مفلسی مفلسی کو کھینچتی ہے

روزنامہ جنگ میں آج شائع ہونے والا رضا علی عابدی کا کالم پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں: #GeoNews #Poverty

Geonews, Poverty

28/01/2022 8:30:00 AM

روزنامہ جنگ میں آج شائع ہونے والا رضا علی عابدی کا کالم پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کریں: GeoNews Poverty

موسم کا کام ہے آنا، وہ تو آئے گا مگر اس اکیسویں صدی کے چوتھائی حصے میں ہم کیسا نظام لے کر بیٹھے ہیں جس میں پرسانِ حال نہیں معلوم کس طرف کو سدھار گئے۔

یا ہماری بستیوں میں کوئی دردمند ایسا نہیں جس کی باربردار گاڑیاں ٹوٹے پھوٹے بوسید ہ مکانوں کے آگے رکیں،کوئی شخص ہاتھوں میں کمبل اور کھانے پینے کا سامان لے کر اترے اور انہیں اپنے ہاتھوں سے کمبل اوڑھائے، پاؤں میں جوتیاں ڈالے، ٹپکتی چھت کے اوپر ڈالنے کے لیے پلاسٹک کے شاپر دے اور جواب میں دعا کا انتظار کرنے کے بجائے اگلی اجڑی ہوئی بستی کی طرف لپک جائے۔

ہم جس فلاحی مملکت کی بات کرتے ہیں وہ کسی دیوانے کا خواب نہیں۔جہاں ہر شخص سکون اور آرام سے زندگی گزارے اور اسے اطمینان ہو کہ کہیں کسی رجسٹر میں اس کا نام پتہ محفوظ ہے۔ کوئی اس کے حال سے واقف ہے اور اسے سکون عطا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہو۔ یہ دیوانے کا خواب ہوتا اگر دنیا میں اس کی کوئی مثال نہ ہوتی، کوئی نظیر نہ ہوتی۔ کتنے ہی ملک ہیں جنہیں فراوانی نصیب ہوئی ہے اور وہ اس نعمت کا رُخ عوام کی جانب پھیر رہے ہیں۔کیا کریں کہ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ زمین سے دولت ابلی پڑ رہی ہے اور ملّت کے نادار لوگ کانٹوں کے بستر پر عمر گزارنے پر مجبور ہیں۔

مزید پڑھ: Geo News Urdu »

Pukaar with Zohaib Saleem Butt - SAMAATV - 28 May 2022

#SAMAATV #LatestNews #PakistanNewsLive➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-date on th... مزید پڑھ >>

فوج اور حکومت کی سوچ میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر پیج ایک ہی ہے: شیخ رشید

آئندہ 2 ماہ ملک میں دہشتگردی میں اضافے کا خدشہ ہے: شیخ رشیدوفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک صفحے پر ہوں، پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے اور معلومات اکٹھی کرنے کا نظام کافی بہتر ہے، آئندہ 2 ماہ تک ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے، دہشت گردی کی اس تازہ لہر پر قابو پا لیا جائے گا۔ کیا تم چھنکنا بجانے کے لیۓ آۓ ہو- کیا پولیس اور فوج چھٹی گئ ہے؟ مارچ رکوانے کا بہانہ ہے! Han g inko pehly he khabar hoti hai دبئی میں میٹرو سے باہر جھانکا، صرف بلڈنگز، گورے کالے۔۔۔لاہور میں باہر جھانک کے مزہ آ گیا۔۔کہیں ٹوٹی اینٹیں، کہیں دھوتی جھاڑتا بابا۔۔۔کلچر، زندگی۔ پشاور کے لوگ تو نسوار پھینکنے کو ڈرم ڈھونڈتے، یہ کلچر دور کی بات۔ اس دور میں ڈیفالٹر اور دہشت گردی کی باتیں ہی ہوسکتی۔ بزدار زندہ باد

فیصل آباد میں کورونا کیسز میں تیزی 24گھنٹوں میں مزید56 کیسزرپورٹفیصل آباد میں کورونا کیسز میں تیزی، 24گھنٹوں میں مزید56 کیسزرپورٹ Faisalabad CoronavirusUpdates CoronaPositive Patients Infected Report GovtofPunjabPK CMPunjabPK OfficialNcoc Dr_YasminRashid UsmanAKBuzdar DCFaisalabad

جاوید لطیف بھی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو کمیٹی میں بلانے کے معاملے پر بضدپوری دنیا میں قائمہ کمیٹیاں حاضر سروس طاقتور ترین لوگوں کو طلب کرتی ہیں، جاوید لطیف تفصیلات جانیے: DailyJang

ایران نے سعودی عرب کو تہران میں سفارتخانہ کھولنےکی دعوت دیدیتہران (ویب ڈیسک) ایران نے سعودی عرب کو تہران میں سفارتخانہ کھولنےکی دعوت دے دی ہے۔ جیو نیوز کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ امیر عبد الہیان کہتے ہیں کہ جب بھی

شاہد آفریدی کو کمر میں شدید تکلیف، ببل سے باہر جانے کی درخواست کر دی😥😥😥😥😥 Is umar main batting aik taraf hi karni chahye. Boom boom

میں برطانیہ میں رہتا ہوں اور میری عمر ساٹھ برس سے اوپر ہے۔ ہر سال جاڑے آتے ہی ملکہ کی سرکار کا ایک خط میرے نام آتا ہے۔ لکھتی ہیں کہ گھر کو گرم رکھنے پر بھاری خرچ آتا ہے اس خیال سے آپ اور ضعیف اہلیہ کے لیے دو سو پاؤنڈ بھیجے جارہے ہیں۔ک یا ہماری بستیوں میں کوئی دردمند ایسا نہیں جس کی باربردار گاڑیاں ٹوٹے پھوٹے بوسید ہ مکانوں کے آگے رکیں،کوئی شخص ہاتھوں میں کمبل اور کھانے پینے کا سامان لے کر اترے اور انہیں اپنے ہاتھوں سے کمبل اوڑھائے، پاؤں میں جوتیاں ڈالے، ٹپکتی چھت کے اوپر ڈالنے کے لیے پلاسٹک کے شاپر دے اور جواب میں دعا کا انتظار کرنے کے بجائے اگلی اجڑی ہوئی بستی کی طرف لپک جائے۔ ہم جس فلاحی مملکت کی بات کرتے ہیں وہ کسی دیوانے کا خواب نہیں۔جہاں ہر شخص سکون اور آرام سے زندگی گزارے اور اسے اطمینان ہو کہ کہیں کسی رجسٹر میں اس کا نام پتہ محفوظ ہے۔ کوئی اس کے حال سے واقف ہے اور اسے سکون عطا کرنا اپنا فرض سمجھتا ہو۔ یہ دیوانے کا خواب ہوتا اگر دنیا میں اس کی کوئی مثال نہ ہوتی، کوئی نظیر نہ ہوتی۔ کتنے ہی ملک ہیں جنہیں فراوانی نصیب ہوئی ہے اور وہ اس نعمت کا رُخ عوام کی جانب پھیر رہے ہیں۔کیا کریں کہ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ زمین سے دولت ابلی پڑ رہی ہے اور ملّت کے نادار لوگ کانٹوں کے بستر پر عمر گزارنے پر مجبور ہیں۔ میرے ایک مرحوم بھائی کا یہ معمول تھا کہ جاڑے آتے ہی وہ بازار سے کمبل خریدتے اور جھونپڑیوں میں جاکر فاقہ زدہ کنبوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔میں نہیں کہتا کہ سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں اور لوگوں کے تن ڈھانپیں اور پیروں میں جوتیاں پہنائیں۔ میں صر ف یہ کہتا ہوں کہ اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ والے مکانوں ہی میں دیکھ لیں کہ کس کی چھتیں ٹپک رہی ہیں کس کے لیے مستری کی مدد لی جائے۔ کس کے بچے جاڑے کی وجہ سے بیمار پڑے ہیں اور کوئی انہیں دوا کی ایک گولی فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں۔میں ایسے گھرانوں سے واقف ہوں جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ایک گھرانے کو جانتا ہوں جس میں بوڑھی او ر بیمار ماں اور طلاق یافتہ بیٹی رہتی ہیں۔بیٹی باہر سے لکڑیاں چن کر لاتی ہے تو چولہا جلتا ہے۔ ایک زمانے میں تو سنا ہے کہ لوگ کھیتوں میں جاکر پانی کی نالیوں میں اگنے والے سا گ کی پتیاں توڑکر لاتے تھے تو کھانا نصیب ہوتا تھا۔مجھے یقین سا ہے کہ اب بھی یہی ہوتا ہوگا۔ اب آتا ہوں اپنی اصل با ت کی طرف۔اور بات ہے مفلسی او رناداری کی۔آپ نے شاید غور نہ کیا ہو۔ مفلسی کا عجب معاملہ ہے کہ چھپی رہتی ہے۔ کچھ تو غریب اپنی حالت پر خود ہی ترس کھاتا ہے،دوسرے یہ کہ دنیا کو یہ بتانے سے گریز کرتا ہے کہ میں بھوکا ہوں۔ یہ بھی نہیں بتاتا کہ میرے کتنے بچے ہیں۔مکان کے کرایہ دینے کے بعد دن میں بس ایک وقت کھاتاہوں۔لباس میں دو پیوند لگے ہیں، اس کی خیر منارہاہوں،اندر کے لباس میں جو چیتھڑے لگے ہیں شکر ہے کہ وہ دنیا کو نظر نہیں آتے۔ اس طرح کے سو جتن کرکے مفلس اپنی مفلسی پر پردہ ڈالتا رہتا ہے یہی سبب ہے کہ غریبی دکھائی نہیں دیتی۔ مفلسی کی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ انسان جیسے بھی بنے جی لیتا ہے۔ حالات کے تھپیڑے کھا کھا کر اس کی جلد موٹی ہوجاتی ہے۔ وہ سخت جان ہوجاتا ہے جس سے دنیا یہ قیاس کر لیتی ہے کہ سارا نظام چل تو رہا ہے۔ کام سارے ہی جاری ہیں۔مفلسی کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ سارے کام جنہیں دنیا حقیر تصور کرتی ہے،غریب سر جھکا کر کرلیتا ہے۔ ہم جہاں کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے لباس پر کوئی چھینٹ نہ پڑے، مفلس محنت کش وہاں بے دھڑک بوجھ ڈھولیتا ہے اور جانتا ہے کہ جب تھکا ہارا گھر جائے گا تو پریشان حال بیوی کمر دبا دے گی۔ اگلے روز کام کی تلاش میں باہر نکلے گا تو یہ طعنہ سننے کو ملے گا کہ دیہاڑی داراول تو ملتا نہیں اور مل جائے تو سو نخرے کرتا ہے اور ایک دن میں ہزار روپے کما لیتا ہے۔یہ بات بھی کچھ یوں کہتاہے جیسے ایک دن پلک جھپکتے گزر جاتا ہو۔ ابھی سننے میں آیا کہ کسی جگہ مزدوروں نے پیشگی پیسے مانگے۔ پتہ چلا کہ پہلے کام کراکے مال دار شخص کام میں ہزار نقص نکالتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ ہزار روپے کا کام تین چار سو میں ہوجائے یا مزدور اگلے روز اپنی محنت کا معاوضہ لینے پر تیار ہوجائے اور پھر وہ اگلا روز کبھی نہ آئے۔ کہتے ہیں کہ دولت دولت کو کھینچتی ہے۔اب پتہ چلا، مفلسی بھی مفلسی کو کھینچتی ہے جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ مزید خبریں :