel fantastic برطانیہ والوں کو لواری پاس کی سیر کرانی چاہیے جس کے بعد ان کو ہارڈ ناٹ پاس ہیچ لگے گا

فصلوں کی مناسب اور منصفانہ قیمت نہ ملنا کسانوں کا معاشی استحصال ہے زرداری04:22 PM, 23 Jan, 2022, اہم خبریں, پاکستان, کراچی: پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ خوشحال کسان ہی زرعی طور پر مستحکم زرداری صاحب آپ نے جو اپنی حکومت میں کسانوں کو لچھن دکھائے تھے،وہ یہ عوام بھولی نہیں ہے برائے مہربانی آپ صرف بلاول بھٹو صاحب کو مشورہ دیا کریں اس عوام کا کچھ بھلا بھی ہونے دیں🤗🤗🤗 زرداری ساب بلو کھسرے کے علاج کی طرف توجہ دیں ورنہ مال حرام سارا چوھدری کے اکاونٹ میں چلا جائیگا منڈی بہاؤالدین پاہڑیانوالی زہنی معذور بچی کے ساتھ اجتماعی زیادتی ہوئی ۔ بچی کا باپ یہ صدمہ برداشت نہ کر سکا اور جان کی بازی ہار گیا ۔ ( لواحقین انصاف سے محروم ) اور خدادا اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ اس بچی کو انصاف مل سکے.

پی ٹی آئی کے سابق مرکزی رہنما کا رکنیت ختم کرنےکیخلاف عدالت جانےکا اعلانپارٹی سے غیر قانونی طور پر نکالا گیا، پی ٹی آئی کا کارکن اور ووٹر عمران خان کا اصل چہرا پہچان چکا ہے، احمد جواد شاپر 🖕 Matlab ekk Orr Mujay Kio Nikala 😁 Wellas 😂 he’s much more hurt then Reham !

پارٹی رکنیت ختم کرنے کو عدالت میں چیلنج کروں گا، احمد جوادپاکستان تحریک انصاف کے سابق مرکزی سیکریٹری اطلاعات احمد جواد رکنیت ختم کیے جانے پر بھی ہار نہیں مانے، انہوں نے پارٹی فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات جانیے: DailyJang

جائیداد کے جھگڑے میں میرے مذہب کونہ لائیں،سلمان کی پڑوسی کووارننگ - ایکسپریس اردوسلمان خان کا فارم ہاؤس کی زمین پراپنے پڑوسی سے تنازع چل رہا ہے یہ بھی اب شکل سے بھی بڈھا لگنے لگا ہے

ویب ڈیسک 24 جنوری 2022 بحرالکاہل میں واقع ملک ٹونگا میں سمندر کے نیچے وسیع سطح پر ایک آتش فشاں پھٹنے سے ماحولیات پر منفی اثرات کے مرتب ہونے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ اب ایک جاپانی ماہر نے کہا ہے کہ ٹونگا کے قریب ہونے والی بڑی آتش فشانی سے راکھ اور دیگر اجزا کے دھوئیں کے بادل فضا کی بلندی میں پھیلنے کے باوجود کرۂ ارض کے ماحول پر اس کے اثرات نہایت محدود ہوں گے۔ جاپانی ماہر کا کہنا تھا کہ آتش فشانی مواد کی بڑی مقدار کے فضا میں پھیلنے سے کرۂ ارض عارضی طور پر سرد ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 15 جنوری کو سمندر کی تہہ کے نیچے آتش فشاں پھٹنے سے آتش فشانی مواد فضائی کرۂ ہوائی کی سطحِ زمین سے 10 کلومیٹر سے زائد بلندی پر واقع تہہ تک پہنچ گیا تھا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا کے مصنوعی سیاروں کے ذریعے حاصل کردہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ راکھ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور دیگر اجزا سطحِ زمین سے 30 کلومیٹر بلندی تک پہنچے تھے۔ دل دہلا دینے والا آتش فشاں، زمین پر بننے والی لہروں کی سیٹلائٹ ویڈیوز سامنے آگئیں کیُوشُو یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے برائے اپلائیڈ میکانکس سے وابستہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے پروفیسر تاکے مُورا توشی ہِیکو نے 1991 میں فلپائن کے آتش فشاں کوہ پِیناٹُوبو کا حوالہ دیا، جس سے بڑی مقدار میں آتش فشانی مواد فضائی کرہ کی اسی بلندی تک پہنچا تھا۔ پروفیسر نے کہا کہ اس مواد کے باعث سورج کی روشنی کے زمین تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی تھی، جس سے درجۂ حرارت اوسطاً 0.K خلیل احمد نینی تال والا 23 جنوری ، 2022 2سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے ۔پوری دنیا پر کورونا کا عذاب مسلط ہے اور پوری دنیا اقتصادی طور پر تباہ ہو چکی ہے ۔ ۔ترقی یافتہ مما لک تو عوام کا کچھ نہ کچھ مداوابھی کر رہے ہیں مگر ترقی پذیر ممالک خصوصی طور پر مسلمان ممالک اپنے عوام کیلئے کچھ کرنے کے بجائے اُن پر طرح طرح کا بوجھ ڈال رہے ہیں ۔ ایک ارب سے بھی زائد دنیا بھر کے مسلمان خدا اور رسول کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کر تے تھے ۔ ہر سال کئی کروڑ مسلمان عمرہ کی سعادت کیلئےپوری دنیا سے سفر کر کے حجاز مقدس یعنی مکہ اور مدینہ کی زیارت کر کے دل کو فرحت بخشتے تھے اور تقریباً 25،تیس لاکھ مسلمان ہر سال حج کا مقدس فریضہ ا دا کرتے تھے۔مگر جب سے کورونا نے زور پکڑا تو لامحالہ سعودی عرب کی حکومت کو اس مہلک وبا سے بچنے کیلئے اپنے شہری اور زائرین کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرنے پڑے سب سے پہلے تو عمرہ پر پابندی لگانی پڑی، پھر مکمل لاک ڈائون کئے گئے الغرض حالات اور واقعات کے تحت اقدامات پراقدامات ہوتے گئے ۔ سے سعودی عرب کی بھی اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہو تا گیا ادھر تیل کی کھپت کم ہوتی گئی دام بھی گھٹتے گھٹتے آدھے سے بھی کم ہو گئے لہٰذا سعودی حکومت کو نئے ٹیکس لگانے پڑے 5فیصد VATسے 15فیصد VATکر دی گئی ۔اسی طرح عمرہ اور حج زیارت پر بھی ٹیکس لگانا پڑا غیر ملکی ملازمین کی فیملیوں پر کئی کئی گنا ٹیکس بڑھانا پڑا یہ تو معیشت کی ضرورت تھی۔ مگر عمرہ پرمسلسل پا بندیوں سے عام شہری بھی متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ ایک ایک کرکے تمام کاروبار ختم ہوتے گئے ،ہوٹلوں سے لے کر کھانے پینے کے ریسٹورنٹس ایک ایک کر کے بند ہوتے گئے ، عوام کو کھانےکے لالے پڑگئے ،لاکھوں غیر ملکی ملازمین بھی بے روز گا ر ہو کر اپنے اپنے ملکوں کو لوٹا دئیے گئے ۔تقریبا ایک سال کی پابندی نے سعودی عوام کو جھنجھوڑ ڈالا تو حکومت کو آہستہ آہستہ اپنے شہریوں کو دوبارہ عمرہ کی پابندیوں سے آزاد کرناپڑا البتہ کورونا کے ڈر سے پہلی بار اَس سال حج مکمل طور پر معطل کر نا پڑا ۔ اس وبا کو روکنے کیلئے آخری کوشش بھی کر کے دیکھ لی مگر ایک طرح مذہبی تقریباًت پر مکمل پابندیاں تو دوسری طرف سینما کا کلچر اجاگر کراکے ناچ گانوں کی محفل کے آزادانہ رواج کو فروغ دیا گیا ۔ خصوصا بھارت سے فلمی افراد اور مغربی ممالک سے ڈانسرزطائفے بلا کر Concertکروائے گئے ۔ جس میں بیک وقت لاکھوں افراد نے شرکت کی ۔2سال کے اتار چڑھائو کے بعد فوری طور پر عمرے کی اجازت دی گئی تو راقم نے بھی عمرے کی سعادت حاصل کرنے کیلئے ویزہ اپلائی کیا ، پاکستانیوں پر ویزہ حاصل کرنے کیلئے عمومی شرائط 2ویکسین سر ٹیفکیٹس امریکن،یورپی یا بھارت کی ضروری شرائط کے ساتھ 72گھنٹے کا PCRسر ٹیفکیٹس کے علاوہ 5دن کی کورنٹائن کی اضافی شرط بھارت کے ساتھ مشروط کر دی گئی ،حالانکہ بھارت میں تو کورونا نے امریکہ کے بعد سب سے زیادہ تباہی پھیلائی تھی،مگر بھارت سے جوڑ کر بھارت کو خوش اور خاموش کرا دیا گیا۔ البتہ جو پاکستانی سعودی عرب آنے سے قبل 14دن باہر گزار کر آئیں گے وہ کورنٹائن کی شرائط سے مستثنیٰ ہوںگے۔اب جب سعودیہ میں داخل ہوں گے تو ویکسین سر ٹیفکیٹس کو چیک کرنے کیلئے ایک APPبھرنی پڑے گی۔اُس کو عربی میںتوکلنافارم کہتے ہیں ۔اگر وہ گرین یا اورنج ہو گا تب کورنٹائن کر نا پڑے گا۔ ITجاننے والے کی مدد کے بغیر یہ فارم نہیں بھرا جاسکتا پھر ہر موقع کی زیارت یعنی عمرہ ،زیارت حرم ، زیارت ریاض الجنہ و غیرہ کا اجازت نامہ (EATMAMA) بھرنا پڑتا ہے ۔ وہ اس توکلنافارم سے بھی زیادہ مشکل ہے اور عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے ۔میری وزارت صحت اور وزارت فارن افیئر سے گزارش ہے کہ وہ حکومت سعودیہ سے خصوصی طور پر درخواست کریں ۔کرونٹائن اور ان دونوں APPسے مستثنیٰ کی درخواست کریں ۔ویکسی نیشن سر ٹیفکیٹس کا ریکارڈ تمام ممالک نے اپنی اپنی ویب پر ڈال رکھا ہے ، سرٹیفکیٹس کافی ہیں پھر PCRتو اس سے بھی زیادہ مستند شہادت ہے کہ بندے کو کووڈ نہیںہے ۔ یہ APPپوری دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں ہے ۔ خصوصی طور اسلامی زیارت کیلئے یہ APPاضافی مشکلات اورغیر ضروری ہے ،خصوصاََ اللہ کے گھر میں آنا جا نا ایک مسئلہ بنادیا گیا ہے اس کو ختم کرنا چاہئے۔ ایک تو جو لوگ واپس آکر عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو ہر دفعہ توکلنا فارم گیٹ پر دکھانا پڑتا ہے اور ہر نماز کے وقت موبائل ساتھ لے جانا پڑتاہے اور دکھائے بغیر اندر نہیں جاسکتے ۔اسی طرح مسجد نبوی میں خصوصی زیارت اور حضور کا سلام ،ریاض الجنہ میں جانے کیلئے اجازت نامہ ہر دفعہ لینا پڑتا ہے ۔ اس کے بعد فاصلہ اتنا طویل کر دیا گیا ہے کہ مسجد نبوی میں داخل ہونے سے سلام پڑھنے تک تقریباً 5کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔یہ فاصلہ طے کرنا ہر بوڑھے اور ضعیف افراد کیلئے بہت مشکل ہے۔اب مکہ میںعمرہ کے لئے(EATMAMA) میں آپ کو اجازت نامہ لینا پڑے گا وہ بھی 10دن میں صرف ایک مرتبہ، باقی آپ صرف طواف کر سکتے ہیں وہ بھی ہر دفعہ اجازت لینی پڑے گی اور اہتماما اور توکلنا فارم بھی گیٹ پر دکھانا پڑے گا یہ تمام مشکلات کیوں پیدا کی گئی ہیں اس کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ میری حکومت سے درخواست ہے کہ سعودی حکومت سے بوڑھے افراد کی (Exemption)لیں۔ جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ مزید خبریں :.آپ اچھے سیاح کیسے بن سکتے ہیں؟ ہارڈ ناٹ کا سب سے مشکل حصہ چند میل سے بھی کم ہے لیکن یہ سطح سمندر سے 1,037 فٹ بلند ہے۔ کچھ جگہوں پر چڑھائی ایسی ہے 'یہ راستہ کاروانوں کے لیے نامناسب' ہے کا بورڈ ایک مزاق لگتا ہے۔ یہاں پر ڈھلوان سوئٹزرلینڈ کے پہاڑی راستوں سے اور ٹور ڈی فرانس، گیرو ڈی اٹالیا اور یورپ کے دوسرے عظیم الشان سائیکلنگ ٹورز کی مشہور ڈھلوانوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ چند سینیئر پروفیشنل سائیکل سواروں کی فٹنس پر بنائی جانے والی 2019 کی یوروسپورٹ کی دستاویزی فلم میں اس راستے کو انگلینڈ کی مشکل ترین چڑھائی کہا گیا ہے۔ ایک 'اوسط' سائیکل سوار کو ہارڈ ناٹ سے گزرنے کی تیاری کے طور پر چھ ہفتے کی سخت ماہرانہ تربیت دی گئی۔ وہ پھر بھی اسے پاس کرنے میں ناکام رہا۔ ،تصویر کا ذریعہ Getty Images ،تصویر کا کیپشن ہارڈ ناٹ کے خطرناک ترین موڑ اور چڑھائیاں ٹور ڈی فرانس اور گیرو ڈ آٹالیا کے راستوں سے زیادہ دشوار گزار ہیں۔ ہارڈ ناٹ پاس کا میرا پہلا تجربہ رائل ایئر فورس کی ایک انتہائی پراعتماد ٹیم کے ساتھ ایک مسافر کے طور پر ہوا تھا۔ ہم 'تھری پیکس چیلنج' (تین چوٹیوں کو سر کرنے کی مہم) کے حصے کے طور پر اسکیفیل پائیک کی طرف جارہے تھے، جس میں شرکا 24 گھنٹے میں انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی بلند ترین چوٹیوں کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سے سیاحوں کی طرح ہم سڑک کی اصل نوعیت جان کر حیران رہ گئے اور ہم ایک طوفانی صبح کے اندھیرے میں پانی کے طوفانوں کے درمیان تنگ راستوں سے گزرے۔ ڈرائیونگ آفیسر نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے کافی جدوجہد کی اور ہماری کار کا انجن چیخنے لگا کیونکہ پہیے بار بار پھسل رہی تھے۔ میرا دوسرا دورہ ایک بزرگ تاجر کے ساتھ ان کی قابل فخر نئی جیگوار میں تھا۔ میں نے اسے ڈھلوان کے بارے میں خبردار کیا تھا لیکن اس نے کہا تھا کہ اس کی چمکتی ہوئی جیگوار اس کمبرین ڈھلوان سے نمٹ سکتی ہے۔ بہرحال ہارڈ ناٹ درہ کے کنارے کو چھونے کے چند سیکنڈوں بعد وہ اس طرح کی سڑک پر کار چلا رہا تھا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس کی چوڑی اور آرام دہ سہولتوں سے بھری ہوئی لگژری سیلون گاڑی اس سڑک کے لیے مکمل طور پر غیرمناسب تھی۔ سرخ چہرے اور ہانپتے ہوئے اس نے سانس بحال کرنے کے لیے ایک پتھریلے کنارے پر اپنی کار روکی۔ پھر ہم بہت ہی آہستہ رفتار سے پہاڑی کے دامن کی جانب روانہ ہوئے۔ ،تصویر کا ذریعہ ،تصویر کا کیپشن اگر ایک گیئر بھی غلط لگ جائے تو کار واپس ڈھلوان پر لُڑک سکتی ہے۔ پھر کچھ سال پہلے، میں اس خطرناک راستے کے سفر پر پر اپنی کار میں نکلا جو 20 سالہ پرانی معمولی سی وولوو کار تھی۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید میں پیچھے کی طرف گر گیا ہوں، لیکن اگر آپ کی کار 100 فیصد ٹھیک ہے، موسم ٹھیک ہے اور آپ گیئر چینج ٹھیک طریقے سے کرتے ہیں تو یہ سفر ممکن ہے۔ سمارٹ موٹر ویز اور آٹومیٹک کاروں کے اس دور میں میرے جیسے ڈرائیونگ سے محبت کرنے والوں کے لیے ہارڈ ناٹ ایک ایسے وقت کی یاد کی نمائندگی کرتا ہے جب آپ کو سڑک پر اس طرح توجہ مرکوز کرنی پڑتی تھی جیسے آپ کی زندگی اس پر منحصر ہو اور حیران ہوں کہ کیا آپ کی کار منزل تک پہنچا دے گی۔ برطانیہ کی اکثر سڑکوں کے برعکس یہ مختصر سڑک ہر بار ڈرائیونگ کا ایک یادگار تجربہ پیش کرتی ہے۔ یہ انگلینڈ میں پرانی طرز کی ڈرائیونگ کا ایک تجربہ ہے۔ درحقیقت ہارڈ ناٹ کی اس چھوٹی سڑک کی ایک لمبی اور ایک رنگین تاریخ ہے۔ اس سڑک کا اصل راستہ رومیوں نے سنہ 110 عیسوی کے آس پاس بچھایا تھا اور پاس کے بالائی حصے میں اپنا ایک مضبوط سا قلعہ بنایا ہوا تھا جسے آج ہارڈ ناٹ فورٹ کہا جاتا ہے۔ قلعے کی باقی ماندہ پتھر کی دیواریں انگریزوں کا قومی ورثہ کہا جاتی ہیں جس کے جھرنے کے پار صاف نظارے ہیں اور یہ سب کچھ برطانیہ میں دور دراز رومن چوکیوں میں سے ایک بچی ہوئی جگہ ہے۔ پانچویں صدی میں رومیوں کے جانے کے بعد یہ سڑک ایک گھوڑے اور خچر کے کچّے راستے کے طور پر اس وقت تک استعمال ہوتی رہی جب تک کہ مقامی ہوٹلرز ایسوسی ایشن نے سنہ 1880 کی دہائی میں اس سڑک کی بہتری کے لیے، اس امید پر کہ گھوڑوں اور گاڑیوں کے خوبصورت سفر کی حوصلہ افزائی کی جائے، اس کی مرمت کے لیے رقم دینے سے انکار کیا۔ چند سال بعد اس سکیم کو سرے سے ترک کر دیا گیا۔ ،تصویر کا ذریعہ ،تصویر کا کیپشن یہ درّہ رومن زمانے کے ایک قدیم قلعے ہارڈناٹ کی جانب جاتا ہے۔ یہ راستہ سنہ 1913 تک موجود نہیں تھا۔ اس کے بعد پہلی موٹر کار ایسکڈیل کے آسان راستے کی طرف سے گزرنا شروع ہوئیں۔ بعد میں ہارڈ ناٹ کا ڈھلوانی میدان دوسری جنگ عظیم کے دوران ٹینکوں کی طاقت کو جانچنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کی سٹیل کی پٹریوں نے سڑک کو اتنا خراب کیا کہ اسے دوبارہ بنانا پڑا تھا۔ آج دھوپ والے دن اس سڑک پر بہتر طریقے سے سفر کیا جا سکتا ہے لیکن ویسٹ کمبرین کی ڈھلوان میں ایسا کم ہی ہوتا ہے۔ ایک اوسط دن میں بارش، تیز ہواؤں اور پھسلن والی زمین ہوتی ہے۔ لیکن کسی برے دن اس سڑک پر سفر انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم اس پر سفر کے دوران کار کے سٹیئرنگ اور گیئر کو تبدیل کرنے کا ڈرائیور کو انعام نایاب، جنگلی خوبصورتی کے ایک اچھوتے پہاڑی منظر تک رسائی کی صورت میں ملتا ہے۔ آبشاروں، چٹانوں اور جھرنوں کے اس پار اچانک حیرت انگیز نظارے اتنے ہی حسِین ہوں گے جیسے رومیوں نے یہاں دیکھیں ہوں گے۔ چٹانیں دونوں طرف سے بادلوں میں گِھری نظر آتی ہیں جبکہ بھیڑیں اعتماد کے ساتھ اس سڑک پر گھومتی نظر آتی ہیں۔ وہ ٹریفک کی فکر نہیں کرتیں۔ آخر ایک کار اس جگہ کے لیے ایک اجنبی شے ہے۔ متعلقہ عنوانات.فصلوں کی مناسب اور منصفانہ قیمت نہ ملنا کسانوں کا معاشی استحصال ہے، زرداری سورس: فائل فوٹو کراچی: پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ خوشحال کسان ہی زرعی طور پر مستحکم پاکستان کی ضمانت ہیں۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کسان مارچ کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کسان ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی ہیں اور خوشحال کسان ہی زرعی طور پر مستحکم پاکستان کی ضمانت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کو محنت کا پھل نہ ملنا انتہائی ناانصافی ہے جبکہ فصلوں کی مناسب اور منصفانہ قیمت نہ ملنا کسانوں کا معاشی استحصال ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کسانوں سے انصاف کی روایت برقرار رکھے گی اور پیپلز پارٹی کسانوں کی مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنائے گی۔ عوام صبر کریں،مہنگائی کم کرنے میں وقت لگے گا: وزیر اعظم عمران خان انہوں نے کہا کہ زرعی طور پر مضبوط پاکستان ہی پیپلز پارٹی کا منشور ہے اور حکومت کسانوں کو زرعی کھاد مہیا کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ کسانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پیپلزپارٹی کل ملک بھر میں ٹریکٹر مارچ  کر رہی ہے۔ 27فروری کا اسلام آباد مارچ ٹرننگ پوائنٹ ہوگا،مہنگائی اور بیروزگاری کیخلاف اپوزیشن کو مل کر کوشش کرنا ہوگی۔ دوسری طرف حیدر آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے نوید قمر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا 21 جنوری سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کسان مشکلات سے دوچار ہے اور ملک میں کھاد کا بحران مصنوعی ہے جبکہ حکومت نے اپنی نااہلی کا ملبہ کسانوں پر ڈال دیا ہے۔ پی پی رہنما نے مزید کہا کہ 24 جنوری کو ملک بھر میں ٹریکٹر ٹرالی مارچ ہوں گے اور بلاول بھٹو زرداری حیدرآباد میں مارچ کی قیادت کریں گے۔ Tagged.

5 درجہ سینٹی گریڈ کم ہوا تھا، اور اس کے اثرات کے باعث جاپان میں چاول کی پیداوار میں کمی ہوئی تھی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ غیر ملکی ماہرین کے ابتدائی تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹونگا کی آتش فشانی سے خارج ہونے والی سلفر ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کوہ پِیناٹُوبو کے مقابلے میں تقریباً 50 واں حصہ تھی۔ .