راجہ ریاض کا اسپیکر قومی اسمبلی سے شکوہ

28/06/2022 7:10:00 PM

راجہ ریاض نے ایوان میں شکوہ کرتے ہوئے کیا کہا؟ تفصیلات جانیے: #DailyJang

راجہ ریاض نے ایوان میں شکوہ کرتے ہوئے کیا کہا؟ تفصیلات جانیے: DailyJang

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے ممبرز کو بھی وقت دیا جائے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں کہ اپوزیشن اور حکومت کو برابر موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ اجلاس ہے، سب ارکان نے بات کرنی ہے، سب کو موقع دینا چاہتا ہوں۔ قومی خبریں سے مزید.خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدہ ہونے والا ہے اور پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے لیکن عوام مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔شہباز شریف نے ایک بار پھر پی ٹی آئی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو مان لیا تھا، ممکن ہے جولائی میں لوڈشیڈنگ میں مزید اضافہ ہوگا کیوں کہ ہمیں جولائی کیلئے گیس کے جہاز نہیں ملے مگر ہم کوشش کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں کوئلہ بہت مہنگا ہو چکا ہے اور پاکستان کے اربوں ڈالر کوئلے کی درآمد پر خرچ ہوتے ہیں لیکن افغانستان سے انشااللہ کوئلہ آنا شروع ہو گا، افغانستان سے کوئلے کی درآمد سے 2 ارب ڈالر کے قریب بچیں گے، افغانستان سے کوئلہ ڈالر میں نہیں روپے میں خریدیں گے۔.× ضمنی الیکشن ، حلقے این اے 245،عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ اقبال نے بڑا بیان دیدیا Jun 27, 2022 | 17:13:PM عامر لیاقت اور بشریٰ اقبال(فائل فوٹو) Stay tunned with 24 News HD Android App Share (مانیٹرنگ ڈیسک )سابق رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کے بیٹے احمد عامر کے الیکشن لڑنے سے متعلق والدہ کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ۔ تفصیلات کے مطابق وائرل ویڈیو عامر لیاقت کے پوسٹ مارٹم سے متعلق عدالتی فیصلہ آنے کی ہے، پریس کانفرنس میں بشریٰ اقبال سے بیٹے احمد عامر کے الیکشن لڑنے کے حوالے سے سوال کیا گیا،اس کے جواب میں بشریٰ اقبال کا کہنا تھا کہ ہمارا فی الحال کوئی ایسا ارادہ نہیں ہے۔ بعد ازاں بشریٰ اقبال کے ہمراہ عدالت آئے وکیل نے بات جاری رکھتے ہوئے وضاحت کی کہ فی الحال تو عامر لیاقت کا خاندان حالت غم میں ہے، ان کا بیٹا لندن میں بطور انجینئر ملازمت کرتا ہے ۔ بشریٰ اقبال خود ایک وکیل ہیں، عامر لیاقت بشریٰ اقبال سے رشتے کے دوران انہیں انٹرن شپ کے لیے میرے آفس لائے تھے۔ یہ بھی پڑھیں.اختیار کر گئے ہیں۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی وضاحت کے مطابق آئین کی دفعہ 75 کی شق 2 کے تحت پارلیمنٹ میں دونوں قوانین منظور کئے گئے تھے تاہم جب صدر مملکت کو یہ دونوں بل دستخطوں کے لیے بھجوائے گئے تو انہوں نے ان پر دستخط کر کے انہیں قانون کا درجہ دینے کی بجائے ان پر اعتراضات لگا کر واپس بھجوا دیا مگر حکومت نے صدر مملکت کی جانب سے بلوں میں کی گئی غلطیوں کی نشاندہی پر توجہ دینے اور اعتراضات دور کرنے کی بجائے مجلس شوریٰ کے مشترکہ اجلاس میں انہیں دوبارہ منظوری کے لیے پیش کر دیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابی ترمیمی بل میں سترہ جب کہ قومی احتساب ترمیمی بل میں پچیس اعتراضات وارد کئے تھے اور اپنی جانب سے بلوںکی اصلاح کے لیے سفارشات بھی پیش کی تھیں مگر حکومتی وزراء نے ان پر غور کرنے کی بجائے صدر مملکت کی ذات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنے ترمیمی بلوں کی جوں کی توں دوبارہ منظوری پر اصرار کیا۔ ایوان میں حقیقی حزب اختلاف کی غیر موجودگی کے باعث حکومت کو اپنے عزائم کی تکمیل میں کوئی مشکل بھی پیش نہیں، جماعت اسلامی کے ایوان بالا میں اکلوتے رکن نے اپنی ذمہ داریوں کااحساس کرتے ہوئے دونوں بلوں میں مثبت ترامیم پیش کرنا چاہیں مگر حکومت کی طرف سے ان کی بھی سخت مخالفت کی گئی اور ان کی تجاویز پر غور و فکر اور بحث کے بعد انہیں منظور یا مسترد کرنے کی بجائے یہ ترامیم پیش ہی نہیں کرنے دی گئیں جس سے جمہوریت کے دعویدار حکمرانوں کے آمرانہ طرز عمل کی عکاسی ہوتی ہے۔ بہرحال حکومت نے اپنی من پسند ترامیم مجلس شوریٰ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروا لیں اس منظوری کے دس دن بعد یہ دونوں بل صدر مملکت کے دستخطوں کے بغیر ہی خود بخود قانون بن گئے۔ اس نئے منظور شدہ قومی احتساب بیورو کے قانون میں چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے جس کیمطابق چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا، ڈپٹی چیئرمین نیب کا تقرر صدر کے بجائے اب وفاقی حکومت کرے گی۔ نیب ترمیمی ایکٹ کے مطابق نئے چیئرمین نیب کی تقرری کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا اور 45 روز میں مکمل ہو جائے گا۔ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا، پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی، چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا۔ ایکٹ کے مطابق ٹیکس، وفاقی صوبائی کابینہ، کونسلز، سٹیٹ بنک کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہو گئے ہیں۔ مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائر ہ اختیار میں نہیں آئیں گے، مالی فائدہ لینے کے ثبوت کے بغیر طریقہ کار کی خرابی پر نیب کارروائی نہیں ہو گی، وفاقی اور صوبائی ٹیکس معاملات بھی نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے ہیں۔ ترمیمی بل کے مطابق وفاقی، صوبائی قوانین کے تحت بنی ریگولیٹری باڈیز کے کیسز پر نیب کا اختیار ختم ہو گیا۔ کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کارروائی نہیں کر سکے گا۔ نیب قانون میں محض گمان پر ملزم کو سزا کی شق 14 ختم کر دی گئی۔ چیئرمین نیب ملزم کے فرار ہونے یا شہادتیں ضائع کرنے کے ٹھوس شواہد پر وارنٹ جاری کر سکیں گے۔ نیب افسران پر انکوائری یا انویسٹی کیشن کی تفصیل عام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ عام کرنے کی صورت میں نیب افسر کو ایک سال قید، دس لاکھ جرمانہ ہو گا۔ ایکٹ کے مطابق احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی تین سال کے لیے ہو گی، مقدمات کے فیصلے ایک سال کے اندر کئے جائیں گے، احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہو گی، گرفتاری سے قبل نیب شواہد کی دستیابی یقینی بنائے گا، جھوٹا ریفرنس دائر کرنے پر پانچ سال تک قید کی سزا ہو گی۔ وزیراعظم کا جدید جیل کمپلیکس اگلے سال تک مکمل کرنے کا حکم قومی احتساب بیورو کے قانون میں کی گئی ان یکطرفہ ترامیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ فی الحقیقت یہ این۔ آر۔ او 2 ہے اور اس کا مقصد حکمرانوں اور حکام کو کسی بھی طرح کے احتساب اور جوابدہی کے خوف سے نجات دلانا ہے جب کہ احتساب کرنے کے ذمہ دار افسران کو خوفزدہ کرنا تاکہ کوئی قومی دولت کی لوٹ مار اور بدعنوانی میں ملوث لوگوں پر ہاتھ ڈالنے سے پہلے سو دفعہ سوچے کہ اسے اس کے کس قدر بھیانک نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔ ترمیم شدہ احتساب قانون کے تحت غلطی سے یا جان بوجھ کر غلط ریفرنس دائر کرنے والے نیب کے افسر کو پانچ سال قید بھگتنا ہو گی۔ اسی طرح کسی افسر کی تحقیق یا تفتیش کی تفصیل اگر منظر عام پر آ گئی تو اسے ایک سال قید اور دس لاکھ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔ سوال یہ ہے کہ آئے روز ہماری عدالتوں میں مختلف مقدمات جھوٹے اور غلط ثابت ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ایک بے گناہ ان جھوٹے مقدمات میں ماتحت عدالت سے سزا کا مستحق ٹھہرا دیا جاتا ہے اور وہ سالہاسال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کے بعد بے گناہ ثابت ہوتا ہے مگر ہمارا نظام نہ تو مقدمہ درج کرانے والے کو کوئی سزا دیتا ہے نہ جھوٹی گواہی کے لیے پیش ہونے والوں سے باز پرس ہوتی ہے اور نہ غلط تحقیق و تفتیش کر کے بے گناہ شخص کو سزا دلوانے والے تحقیقاتی افسران کو پوچھا جاتا ہے کہ غلط تفتیش کیوں کی؟ احتساب بیورو کے حکام کے لیے اس طرح ہی کے کام کے لیے جو سزائیں تجویز کی گئیں ہیں اسکے بعد کیا کسی افسر سے توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بدعنوان حاکم یا حکمران کے احتساب کے بارے میں سوچ بھی سکے گا خاص طور پر جب ملزمان اثر و رسوخ کے مالک بھی ہوں اور ان کے کسی بھی وقت اقتدار میں آنے کے امکانات بھی روشن ہوں۔ اسی طرح قومی احتساب بیورو پہلے صدر مملکت کے ماتحت تھا مگر اب اسے حکومت کی وزارت داخلہ کے تابع کر دیا گیا ہے اس طرح احتساب کو ہر ممکن طریقے سے مشکل سے مشکل بنا دیا گیا ہے اور عملاً ملک میں احتساب کے عمل کو ختم اور ناممکن بنانے کی ہمہ گیر کوشش کی گئی ہے جس کی تائید و حمایت اور ستائش بہرحال نہیں کی جا سکتی !!!.

مزید پڑھ:
Daily Jang »
Loading news...
Failed to load news.

جولائی میں لوڈشیڈنگ مزید بڑھے گی: وزیراعظم شہباز شریفجولائی میں لوڈشیڈنگ مزید بڑھے گی: وزیراعظم شہباز شریف PMShehbazSharif CMShehbaz GovtofPakistan pmln_org Pakistan PMO_PK PMLNGovt Loadshedding LoadsheddingUpdates

ضمنی الیکشن حلقے این اے 245عامر لیاقت کی سابق اہلیہ بشریٰ اقبال نے بڑا بیان دیدیاسابق رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کے بیٹے احمد عامر کے الیکشن لڑنے سے متعلق والدہ کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیاہے ۔

احتساب کا خدا حافظاحتساب کا خدا حافظ آئے روز ہماری عدالتوں میں مختلف مقدمات جھوٹے اور غلط ثابت ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات تو ایک بے گناہ ان جھوٹے مقدمات میں ماتحت عدالت سے سزا کا مستحق ٹھہرا دیا جاتا ہے Column HamidRiazDogar NAB pmln_org GovtofPakistan NewsPaper

عائشہ گلالئی کاعمران خان کیخلاف غداری کامقدمہ درج کرنےکیلئےچیف جسٹس کوخطسابق رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کیخلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کا مطالبہ کردیا۔چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں عائشہ گلالئی نے PTIofficial InsafPK I thought this woman disappeared somewhere, on whose agenda is she working now. I don’t understand why these women disgrace themselves RegimeChangeInPakistan امپورٹڈ_حکومت_نامنظور پلانٹڈ_مہنگائی_نامنظور

'آرمی چیف کو’کنگ عبدالعزیز‘ ایوارڈ ملنا قوم کے لیے باعث فخر ہے'لاہور : اسپیکر پنجاب اسمبلی اور مسلم لیگ ق کے رہنما پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ آرمی چیف کو’’کنگ عبدالعزیز‘‘ایوارڈ ملنا قوم کےلیےباعث فخر ہے انا لله وانا اليه راجعون مودی کو بھی What r his achievements? China is not calling pakistan in conferences, afghanistan building close relations with india while our lumber 1 r busy to rigged pubjab election

پرویز الہی کا وزرات اعلی کے دوبارہ انتخاب پر کیا موقف ہے؟لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر دوبارہ انتخاب  لاہور ہائی کورٹ کے ریمارکس اور انتخاب کے امکانات بڑھنے کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کا مؤقف بھی