میانمار: روہنگیا دیہات سرکاری عمارتوں کی خاطر مسمار

بی بی سی نے میانمار میں چار ایسی جگہیں دیکھیں جہاں پہلے سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق روہنگیا آبادیاں تھیں مگر اب وہاں سرکاری عمارتیں بنا دی گئی ہیں۔

10.9.2019

’میں نے کیمپ کے منتظم سو شوی آؤنگ سے پوچھا کہ دیہات کیوں مسمار کیے گئے تو انھوں نے دیہاتوں کی مسماری سے انکار کیا۔ مگر جب ہم نے سیٹلائٹ تصاویر پر ان کی نشاندہی کی تو انھوں نے کہا کہ وہ حال ہی میں اس عہدہ پر آئے ہیں اور اس بارے میں جواب نہیں دے سکیں گے۔‘

بی بی سی نے میانمار میں چار ایسی جگہیں دیکھیں جہاں پہلے سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق روہنگیا آبادیاں تھیں مگر اب وہاں سرکاری عمارتیں بنا دی گئی ہیں۔

روہنگیا مسلمانوں کا درد مرکزی شہر ماؤنگ ڈو سے تھوڑا ہی باہر میو تھو گائی ہے جہاں کبھی 8000 سے زائد روہنگیا برادری کے افراد بستے تھے۔ میں ستمبر 2017 میں ایک اور حکومتی قافلے کے ساتھ سفر کرتے ہوئے میو تھو گائی کے پاس سے گزرا تھا اور اس کی ویڈیو بنائی تھی۔ کئی گھر جلا دیے گئے تھے مگر بڑی عمارتیں تب بھی قائم تھیں اور عموماً رخائن دیہات جن درختوں سے گھرے ہوتے ہیں وہ بھی وہیں تھے۔ مگر جہاں کبھی میو تھو گائی واقع تھا، اب وہاں سے گزرتے ہوئے ایک بڑی حکومتی عمارت اور پولیس کمپلیکس نظر آتا ہے۔ درخت بھی غائب ہو چکے ہیں۔ ہمیں اِن ڈِن بھی لے جایا گیا۔ یہ وہی گاؤں ہے جو ستمبر 2017 میں پکڑے گئے 10 مسلمان مردوں کے قتلِ عام کی وجہ سے بدنام ہے جبکہ یہ ان چند واقعات میں سے ہے جنھیں میانمار کی فوج قبول کرتی ہے۔ اِن ڈِن کی تقریباً تین چوتھائی آبادی مسلمان جبکہ باقی کا تعلق رخائن بودھ مسلک سے تھا۔ لیکن آج مسلمان آبادی کا یہاں نام و نشان نہیں ہے جبکہ رخائن علاقہ پرسکون اور پرامن ہے۔ لیکن اگر آپ وہاں جائیں جہاں کبھی روہنگیا برادری کے گھر ہوتے تھے تو درخت غائب ہوچکے ہیں اور ان کی جگہ خاردار تاروں نے لے لی ہے جو کہ حال ہی میں تعمیر شدہ بارڈر گارڈ پولیس کی وسیع و عریض بیرکس کا احاطہ کرتی ہیں۔ یہاں کے رخائن بودھ رہائشیوں نے ہم سے کہا کہ وہ اپنے پڑوس میں مسلمانوں کا دوبارہ بسنا کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں روہنگیا دیہات کون نذرآتش کر رہا ہے؟ پناہ گزینوں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟ 2017 کی پرتشدد فوجی مہم کے خاتمے کے کافی عرصے بعد بھی روہنگیا آبادیوں کی وسیع پیمانے پر تباہی جاری رہنے کا مطلب تھا کہ کچھ ہی پناہ گزین واپس آ کر اپنی پرانی زندگیوں اور آبادیوں میں واپس جا سکیں گے۔ پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کی نظر آنے والی تیاریوں میں صرف ہلا پو کاؤنگ جیسے خستہ حال ٹرانزٹ کیمپس ہیں یا پھر چائین چاؤنگ جیسے ری لوکیشن کیمپ۔ شاید کم ہی پناہ گزین اس طرح کے مستقبل کے لیے دو سال قبل جھیلے گئے صدمے کو بھلا پائیں گے اور اس سے پناہ گزینوں کو واپس لینے کے میانمار کے عہد پر سوالات اٹھتے ہیں۔ میں یینگون واپس جاتے ہوئے ایک نوجوان، دربدر روہنگیا سے ملا۔ ہمیں خفیہ انداز میں ملنا تھا کیونکہ غیر ملکی شہری اجازت کے بغیر روہنگیا برادری کے افراد سے نہیں مل سکتے۔ انھیں سِٹوے کے علاقے میں اپنے گھر سے نکال دیا گیا تھا اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ سات سال سے ایک آئی ڈی پی کیمپ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ 2012 میں اٹھنے والی اس تشدد کی لہر میں ایک لاکھ 30 ہزار روہنگیا اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ وہ یونیورسٹی نہیں جا سکتے اور نہ ہی اجازت کے بغیر کیمپ سے باہر جا سکتے ہیں۔ بنگلہ دیش میں رہنے والوں کے لیے ان کا مشورہ ہے کہ وہ واپس آنے کا خطرہ نہ مول لیں کہ کہیں وہ بھی ان کی طرح کڑی نگرانی والے کیمپوں میں نہ پہنچا دیے جائیں۔ حکومت کا کیا کہنا ہے؟ ہم نے رخائن میں جو دیکھا، اس پر میانمار حکومت کا موقف لینے کے لیے ان کے ترجمان سے رابطہ کیا مگر ہمیں کوئی جواب نہیں ملا ہے۔ باضابطہ طور پر تو حکومت بنگلہ دیش کے تعاون سے پناہ گزینوں کی مرحلہ وار واپسی کے لیے پرعزم ہے مگر حکومتی وزرا اب بھی روہنگیا افراد کو بنگالی کہتے ہیں جو ان کے مطابق وہ گذشتہ 70 سالوں میں غیر قانونی ہجرت کے ذریعے یہاں آئے۔ یہ میانمار کی اس عمومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ روہنگیا یہاں سے تعلق نہیں رکھتے۔ حکومت نے روہنگیا افراد کی نقل و حمل کی آزادی اور شہریت کی درخواستوں کو رد کر دیا ہے۔ حکومت انھیں نیشنل ویریفیکیشن کارڈ نامی دستاویز دینے کو تیار ہے جو اس کے مطابق بعد میں شہریت کے حصول کی جانب قدم ہو سکتے ہیں۔ مگر زیادہ تر روہنگیا ان کارڈز کو یہ کہہ کر مسترد کرتے ہیں کہ اس کے لیے انھیں خود کو بنگالی تسلیم کرنا ہوگا۔ Image caption اِن ڈِن گاؤں میں اب مسلمان آبادی کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ یہ ان چند زیادتیوں میں سے ایک کی سائٹ ہے جنھیں میانمار کی فوج تسلیم کرتی ہے ستمبر 2017 کے اوائل میں جب روہنگیا برادری کے خلاف فوجی کارروائی عروج پر تھی تو میانمار کی مسلح افواج کے کمانڈر جنرل من آؤنگ ہلائنگ نے کہا تھا کہ وہ 1942 میں 'ادھورا رہ جانے والا' کام مکمل کر رہے ہیں۔ ان کا اشارہ اس وقت رخائن میں جاپانی اور برطانوی فورسز کے درمیان ہونے والی لڑائی کی جانب تھا جس میں روہنگیا اور رخائن کے بودھ دونوں نے الگ الگ فریقوں کی حمایت کی تھی اور اکثر واقعات ایک دوسرے کو قتل بھی کیا تھا۔ کمانڈر کا کہنا تھا کہ آج جو بنگلہ دیش کے ساتھ سرحد ہے، مسلمان اسے پار کر کے رخائن ریاست کے شمالی حصے میں آ گئے تھے۔ میانمار میں ماؤنگ ڈو اور بودے ڈاؤنگ کے دو سرحدی اضلاع وہ واحد خطے ہیں جہاں مسلم اکثریت تھی۔ سنہ 2017 سے اب تک تباہ کیے گئے زیادہ تر دیہات یہیں قائم تھے۔ روہنگیا برادری کے نکل جانے کے بعد یہاں باقی بچ جانے والے مسلمان اباقلیت میں ہوں گے۔ قابلِ اعتبار تحقیقات کی اجازت، نقل و حمل کی آزادی یا پھر شہریت کی جانب واضح راستہ دینے سے حکومت کا انکار زیادہ تر پناہ گزینوں کی واپسی کی امیدوں کی حوصلہ شکنی کرے گا۔ اس سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان توازن جیسا ہے، ویسا ہی رہ جائے گا۔ شاید وہ 'ادھورا رہ جانے والا' کام اب پورا ہو چکا ہے۔ متعلقہ عنوانات مزید پڑھ: BBC News اردو

روہنگیا شناخت پربنگلہ دیشی یونیورسٹی نے طالبہ کا داخلہ منسوخ کردیاروہنگیا شناخت پربنگلہ دیشی یونیورسٹی نے طالبہ کا داخلہ منسوخ کردیا BangladeshUniversity Suspends Student Rohingya Admission

برٹش ائیرویز کے پائلٹوں کیہڑتال، سینکڑوں پروازیں منسوخبرٹش ائیرویز کے پائلٹوں کیہڑتال، سینکڑوں پروازیں منسوخ BritishAirways Strike Pilots FlightsCancelled

این ای ڈی انٹری ٹیسٹ، سرکاری تعلیمی بورڈز کے طلبا کی ناقص کارکردگی - ایکسپریس اردوکیمبرج، فیڈرل اور آغا خان بورڈز کے مقابلے میں سوائے کراچی کے سندھ کے کسی بھی بورڈ کا نتیجہ 37 فیصد سے زائد نہیں رہا

برٹش ایئرویز کی سو سالہ تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتالمانچسٹر : برطانیہ کی سرکاری ائیرلائن برٹش ائیرویز کے پائلٹوں نے ہڑتال کردی، جس کے باعث ائیرلائن کو سینکڑوں پروازیں منسوخ کرنا پڑگئیں،

ہیک ہونے والی سرکاری ریڈیو کی ویب سائٹ کچھ ہی دیر بعد بحال - Pakistan - Dawn News

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں شرکت کےلیےجنیوا پہنچ گئےوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں شرکت کےلیےجنیوا پہنچ گئے SMQureshiPTI ForeignOfficePk pid_gov UN_HRC KashmirBanayGaPakistan KashmirStillUnderCurfew



نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد

موت کو قریب سے دیکھنے والے ایمپائر پھر پاکستان میں

ملتان کرکٹ سٹیڈیم: ’یہ تو گراؤنڈ نہیں محل ہے'

’مسئلہ کشمیر کانٹے کی طرح ہے، مصالحت کے لیے تیار ہوں‘

دلی میں ہنگامے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک

New Delhi Streets Turn Into Battleground Between Hindus and Muslims

’ابھینندن پاکستان میں کوئی میزائل فائر نہ کر سکے تھے‘

تبصرہ لکھیں

Thank you for your comment.
Please try again later.

تازہ ترین خبریں

خبریں

10 ستمبر 2019, منگل خبریں

پچھلا خبر

پاکستان میں ایچ آئی وی کیسز میں 13 فیصد اضافہ ریکارڈ - ایکسپریس اردو

اگلا خبر

ایشیا میں غربت میں کمی واقع ہورہی ہے: ایشیائی ترقیاتی بینک
نئی دہلی:انتہاپسندہندومسجدپرچڑھ گئے،مینار توڑڈالا،آگ لگادی ایران میں کروناکےکیسز،کوئٹہ میں ماسک کی قیمتوں میں اضافہ Pakistan women to begin ICC Women’s T20 World Cup journey today - 92 News HD Plus دہلی میں مسلم کش فسادات ، وزیراعلی اروند کیجریوال نے اپنی بے بسی کا اعتراف کرلیا چینی مضبوط قوم ہے، بحران سے نکل آئے گی: بان کی مون West Indies win toss, elect to bat against Pakistan ICC Women’s T20 World Cup - 92 News HD Plus بینکوں میں حج درخواستیں جمع کرنےکاعمل شروع یوسف عباس کی ضمانت پررہائی کا تحریری فیصلہ جاری کرونا وائرس کا خدشہ:کوئٹہ تفتان ریلوے ٹریک بند کرنےکا فیصلہ FM urges Int'l community to take action of riots triggered by Indian mobs against Muslims اس تصویر کی کیا خاص بات ہے، یہ دو افراد کون ہیں؟ مینوپاز خواتین کی صحت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد موت کو قریب سے دیکھنے والے ایمپائر پھر پاکستان میں ملتان کرکٹ سٹیڈیم: ’یہ تو گراؤنڈ نہیں محل ہے' ’مسئلہ کشمیر کانٹے کی طرح ہے، مصالحت کے لیے تیار ہوں‘ دلی میں ہنگامے، پولیس اہلکار سمیت دو افراد ہلاک New Delhi Streets Turn Into Battleground Between Hindus and Muslims ’ابھینندن پاکستان میں کوئی میزائل فائر نہ کر سکے تھے‘ ونگ کمانڈر ابھینندن کے جہاز کے ملبے کی تصویری جھلکیاں Over 55,000 sugar bags recovered from Sharif brothers’ mills - 92 News HD Plus ٹرمپ نے مودی کے سامنے پاکستان کی بات کیوں کی ایران کے وزیر صحت میں کورونا وائرس کی تصدیق ٹرمپ کی آمدپر احتجاج، دہلی میں مسلمانوں کے گھروں پرحملے