مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے وزارت سے ہٹایا گیا تھا، برطانوی رکن اسمبلی - ایکسپریس اردو

23/01/2022 2:30:00 PM

نصرت غنی کنزرویٹو حکومت میں جونیئر وزیر برائے ٹرانسپورٹ تھیں

لندن: برطانیہ کی رکن اسمبلی نصرت غنی نے کہا ہے کہ کنزرویٹو حکومت نے مجھے فروری 2020 میں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے وزارت سے ہٹا دیا تھا۔برطانوی اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کے مطابق سابق جونیئر ٹرانسپورٹ منسٹر نصرت غنی نے الزام عائد کیا ہے کہ دو سال قبل ان سے وزارت کا عہدہ صرف اس لیے لے لیا گیا تھا کیوں کہ کابینہ کے کچھ ارکان کو میرے مسلمان ہونے سے مسئلہ تھا۔

39 سالہ نصرت غنی نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھانے والے ’’چیف وہپ‘‘ مارک اسپینسر نے بتایا تھا کہ کابینہ کے دیگر ارکان آپ کے مسلم عقیدے سے پریشان تھے۔مسلم رکن اسمبلی نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ وزارتوں کے ردوبدل کے اجلاس میں میرے مسلمان ہونے کو ایک مسئلے کے طور پر اٹھایا گیا تھا۔ میری اپنی پارٹی کے اس رویے سے میرا اعتماد متزلزل ہوا اور میں نے بعض اوقات سنجیدگی سے اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے پر بھی غور کیا۔

مزید پڑھ: Express News »

Pakistanio ko intehai sasti bijli fraham karnay k liye musalsal mehnat karnay wala cheeni shehri

پاکستانیوں کو انتہائی سستی بجلی فراہم کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنے والا چینی شہری#MeAndCPEC #Cpecexplorer #Episode_23 مزید پڑھ >>

Oo bht bura hua 😛😜😝lie😛😜😝

نصرت غنی: ‘مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے نوکری سے نکالا گیا‘ - BBC News اردوبی بی سی کے سیاسی نامہ نگار ڈیمیان گرامیٹکس کا کہنا ہے کہ بورس جانسن کے لے ایک اہم ہفتے کے دوران، اس تنازعہ کے متعلق سرِ عام ہونے والی گفتگو ٹوری اراکین کے درمیان شدید آپسی تناؤ کو ظاہر کرتی ہے۔ This is the real face of Europe 🌍 day by day each and every one will know . 🌎 دوستو یہ رواں سال کا اسلاموفوبیا کادوسرا واقعہ ہے اس سےپہلے لارڈ نذیر کو50سال پرانےمعاملے پرمجرم قراردیاگیاجسےانھوں نےمستردکیاہے یعنی برطانیہ کو لارڈ نذیر کےحال اور ماضی قریب میں کچھ بھی نہیں مل سکا😂 یادرہے انکا جرم ممبئی حملوں کا پول کھولنا تھا MumbaiAttackInHouseOfLords Wait for Salahuddin Ayubi, he will surely come . This law of nature , for the end of oppression

کورنگی : فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کا ڈراپ سین -دونوں زخمیوں نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ انہیں گولیاں کورنگی ڈھائی نمبر کے علاقے میں لگیں، ان کا کہنا تھا کہ شادی میں فائرنگ سے زخمی

شنیرا نے ریستوران بند ہونے پر شہریوں سے اپیل کر دی

کراچی میں درجہ حرارت 8 سے 9 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہونے کا امکان - ایکسپریس اردوکراچی میں درجہ حرارت 8 سے 9 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہونے کا امکان مزید پڑھیں: Karachi ExpressNews

انتخابات میں مقابلہ اپوزیشن سے نہیں بلکہ مہنگائی سے ہے: وفاقی وزیر حماد اظہروفاقی وزیر حماد اظہر نے ملک میں مہنگائی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے انتخابات میں ہمارا مقابلہ اپوزیشن سے نہیں ہے بلکہ ہمارا مقابلہ ملک میں موجود

معروف ہالی ووڈ اداکارہ نے چھٹے شوہر سے بھی طلاق کیلئے عدالت سے رجوع کرلیانیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہالی ووڈ اداکارہ پامیلا اینڈرسن نے 2020ءمیں اپنے 74سالہ دیرینہ دوست جان پیٹرز کے ساتھ شادی کرکے دنیا کو حیران کر دیا تھا، تاہم ان کی یہ

نصرت غنی جونیئر وزیر برائے ٹرانسپورٹ تھیں، فوٹو: فائل لندن:  برطانیہ کی رکن اسمبلی نصرت غنی نے کہا ہے کہ کنزرویٹو حکومت نے مجھے فروری 2020 میں صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے وزارت سے ہٹا دیا تھا۔ برطانوی اخبار ’’سنڈے ٹائمز‘‘ کے مطابق سابق جونیئر ٹرانسپورٹ منسٹر نصرت غنی نے الزام عائد کیا ہے کہ دو سال قبل ان سے وزارت کا عہدہ صرف اس لیے لے لیا گیا تھا کیوں کہ کابینہ کے کچھ ارکان کو میرے مسلمان ہونے سے مسئلہ تھا۔ 39 سالہ نصرت غنی نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں نظم و ضبط کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھانے والے ’’چیف وہپ‘‘ مارک اسپینسر نے بتایا تھا کہ کابینہ کے دیگر ارکان آپ کے مسلم عقیدے سے پریشان تھے۔ مسلم رکن اسمبلی نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ وزارتوں کے ردوبدل کے اجلاس میں میرے مسلمان ہونے کو ایک مسئلے کے طور پر اٹھایا گیا تھا۔ میری اپنی پارٹی کے اس رویے سے میرا اعتماد متزلزل ہوا اور میں نے بعض اوقات سنجیدگی سے اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے پر بھی غور کیا۔ خیال رہے کہ نصرت غنی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ان کے ایک کنزرویٹو ساتھی ولیم ریگ نے پارلیمانی وہپس پر ممبران پارلیمنٹ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔ وزیر اعظم بورس جانسن کے دفتر سے سابق وزیر نصرت غنی کے اس الزام پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم چیف وہپ مارک اسپینسر نے ٹوئٹر پر جواب دیا کہ یہ الزامات مکمل طور پر جھوٹے ہیں اور میں انہیں ہتک آمیز سمجھتا ہوں۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن مسلمانوں کے خلاف نامناسب بیانات کے لیے اکثر تنقید کی زد میں رہے ہیں۔ اپنے ایک کالم میں انھوں نے برقع پوش خواتین کو ڈاکو اور لیٹر بکس سے تشبیہ دی تھی۔