قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اتحادی رہنما ایک دوسرے سے الجھ پڑے

28/06/2022 8:45:00 PM

قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اتحادی رہنما ایک دوسرے سے الجھ پڑے

قومی اسمبلی اجلاس میں حکومتی اور اتحادی رہنما ایک دوسرے سے الجھ پڑے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)قومی اسمبلی اجلاس میں خواجہ آصف اور اسلم بھوتانی بھی گودار کے ترقیاتی کاموں پر الجھ پڑے، خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم گزشتہ 2 ماہ

"اے آر وائی نیوز"کے مطابق شہباز حکومت کے 2  اہم اتحادی قومی اسمبلی اجلاس میں پھٹ پڑے، بلوچستا ن عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہمارے پاس تبدیلی کے لئے بڑے چکر لگتے تھے، اور ہماری شکلیں بھی اچھی لگتی تھیں اب نہیں لگتی، ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔

ڈپٹی کنوینئر ایم کیو ایم کنور نوید جمیل کی طبیعت خراب ،ہسپتال منتقلخالد مگسی نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے رویے بدل لیں اور ہماری شکایت کا ازالہ کیا جائے، ہمیں وزارت بھی دیتے ہیں تو بغیر قلمدان کے۔  حکومت کی تبدیلی کا مقصد کچھ اور تھا لیکن صورتحال دیکھ کر ایسا نہیں لگتا، پی ٹی آئی دور میں الگ ماحول تھا اور اب کچھ اور ماحول ہے۔

مزید پڑھ:
Daily Pakistan »

خالد مگسی اور اسلم بھوتانی قومی اسمبلی میں حکومت پر برس پڑےرہنما بی اے پی نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں کہ بغیر پورٹ فولیو کے وزارت لے لیں، ہم نے کیا جھاڑو دینا ہے بغیر کسی عہدے کے وزارت لے کر؟ ہماری شکایات دور کی جائیں۔

Newsone Urdu - قومی اسمبلی کا اجلاس۔۔۔ مخلوط حکومت کے ساتھی اپنی حکومت پر برس پڑے۔۔۔ آخر کیوں؟؟؟ | Facebook | By Newsone Urdu | قومی اسمبلی کا اجلاس۔۔۔ مخلوط حکومت کے ساتھی اپنی حکومت پر برس پڑے۔۔۔ آخر کیوں؟؟؟ جانیئے اہم سوالوں کے جوابات وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے،...قومی اسمبلی کا اجلاس۔۔۔ مخلوط حکومت کے ساتھی اپنی حکومت پر برس پڑے۔۔۔ آخر کیوں؟؟؟ جانیئے اہم سوالوں کے جوابات وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب سے، پروگرام جی فار غریدہ میں۔ NewsOne GFG GForGharidah GharidahFarooqi MaryamAurangzaib NationalAssembly

قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے 278کھرب روپےکے لازمی اخراجات کی منظوری دیدیبیرونی ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز کی مد میں 296 ارب 87 کروڑ اور غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 44کھرب 46 ارب روپےکے لازمی اخراجات کی منظوری arab ,ارب سے نیچے کچھ بھی نہیں دکھا گیا پھر کہتے ہیں پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے ۔۔کھاو کھاو مزے اڑاؤ اور ہم پر ٹیکس لگاتے جاو

راجہ ریاض کا اسپیکر قومی اسمبلی سے شکوہراجہ ریاض کا کہنا تھا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے ممبرز کو بھی وقت دیا جائے۔

ہائی کورٹ کا فیصلہ ، 'پنجاب اسمبلی میں اکثریت پی ٹی آئی اور اتحادیوں کے پاس آگئی'لاہور : تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ فیصلے کے بعد اکثریت پی ٹی آئی اور اتحادیوں کے پاس آگئی،۔ باقی سب چھوڑیں اگر آپ نے ارشد شریف کا یہ والا 👆خطاب نہیں سنا تو کچھ نہیں سنا پاکستانی سیاست ، صحافت ، مداخلت ، سازش کے اندرونی بیرونی فیکٹرز بہت معلوماتی خطاب ہے ماشاءاللہ مزہ آگیا اب اس کو عام کرو ہر ہر بچے کو سناو اپنے پاس محفوظ کرو 173 nahi ab dono pas. I think equal hai ab? عددی 'اکثریت' تو قومی اسمبلی میں بھی پی ٹی آئی کی ہی ہے ، کوئی فائدہ نہیں جب تک 'عکسریت' سے نہ آئے یا وہ نہ چاہے 🤾

قومی ہیمپ اور بھنگ اتھارٹی بنانے کا اصولی فیصلہ - ایکسپریس اردولائسنس ہولڈربھنگ کی خریداری، بیجوں کی درآمد اور کاشت کرنے کا مجاز ہو گا مزید پڑھیے: ExpressNews Imsaadfarrukh realrazidada CMShehbaz یہ اور اسکے کچھ بے شرم ساتھی کچھ ماہ قبل مزاق اڑا رہے تھے

میں 3 مرتبہ گوادر گئے ہیں، گوادر میں بڑے ترقیاتی کام ہورہے ہیں جبکہ بھوتانی نے  پی ٹی آئی حکومت کو موجودہ حکومت سے بہتر قرار دے دیا۔ "اے آر وائی نیوز"کے مطابق شہباز حکومت کے 2  اہم اتحادی قومی اسمبلی اجلاس میں پھٹ پڑے، بلوچستا ن عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہمارے پاس تبدیلی کے لئے بڑے چکر لگتے تھے، اور ہماری شکلیں بھی اچھی لگتی تھیں اب نہیں لگتی، ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ ڈپٹی کنوینئر ایم کیو ایم کنور نوید جمیل کی طبیعت خراب ،ہسپتال منتقل خالد مگسی نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے رویے بدل لیں اور ہماری شکایت کا ازالہ کیا جائے، ہمیں وزارت بھی دیتے ہیں تو بغیر قلمدان کے۔  حکومت کی تبدیلی کا مقصد کچھ اور تھا لیکن صورتحال دیکھ کر ایسا نہیں لگتا، پی ٹی آئی دور میں الگ ماحول تھا اور اب کچھ اور ماحول ہے۔ خواجہ آصف کی بات پر رکن اسمبلی اسلم بھوتانی اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے، انہوں نے کہا کہ 2 ووٹوں پر کھڑی حکومت کی گردن میں سریا آگیا ہے اگر 10 ووٹوں کی اکثریت ہوتی تو پتہ نہیں یہ کیا کرتے، موجودہ حکومت سےکوئی اتحادی خوش نہیں، پی ٹی آئی نے ہمیں اربوں روپے کے فنڈز دیئے، ان سے پی ٹی آئی بہتر تھی۔ کورونا سے ہلاکتوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع، مسلسل دوسرے روز 2افراد جاں بحق اسلم بھوتانی نے کہا کہ ہم آصف زرداری صاحب کی محبت میں یہاں آگئے، سابق صدر نے ان کو 58 لوگ دیئے ان کی بھی نہیں سنتے، میری خواجہ صاحب سے درخواست ہے وہ ہمارے تحفظات وزیراعظم تک پہنچائیں۔ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے دونوں اراکین کو ایک دوسرے سے مخاطب نہ ہونےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف بیٹھ کر اسلم بھوتانی اور احسن اقبال کیساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ مزید : .خاص رپورٹ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خالد مگسی اور اسلم بھوتانی حکومت پر برس پڑے، دونوں رہنماؤں نے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ بلوچستان عوامی پارٹی(بی اے پی) کے رہنما خالد مگسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت بدلنی تھی ہم نے ساتھ دیا، اس وقت ہمارے پاس چکر بھی بہت لگائے جاتے تھے اب منہ پھیر لیتے ہیں۔ خالد مگسی نے کہا کہ حکومت کسی اور مقصد کے لیے تبدیل کی گئی تھی اب اس کا مقصد کچھ اور ہوگیا ہے، ہم ایک کمیٹی کی صدارت اور چھوٹی موٹی وزارت مانگ رہے ہیں، یہ خود فیصلہ کرتے ہیں مگر ہمیں اعتماد میں نہیں لیتے۔ رہنما بی اے پی نے کہا کہ ہمیں کہتے ہیں کہ بغیر پورٹ فولیو کے وزارت لے لیں، میں کہتا ہوں بغیر کسی عہدے کے وزارت لے کر ہم نے کیا جھاڑو دینی ہے؟ بس ہماری شکایات دور کی جائیں۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسلم بھوتانی نے کہا کہ میں آج احتجاج کرنا چاہتا ہوں، ہم پی ٹی آئی کے ساتھ چار سال سے چل رہے تھے، بس کسی کی محبت میں ادھر آکر بیٹھ گئے ہیں۔ اسلم بھوتانی نے کہا کہ میں نے آصف زرداری کو کہا کہ مجھے حلقے کے لیے فنڈ دیے جائیں، زرداری نے احسن اقبال کو کہا مگر انہوں نے نہیں سنی، شہباز شریف کے پاس گیا وزیراعظم نے بھی احسن اقبال کو کہا کہ ان کو فنڈز دیں، مگر جب کتاب آئی تو اس میں فنڈز بہت کم ہیں جو بالکل لالی پاپ ہے۔ رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے چار سالوں میں اربوں روپے کے فنڈز دیے، میں نے احسن اقبال کو کہا کہ یہ فنڈز تو پی ٹی آئی نے دیے ہوئے ہیں آپ نے کیا کیا ہے؟ اسلم بھوتانی نے کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی میں عزت نہیں مل رہی تھی مگر فنڈز بہت مل رہے تھے، زرداری صاحب اور وزیراعظم صاحب کا بڑا احترام ہے، افسوس سے کہتا ہوں کہ اس طرح حکومتیں نہیں چلتیں۔ قومی خبریں سے مزید..فوٹو: فائل قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کے 278کھرب روپےکے لازمی اخراجات کی منظوری دے دی۔ اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویزاشرف کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لازمی اخراجات کی تفصیل کو منظور کیا گیا جس میں مقامی قرضوں کی ادائیگی اور سروسنگ کے لیے 230 کھرب 93 ارب 45 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ترقیاتی پروگرامز کیلئے 800 ارب، دفاع کیلئے 1523 ارب، پنشن کی مد میں 530 ارب، ایچ ای سی کیلئے 65 ارب روپے مختص، بے نظیر پروگرام کیلئے رقم 250 ارب سے بڑھا کر 364 ارب روپے کردی گئی پنشن کی مد میں 3 ارب 45 کروڑ کے لازمی اخراجات، گرانٹس اور سبسڈی کی مد میں 22 ارب روپے، سپریم کورٹ کے لیے 3 ارب 9 کروڑ روپے اور الیکشنز کے لیے 6 ارب 28 کروڑ روپے رکھےگئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے 2 ارب 70 کروڑ 77 لاکھ 24 ہزار روپے، سینیٹ کے لیے 2 ارب 34 کروڑ 86 لاکھ 16 ہزار روپے، صدر مملکت کے عملے اور خانہ داری اور الاؤنسز پرسنل کی مد میں 64 کروڑ 50 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح سال 2023 میں الیکشن کی مد میں 6 ارب 28 کروڑ 90 لاکھ 52 ہزار روپے ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے 30 جون 2023 تک 1 ارب 12 کروڑ 20 لاکھ روپے،کام کرنے کی جگہ پر خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کی مد میں 10 کروڑ روپےکی منظوری بھی دی گئی۔ بیرونی ترقیاتی قرضوں اور ایڈوانسز کی مد میں 296 ارب 87 کروڑ روپے اور غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 44کھرب 46 ارب روپےکے لازمی اخراجات کی منظوری دی گئی۔ قومی اسمبلی نے 30 وزارتوں، ڈویژنوں اور اداروں کے لیے 4 ہزار577 ارب روپے سے زائد کے 83 مطالبات زر بھی منظور کرلیے۔ مزید خبریں :.