قومی اقلیتی کمیشن کیا ’جبری مذہب‘ کی روک تھام کر پائے گا؟

قومی اقلیتی کمیشن کیا ’جبری مذہب‘ کی روک تھام کر پائے گا؟

06/06/2020 4:56:00 PM

قومی اقلیتی کمیشن کیا ’جبری مذہب‘ کی روک تھام کر پائے گا؟

کیا کئی برسوں کی پس و پیش کے بعد حال ہی میں تشکیل پانے والا قومی اقلیتی کمیشن پاکستان میں اقلیتیوں کے اصل مسائل کو اجاگر کر پائے گا؟

بازیاب ہونے پر عید کے فوراً بعد شری متی دیا میگھواڑ نے عمرکوٹ کی ایک مقامی عدالت میں ایک بیان دیا جس میں انھوں نے الزام لگایا کہ انھیں '18 ماہ قبل اغوا کرکے زبردستی ان کا مذہب تبدیل کیا گیا، اس کے بعد کاغذات پر دستخط کرائے گئے اور اتنا عرصہ جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔۔۔'

مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی 53ویں برسی آج منائی جارہی ہے مادر ملت فاطمہ جناح کی برسی حکومت کا 15 ستمبر سے ملک بھر کے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان - ایکسپریس اردو

عدالت نے اس حلفیہ بیان کے بعد انھیں ان کے والدین کے حوالے کر دیا۔ڈھرکی کی درگاہ بھرچونڈی کے گدی نشین کے بھائی میاں مٹھو کے بعد عمرکوٹ کے پیر ایوب سرہندی دوسرے گدی نشین ہیں جن پر ہندو لڑکیوں کے مذہب تبدیل کرنے کا الزام ہے تاہم دونوں کا موقف رہا ہے کہ وہ مذہبی کی تبدیلی اور نکاح لڑکیوں کی مرضی سے کرتے ہیں۔

سندھ میں ہندو، پنجاب میں مسیحی اور خیبرپختونخوا کی کیلاش کمیونٹی، جبری مذہب کی تبدیلی کی شکایات کئی سالوں سے کرتی آ رہی ہیں۔ انسانی حقوق کمیشن سمیت انسانی حقوق کی دیگر تنظیمیں ان شکایات کو جائز قرار دیتی ہیں۔انسانی حقوق کمیشن کی مذہب یا عقیدے کی آزادی کے بارے میں 2018 کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق ہر سال اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی تقریباً ایک ہزار لڑکیوں کے جبری مذہب تبدیلی کے واقعات سامنے آتے ہیں، جن کی اکثریت 18 سال سے کم ہوتی ہے۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتیں مذہب کی تبدیلی کو اپنا سب سے بڑا مسئلہ سمجھتی ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالھی اور مسلم لیگ ن سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے رکن اسمبلی رمیش وانکوانی بھی اپنی تقریروں میں اس کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

تاہم حال ہی میں قائم کردہ قومی اقلیتی کمیشن کے سربراہ چیلا رام کیولانی مذہب کی جبری تبدیلی کے معاملے کو بین الاقوامی میڈیا اور پڑوسی ملک کا پروپگینڈہ قرار دیتے ہیں۔اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیںسندھ کے بعض ہندو اب سکھ کیوں بن رہے ہیں؟چیلا رام پاکستان کے معروف تاجر ہیں جو چاول برآمد کرتے ہیں اور موجودہ ذمہ داری سے قبل وہ تحریک انصاف سندھ کے نائب صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں جہاں سے وہ اب مستعفی ہوگئے ہیں۔

اقلیتی کمیشن کابینہ کے ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے تشکیل دیا گیا ہے، جس میں ہندو کمیونٹی کے علاوہ مسیحی، پارسی، سکھ اور کیلاش کمیونٹی کو بھی نمائندگی دی گئی ہے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سمیت دو مسلم اراکین بھی اس کا حصہ ہیں۔چیلام رام کہتے ہیں کہ 'میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بغیر اقلیتوں کے مسائل کا حل نہیں نکل سکتا کیونکہ اقلیتی کمیونٹی کا مسئلہ ان کا بھی مسئلہ ہے۔'

اقلیتی کمیشن کے سربراہ چیلا رام سمیت ڈاکٹر جیپال چھابڑیا اور راجا قوی کو رکن نامزد کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر جیپال کا تعلق تحریک انصاف سے ہے جبکہ راجہ قوی ایف بی آر کے سینئر عہدے سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ کمیشن میں شیڈول کاسٹ یا دلتوں کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ہندو ووٹروں کی تعداد 17 لاکھ سے زائد ہے جن کی اکثریت صوبہ سندھ میں بستی ہے اور ان میں تھر اور عمرکوٹ اضلاع کی چالیس چالیس فیصد آبادی ہندو ہے۔

All educational institutions to reopen on September 15 with SOPs روس سے بڑی خبر، دنیا کی پہلی ’کرونا دوا‘ مریضوں پر استعمال کی منظوری وزیراعظم عمران خان کی قوم سے عید قرباں سادگی سے منانے کی اپیل

یاد ہے کہ دلت کمیونٹی کی اکثریت ان ہی اضلاع میں رہتی ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دلت رکن اسمبلی سریندر ولاسائی کا کہنا ہے 'دلت اقلیتوں کی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور انھیں کمیشن میں نظر انداز کرنا متعصب عمل ہے، حکومت کو چاہیے تھا کہ اس کمیشن کو تحریک انصاف کا تنظیمی شعبہ بنانے کے بجائے اس میں اقلیتوں کے ذہین لوگوں کو شامل کرتی۔'

اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چیلا رام کیولانی کا کہنا ہے کہ 'کوئی خود کو شیڈول کاسٹ نہ سمجھے۔ تمام اراکین کا مقصد مسائل کا حل نکالنا ہے۔اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیںوائٹ ان دی فلیگ: پاکستانی اقلیتیں کیمرے کی آنکھ سےپاکستان پیپلز پارٹی کی گذشتہ حکومت نے جبری مذہب کی تبدیلی کے خلاف سندھ اسمبلی سے ایک قانون بھی منظور کیا تھا۔ بعد میں گورنر نے اس میں کچھ ترامیم تجویز کیں تھیں لیکن تاحال یہ ترمیمی قانون اسمبلی فلور پر نہیں لایا گیا۔

یہ بل مسلم لیگ فنکشنل کے رکن نند کمار نے تیار کیا تھا، جن کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی دباؤ میں آکر یہ بل پیش نہیں کر رہی ہے۔ جمعیت علما اسلام کے ساتھ ساتھ میاں مٹھو، پیر ایوب جان سرہندی سمیت کئی مذہبی جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی تھی۔قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین چیلا رام کہتے ہیں کہ اگر ایسے واقعات ہوئے تو ان کے لیے بھی ہم کوئی پالیسی بنائیں گے۔

ان کا کہنا تھا 'سندھ میں جبری مذہب کے واقعات ہوتے رہتے ہیں اس بات سے انکار نہیں۔ لیکن ایسے واقعات تو مسلم کمیونٹی میں بھی ہوتے ہیں کاروی کاری قرار دیکر عورت کو مارا جاتا ہے۔ اگر ہندو کو اغوا کیا جاتا ہے تو مسلمانوں کا بھی اغوا ہوتا ہے۔ دراصل ہمارے یہاں پر ایسا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو پڑوسی ملک اور عالمی میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔'

قومی اقلیتی کمیشن کا اس وقت تک صرف ایک ہی تعارفی اجلاس ہوا ہے، چیلا رام کیولانی کہتے ہیں کہ 'یہ میڈیا نے پھیلایا ہوا ہے کہ اقلیتوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے۔ ظلم تو دنیا بھر میں اقلیتوں کے ساتھ ہو رہا ہے پاکستان میں اتنا ظلم نہیں جتنا دوسرے ملکوں میں ہے، انڈیا میں ہی دیکھ لیں کشمیر میں کیا ہو رہا ہے۔'

قومی اقلیتی کمیشن کی ترجیح کیا ہوگی، اس بارے میں چیلا رام کیولانی کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے پالیسی تشکیل دیں گے 'جو عبادت گاہیں ہیں ان پر لینڈ مافیا کے قبضے ہیں ان کے لیے پالیسی بنائیں گے، اس کے علاوہ ملازمتوں میں پانچ فیصد کوٹا جس پر کئی اداروں میں عملدرآمد نہیں ہو رہا اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ ہولی اور دیوالی پر چھٹی ہونی چاہیے اس پر بھی پالیسی بنائیں گے۔'

شمالی علاقہ جات میں گلیشئیرزپگھلنےلگے وزیرتوانائی نے لوڈشیڈنگ سے پریشان کراچی کے شہریوں کو بڑی خوشخبری سنادی وزیراعظم نے آئسولیشن اور وبائی امراض کے جدید ہسپتال کا افتتاح کر دیا

پشاور میں مسیحی برادری کے گرجا گھر پر 22 ستمبر 2013 ہونے والے حملے میں سو سے زائد مسیحی شہریوں کی ہلاکت کے واقعہ میں سیکیورٹی کے فقدان اور انتظامات کا اُس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم کے ساتھ تین رکنی بنچ تشکیل دیا، جس کو اقلیتوں کے جان و مال اور حقوق و آزادیوں کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 20 کی روشنی میں جامع قانون سازی کی بنیادیں وضع کرنی تھیں اور ریاست کو عملی اقدامات اٹھانے کا پابند بنانا تھا۔

اس تین رکنی عدالتی بنچ نے 19 جون 2014 کو قومی کونسل برائے اقلیتی حقوق بنانے کے احکامات دیے، جس کے لیے سابق آئی جی شیعب سڈل کی سربراہی میں عبوری کمیشن بنایا گیا، جس کے اراکین میں مسلم لیگ ن کے سابق اور موجودہ تحریک انصاف کے رکن رمیش ونکوانی اور جسٹس تصدق حسین جیلانی کے بیٹے شامل تھے۔

ڈاکٹر شعیب سڈل نے حکومت کے حالیہ کمیشن کے قیام کو دوبارہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ انھوں نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ قومی کمیشن کے قیام کے لیے انھوں نے چاروں صوبائی حکومتوں، اقلیتوں، سول سوسائٹی سے مشاورت کی اور کمیشن کے قیام کے لیے قانون کا مسودہ تیار کیا، انھیں امید تھی کہ وزارت مذہبی امور اس پر اپنا موقف بیان کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

انھوں نے آئینی درخواست میں مزید کہا ہے کہ 'کمیشن کے قیام کے لیے وزرات مذہبی امور نے ان سے کوئی مشاورت بھی نہیں کی، جب ایک کمیشن پہلے سے موجود ہے تو یہ دوسرا کمیشن کیوں قائم کیا گیا ہے۔ وزرات مذہبی امور نے عدالت میں کیے گئے وعدے سے انحراف کیا ہے۔ یہ کمیشن وزارت مذہبی امور کے رحم و کرم پر ہے اس کی آئینی حیثیت نہیں، جبکہ ان کی طرف سے اقلیتی کمیشن کو بھی قومی انسانی حقوق کمیشن، بچوں کے قومی کمیشن اور خواتین کے معیار کو بہتر بنانے کے کمیشن کی طرح آئینی اور قانونی اداراہ بنانے کی تجویز دی گئی تھی۔'

قومی اسمبلی میں اقلیتی کمیشن کے قیام کے لیے دو اراکین نے ایک بل بھی پیش کیا تھا، جس میں چیئرمین کے لیے بتایا گیا تھا کہ اس کا انتخاب کرنے کے لیے اخبارات میں تشہیر کی جائے گی اس کے بعد جو نام آئیں گے وزیر اعظم، قائد حزب اختلاف کے مشورے سے ان کی نامزدگی کریں گے جبکہ تمام مذہبی اقلیتوں کے نمائندوں کو نمائندگی دی جائے گی۔

حکومت نے اس بل کو اسمبلی سے منظور کرانے کے بجائے کابینہ کے ایک فیصلے کی روشنی میں اس کمیشن کے قیام کا بل منظور کر لیا، جس کا چیئرمین چیلا رام کیولانی کو نامزد کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مزید پڑھ: BBC News اردو »

No it's all just totally wrong . پاکستان میں مزہب تبدیلی جبری طور پر نہیں ہوتی نہ ہو سکتی ہے. مفاد پرست عناصر جن میں غیر ملکی میڈیا، نام نہاد NGOs وغیرہ شامل ہیں، ڈرامہ کر رہے ہیں. امریکی یا یورپی متعصب معاشروں جیسا طرز عمل کم از کم پاکستان میں نہیں. میں زیادہ تر بھارتی عملہ ہے جو ایسے ڈراموں کا ماہر ہے

BBC, you better knows the situation of sindh, it's request you kindly make it front line news Yes (Unfortunately). سائين ٻہ ٽي سؤ رپيا ڏئي مائي ٻن جيئن سان مالڪن کي موٽائي ڏين ته پو تہ توهان کي ڪوبہ اعتراض ناهي نہ Yes. SindhRejectsForcedConversions SindhRejectsForcedConversions اس طرح کے واقعات کی کوریج ایماندارانہ انداز میں تحقیقی بنیاد پہ ہو اور پھر اسے نشر کیاجائے تاکہ اصل حقائق اور ملوث عوامل سامنے آئیں مگر یہاں بدقسمتی سے ایسا نہیں سنی سنائی خبر نشر ہو جاتی ہے اور عدالت میں اصل حقائق بھی سامنے نہ انے سے کیس منطقی طور پہ کمزور

No. The minorities are as free as in most of the developed nations. Rather more than that. Muslims do not support Muslims who did some wrong to the minorities. We do not insult other ideology or elders like often it happens in the name of personal freedom. یہ کون لوگ ہیں جو جبری مذہب تبدیل کرواتے ہیں اپنی جنسی تسکین کو کور کرنے کےلیے یہ لوگ اسلام کو بدنام کرتے ہیں۔ایسے لوگوں سے آہنی طریقے سے نمٹنا چاہیئے تاکہ یہ لوگ اپنے ناپاک عزائم کےلیے کیوں اسلام کا لبادہ اوڑھتے ہیں اور بدنام کرتے ہیں۔

کوئی زبردستی نہیں کرتا ان کی اپنی عورتیں عشق معشوقی کے چکروں میں پڑ کر یہ کام کرتی ہیں اور ماں باپ زبردستی کا الزام لگاتے رہتے ہیں بیٹیاں عدالتوں میں حاضر ہو کر خود گواہی دے رہی ہوتی ہیں کہ ھم نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا ہے پاکستان میں کسی بھی ملک سے زیادہ اقلیتوں کو آزادی ہے۔ ماضی کی اور موجودہ حکومت اقلیتوں کے خلاف چھوٹے سے چھوٹے جرم کو سیریس لیتیں ہیں۔ پاکستان کے ازلی دشمن ملک بھارت میں جو برا سلوک مسلمان اقلیتوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس کے مقابلے میں ہندو برادری کے لیے پاکستان جنت ہے

Ye orat ka haq hai jo ky usy hasil hai لڑکی کے اغوا اور جبری مذھبی تبدیلی کے کئی دن بعد اغوا کار خود لڑکی کو کورٹ میں بیان کے لیے پیش کرتے ھیں۔ ہے انصاف کے بنیادی اصول کے خلاف ھے۔ SindhRejectsForcedConversions SindhRejectsForcedConversions SindhRejectsForcedConversions Why only young girls are converted and married on same or very next day? Meanwhile, how many boys and men also converted? If this conversion process is so holistic, could its advocates quote any one example that's also mainstreamed in the society? SindhRejectsForcedConversions

ناممکن یہ صرف مال بنانے کا کام کر سکتی ہے Abhi pichle dino inke page pe koi keh rha tha ke sirf british ki baten karte hain yeh chanel, ab tho Pakistan ki baten shoru kar di. SindhRejectsForcedConversions ImranKhanPTI PTIofficial ShireenMazari1 MediaCellPPP 🌺 sindhrejectsforcedconversion اسلام میں زور زبردستی نہیں ہاں دین کاپیغام ہر1تک پہنچاناسب پرفرض ہے تاکہ یوم_حشر کوئ یہ عذر نہ پیش کرسکے کہ اسلام کےپیروکاروں نےاس تک سلامتی کایہ پیغام نہیں پہنچایا 🇵🇰میں لوگ بخوشی اسلام قبول کرتےہیں جبkجبر🇮🇳میں ہورہاہے👇

Kindly highlight only one case , then start propagating Synthia Richie vs PPP امریکی بلاگر سنتھیا ریچی پیپلز پارٹی کے کالے کرتوت سامنے لے آئ ۔ رحمان ملک پر جنسی زیادتی کا الزام اور یوسف رضا گیلانی پر بھی زیادتی کی کوشش کا الزام Answer is 'NO' they can't do anything. اور بہی مسائل ہیں لیکن عزت بچ جائے یہی کافی ہے. SindhRejectsforcedConversation

Jiska naam hi official islamic republic of pakistan ho Wahe pe minority safe hogi Spreading shit on the name journalism BBC URDU SHAME Hypocrisy as its best, applause 👏 for this ridiculous journalism.

چیئرمین سینیٹ،سپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ سیشن کے انتظامات کا جائزہچیئرمین سینیٹ،سپیکر قومی اسمبلی کا پارلیمنٹ سیشن کے انتظامات کا جائزہ NAofPakistan pid_gov

وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش ہوگا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس جمعہ سے شروعاسلام آباد: (دنیا نیوز) قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس جمعہ 5 جون سے شروع ہو رہے ہیں۔ 7600 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ بارہ جون کو پیش کیا جائے گا۔ تمام اراکین پارلیمنٹ کے لیے کورونا ٹیسٹ اور سکریننگ لازم ہوگی۔

ہانگ کانگ میں چین کے قومی ترانے کی بے حرمتی کےخلاف قانون منظور - World - Dawn NewsDictatorship

وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش ہوگا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس جمعہ سے شروعاسلام آباد: (دنیا نیوز) قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس جمعہ 5 جون سے شروع ہو رہے ہیں۔ 7600 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ بارہ جون کو پیش کیا جائے گا۔ تمام اراکین پارلیمنٹ کے لیے کورونا ٹیسٹ اور سکریننگ لازم ہوگی۔

وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش ہوگا، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس آج سے شروعاسلام آباد: (دنیا نیوز) قومی اسمبلی اور سینیٹ کے بجٹ اجلاس آج سے شروع ہو رہے ہیں۔ 7600 ارب روپے حجم کا وفاقی بجٹ بارہ جون کو پیش کیا جائے گا۔ تمام اراکین پارلیمنٹ کے لیے کورونا ٹیسٹ اور سکریننگ لازم ہوگی۔

فواد چوہدری کا آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہ جانے کا فیصلہاسلام آباد : وزیرسائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں نہ جانے کا فیصلہ کرتے ہوئے ورچوئل اجلاس بلانے کا مطالبہ کردیا۔ Bro; make sure you are not joining todays sesson due to fear of Corona spreding not being a part of political lobby against govt. He needs a fix mouth cover called chiku. After that he’ll be allowed for section. ویسے اس کی ضرورت بھی نہیں ہے اجلاس میں۔