ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر اقبال کا وہ مرثیہ جو ’بانگ درا‘ میں شامل نہ ہوا - BBC News اردو

’بانگ درا‘: اقبال کی ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر لکھی گئی نظم جسے انھوں نے اپنے مجموعہ کلام میں شامل نہ کیا

22/01/2022 12:19:00 PM

’بانگ درا‘: اقبال کی ملکہ وکٹوریہ کی وفات پر لکھی گئی نظم جسے انھوں نے اپنے مجموعہ کلام میں شامل نہ کیا

اقبال نے اپنی اس نظم کا عنوان ’اشک خوں‘ رکھا تھا۔ نظم میں دس بند تھے اور ہر بند میں گیارہ اشعار۔ ہر بند میں یکساں تعداد اشعار نے نظم کی ظاہری صورت میں ایک شان پیدا کردی، یہ نسخہ اقبال نے بعد میں اپنی مشہور ترین نظموں میں شان و شکوہ پیدا کرنے کے لیے کئی بار استعمال کیا۔

ملکہ وکٹوریہ 24 مئی 1819 کو پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ڈیوک آف کینٹ کی صاحبزادی تھیں اور سنہ 1837 میں تخت نشین ہوئی تھیں۔ملکہ وکٹوریہ سنہ 1861 میں اپنے شوہر کی وفات کے بعد بڑی حد تک گوشہ نشین ہو گئی تھیں۔ سنہ 1887 میں جب ان کی تخت نشینی کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو وہ ایک مرتبہ پھر خبروں کا موضوع بن گئیں۔ ملکہ وکٹوریہ کی تخت نشینی کی گولڈن جوبلی تقریبات دنیا بھر میں منائی گئیں اور اس کی متعدد یادگاریں بھی تعمیر ہوئیں۔

سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ظلم و ستم کا بازار گرم ہوا تھا تو ملکہ وکٹوریہ ہی کے فرمان سے رعایا نے جان و مال کی امان حاصل کی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ کے اس حکم سے تقریباً ہر مسلمان شکر گزار ہوا تھا۔ملکہ وکٹوریہ کا ذکر ہندوستان میں شامل نصاب میں کیا جا چکا تھا جس کی بنیاد پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے دلوں میں ملکہ وکٹوریہ کے لیے ایک خاص جذبہ احترام پیدا ہو چکا تھا۔ خود سرسید بھی مسلمانوں کو یہ تعلیم دے رہے تھے کہ انھیں اپنی تعمیر و ترقی کے لیے انگریز حکومت کا وفادار رہنا چاہیے۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

Nadeem Malik Live - SAMAATV - 19 May 2022

#SAMAATV #LatestNews #PakistanNewsLive➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-date on th... مزید پڑھ >>

🤣🤣🤣🤣what nonsense BBC کل کو آپ کہیں گے تین کا پہاڑہ بھی اقبال کے لکھا تھا لیکن بانگ درا میں شامل نہیں ہو سکا پاکستانیوں شرمندگی کی ضرورت نہیں ہے 😂 سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا یہ کلام بھی ہندوستانی شاعر اقبال کا تھا اور ان کو سر کا خطاب بھی انگریز سرکار نے دیا تھا اب اپنا لندن سنبھال کر رکھو کہیں یہ بھی جرمن نہ لے اڑیں. . ۔۔۔!!!

پرانے بزرگوں کو بھی انھوں نے اسی پروپگنڈے کے ذریعہ بے وقوف بناۓ رکھا ۔۔۔۔ایک مداری قو م اور کتے نہلانے والے ،،اور مادر پدر آزاد کتورے کب لوگوں اور قوموں کے لیے ہمدرد بنے ۔۔۔شرم کرو اقبال أیک آزاد ہندوستان کا نمایندہ شاعر جس کے مفکر اسلام بننے سے تمھیں مرچیں لگی ہوئ ہیں،لگی رہیں بی بی سی ہمیشہ سے ایسی باتوں کو بڑا اور بہت بڑا بنا کر پیش کرتی ہے جس سے اس کے آقاؤ کی واہ واہ ہو اور لوگ خاص اہل ایشاء یہ سوچیں کہ یہ گورے بڑے انصاف پسند اور اہل درد تھے لیکن۔انہیں اندازہ نہیں کہ دنیا کہاں تک جاچکی ہے اور تمھارے آقاؤں کو اب صرف گالیاں ہی نصیب ہوں گی ۔۔۔لے اڑیں.

بی بی سی والوں علامہ اقبال اور مرزاغالب کی شاعری میں عورت کاذکر تو کیاعورت دور دور تک نظر نہیں آتی لیکن تم جیسے گھٹیالوگوں نےہمارےصوفی شاعروں کوبدنام کرنےکاٹھیکہ لیا ہوا ہے لیکن ایک دن تم نے بھی مرجانا ہے باقی نام اللہ کارہےگا ان جھوٹی خبروں سے کیاملےگاصرف کمنٹس بس اللہ بخشے ان کو۔۔۔۔ باقی اٹھانے میں کوئی کسر کسی شاعر نے نہیں چھوڑی تھی۔۔۔ غالب ہو کہ اقبال۔۔۔ انگریز کی صف میں پھنچے تو سبھی ایک ہوئے۔۔۔

جب انہوں نے ہی شامل نہیں کیا تو اس پر بحث کیسی۔ اگر کر بھی لیتے تو کوئی گناہ نہیں کیا تھا۔ 'جب اقبال نے اس نظم کو خود اپنے ہاتھوں سے منسوخ کر دیا تھا ' - یہ اپ کہ رہے ہیں ۔ اقبال نے کبھی نہیں کہا کہ ان نے اس مرثیہ کو منسوخ کر دیا ۔ نہ ہی اقبال نے کبھی اس پر شرمندگی کا اظہار کیا چھوٹی کہانی عورت ہماری مائیں بہنیں بھی خواتین ہیں لہذا باہر نکلتے وقت کسی بھی عورت پر بری نگاہ ڈالنے سے پہلے اپنی ماں اور بہن کے بارے میں وہی خیال کریں جو آپ دوسری خواتین کے بارے میں خیال کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کا سر شرم سے جھک جائے اور نگاہ نیچی ہو جائے Follow me thanks🙏

،تصویر کا ذریعہ Getty Images 22 جنوری 1901 کو انگلستان پر ایک طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ وکٹوریہ 81 برس کی عمر میں وفات پا گئیں۔ انھوں نے تخت برطانیہ اور اس کی نوآبادیوں پر 63 برس تک حکومت کی۔ ان کے عہد میں سلطنت برطانیہ اس قدر وسیع ہوئی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ ملکہ وکٹوریہ 24 مئی 1819 کو پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ڈیوک آف کینٹ کی صاحبزادی تھیں اور سنہ 1837 میں تخت نشین ہوئی تھیں۔ سنہ 1840 میں ان کی شادی جرمنی کے پرنس البرٹ سے ہوئی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں برطانیہ میں 10 وزرائے اعظم برسراقتدار آئے۔ ملکہ وکٹوریہ کے عہد کے اہم واقعات میں سے ایک واقعہ سنہ 1857 کی ہندوستان کی جنگ آزادی تھا جسے انگریز مؤرخین بغاوت یا غدر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس جنگ کے بعد ہندوستان باضابطہ طور پر حکومت برطانیہ کے زیر نگیں آ گیا۔ ملکہ وکٹوریہ سنہ 1861 میں اپنے شوہر کی وفات کے بعد بڑی حد تک گوشہ نشین ہو گئی تھیں۔ سنہ 1887 میں جب ان کی تخت نشینی کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو وہ ایک مرتبہ پھر خبروں کا موضوع بن گئیں۔ ملکہ وکٹوریہ کی تخت نشینی کی گولڈن جوبلی تقریبات دنیا بھر میں منائی گئیں اور اس کی متعدد یادگاریں بھی تعمیر ہوئیں۔ کراچی کی ایمپریس مارکیٹ بھی اسی موقع پر تعمیر ہوئی تھی۔ اس مارکیٹ کے علاوہ بھی ہندوستان بھر میں ملکہ وکٹوریہ کی یادگاریں موجود تھیں جن میں لاہور کے چیئرنگ کراس میں ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ سرفہرست تھا۔ 22 جنوری 1901 کو ہندوستان میں عیدالفطر کا تہوار منایا جا رہا تھا۔ ملکہ کے وفات کی خبر تار کے ذریعے پہلے لندن سے کلکتہ اور پھر پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ ہندوستان والے ملکہ وکٹوریہ کے بغیر انگریز کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد جب ایسٹ انڈیا کمپنی کے ظلم و ستم کا بازار گرم ہوا تھا تو ملکہ وکٹوریہ ہی کے فرمان سے رعایا نے جان و مال کی امان حاصل کی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ کے اس حکم سے تقریباً ہر مسلمان شکر گزار ہوا تھا۔ ،تصویر کا ذریعہ ALLAMAIQBAL.COM ملکہ وکٹوریہ کا ذکر ہندوستان میں شامل نصاب میں کیا جا چکا تھا جس کی بنیاد پر تعلیم یافتہ نوجوانوں کے دلوں میں ملکہ وکٹوریہ کے لیے ایک خاص جذبہ احترام پیدا ہو چکا تھا۔ خود سرسید بھی مسلمانوں کو یہ تعلیم دے رہے تھے کہ انھیں اپنی تعمیر و ترقی کے لیے انگریز حکومت کا وفادار رہنا چاہیے۔ خرم علی شفیق نے اپنی کتاب ’اقبال ابتدائی دور‘ میں لکھا ہے کہ ’مسلمانوں کی طرف سے ملکہ وکٹوریہ کو سپاس نامہ پیش کرنے کی تجویز پیش ہوئی تھی جس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اقبال کے استاد میر حسن نے کہا تھا کہ یہ ایسا شاندار ہو جس سے معلوم ہو جائے کہ کل کی فاتح قوم نے آج کی ملکہ کو پیش کیا ہے۔‘ اقبال اس وقت تو یہ سپاس نامہ نہ لکھ سکے مگر جب ملکہ وکٹوریہ کی وفات ہوئی تو انھیں صرف دو تین روز بعد ایک تعزیتی جلسے میں ملکہ کا منظوم مرثیہ پڑھنے کا موقع ملا۔ خرم علی شفیق لکھتے ہیں کہ ’یہ تجربہ ان کی تخلیقی صلاحیت کو ایک انوکھی انتہا پر لے گیا۔ اقبال آخر اس قوم کے فرزند تھے جس نے تاج محل بنایا تھا۔ اب وہ وسائل نہ سہی مگر ایسی نظم ضرور تعمیر کر سکتے تھے جو دنیا بھر کے تعزیتی پیغامات میں ممتاز دکھائی دے۔‘ ماتم میں آ رہے ہیں یہ ساماں کیے ہوئے داغ جگر کو شمع شبستاں کیے ہوئے برطانیہ تو آج گلے مل کے ہم سے رو سامان بحر ریزی طوفاں کیے ہوئے اقبال نے اپنی اس نظم کا عنوان ’اشک خوں‘ رکھا تھا۔ نظم میں دس بند تھے اور ہر بند میں گیارہ اشعار۔ ہر بند میں یکساں تعداد اشعار نے نظم کی ظاہری صورت میں ایک شان پیدا کر دی، یہ نسخہ اقبال نے بعد میں اپنی مشہور ترین نظموں میں شان و شکوہ پیدا کرنے کے لیے کئی بار استعمال کیا۔ ان نظموں میں طلوع اسلام اور مسجد قرطبہ کے نام سرفہرست ہیں۔ گیان چند نے اپنی کتاب ’ابتدائی کلام اقبال، بہ ترتیب مہ و سال‘ میں غلام رسول مہر کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ ’ملکہ وکٹوریہ کی وفات 22 جنوری 1901 کو ہوئی اور قیاس ہے کہ جس تقریب میں یہ نظم پڑھی گئی وہ 23 یا 24 جنوری کو منعقد ہوئی تھی۔ دو ایک دن میں 110 اشعار کی نظم لکھ دینا اقبال کی زودگوئی اور پرگوئی کی دلیل ہے۔‘ ،تصویر کا ذریعہ MUBARAK ALI یہ مرثیہ مطبع خادم التعلیم لاہور سے بھی شائع ہوئی اور مطبع مفید عام لاہور سے بھی۔ افضل حق قریشی نے اپنے مضمون ’باقیات اقبال‘ میں مطبع مفید عام لاہور کے سرورق کی یہ نقل دی ہے: ’اشک خوںیعنی ترکیب بند جو حضور ملکہ معظمہ مرحومہ محترمہ کے انتقال پرملال پر مسلمانان لاہور کے ایک ماتمی جلسے میں پڑھا گیا۔ ازخاکسار اقبال۔‘ خرم علی شفیق نے لکھا ہے کہ ’اس نظم کا انگریزی ترجمہ بھی شائع ہوا جس کے بارے میں خیال ہے کہ اقبال نے خود ہی کیا تھا۔‘ یہ بھی پڑھیے