متحدہ عرب امارات پر یمنی باغیوں کے حملے سے خطے پر کیا اثر پڑے گا؟ - BBC News اردو

متحدہ عرب امارات پر یمن کے حوثی باغیوں کا حملہ خطے کے لیے ایک چیلنج

22/01/2022 2:07:00 PM

متحدہ عرب امارات پر یمن کے حوثی باغیوں کا حملہ خطے کے لیے ایک چیلنج

حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے ماضی میں بھی متحدہ عرب امارات پر حملے کیے ہیں، تاہم یہ پہلا موقع ہے جب متحدہ عرب امارات کے حکام نے اس طرح کے حملوں کا اعتراف کیا ہے اور پہلی مرتبہ ان حملوں میں لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

اب بہت کچھ متحدہ عرب امارات کے ردِعمل پر منحصر ہے۔،تصویر کا ذریعہReutersمتحدہ عرب امارات یمنی حکومت کا زبردست حامی رہا ہے، اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ ملک میں اپنی فوجیں تعینات کیں۔ سعودیوں نے عرب ریاستوں کا ایک اتحاد تشکیل دیا اور سنہ 2015 میں حوثیوں کی جانب سے بے دخل کی جانے والی حکومت کو بحال کرنے کے لیے فوجی مہم شروع کی۔

متحدہ عرب امارات نے سنہ 2019 میں اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا لیکن اس نے حوثیوں کے خلاف مقامی ملیشیا کو اسلحے کی فراہمی اور تربیت دینے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب کو صرف یمن پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اسے سعودیوں اور ان کے اتحادیوں اور دوسری طرف ایران اور اس کے حمایت یافتہ مختلف گروہوں کے درمیان خطے میں وسیع پراکسی وار کے طور پر دیکھا گیا۔

مزید پڑھ: BBC News اردو »

Imran Khan Demands for Immediate Election | PTI Long March | Fayyaz Chohan Talk | BOL News

Imran Khan Demands for Immediate Election | PTI Long March | Fayyaz Chohan Talk | BOL News#ImranKhan #AzadiMarch #FayyazChohanBreaking News | Latest News | ... مزید پڑھ >>

Acha hi asar parhy ga یہ سازش ھے متحدہ امارات حوتیوں پر حملہ آور ھو گا ایران بھی شامل ھو گا اور امریکہ اسرائیل تو موقع کی تلاش میں ھیں Lanat ho tm log pe ek muslim bhai k Marne ke liye ek yahoodi mulk se madad le re Yemeni Houthi rebels are a grave threat to the peace, prosperity and stability of the Gulf region to be properly dealt with by the Arab states and their allies.

حوثیوں کی فوج کہاں تک پہنچ گئی؟ کتنے ٹینک اور کتنے جیٹ طیارے استعمال کر رہے ہیں؟ کیا خیال ہے، آج شام تک برج خلیفہ فتح ہو جائے گا؟ اس مسئلے کے پرامن حل کی اشد ضرورت ہے۔ خون خرابے سے حالات مزید خراب ہوں گے۔ ImranKhanPTI shiblifaraz PTVNewsOfficial LollipopGovt IstandWithWaqarzaka TenUpExchange Eyaashh country h dubai Jewish se dosti ki kimaat tu dni pra gi

JavedMir16 sir your comments please Both parties give it a shape of sectarianism. However, behind the curtain,it is the game on oil

حوثی چاہتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات، یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی وفادار ملیشیا کی پشت پناہی ترک کرنے پر آمادہ ہو جائے۔ یہ ملیشیا، خاص طور پر عمالقہ بریگیڈز اور اس سے منسلک گروہوں نے حالیہ دنوں میں یمن میں جاری جنگ میں کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں اور حوثیوں کو ملک کے جنوب کے اہم علاقوں سے باہر دھکیل دیا ہے اور شمال میں تیل سے مالا مال ماریب میں، جو یمنی حکومت کا اہم گڑھ ہے، لڑائی میں تیزی آ گئی ہے۔ اب بہت کچھ متحدہ عرب امارات کے ردِعمل پر منحصر ہے۔ ،تصویر کا ذریعہ Reuters متحدہ عرب امارات یمنی حکومت کا زبردست حامی رہا ہے، اس نے سعودی عرب کی افواج کے ساتھ ملک میں اپنی فوجیں تعینات کیں۔ سعودیوں نے عرب ریاستوں کا ایک اتحاد تشکیل دیا اور سنہ 2015 میں حوثیوں کی جانب سے بے دخل کی جانے والی حکومت کو بحال کرنے کے لیے فوجی مہم شروع کی۔ متحدہ عرب امارات نے سنہ 2019 میں اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا لیکن اس نے حوثیوں کے خلاف مقامی ملیشیا کو اسلحے کی فراہمی اور تربیت دینے کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔ اس سب کو صرف یمن پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر نہیں دیکھا گیا بلکہ اسے سعودیوں اور ان کے اتحادیوں اور دوسری طرف ایران اور اس کے حمایت یافتہ مختلف گروہوں کے درمیان خطے میں وسیع پراکسی وار کے طور پر دیکھا گیا۔ یمن صرف ایک میدان جنگ تھا۔ درحقیقت، اگست سنہ 2020 میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد (بعد ازاں بحرین، مراکش اور سوڈان نے اس میں شمولیت اختیار کی) اسرائیل اس غیر رسمی ایران مخالف اتحاد کا حصہ بن گیا۔ جس سے ایک ایسے رجحان کی تصدیق ہوئی جو کئی سالوں سے پوشیدہ طور پر جاری ہے۔ متحدہ عرب امارت کی مشکل تو متحدہ عرب امارات اب کیا رد عمل ظاہر کرے گا؟ استحکام، ریاست کی امیج کے لیے بہت ضروری ہے۔ اسے کسیایسی جگہ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے جہاں کسی بھی وقت حملہ کیا جا سکتا ہے۔ اپنی افواج کو واپس بلا لینے کے باوجود، یو اے ای نے یمن کی لڑائی میں اپنا اثرورسوخ برقرار رکھا ہوا ہے۔ ایک واضح ردعمل یہ ہو سکتا ہے کہ متحدہ عرب امارت اپنے ان اتحادیوں کے لیے جو لڑائی کا حصہ ہیں، حمایت بڑھا دے۔ لیکن پچھلے کچھ سالوں سے متحدہ عرب امارات اپنی خارجہ پالیسی کو از سرِنو ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہے: اسرائیل کے ساتھ رسمی تعلقات، قطر کے ساتھ اپنے سرد پڑتے تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش؛ ترکی کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی (ترکی خطے کا دوسرا ملک ہے جہاں سفارتی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں) اور سب سے بڑھ کر تہران کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی کوششیں اس میں شامل ہیں۔ تو کیا حوثیوں کے حملے متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات پر اثرانداز ہوں گے؟ اگرچہ ایران حوثیوں کا واضح اتحادی ہے (اور ان حالیہ حملوں میں استعمال ہونے والے زیادہ تر ہتھیار ایران کے بنے ہوئے ہو سکتے ہیں) لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی کلائنٹ اور پراکسی والا رشتہ نہیں ہے۔ حوثی اپنے سٹریٹجک فیصلے خود کرتے ہیں اور اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ تہران میں اس حملے کو کس حد تک مثبت طور پر دیکھا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کے اتحادیوں کے لیے یہ حملے چیلینجز کے ساتھ ساتھ مواقع بھی پیش کرتے ہیں۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کی سلامتی کے لیے اپنی ’غیر متزلزل‘ حمایت پر زور دیا ہے، حالانکہ بائیڈن انتظامیہ یمن میں لڑائی کو روکنے میں متحدہ عرب امارات اور سعودی کردار سے خوش نہیں ہے۔ کیا متحدہ عرب امارات امریکی میزائل شکن دفاع کوحاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے؟ اگر ایسا ہوا تو، بائیڈن انتظامیہ کیا جواب دے گی؟ اسرائیل کے خدشات اسرائیل عملی طور پر مدد کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے، جنھوں نے دسمبر کے وسط میں ابوظہبی کا دورہ کیا تھا، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو بتایا ہے کہ اسرائیل سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون کی پیشکش کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل کے آئرن ڈوم جیسے اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹم میں متحدہ عرب امارات کی دلچسپی کے متعلق اکثر اطلاعات آتی رہی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیل اس مرحلے پر ایسی حساس ٹیکنالوجی فروخت کرنے پر آمادہ ہو گا یا نہیں لیکن انھیں دوسری قسم مدد مل سکتی ہے۔ حوثیوں کی طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی صلاحیتوں کے بارے میں متحدہ عرب امارت جو معلومات حاصل کر پایا ہے، اس میں شاید اسرائیل کی دلچسپی ہو گی۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جس وقت امریکہ، چین کے خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی جدوجہد کر رہا ہے، مشرق وسطیٰ میں اس کے اتحادی مشترکہ خطرات کے پیش نظر خود اپنے اپنے حفاظتی تعلقات استوار کرنا شروع کر رہے ہیں۔ جوناتھن مارکس بی بی سی کے سابق دفاعی نامہ نگار ہیں اور ایکسیٹر یونیورسٹی کے