سندھ بلدیاتی الیکشن: دھاندلیوں میں کون ملوث؟ الیکشن کمیشن کو شواہد مل گئے

28/06/2022 9:07:00 PM

مزید پڑھیں

سندھ بلدیاتی الیکشن: دھاندلیوں میں کون ملوث؟ الیکشن کمیشن کو شواہد مل گئے arynewsurdu

مزید پڑھیں

ویالیکشن کمیشن نے دو روز قبل سندھ کے 14 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے اہم شواہد حاصل کرلیے ہیں۔اے آر وائی نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے دو روز قبل سندھ کے 14 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے اہم شواہد حاصل کرلیے ہیں اور سندھ میں حکومتی جماعت پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی خورشید جونیجو دھاندلی میں ملوث نکلے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے سامنے لاڑکانہ میں دھاندلی کے دوران پی پی ایم این اے کو موجودگی کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں خورشید جونیجو کو دھاندلی کرتے دکھایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن نے پی پی ایم این اے خورشید جونیجو سے متعلق تفیصلی رپورٹ طلب کرلی ہے اور کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ایک سنگین جرم ہے جس میں ملوث شخص کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

مزید پڑھ:
ARY News Urdu »

ڈسکہ کی دھاندلی میں کون ملوث تھا؟ Things will remain same in Sindh because establishment is with PPP 😕😕 Election commission by itself

سندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ، پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہاسندھ میں بلدیاتی الیکشن کا پہلا مرحلہ، پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا ARYNewsUrdu بھٹو کو ماردیں پھر دیکھتے ہیں کسکا پلڑہ بھاری ہ رہتا پے Gangsters PPP and pmln.

Newsone Urdu - کوئی بھی سیاسی جماعت سندھ میں بلدیاتی الیکشن سےمطمئن...87 views, 8 likes, 0 loves, 1 comments, 1 shares, Facebook Watch Videos from Newsone Urdu: کوئی بھی سیاسی جماعت سندھ میں بلدیاتی الیکشن سےمطمئن نہیں،ایم کیو ایم رہنماؤ ں کی پریس کانفرنس براہ راست...

کوئی سیاسی جماعت سندھ کے بلدیاتی الیکشن سے مطمئن نہیں ہے، وسیم اخترجہاں سے ہمارے امیدوار جیت رہے ہیں وہاں کا نتیجہ روکا ہوا ہے، 14 اضلاع میں ہمارا مینڈیٹ قبول نہیں کیا گیا، رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر لعنت تمہاری بیوفائی اور بے غیرتی پہ ایم کیو ایم والو ، مہاجر پہ کلنک کا داغ ہو تم لوگ۔۔۔۔۔۔ Kat gia بہت اچھا ہوا

بلدیاتی انتخابات، ایم کیو ایم کا الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہبلدیاتی انتخابات، ایم کیو ایم کا الیکشن کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ arynewsurdu So the blackmailing tactics by MQM are back in action again or establishment has started playing their dirty tricks to squeeze the corrupt crime minister and cronies for more benefits in the coming days, امپورٹڈ_حکومت_نامنظور, gobajwago کیوں اپ لوگ اصلاح کرنے آئے تھے سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے بعد اندازہ ہوگیا ہوگا کے وہ کہاں کھڑے ہے اب صرف بریف کیس پر گزارہ کرو

بلدیاتی الیکشن میں جے یو آئی نے تحریک انصاف سے اتحاد کیا، شرجیل میمنوزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے الزام لگایا ہے کہ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں جے یو آئی نے تحریک انصاف سے اتحاد کیا ہے۔ DailyJang

الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں تمام حکومتوں اور جماعتوں کو رکاوٹ قرار دے دیاالیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات میں تمام حکومتوں اور جماعتوں کو رکاوٹ قرار دے دیا arynewsurdu تو پھر مارشل لا لگا دوُ پکا پکا حرای کام کرتے نہی اس قوم کو ایک الیکشن کرا کر نہی دے سکتے بند کر دوُ ان حرام خوروں کو قوم کا سیتاناس کر دیا ھے اس الیکشن کمشن نے صرف کمشن ہی کھاتا رہتا ھے ہاہاہاہا صرف انکو چھوڑ کر، کس کو چھوڑ کر جس کی سفارش پر آئے نئے چیف الیکشن کمیشن Be Brave. الیکشن کمیشنر صاحب۔

28 جون 2022 وی الیکشن کمیشن نے دو روز قبل سندھ کے 14 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے اہم شواہد حاصل کرلیے ہیں۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے دو روز قبل سندھ کے 14 اضلاع میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے اہم شواہد حاصل کرلیے ہیں اور سندھ میں حکومتی جماعت پی پی پی کے رکن قومی اسمبلی خورشید جونیجو دھاندلی میں ملوث نکلے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے سامنے لاڑکانہ میں دھاندلی کے دوران پی پی ایم این اے کو موجودگی کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں خورشید جونیجو کو دھاندلی کرتے دکھایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی الیکشن کمیشن نے پی پی ایم این اے خورشید جونیجو سے متعلق تفیصلی رپورٹ طلب کرلی ہے اور کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ایک سنگین جرم ہے جس میں ملوث شخص کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ واضح رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں دو روز قبل صوبے کے 14 اضلاع میں الیکشن ہوئے تھے جس میں صوبے کی حکومتی جماعت پی پی پی نے واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ الیکشن نتائج آنے کے بعد ایم کیو ایم، پی ٹی آئی، جی ڈی اے، جے یو آئی (ف) نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور پی پی پی پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔ .ویب ڈیسک 27 جون 2022 سندھ کے 14 اضلاع میں بلدیاتی الیکشن کا معرکہ مکمل ہوگیا جس میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری رہا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق میونسپل کمیٹی کے جنرل ممبر پر پیپلز پارٹی کے 195 امیدوار کامیاب ہوئے جب کہ میونسپل کمیٹی کے جنرل ممبر پر 18 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف کو 15 نشستیں ملیں جب کہ جی ڈی اے 14 اور جے یو آئی (ف) 5 نشستوں پر کامیاب ہوئی۔ 14 اضلاع میں ٹاون کمیٹی کے جنرل ممبر پر پیپلز پارٹی کے 332 امیدوار کامیاب رہے، جی ڈی اے کے 55 اور 38 آزاد امیدوار کامیاب ہوئے، پی ٹی آئی کو 8 نشستیں ملیں۔ قمبر شہداد کوٹ میں پیپلز پارٹی کے 91 یوسی چیئرمین اور وائس چیئرمین کے امیدوار کامیاب ہوگئے۔ 8 آزاد امیدوار بھی یوسی چیئرمین اور وائس چیئرمین کی سیٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ قمبر شہداد کوٹ کی تین یوسیز میں جے یو پی کے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔ دوسری جانب بلدیاتی انتخابات میں اپ سیٹ بھی نظر آئے۔ پیپیلز پارٹہ کے رہنما منظور وسان کے آبائی علاقے کوٹ ڈیجی میں پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی۔ ٹاؤن کمیٹی کوٹ ڈیجی میں جی ڈی اے نے میدان مار لیا۔ صوبائی وزیر منظور وسان اپنے گھر کوٹ ڈیجی میں ہار گئے۔ 9 میں سے 5 نشستوں پر جی ڈی اے امیدوار کامیاب رہے۔ منظوروسان نے دعویٰ کیا تھا کہ پیپلز پارٹی 9 میں سے 7 نشستوں پر کامیاب ہوگی۔ نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی صرف 4 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ لاڑکانہ ٹاؤن کمیٹی باڈہ پر بھی پیپلز پارٹی کو شکست ہوئی۔ لاڑکانہ عوامی اتحاد 14 میں سے 8 نشستوں پر کونسلر کامیاب ہوئے، پیپلز پارٹی 6 نشستیں لے سکی۔..27 جون ، 2022 فوٹو: فائل متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما وسیم اختر کا کہنا ہےکہ الیکشن کمیشن نے بھی دیکھا ہوگا کہ پہلے مرحلے میں سندھ کے بلدیاتی انتخابات کا کیا ہوا، کوئی بھی سیاسی جماعت اس الیکشن سے مطمئن نہیں، پیپلزپارٹی معاہدے سے منحرف ہوتی ہے تو ہم بھی بہادر آباد کو تالا لگا کر سڑکوں پر ہوں گے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ہمارا فرض بنتا ہےکہ وفاقی حکومت سمیت تمام اداروں کو اپنے خدشات سے آگاہ کریں، ہم الیکشن کمشنر صاحب سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہم نے وفاقی اور صوبائی حکومت کو بھی آگاہ کیا ہے۔ شہری علاقوں کی میونسپل کمیٹیوں میں اب تک کل 354 میں سے 309 نشستوں کے نتائج سامنے آچکے جن میں پیپلز پارٹی 244 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ وسیم اختر کا کہنا تھا کہ کہا جاتا ہےکہ جو ہارتا ہے وہ دھاندلی کا الزام لگاتا ہے، کل الیکشن میں بہت سی جگہ عملےکو اغوا کیا گیا، جہاں سے ہمارے امیدوار جیت رہے ہیں وہاں کا نتیجہ روکا ہوا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ جو معاہدہ ہوا اس پر شق وار عمل ہو۔ سابق میئر کراچی کا کہنا تھا کہ معاہدے میں یہ باتیں طے ہوئی تھیں کہ ہمارا مینڈیٹ وہ قبول کریں ہم ان کا قبول کریں، پیپلزپارٹی سے یہ شکایت ہےکہ ان 14 اضلاع میں ہمارا مینڈیٹ قبول نہیں کیا گیا، ہماری اندرون سندھ سکھر اور میرپور خاص میں سیٹیں ہیں، ایم کیو ایم کی سیٹیں ایم کیو ایم کو ملنی چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرکراچی میں اسی قسم کا الیکشن ہوا تو ذمہ دار الیکشن کمیشن ہوگا، ہم انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں کے معاملے کو حل کرنا چاہتے ہیں، کراچی اور حیدرآباد کے ووٹرز پریشان ہیں کہ اپنی مرضی کی حلقہ بندیاں کی جارہی ہیں۔ مزید خبریں :.