فوج اور حکومت کی سوچ میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر پیج ایک ہی ہے: شیخ رشید

27/01/2022 9:49:00 AM

Dunyaupdates, Roznamadunya

مکمل تفصیلات جانیے: DunyaUpdates RoznamaDunya

پاکستان×پاکستانبند کریںاسلام آباد: (دنیا نیوز) شیخ رشید کا کہنا ہے فوج اور حکومت کی سوچ میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر پیج ایک ہی ہے، فوجی قیادت کا فیصلہ ہے وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی، اپوزیشن چاہتی ہے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات خراب ہوں۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک بار پھر وزیراعظم اور فوجی قیادت میں اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹریو میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان بھولے نہیں، ملک کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ دونوں ایک ہی صفحے پر ہوں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کرپشن اور احتساب کے معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں، احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا مگر اس میں ہمیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عدالتوں میں مقدمات لے جاتے وقت شاید درست انداز میں تیاری نہیں کی گئی۔

مزید پڑھ:
Roznama DUNYA »

Awaz with Ehtesham Amir Uddin | 28 September 2022

#samaatv #awaz #ehteshamamiruddin ➽ Subscribe to Samaa News ➽ https://bit.ly/2Wh8Sp8➽ Watch Samaa News Live ➽ https://bit.ly/3oUSwAPStay up-to-date on the ma... مزید پڑھ >>

مجھے یقین ہے اب حکومت سے ہاتھ اٹھا لیا گیا ہے: نواز شریفمجھے یقین ہے اب حکومت سے ہاتھ اٹھا لیا گیا ہے: نواز شریف ARYNewsUrdu NawazSharif 😂😆 میاں صاحب واپس آجائیں ۔۔ بے غیرت کونجڑے کی اولاد نواز لوہار

شیخ رشید: ’فوج اور حکومت کی سوچ میں اختلاف ہو سکتا ہے، مگر صفحہ ایک ہی ہے‘ - BBC News اردوبی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت میں چھوٹے چھوٹے اختلاف اور سوچ اور رائے میں فرق تو ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ ایک صفحے پر نہ ہوں۔ انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ دو ماہ تک دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں ہمارا تعلق نہیں That’s why country is going through so many troubles because both are on same page شیخ صاحب حلالی خون ہیں اپنے آقاوں کے وفادار ہیں قوم کو کوئی مقتدر قوت ریلیف دینے کو تیار نہیں ہے

اپوزیشن چاہتی ہے فوج اور حکومت لڑ پڑیں لیکن اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک صفحے پر ہیں: شیخ رشید11:19 AM, 27 Jan, 2022, اہم خبریں, پاکستان, اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں اور ملک بلکل حکومت اور اسٹیبلشمینٹ نے ایک پیج پر رہہ کر ملک کو ڈبویا ہے اس صفحے کا نام ہے پنکی جادوگرنی 🤣🤣 Ye itna munafic hai 72 years mai jhoot bolty sharame nahi ati

ہمیں اپوزیشن بھی وہ ملی جو صرف بیان بازی اور پروپیگنڈے کی ماہر ہے: عثمان بزداراور عوام پاکستان کو حکومت بھی وہ ملی جو شیخ چلی جیسی باتیں جھوٹے وعدے لارے سبز باغ دیکھانے کرپشن اور قرض لینے میں ماہر ہے

’پی ایس ایل ترانہ بھی پاکستانی حکومت کی طرح ہے، نیا آتا ہے تو پرانا اچھا لگنے لگتا ہے‘ - BBC News اردودیگر تمام کرکٹ لیگز کی نسبت پی ایس ایل کی یہ منفرد بات ہے کہ اس میں ہر سیزن سے پہلے تمام ٹیمیں بھی اپنے ترانے ریلیز کرتی ہیں اور ایک آفیشل ترانہ بھی ریلیز کیا جاتا ہے۔ شائقین کو نہ صرف ان ترانوں کا بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔پی ایس ایل کے آغاز سے ہی اس کے آفیشل ترانے کی اہمیت ہر سیزن کے ساتھ بڑھتی چلی گئی ہے اور اب کسی بھی سیزن کے آغاز سے قبل پلیئر ڈرافٹ سے بھی زیادہ اہم چیز پی ایس ایل کا ترانہ بن جاتا ہے۔ Bhai when you don’t have good song writers then why you do that ? If you see Atif Aslam songs most of them written by Indians …ajeeeb baihuda gaaana hai PSL7 Ka Any shame ? منفی سوچ کا ہجوم ہے اس لیے تنقید کرتے رہتے ہیں ہمارے ہاں بہت سے شاعر ہیں جنہوں نے خوبصورت شاعری کی۔ ہم ان کی شاعری سے استفادہ کیوں نہیں کرتے؟ پی ایس ایل کے گانوں میں تخلیقی اور خوبصورت شاعری نہیں ہے۔ یہ گانے ہماری خوبصورت ثقافت کی عکاسی نہیں کرتے۔

احساس ہے مہنگائی کی وجہ سےتنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے: وزیراعظم عمران خانوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے احساس ہے کہ مہنگائی کی وجہ سےتنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے، لیکن مزدور طبقے کی آمدنی بڑھی ہے۔ اسلام آباد میں تقریب سے

Published On 27 January,2022 11:12 am پاکستان × پاکستان بند کریں اسلام آباد: (دنیا نیوز) شیخ رشید کا کہنا ہے فوج اور حکومت کی سوچ میں اختلاف ہوسکتا ہے مگر پیج ایک ہی ہے، فوجی قیادت کا فیصلہ ہے وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی، اپوزیشن چاہتی ہے عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تعلقات خراب ہوں۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایک بار پھر وزیراعظم اور فوجی قیادت میں اختلافات کی خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹریو میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان بھولے نہیں، ملک کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ دونوں ایک ہی صفحے پر ہوں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کرپشن اور احتساب کے معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں، احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا مگر اس میں ہمیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عدالتوں میں مقدمات لے جاتے وقت شاید درست انداز میں تیاری نہیں کی گئی۔ نواز شریف کی واپسی سے متعلق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ واپس آ جائیں، انہیں جانے کی اجازت حکومت نے ہی دی جو بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ بہت کوششوں کے باوجود اسحاق ڈار کی واپسی ممکن نہیں بنا سکے۔ شہزاد اکبر کے استعفے سے متعلق شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے ملازمین کے اکاؤنٹس سے اربوں روپے نکلے، قائد حزب اختلاف پر 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے لیکن ہم ان کے پیسے بھی نہیں لا سکے، وزیراعظم کی ناراضی کی وجہ نواز شریف کو واپسی میں ناکامی پر ہی نہیں بلکہ پیسے واپس لانے میں ناکامی پر بھی ہے، عمران خان میں ارادے کی کمی نہیں، وزیراعٖظم کہتے ہیں این آر او دینا غداری ہو گی۔ وفاقی وزیر داخلہ نے تصدیق کی ملک میں دہشتگرد تنظیموں کے سلیپرز سیلز پھر سرگرم ہوئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ افغان طالبان سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ طالبان حکومت مثبت کردار ادا کر رہی ہے، افغان طالبان ٹی ٹی پی کو سمجھا رہے ہیں کہ پاکستان میں کارروائیوں سے باز رہیں مگر ٹی ٹی پی والے کہیں نہ کہیں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کے بعد مذاکرات کا دروازہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ .نعیم اشرف بٹ 25 جنوری 2022 اسلام آباد: پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے، اجلاس میں میاں نواز شریف نے کہا کہ انھیں یقین ہے کہ حکومت سے ہاتھ اٹھا لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اجلاس میں نواز شریف نے بھی لندن سے آن لائن شرکت کی، انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے اب حکومت سے ہاتھ اٹھا لیا گیا ہے۔ اجلاس میں چھوٹی جماعت کے رہنماؤں نے عدم اعتماد پر سوال اٹھا دیے، بلوچ رہنما نے کہا کہ عدم اعتماد لانے سے پہلے دیکھنا ہوگا کہ امپائر کی انگلی کس کی طرف ہے، انھوں نے کہا کہ ایسا نہ ہو ہم عدم اعتماد لائیں اور اس میں رکاوٹیں آ جائیں۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے یقین ہے اب حکومت سے ہاتھ اٹھا لیا گیا ہے، لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پہلے اتحادی جماعتوں اور پی پی سے رابطے کریں، اسپیکر یا ڈپٹی نہیں عدم اعتماد وزیر اعظم کے خلاف لانا ہوگی۔ اختر مینگل نے اجلاس میں دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا دو سال ہو گئے ہیں، اب کچھ نہ کچھ کر ہی دیں، ریکوڈک معاملے پر بھی ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جا رہا ہے۔ ن لیگی قائد نواز شریف نے کہا شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کل سے ہی لانگ مارچ پر میٹنگ شروع کر دیں۔.شیخ رشید کا بی بی سی کو خصوصی انٹرویو: ’ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک صفحے پر ہوں‘ فرحت جاوید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد 16 منٹ قبل پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں اور ملک کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک ہی صفحے پر ہوں۔ بی بی سی اُردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ فوجی قیادت کا فیصلہ ہے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ ’چھوٹے چھوٹے اختلاف تو ہو سکتے ہیں۔ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور رائے میں فرق تو ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ ایک صفحے پر نہ ہوں۔‘ واضح رہے کہ شیخ رشید نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ عمران خان کے سر پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے اور پھر یہ بھی کہا کہ ان سے یہ بیان واپس لینے کا کہا گیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی اپنے بیان پر قائم ہیں اور یہ کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ سول حکومت میں سے ایک شخص نے کہا کہ وہ بیان واپس لیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے اسٹیبلشمنٹ کا نام نہیں لیا مگر میرا مطلب یہی تھا کہ حکومت اور اداروں کی پالیسیاں ایک ہی صفحے پر ہیں۔‘ دوسری جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان نے چند روز قبل ٹی وی پر خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ اگلی بار اقتدار میں نہ آنے اور سڑکوں پر نکلنے کی صورت میں زیادہ خطرناک ہوں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد کئی حلقوں نے کہا کہ وزیراعظم اپوزیشن کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کو بھی پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے۔ ’اپوزیشن تو چاہتی ہے کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان تعلقات خراب ہوں مگر نہ اسٹیبلشمنٹ بھولی ہے نہ عمران خان بھولا ہے۔ ملک کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک ہی صفحے پر ہوں۔‘ پی ٹی آئی کی حکومت اور کرپشن کے خاتمے کا بیانیہ عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے قیام سے لے کر اُن کی ہر انتخابی مہم کا پہلا اور سب سے بڑا نعرہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ اور کرپٹ افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا رہا ہے۔ اسی نعرے کی بنیاد پر وہ سنہ 2018 کا الیکشن جیتے مگر بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کرپشن کے خاتمے کی کوشش کرنے والے ممالک کی فہرست میں مزید نیچے چلا گیا ہے۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کہتے ہیں کہ وزیراعظم کرپشن اور احتساب کے معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ کہ انھوں نے کئی افراد کو پارٹی یا عہدوں سے فارغ کیا جن پر کرپشن کا الزام یا ان پر شک تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’عمران خان اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کر سکتا۔‘ شیخ رشید کے مطابق عدالتوں نے کرپشن سے متعدد فیصلوں میں بہت طویل مدت کے لیے حکم امتناعی دیے ہوئے ہیں۔ شیخ رشید یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ایسا نظر آتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات لے جاتے وقت ’شاید درست انداز میں تیاری نہیں کی گئی۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’شاہد ہماری طرف سے کمزوری تھی لیکن عمران خان کو اس لیے ووٹ دیے کہ چوروں، ڈاکووں، کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا مگر اس میں ہمیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔‘ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ دیگر ممالک خاص طور پر برطانیہ میں مقیم ان ملزمان اور مجرموں کو واپس لانے کے لیے معاہدے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ،تصویر کا ذریعہ FACEBOOK/IMRANKHANOFFICIAL شیخ رشید کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ ان افراد کو وطن واپس لایا جائے جو پاکستان میں عدالتوں اور حکومت کو مطلوب ہیں تاہم انھیں یہ شکایت بھی ضرور ہے کہ بہت سی کوششوں کے باوجود وہ تاحال اسحاق ڈار کی واپسی بھی ممکن نہیں بنا سکے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی سے متعلق انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔ ’ہم ساڑھے تین سال سے اسی کام پر لگے ہیں۔ (انھیں) ہم نے خود بھیجا، ہماری ہی غلطی ہے۔ وہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو گئے اور باہر چلے گئے۔‘ شہزاد اکبر سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ان کے استعفی اور وزیر اعظم کی ان سے ناراضگی کی وجہ محض نواز شریف یا شہباز شریف کو واپس لانا ہی نہیں بلکہ ’ہم پیسے بھی تو واپس نہیں لا سکے۔‘ ’اربوں کی کرپشن ہوئی۔ ایک ایک ملازم کے اکاونٹ سے چار چار ارب روپے برآمد ہو رہے ہیں۔ صرف شہباز شریف پر 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے لیکن ہم ان کے پیسے بھی نہیں لا سکے۔‘ شیخ رشید کہتے ہیں کہ احتساب کے عمل میں ہر جگہ ہی بہتری کی گنجائش ہے۔ ’ہمیں کیسز اچھے تیار کرنے کی ضرورت ہے، اچھے وکیل ہوں۔ عمران خان میں ارادے کی کمی نہیں، وہ کہتے ہیں کہ این آر او دینا غداری ہو گی۔‘ ’آئندہ دو ماہ تک دہشتگردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ‘ وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط ایک طویل جنگ کے بعد اب پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے اور معلومات اکٹھی کرنے کا نظام کافی بہتر ہے لیکن آئندہ دو ماہ تک ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے تاہم دہشتگردی کی اس تازہ لہر پر قابو پا لیا جائے گا۔ شیخ رشید احمد نے تصدیق کی کہ ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں دہشتگرد تنظیموں کے سلیپرز سیلز ایک بار پھر سرگرم ہوئے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور کارروائیاں جاری ہیں۔ ’جونھی اطلاع موصول ہوتی ہے، کارروائی کی جاتی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں سی ٹی ڈی جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے قبائلی علاقوں میں یہ ذمہ داری فوج کے پاس ہے۔ چینی ورکرز کی حفاظت کا ذمہ بھی فوج نے لیا ہوا ہے۔ اس لیے کام ہو رہا ہے۔‘ واضح رہے کہ رواں برس کا آغاز ہوتے ہی پاکستان کے بڑے شہروں کو دہشتگردی کی ایک لہر کا سامنا ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد میں ایسے واقعات میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ لاہور کے مصروف انارکلی بازار میں گزشتہ ہفتے ایک بم دھماکے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں۔ ،تصویر کا ذریعہ ،تصویر کا کیپشن لاہور کے انارکلی بازار میں گزشتہ ہفتے ایک بم دھماکے میں ہلاکتیں بھی ہوئیں ان واقعات میں ہونے والی اب تک کی تحقیق سے متعلق وزیر داخلہ نے کہا کہ جوہر ٹاون دھماکے میں وزارت داخلہ کے پاس انڈین خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں۔ ’لاہور کے حالیہ واقعے (انارکلی بازار) کی تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ بلوچستان میں بی این اے (حال ہی میں ضم ہونے والے دو علیحدگی پسند گروہوں کی تنظیم) نے اس کی ذمہ داری قبول کی مگر ہم اس کی بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ اس واقعے میں ملوث ایک شخص ہمیں مطلوب ہے اور وہ تاحال نہیں پکڑا گیا۔ اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث چار دہشگرد بھی پکڑے گئے ہیں۔‘ یہ بھی پڑھیے.11:19 AM, 27 Jan, 2022 شیئر کریں ! سورس: File اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں اور ملک کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک ہی صفحے پر ہوں۔ فوجی قیادت کا فیصلہ ہے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ بی بی سی کو انٹرویو میں حکومت اور فوج کے درمیان اختلافات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ چھوٹے چھوٹے اختلاف تو ہو سکتے ہیں۔ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور رائے میں فرق تو ہو سکتا ہے مگر ایسا نہیں کہ وہ ایک صفحے پر نہ ہوں۔ سائنو ویک کی 2 خوراکوں کے بعد بوسٹر ڈوز لگوانے والوں کیلئے خوشخبری شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی اپنے بیان پر قائم ہیں اور یہ کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ سول حکومت میں سے ایک شخص نے کہا کہ وہ بیان واپس لیں۔ وفاقی وزیر داخلہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میں نے اسٹیبلشمنٹ کا نام نہیں لیا مگر میرا مطلب یہی تھا کہ حکومت اور اداروں کی پالیسیاں ایک ہی صفحے پر ہیں۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن تو چاہتی ہے کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان تعلقات خراب ہوں مگر نہ اسٹیبلشمنٹ بھولی ہے نہ عمران خان بھولا ہے۔ ملک کا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک ہی صفحے پر ہوں۔ توہین کا الزام، ترک صدر کا معروف خاتون صحافی کو سخت سزا دینے کا اعلان انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کرپشن اور احتساب کے معاملے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور یہ کہ انھوں نے کئی افراد کو پارٹی یا عہدوں سے فارغ کیا جن پر کرپشن کا الزام یا ان پر شک تھا۔ عمران خان اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کر سکتا۔عدالتوں نے کرپشن سے متعدد فیصلوں میں بہت طویل مدت کے لیے حکم امتناعی دیے ہوئے ہیں۔ شیخ رشید یہ بھی تسلیم کیا کہ کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ایسا نظر آتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات لے جاتے وقت ’شاید درست انداز میں تیاری نہیں کی گئی۔ شاہد ہماری طرف سے کمزوری تھی لیکن عمران خان کو اس لیے ووٹ دیے کہ چوروں، ڈاکووں، کرپٹ اور بددیانت لوگوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا مگر اس میں ہمیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔ انتظار کی گھڑیاں ختم، سیٹی بجنے کو تیار، پی ایس ایل 7 کیلئے میدان سج گیا وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بتایا کہ دیگر ممالک خاص طور پر برطانیہ میں مقیم ان ملزمان اور مجرموں کو واپس لانے کے لیے معاہدے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ ان افراد کو وطن واپس لایا جائے جو پاکستان میں عدالتوں اور حکومت کو مطلوب ہیں تاہم انھیں یہ شکایت بھی ضرور ہے کہ بہت سی کوششوں کے باوجود وہ تاحال اسحاق ڈار کی واپسی بھی ممکن نہیں بنا سکے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی سے متعلق انھوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی کوشش ہے کہ وہ واپس آ جائیں۔ ہم ساڑھے تین سال سے اسی کام پر لگے ہیں۔ (انھیں) ہم نے خود بھیجا، ہماری ہی غلطی ہے۔ وہ سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو گئے اور باہر چلے گئے۔ کورونا کے دوبارہ سر اٹھانے کی بڑی وجہ سامنے آگئی شہزاد اکبر سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ان کے استعفی اور وزیر اعظم کی ان سے ناراضگی کی وجہ محض نواز شریف یا شہباز شریف کو واپس لانا ہی نہیں بلکہ ’ہم پیسے بھی تو واپس نہیں لا سکے۔ اربوں کی کرپشن ہوئی۔ ایک ایک ملازم کے اکاونٹ سے چار چار ارب روپے برآمد ہو رہے ہیں۔ صرف شہباز شریف پر 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے لیکن ہم ان کے پیسے بھی نہیں لا سکے۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ احتساب کے عمل میں ہر جگہ ہی بہتری کی گنجائش ہے۔ ہمیں کیسز اچھے تیار کرنے کی ضرورت ہے، اچھے وکیل ہوں۔ عمران خان میں ارادے کی کمی نہیں، وہ کہتے ہیں کہ این آر او دینا غداری ہو گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی پی ایس ایل کے آغاز پر تمام ٹیموں کو مبارکباد وفاقی وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ دہشتگردی کے خلاف دو دہائیوں پر محیط ایک طویل جنگ کے بعد اب پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف لڑنے اور معلومات اکٹھی کرنے کا نظام کافی بہتر ہے لیکن آئندہ دو ماہ تک ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے تاہم دہشتگردی کی اس تازہ لہر پر قابو پا لیا جائے گا۔ جوہر ٹاون دھماکے میں وزارت داخلہ کے پاس انڈین خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کے ثبوت ہیں۔ لاہور کے حالیہ واقعے (انارکلی بازار) کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ بلوچستان میں بی این اے (حال ہی میں ضم ہونے والے دو علیحدگی پسند گروہوں کی تنظیم) نے اس کی ذمہ داری قبول کی مگر ہم اس کی بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ اس واقعے میں ملوث ایک شخص ہمیں مطلوب ہے اور وہ تاحال نہیں پکڑا گیا۔ اسلام آباد میں پولیس اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث چار دہشگرد بھی پکڑے گئے ہیں۔ کارکنوں پر پولیس تشدد کے بعد ایم کیو ایم کا آج کراچی میں یوم سوگ اس سوال پر کہ افغانستان میں طالبان حکومت آنے کے بعد تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کیوں سرگرم ہو گئی، وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ طالبان کی حکومت ایک مثبت کردار ادا کر رہی ہے اور وہ ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں ثالث بھی رہی ہے۔ شیخ رشید کے مطابق انھیں بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی پر زور نہیں چلتا۔ Tagged.