مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ کی یاد میں - ایکسپریس اردو

مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ کی یاد میں -

02/06/2020 8:51:00 AM

مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ کی یاد میں -

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت والا رحمتہ اللہ علیہ کے نقش ِ قدم پر چلنے والوں کو توفیق ِ کامل اور جذبہ صادق عطا فرمائے۔

جون کے مہینے کا آغاز نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک عظیم سانحہ سے عبارت ہے جب ہم نابغہ روزگار حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر ؒ صاحب ، شیخ العرب وعجم قدس سرہ کی رحلت کے صدمے سے دوچار ہوئے تھے۔مسلسل طویل علالت کے بعد 2 جون 2013ء بروز اتوار بمطابق 22 رجب 1434 ھ عصر کے بعد ان کی حالت نازک ہوگئی اور غروب ِ آفتاب کے بعد جب پیر 23رجب کی شب کا آغاز ہوا تو ان کی پاک روح اپنے قفس عنصری سے پرواز کر کے خالقِ حقیقی سے جاملی ۔ موت العالمِ ،موت العالَم !

ترک صدر اردوان کا آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانے کا فیصلہ جرأتمندانہ ہے، پرویز الٰہی رجب طیب اردگان کے فیصلے سے خلافت عثمانیہ کے دور کی یاد تازہ ہوگئی، پرویز الہیٰ وصیت کی پرچی والوں نے پاکستان کو سفارتی تنہائی دی، مراد سعید کا بلاول کو جواب

اِس حقیر و فقیر اور بندہ ناچیز کو جب ان کے پیارے خلیفہ اور اپنے داماد سید غضنفر علی رضوی کے توسط سے حضرت والا کے دیدارِ پرُ انوار کی سعادت نصیب ہوئی تو اس وقت آپ فالج کے حملے کے بعد بستر علالت پر خانقاہ ِ اشرفیہ، گلشن اقبال، کراچی کے کمرہِ مخصوص میں آرام فرما رہے تھے ۔ نہایت پاکیزہ اور پُر نور زندگی کے تقریباََ تیرہ سال آپ نے اسی حالت میں گزارے لیکن تادم آخر صبر ِایوبی کا شاہکار اورراضی بہ رضا کی جیتی جاگتی تصویر بنے رہے۔ کیا مجال جو کبھی صبر کا پیمانہ ذرا سا بھی چھلکا ہو یا پائے استقامت میں لمحہ بھر کے لیے بھی لغزش آئی ہو۔ ہر حال میں راضی بہ رضا رہنا حضرت والا قدس سرہ کا طرہ امتیازتھا ۔ آپ کی پوری حیاتِ باصفات اسی وصف سے مزیّن تھی ۔

زندگی ایک سفر ہے ۔ اس سفر میں دوطرح کے لوگ شامل ہیں ۔ ایک وہ جو اس سفر کو اپنے اوپر حاوی کرلیتے ہیں اور دوسرے وہ جو اس سفر پر حاوی ہو جاتے ہیں۔ یہ دوسرے والے لوگ ہی اصل میں کامیاب لوگ ہیں ۔ ان لوگوں کی پوری زندگیاں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ہی گزرتی ہیں اور انھیں دنیا داری میں الجھے ہوئے لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی ذمے داری سونپی جاتی ہے ۔ یہ غازی اور پُر اسرار بندے اللہ تعالیٰ کے دین مبین کی تبلیغ کے علاوہ ذکر الٰہی سے بھی سرشاررہتے ہیں۔ یہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوتے ہیں کہ اپنے نفس کو کچل دینا اور خون ِ تمنا کر کے فریبِ دنیا سے بچنا ہی عاقبت سنوار تے اور اپنے رب کو راضی رکھنے کا واحد راستہ ہے ۔

چنانچہ زندگی بھر حضرت والاخود بھی اس پُر خار راستے پر نہایت ثابت قدمی سے گامزن رہے اور دوسروں کو بھی اسی راہ پر چلنے کی تلقین فرماتے رہے ۔ ان کے کلا م میں بھی جا بجا اسی پر زور ہے :جس نے مرشد سے لیا خون ِ تمنا کا سبقاس کے دل میں ہمہ دم جلوہ ء جاناں پایا

خونِ ارماں سے دل کو رنگیں کرمیر ؔ رکھا ہے کیا نظاروں میںجب ملا درد خونِ حسرت سےکیا کہوں اس کا ذوقِ ایمانیجس جگہ گرتا ہے خون آرزولے نہ لے بوسہ کہیں خود آسماںحضرت حکیم صاحبؒ پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم تھا کہ انھیں اپنے عہد کے تین مشائخ عظام کی طویل خدمت اور محبت میسر آئی جس نے انھیں پارس بنا دیا کہ اگر اس سے مٹی بھی چھو جائے تو سونا بن جائے۔ اول حضرت مولانا محمد احمد ؒصاحب پر تاب گڑھی، دوئم حضرت مولانا شاہ عبدالغنی ؒ صاحب پھول پوری اور سوئم حضرت مولانا شاہ ابرارالحق ؒ صاحب۔ ان تینوں اصحاب کا شمار میکدہ تھانوی ؒ کے سرکردہ بادہ خواروں میں ہوتا ہے۔ اپنے ان تینوں بزرگوں کی صحبت صالح کی جانب آپ نے درج ذیل شعر میں نہایت خوب صورت اشارہ فرمایا ہے : ۔

کسی اہل دل کی صحبت جو ملی کسی کو اخترؔاُسے آگیا ہے جینا اسے آگیا ہے مرناشاہ صاحب ؒ نے ساتویں جماعت تک ابتدائی تعلیم اُس زمانے کے دستور کے مطابق حاصل کی اور اسی کے بعد اپنے والد بزرگوار کے اصرار پر طبیہ کالج الہ آباد سے باقاعدہ طب کی تعلیم حاصل فرمائی ۔ چونکہ آپ کا طبعی رجحان شروع ہی سے اسلامی علوم کی جانب تھا چنانچہ آپ نے فارسی زبان بھی تعلیم کے دوران ہی سیکھ لی تھی اور بہت جلد اس پر دسترس بھی حاصل کرلی ۔ علمائے حق اور بزرگانِ دین کے مواعظ میں شرکت کا ذوق و شوق آپ کو بچپن ہی سے تھا اور دنیا داری سے بے رغبتی اور خلوت پسندی آپ کے خمیر میں شامل تھی جس کا اظہار اس شعر سے ظاہر ہے:

مری زندگی کا حاصل مری زیست کا سہاراترے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرناحضرت حکیم صاحب ؒقدس سرہ کی ذاتِ گرامی سالکین ِ طریقت کے لیے سر چشمہ فیض تھی جس نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کا رخ تبدیل کر دیا اور اور ان کے تاریک دلوں کو نور حق سے منور کر دیا ۔ اقبال نے ٹھیک ہی کہا ہے :

بالی ووڈ اداکار امیتابھ بچن بھی کرونا کا شکار ہوگئے فیس ماسک جیسا پراٹھا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل پائلٹوں کے مشتبہ لائسنس: ایتھوپیا بھی آنکھیں دکھانے لگا، پاکستان سے وضاحت مانگ لی

نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریںدرد ِ دل کی دولت ِ بے حساب و بے پایا ں آپ کو خزانہ خداوند سے عطا ہوئی تھی جسے آپ ؒ نے دریادلی کے ساتھ لوگوں میں آخری دم تک تقسیم فرمایا۔ اپنے شیخ ثانی حضرت شاہ ابرار الحق ؒ صاحب قدس سرہ کے حکم کے مطابق حضرت والا نے خانقاہ ِ امداد یہ ا شرفیہ پہلے ناظم آباد اور پھر گلشن اقبال میں قائم کی جو دنیا بھر کے سالکین طریقت کے لیے مرکز ِ ثقلِ بن گئی ۔ حضرت حکیم صاحب ؒ قدس سرہ کا در سِ مثنوی اس قدر مقبول ہوا کہ اس کی خوشبو چار دانگ ِ عالم میں پھیل گئی اور بعد میں اس کی اشاعت ’’ معارف ِ مثنوی ‘‘ کے عنوان سے ہوئی ۔ اس کے بعدآپ ؒ نے خود مثنوی تصنیف فرمائی۔ آپ کی بہت ساری کتابوں کے تراجم عربی، فارسی اور انگریزی کے علاوہ دنیا کی 23 زبانوں بشمول چینی ، روسی زبانوں میں شایع ہوکر مقبولیت و پزیرائی حاصل کر چکے ہیں۔

جس طرح امیر خسروؒ پر حضرت نظام الدین ؒ اولیاء کا رنگ چڑھا ہوا تھا اسی طرح حضرت حکیم صاحبؒ بھی سر تا پا حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اسی نسبت سے انھوں نے اپنے مرکزِ فیض کا نام ـ’’اشرف المدارس ‘‘ رکھا ۔ حکیم صاحب ؒ کی مجالس کسی زاہد ِ خشک کی مجالس نہیں ہوتی تھیں۔ ان پُر لطف مجالس میں اعلیٰ درجہ کی شاعری کا تڑکا لگا ہوا ہوتا تھا ۔ ان مجالس ِ بے بدل میں شعرو سخن کی آمیزش کے ساتھ ساتھ نہایت عمدہ مزاح المومنین کی چاشنی بھی ہوتی تھی۔ خود حضرت والاؒ کی منفرد بلند پایہ شاعری کی روح پرورخوشبو ان مجالس کو معطر کردیتی تھی۔ ڈھاکا ، بنگلہ دیش میں مقیم حضرت حکیم صاحب ؒ کے اجل خلیفہ حضرت شاہ عبدالمتین صاحب دامت برکا تہم کی روح پرور مجالس نہ صرف حضرت والاؒ کی یاد کو تازہ کر دیتی ہیں بلکہ سننے والوں کی روح کو بھی ترو تازہ کر دیتی ہیں ۔

اگر چہ حضرت حکیم اختر ؒ صاحب قدس سرہ آج ہمارے سروں پر سایہ فگن نہیں ہیں لیکن انھوں نے جو باقیات اور اپنے تربیت یافتہ افراد و ثمرات چھوڑے ہیں وہ ان کا انمول ورثہ ہیں :ہرگز نمیرد آں کہ دلش زندہ شُد بہ عشقثبت است بر جریدہء عالم دوامِ ما مزید پڑھ: Express News »

'اللہ کی موجودگی میں شادی ضروری ہے، لوگوں کی موجودگی ضروری نہیں'حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران اداکارہ ثمینہ احمد نے منظور صہبائی سے، اداکارہ نمرا خان نے راجہ افتخار اعظم سے، ادکارہ حنا الطاف نے آغا علی سے، فریال محمود نے دانیال راحیل سے اور اتوار کو شہروز سبزواری نے صدف کنول سے شادی کی ہے۔ ٹھیکےدار_کی_بیٹی Kahi mar na jayi Farigh haen koi to kaam ho

عظمیٰ خان تشدد معاملہ، معروف عالم دین مولانا طاہر اشرفی میدان میں آگئے،بڑا مطالبہ کر دیالاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان علما کونسل کے چیئرمین،معرو ف عالم دین اور سکالر علامہ حافظ طاہر محموداشرفی نے بھی عظمیٰ خان کے معاملے پر خاموشی توڑدی ،اُن 😀😀

سندھ میں تمام پرچوں میں فیل طلبا بھی پاس قرار - ایکسپریس اردویکم جون سے تعلیمی ادارے نہ کھولنے کا اعلان کیا ہے کھولنے کی کوئی تاریخ نہیں دی ، صوبائی وزیر تعلیم SindhRejectsBogusDomiciles تعلیم کا بیرا غرق پچاس سال سے ہر شعبے میں ناکام پی پی بھی کا میاب ہو جاتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ کی پہلی امریکا کے لئے براہ راست پرواز - ایکسپریس اردومستقل بنیادوں پراجازت مل گئی تو پی آئی اےامریکا کیلئے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،ترجمان پی آئی اے Ya Allah khair 👍 Lahore se karachi jata ni Amairca to bht Door h

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باوجود مہنگائی میں اضافہحکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے ساتھ ساتھ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کے باوجود عوام کو روزمرہ اشیاء کی قیمتوں

ذہنی معذور فلسطینی نوجوان کی ہلاکت پر غم و غصہاسرائیل کی پولیس کی گولی لگنے سے ہلاک ہونے والے ذہنی طور پر معذور ایک نوجوان کے جنازے میں سینکڑوں کی تعداد میں فلسطینی شہریوں نے شرکت کی۔ اللہ پاک کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں پر اپنا کرم فرما ے آمین غم و غصہ۔۔۔۔۔ اس کے علاؤہ کوئی آپشن ؟ کوئی غم و غصہ کا فائدہ ؟ کسی کو کوئی پرواہ ؟ پنجابی کی ایک مثال ہے۔۔۔ اے جہان میٹھا اگلا کس ڈیٹھا اسرائیل نے فلسطینوں کی زمین پر قبضہ کیا لوگوں کو ہلاک کیا کوئی دنیا کا ملک یو این او میں اسرائیل کے قبضے کے خلاف نہیں بات کرتا وجہ کیا ہے