وزیراعظم عمران خان کو ایشیائی تنظیم کا خط، سوشل میڈیا قواعد پر انتباہ - Pakistan - Dawn News

Aic, Primeminister, Imrankhan, Socialmedia

Aic, Primeminister

2/16/2020

خط میں حکومتی قواعد پر کیا کہا گیا؟ : AIC PrimeMinister ImranKhan SocialMedia DawnNews

0 اے آئی سی حکومتی قوانین کو معشیت کے لیے بھی نقصان دہ قرار دیا—فائل/فوٹو:اے ایف پی ایشیا انٹرنیٹ کولیشن (اے آئی سی) نے وزیراعظم عمران خان کے نام لکھے گئے خط میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے حکومت کے نئے قواعد سے پاکستان میں ڈیجیٹل کمپنیوں کو کام کرنا ‘انتہائی مشکل ہوجائے گا’۔ اے آئی سی کی جانب سے 15 فروری کو لکھے گئے خط کی نقول وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی خالد مقبول صدیقی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھاٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ کو بھی بھیج دی گئی ہیں۔ وزیراعظم کو اے آئی سی نے یہ خط سوشل میڈیا کے حوالے سے حکومت کے نئے قواعد کے جواب میں لکھا گیا ہے جس کے مطابق کسی قسم کی دستاویز یا معلومات کو جاری کرتے وقت متعلقہ تحقیقاتی ادارے کو دکھائی جائیں گی اور ان میں شرائط پر عمل کرنے میں ناکامی کی صورت میں 50 کروڑ تک جرمانہ کیا جائے گا۔ اے آئی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے خط میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘یہ قواعد پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو بری طرح اپاہج کردیں گے’۔ مزید پڑھیں: حکومت نے سوشل میڈیا ریگولیٹ کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی انہوں نے کہا کہ ‘اے آئی سی کے اراکین اس بات کے معترف ہیں کہ پاکستان میں صلاحیت ہے لیکن اچانک ان قواعد کے اعلان سے حکومت پاکستان کے ان دعووں کو جھٹلا دیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے کھلا ہوا ہے’۔ حکومتی قوانین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس وقت بنائے گئے قواعد سے درحقیقت اے آئی سی اراکین کو پاکستان میں صارفین اور کاروبار کے لیے اپنی خدمات پہنچانے کے لیے انتہائی مشکل ہوگا’۔ اے آئی سی اراکین میں نمایاں انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کی کمپنیاں شامل ہیں جن میں فیس بک، ٹویٹر، گوگل، ایمیزون، ایپل، بکنگ ڈاٹ کام، ایکسپیڈیا گروپ، گریب، لنکڈ ان، لائن ریکوٹین اور یاہو بھی شامل ہے۔ گروپ کی جانب سے نشان دہی کی گئی کہ کسی اور ملک میں اس طرح کے ‘یک طرفہ قوانین’ کا اعلان نہیں کیا گیا اور پاکستان غیر ضروری طور پر پاکستانی صارفین اور انٹرنیٹ اکانومی کے بے پناہ مواقع کے حامل کاروبار کو غیر ضروری طور پر نظرانداز کرکے عالمی طور پر اس میدان سے منہا ہونے کا خطرہ مول رہا ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت یا ان کا نقطہ نظر جانے بغیر قوانین کی منظوری دی ہے اور بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنے کاروبار کے منصوبے پر نظر ثانی کا باعث بن گیا ہے۔ یہ بھی پڑھیں: حکومت کا سوشل میڈیا پر نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا اعلان اے آئی سی نے کہا کہ ‘جس طرح ان قوانین کو منظور کیا گیا ہے وہ بین الاقوامی کمپنیوں کو پاکسان میں قانونی ماحول سے متعلق اور ملک میں اپنی سرگرمیوں کی خواہش پر دوبارہ جائزہ لینے کی وجہ بن رہے ہیں’۔ وزیراعظم کے نام خط میں زور دیتے ہوئے انٹرنیٹ کمپنی نے کہا ہے کہ ‘ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ نئے قواعد بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر مکمل عوامی مشاورت کو یقینی بنائیں’۔ ‘قانون سازی کے خلاف نہیں’ اے آئی سی کا کہنا تھا کہ وہ سوشل میڈیا کے حوالے قانونی سازی کے خلاف نہیں ہیں جبکہ پاکستان میں پہلے ہی آن لائن بیانات پر وسیع قانونی فریم ورک موجود ہے لیکن بدقسمتی سے انفرادی سطح پر اظہار رائے کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ نئے قوانین جیسے اہم مسائل کو سلجھانے کے لیے ناکافی ہیں۔ خط میں ان کا کہنا تھا کہ نہ تو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ اور نہ ہی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 میں قانون کے ذریعے کوئی ضمانت نہیں دی گئی ہے، اس کے برعکس پیکا مصالحت کاری یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بحفاظت افعال کو تحفظ دیتا ہے۔ اے آئی سی نے خط کے آخر میں کہا ہے کہ ‘ہم حکومت پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کی معیشت پر ان قوانین کے باعث پڑنے والے غیرمتوقع اثرات کا جائزہ لیں’۔ دوسری جانب حکومت کا اصرار ہے کہ نئے قواعد کا مقصد اظہار پر قدغن لگانا نہیں ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کے اداروں نے اس پر تحفظات کا اظہار کردیا تھا۔ اے آئی سی نے رواں ہفتے کے اوائل میں بھی ایک بیان میں حکومتی قواعد پر اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بیان میں کہا تھا کہ ‘ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کو حکومت پاکستان کی جانب سے اسٹیک ہولڈرز اور صنعت سے مشاورت کے بغیر وسیع پیمانے پر آن لائن قواعد جاری کرنے پر تشویش ہے’۔ خیال رہے کہ چند روز ڈان اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ حکومت نے گزشتہ ماہ ہی ملک میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی تھی۔ مزید پڑھیں: حکومت کو سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ان اصولوں کے تحت سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 5 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔ کابینہ سے منظور ہونے والے قواعدمیں کہا گیا تھا کہ ان قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرونک طریقے سے’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورت حال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔ نئے قواعد میں کہا گیا تھا کہ ان کمپنیوں کو آئندہ 3 ماہ کے عرصے میں عملی پتے کے ساتھ اسلام آباد میں رجسٹرڈ آفس قائم کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ان کمپنیوں کو 3 ماہ کے عرصے میں پاکستان میں متعلقہ حکام سے تعاون کے لیے اپنا فوکل پرسن تعینات کرنا اور آن لائن مواد کو محفوظ اور ریکارڈ کرنے لیے 12 ماہ میں ایک یا زائد ڈیٹا بیس سرورز قائم کرنا ہوں گے۔ سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی شعیب احمد صدیقی نے اس حوالے سے رابطہ کرنے پر ڈان کو بتایا تھا کہ ان قواعد و ضوابط کی کابینہ نے 28 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں منظوری دی تھی اور رائے دی تھی کہ کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 اینڈ پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ، 2016 کی ماتحت قانون سازی ہے‘۔ یہ بھی پڑھنا مت بھولیں مزید پڑھ: DawnNews

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس 18فروری کو طلب کرلیااسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس18فروری کو طلب کرلیا ہے جس میں ترک صدر کےدورہ پاکستان میں معاہدوں سے متعلق کابینہ کواعتماد میں لیاجائےگا۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس 18 فروری کوہوگا،

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس18 فروری کو طلب کرلیااسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا اجلاس18 فروری کو

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس منگل کوہوگااسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس

لاہور: وزیراعظم عمران خان نے سیف سٹی میں خدمت مرکز کا افتتاح کردیااس بارے میں تفصیلاً جانئے: AajNews AajUpdates

وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر لاہورآئیں گےلاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پر لاہورآئیں گے

وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پرلاہور پہنچیں گےوزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورے پرلاہور پہنچیں گے Pakistan PMImranKhan VisitLahoreToday PMIKInLahore UsmanAKBuzdar GovtOfPunjab CMPunjabPK PTIOfficialLHR PTIofficial ImranKhanPTI gop_info



پاکستانی ڈاکیوں کا مثالی کارنامہ

سوئیڈن سے پاکستانی بلوچ صحافی ساجد حسین لاپتہ

کورونا وائرس اور کچھ احتیاطی تدابیر - ایکسپریس اردو

24 سالہ نیوز اینکر میں کورونا وائرس کی تصدیق

کورونا وبا سے لڑنے والے ڈاکٹر اور نرسز ہمارے ہیروز ہیں، وقار یونس - ایکسپریس اردو

پاکستان اٹلی کو کورونا وائرس کی دوا کلورو کوئین فراہم کرے گا

اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے!

تبصرہ لکھیں

Thank you for your comment.
Please try again later.

تازہ ترین خبریں

خبریں

16 فروری 2020, اتوار خبریں

پچھلا خبر

انگلینڈ نے جنوبی افریقہ کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست دے دی - Sport - Dawn News

اگلا خبر

Pakistan Main Social Media Pabandiyon Ki Zad Main Kyun?
کورونا وائرس میں مبتلا کراچی کے 2 شہری جاں بحق، وزیر صحت سندھ - ایکسپریس اردو پاکستانی ڈریس ڈیزائنر نے کرونا سے بچاؤ کا لباس تیار کر لیا پاکستانی گزارش کے باوجود ایران پاکستانی زائرین کو تفتان گیٹ پر تنہا چھوڑنے لگا ملک بھر میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 1526 ہوگئی - ایکسپریس اردو Shehbaz Sharif calls for free corona test of every Pakistani کیا کورونا وائرس کا خوف اب ہتھیار بن گیا ہے؟ Another humanitarian step as 92 News to deliver message of poor to authorities - 92 News HD Plus کرونا سے لڑنے والے ایک اور ڈاکٹر کی گھر والوں کے لیے قربانی Chinese envoy hopes COVID-19 to come under control soon in Pakistan - 92 News HD Plus کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کورونا کا شکار ہو سکتے ہیں؟ روس کا کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے مؤثر دوا تیار کرنے کا دعوٰی Canadian premier Justin Trudeau's wife recovers from coronavirus
پاکستانی ڈاکیوں کا مثالی کارنامہ سوئیڈن سے پاکستانی بلوچ صحافی ساجد حسین لاپتہ کورونا وائرس اور کچھ احتیاطی تدابیر - ایکسپریس اردو 24 سالہ نیوز اینکر میں کورونا وائرس کی تصدیق کورونا وبا سے لڑنے والے ڈاکٹر اور نرسز ہمارے ہیروز ہیں، وقار یونس - ایکسپریس اردو پاکستان اٹلی کو کورونا وائرس کی دوا کلورو کوئین فراہم کرے گا اداسی بھرے دن کبھی تو ڈھلیں گے! کورونا: پاکستان میں کیا صنعتی اداروں کے علاوہ مزدوروں کو بچانے کی بھی ضرورت ہے؟ ایدھی نے سرد خانے بند کردیے، لاشیں رکھنے سے انکار - ایکسپریس اردو لاک ڈاؤن میں اپنی کھڑکی سے دنیا کیسی نظر آتی ہے؟ روس نے کورونا وائرس مرض کےلیے دوا بنانے کا دعویٰ کردیا - ایکسپریس اردو کورونا کیخلاف جنگ، چینی ڈاکٹروں کی خصوصی ٹیم آج پاکستان پہنچے گی